Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 104

104 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا أحمد بن الفضل الصائغ ثنا آدم ثنا أبو جعفر الرازي ثنا سعيد بن مسروق عن أبي الضحى : ـ { و إلهكم إله واحد } لما نزلت هذه الآية عجب المشركون و قالوا أن محمدا يقول : و إلهكم إله واحد فليأتنا بآية إن كان من الصادقين فأنزل الله عز و جل : { إن في خلق السماوات و الأرض و اختلاف الليل و النهار } الآية يقول : إن في هذه الآيات { لآيات لقوم يعقلون }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو العباس اصم نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بتائی ہے احمد بن فضل صائغ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے آدم نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو جعفری رازی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سعید بن مسروق نے ابو ضحیٰ سے والھکم الہ و احد، جب یہ آیت نازل ہوئی تو مشرکین حیران ہو گئے اور ایک دوسرے سے بولے محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کہتا ہے ۔ : ( الھکم الہ واحد) تمہارا الہٰ معبود مشکل کشا سب کچھ کرتا دھرتا ایک ہے ۔ یہ سچا ہے تو اس بات کی کوئی نشانی کوئی دلیل ہمارے سامنے پیش کرے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت : ( ان فی خلق السموات و الارض و اختلاف اللیل و النھار ) بقرۃ ۱۶۴) نازل فرمائی ہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش کو دیکھیں رات دن کے آنے جانے کو دیکھیں کہ یہ کس کی تدبیر و تصرف سے سب کچھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے وہی اللہ ہے وہی ایک ہی وہی الہٰ ہے معبود ہے مشکل کشا ہے اور آخر میں یہ بتایا کہ اس میں سمجھنے اور عقل رکھنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں ۔

أبي الضحى لما نزلت هذه الآية عجب المشركون و ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← أبو جعفر الرازي ← آدَمُ، ← أحمد بن الفضل الصائغ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 104

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 105

105 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن يوسف الدقيقي قال : وجدت في كتابي للشافعي رحمه الله : ( فيا عجبا كيف يعصى الإله أم كيف يجحده جاحد ) ( و لله في كل تحريكة و تسكينة أبدا شاهد ) ( في كل شيء له آية تدل على أنه واحد ) و يقال أن هذه الأبيات لأبي العتاهية

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ہے محمد بن یوسف دقیقی نے انہوں نے کہا میں نے اپنے پاس امام شافعی کی ایک کتاب میں یہ شعر لکھے ہوئے پائے : ( فیا عجبا کیف یعصیٰ الا الہ ام کیف یجحدہ جاحد) اے حیرانی معبود حقیقی کی کیسے نافرمانی کی جاتی ہے ۔ یا کوئی انکار کرنے والا کیسے ؟ اس کا انکار کرتا ہے ۔ ( واللہ فی کل تحریحکۃ و تسکینۃ ابداشاھد) اللہ کی قسم ہر حرکت میں اور ہر سکون میں ہمیشہ ( اس کی الوہیت ) کی دلیل موجود ہوتی ہے حرکت میں ( فی کل شئی لہ ایۃ تدل علی انہ واحد ) ( کائنات کی ) ہر شے میں اس کی نشانی موجود ہے جو دلالت کر رہی ہے کہ وہ ایک ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اشعار ابوعتاہیہ شاعر کے ہیں ۔

مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الدَّقِيقِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 105

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 106

106 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ قال سمعت أبا الحسين عبد الواحد بن أبي عبد الرحمن ـ ناقله أبي القاسم المذكور ـ يقول حكى جدي في كتبه عن شيوخه : أن أبا العتاهية إسماعيل بن القاسم جاء إلى دكان سقيفة الوراق فجلس و تحدث ثم ضرب بيده فكتب في ظهره : ( فيا عجبا كيف يعصى الإله أم كيف يجحده الجاحد ) ( و لله في كل تحريكة و تسكينة أبدا شاهد ) ( و في كل شيء له آية تدل على أنه واحد ) ثم ألقاه و نهض فلما كان الغد أو بعد ذلك جاء أبو نواس فجلس و تحدث و ضرب بيده إلى ذلك الدفتر فقال : أحسن قاتله الله ! و الله لوددته لي بجميع ما قلته لمن هي ؟ قلنا : لأبي العتاهية فقال : هو أحق به ثم أخذ أبو نواس الدفتر فكتب : ( سبحان من خلق الخلق من ضعيف مهين ) ( يسوقه من قرار إلى قرار مكين ) ( يحوز شيئا فشيئا في الحجب دون العيون ) ( حتى بدت حركات مخلوقة من سكون ) فلما عاد أبو العتاهية نظر فيه فقال : أحسن قاتله الله ! و الله لوددت أنها لي بجميع ما قلت و ما أقول لمن هي ؟ فقلنا لأبي نواس فقال : الشيطان ثم كتب أبو العتاهية : ( فإن أك حالكا فالمسك أحوى و ما لسواد جلدي من بقاء ) ( و لكني عن الفحشاء ناء كبعد الأرض عن جو السماء )

