شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 116
116 - قال و حدثنا أبو أمية الطرسوسي حدثنا محمد بن سليمان البصري ثنا إبراهيم بن الجنيد عن عمر بن حفص العسقلاني عن خليد بن دعلج عن قتادة في قوله : يزيد في الخلق ما يشاء قال : الملاحة في العينين
ابو عبداللہ نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو امیہ طرسوسی نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کی ہے محمد بن سلیمان بصری نے انہوں نے کہا ہمیں بیان کیا ہے ابراہیم بن جنید نے عمر بن حفص عسقلانی سے انہوں نے خلید بن دعلج سے انہوں نے حضرت قتادہ سے اس قول باری کے بارے میں : ( یزید فی الخلق ما یشاء ) ( فاطر ۱) اللہ جو چاہتا اپنی مخلوق میں اضافہ فرماتا ہے کہ اس سے آنکھوں کی خوبصورتی مراد ہے ۔ آیت مذکورہ کا مفہوم عام ہی انسان اپنے مالک کی تخلیق کے اضافہ کے بارے میں کسی تفصیل جاننے سے عاجز ہے سوائے وحی کی اطلاع کے جو کہ اب ممکن نہیں دوسرے تخلیق کے بعد اس کے مشاہدے سے جو کہ آج تک حیران کن طریقہ سے جاری ہے اور انسانی زندگی کے ارتقاء کے ساتھ جاری رہے گا ۔ روایت میں آواز کی خوبصورتی اور آنکھوں کی خوبصورتی کا ذکر آیا ہے بلا شبہ یہ بھی اللہ کی تخلیق میں اضافہ ہے مگر یہ اضافہ انہیں دو میں بند نہیں بلکہ جیسے اللہ کی قدرت کوئی نہیں جان سکتا اس کے عمل کو بھی محدود نہیں کیا جا سکتا ۔ اپنے اضافہ کو بھی وہی جانتا ہے اپنی قدرت کی طرح ۔ ( مترجم )ٰ
الملاحة في العينين ← قتادة في قوله يزيد في الخلق ما يشاء ← خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ، ← عمر بن حفص العسقلاني ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْجُنَيْدِ، ← محمد بن سليمان البصري ← أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ ← و،
Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 116
