شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 136
136 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التفسير أنبأ عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم بن أبي إياس ثنا ورقاء عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال : قالت قريش : إنما يعلم محمدا عبد لآل الحضرمي رومي و كان صاحب كتب يقول الله عز و جل : { لسان الذي يلحدون إليه أعجمي } ـ أي يتكلم بالرومية ـ { و هذا لسان عربي مبين }
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے تفسیر میں کہ خبر دی ہے عبدالرحمن بن حسن قاضی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن حسین نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے آدم بن ابی ایاس نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ورقاء نے ابن ابی نجیح سے انہوں نے مجاہد سے انہوں نے کہا قریش نے کہا تھا یقینا ً محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آل حضرمی کا رومی غلام پڑھاتا ہے اور وہ صاحب کتب تھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی ) جس کی طرف اس قرآن کو منسوب کر رہے ہیں اس کی زبان عجمی یعنی عربی ہے یعنی رومی زبان میں بات کرتا ہے ۔ اور یہ قران صاف ستھری عربی ہے ۔
قريش إنما يعلم محمدا عبد لآل الحضرمي رومي و كان صاحب ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي التَّفْسِيرِ أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي
Hadith 136