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے کہا میں نے سنا تھا ابو الحسن عبدالواحد میں ابو عبدالرحمن سے ان سے نقل کرنے والا ابو القاسم مذکور ہے وہ کہتے ہیں میرے دادا نے حکایت بیان کی ہے اپنی کتب میں اپنے شیوخ سے کہ ابو العتاھیہ شاعر اسماعیل ب قاسم ایک دفعہ ایک کاغذ فروش کی دکان کے چھپرے تلے آیا اور بیٹھ کر باتیں کرنے لگا باتیں کرتے کرتے اس نے ایک کاپی یا رجسٹر کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس کی پشت پر اس نے یہ اشعار لکھ کر چھوڑئیے ۔ یعنی اوپر مذکورہ تین اشعار لکھے اور اٹھ کر چلا گیا جب اگلی صبح ہوئی یا اس کے بعد کسی دن وہاں ابو نواس شاعر بھی آ کر بیٹھا اور باتیں کرنے لگا اچانک اس نے وہی رجسٹر اٹھایا تو اس پر مذکورہ شعر لکھے دیکھے اور بولا بہت اچھا لکا ، اس کو اللہ مارے میں نے تو بھائی ان تمام اشعار کے مقابلے میں جو میں نے کہے ہیں ان کو بہت پسند کیا ہے ۔ یہ کس کا کالم ہے ؟ کس کے اشعار ہیں ؟ ہم لوگوں نے بتایا کہ یہ ابو العتاھیہ نے کھے ہیں بولا ہاں یہ اسی کا حق تھا یعنی واقعی یہ وہی لکھ سکتا ہے ۔ پھر ابو نواس شاعر نے رجسٹر اٹھایا اور ( ابو العتاھیہ کی طرح اللہ کی توحید اورشان میں اشعار ) لکھے وہ یہ ہیں : ( سبحان من خلق الخلق من ضعیف مھین ) پاک ہے وہ ذات جس نے مخلوق کو کمزور اورحقیر نطفے سے پیدا کیا۔ ( یسو قہ من قرار الیٰ قرار مکین ) چلاتا ہے اس کو ایک ٹھکانے سے دوسرے مضبوط ٹھکانے کی طرف۔ ( یحوز شیئا مشیا فی الحجب دون العیون ) درجہ بدرجہ اس کی حفاظت کرتاہے کئی کئی پردوں میں نگاہوں سے بچا کر ( حتیٰ بدت حرکات مخلوقۃ من سکون ) یہاں تک کہ حرکات ظاہر ہوجاتی ہیں بچے میں ( ایک طویل ) سکون کے بعد ۔ اتفاق سے ابو العتاھیہ شاعر جب واپس اسی جگہ آیا تو اس نے ابونواس کے یہ اشعار لکھے ہوئے دیکھے اس نے بھی وہی جملے کہے جو اس کے بارے ابونواس نے کہے تھے کہ بہت اچھا لکھا ہے ۔ اللہ اس کو مارے ۔ اللہ کی قسم میں اپنے تمام کلام کے مقابلے جو میں نے کہا ہے اس کو پسند کرتا ہوں یہ کس کا کلام ہے ۔ ہم نے اسے بتایا کہ یہ ابونواس شاعر کا کلام ہے ۔ ابوالعتاھیہ نے جواب میں کہا کہ اچھا یہ اس شیطان نے کہا ہے ؟ پھر اس نے یعنی ابو العتاہیہ نے لکھا ۔ ( فانک حالکا فالمسک اھوی و مالسواد جلدی من بقاء ) اگر میں کالا ہوں تو ( کیا ہوا ) کستوری بھی تو کالی ہوتی ہے ۔ میرے چمڑے کی سیاھی باقی رہنے والی نہیں ہے ۔ ( ولکنی عن الفحشاء نا ، کبعد الارض عن جوالسماء ) مگر میں برائیوں اور بے حیائیوں سے تو دور ہوں جیسے کہ زمین آسمان کی فضا سے دور ہے ۔

شيوخه ← حكى جدي في كتبه ← أبا الحسين عبد الواحد بن أبي عبد الرحمن ناقله أبي القاسم المذكور ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 106

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 107

107 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو جعفر بن صالح بن هاني ثنا السري بن خزيمة ثنا أبو نعيم ثنا سفيان عن الأعمش عن المنهال بن عمرو عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : في قوله تعالى : { و لقد خلقناكم ثم صورناكم } قال : خلقوا في أصلاب الرجال ثم صوروا في أرحام النساء

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو جعفر محمد بن صالح بن ھانی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان بتائی ہے سری بن خزیمہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے ابو نعیم نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے سفیان نے اعمش سے منھال بن عمرو سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس سے اس آیت کے بارے میں ( و لقد خلقنا کم ثم صورناکم ) ( اعراف لا ) البتہ تحقیق ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری ہم نے شکل و صورت بنائی ۔ حضرت ابن عباس نے تفسیر بتائی ۔ ( خلقوا فی اصلاب الرجال ۔ ثم صورو افیارحام النساء ) اس سے مراد ہے کہ پہلے مردوں کی پیٹھ میں پیدا کئے گئے پھر عورتوں کی رحموں میں ان کی شکلیں بنائی گئیں۔

خلقوا في أصلاب الرجال ثم صوروا في أرحام النساء ← ابن عباس في قوله تعالى و لقد خلقناكم ثم صورناكم ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو جعفر بن صالح بن هاني

Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 107

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 108

108 - حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان أنبأ عبد الله بن محمد بن علي بن زياد الدقيقي ثنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن المديني ثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي أنبأ بقية بن الوليد ثنا بحير بن سعيد عن خالد بن معدان قال : قال أبو ذر رضي الله عنه : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قد أفلح من أخلص الله قلبه للإيمان و جعل قلبه سليما و لسانه صادقا و نفسه مطمئنة و خليقته مستقيمة و جعل أذنه مستمعة و عينه ناظرة فأما الأذن فقمع و أما العين فمقرة لما يوعى القلب و قد أفلح من جعل الله قلبه واعيا

ہمیں بیان کیا امام ابو النصیر سہل بن محمد بن سلیمان نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی عبداللہ بن محمد بن علی بن زیاد دقیقی نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے عبداللہ بن محمد عبدالرحمن مدینی نے انہوں نے کہا ہمیں بتایا ہے اسحٰق بن ابراہیم حنظلی نے وہ فرماتے ہیں ہمیں خبر دی بقیہ بن ولید نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا بحیر بن سعید نے خالد بن معدان سے وہ کہتے ہیں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ( قد افحلح من اخلص اللہ قلبہ للایمان ، و جعل قلبہ سلیما ، ولسانہ صادقا ، و نفسہ مطمئنۃ ، و خلیقتہ مستقمیۃ ، و جعل اذنہ مستمعۃ و عینہ ناظرۃ ، فاما الازن فقمع و اما العین ، فمقرۃ لما یوعی القلب ، و قد افلح من جعل اللہ قلبہ و اعیاِ ) کامیاب ہو گیا وہ شخص جس کے دل کو اللہ نے ایمان کے لئے خالص کر لیا۔ اور اس کی دل کو حق شناس بنا دیا ۔ اس کیزبان کو سچا۔ اور اس کے نفس مطمئن بنا دیا ۔ اس کی فطرت کو درست بنا دیا ۔ اس کے کان کو حق سننے والا۔ آنکھ کو حق دیکھنے والا بنا دیا۔ بہر حال کان توقیف ہیں ( بات اندر پہچانے کے لئے ) اور آنکھ دل کی محفوظ کردہ چیز کاپیالہ میں ۔ تحقیق کامیاب ہو گیا وہ شخص اللہ نے جس کے دل کو ایمان کو محفوظ کرنے والا بنا دیا ۔

أَبُو ذَرٍّ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بحير بن سعيد ← إسحاق بن إبراهيم الحنظلي أنبأ بقية بن الوليد ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَدِينِيُّ،

Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 108

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 109

109 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنبأ إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور الرمادي ثنا عبد الرزاق أنبأ معمر عن عاصم عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : القلب ملك و له جنود فإذا صلح الملك صلحت جنوده و إذا فسد الملك فسدت جنوده و الأذنان قمع و العينان مسلحة و اللسان ترجمان و اليدان جناحان و الرجلان بريد و الكبد رحمة و الطحال ضحك و الكليتان مكر و الرية نفس قال البيهقي رحمه الله : هكذا جاء موقوفا و معناه في القلب جاء في حديث النعمان بن بشير مرفوعا و قد رواه عبد الله بن المبارك عن معمر بإسناده و قال رفعه

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن بشران نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی اسماعیل بن محمد صفار نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی احمد بن منصور مادی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی عبدالرزاق نے وہ کہتے ہیں خبر دی معمر نے عالم سے انہوں ابو صالح سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فرمایا : ( القلب ملک ، و لہ جنود ، فاذا صلح الملک صلحت جنودۃ و اذا فسدالملک فسدت جنودہ ، و الا ذنان قمع و العینان مسلحۃ و اللسان ترجمان و الید ان جناحان ، والرجلان برید الکبد رحمتۃ الطحال ضحک و الکلیتان مکرو الریۃ نفس۔) دل بادشاہ ہے اور اس کے کئی مدد گار یا سپاہی ہیں ، جب بادشاہ درست ہو جائے تو اس کے مدد گار بھی درست ہو جاتے ہیں ۔ اور جب بادشاہ خراب ہوجائے اس کے مدد گار سپاہی بھی خراب ہو جاتے ہیں دونوں کان ( بات داخل کرنے کا ) توقیف ہیں اور آنکھیں تو چوکیدار کا ٹھکانہ ہیں ۔ اور زبان ترجمان ہے ۔ دونوں ہاتھ پر ہیں ۔ اور دونوں پاؤں ڈاک پہچانے والا دل اور جگر شفقت و رحمت ہے ۔ اور تلی بیچ کا راستہ ہے دونوں پھیپھڑے سانس اور جان بن اور دونوں گردے خفیہ تدبیر ہیں ۔ امام بیہقی فرماتے ہیں : اسی طرح یعنی مذکورہ اثر کے مفہوم کے مطابق ایک موقوف روایت میں بھی آیا ہے یعنی قلب کے بارے میں نعمان بن بشر کی حدیث میں مرفوعا آیا ہے اور اس کو روایت کیا ہے عبداللہ بن مبارک نے معمر سے اپنی اسناد کے ساتھ اور کہا کہ انہوں نے اس کو مرفوع کہا ہے ۔

Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 109

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 110

110 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو سعيد أحمد بن النسوي ثنا إسماعيل بن إبراهيم النيسابوري قال سئل الحسن بن عيسى عن حديث ابن المبارك فقال حدثني أبو الأسود ثنا عبد الله ثنا معمر عن عاصم بن أبي النجود عن أبي صالح عن أبي هريرة رفعه : فذكره و رواه أيضا الحكم بن فضيل عن عطية عن أبي سعيد مرفوعا

ہمیں اسی کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے ابو سعید احمد بن نسوی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے اسماعیل بن ابراہیم نیساپوری نے انہوں نے کہا حسن بن عسیٰ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا تھا یعنی عبداللہ بن مبارک والی حدیث کے بارے میں انہوں نے فرمایا مجھے حدیث بیان کی ہے ابو الاسود نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی عبداللہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے معمر نے عاصم بن ابی نجود سے انہوں نے ابو صالح سے انہوں نے ابو ہریرہ سے اس کو مرفوع کیا ہے اور ذکر کیا ہے ۔ اور اس جو حکم بن فضیل نے عطیہ سے انہوں نے ابو سعید سے مرفوعا روایت کیا ہے ۔

أبي سعيد مرفوعا ← عَطِيَّةَ، ← أبي هريرة رفعه فذكره و رواه أيضا الحكم بن فضيل ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← حديث ابن المبارك فقال ← سئل الحسن بن عيسى ← إسماعيل بن إبراهيم النيسابوري ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو سعيد أحمد بن النسوي

Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 110

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 111

111 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنبأ إسماعيل بن محمد الصفار ثنا عباس بن محمد ثنا عبيد الله بن موسى ثنا سفيان عن ابن جريج عن محمد بن المرتفع عن عبد الله بن الزبير رضي الله عنهما : ـ { وفي أنفسكم أفلا تبصرون } قال : سبيل الخلاء و البول

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روز باری نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے اسماعیل بن محمد صفار نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عباس بن محمد نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبید اللہ بن موسیٰ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان نے ابن جریج سے انہوں نے محمد بن مرتفع سے انہوں نے عبداللہ بن زبیر سے رضی اللہ عنہما ۔ ( و فی انفسکم افلا تبصرون ) ( ذریعت ۲۱) اور خود تمہارے نفسوں میں (نشانیاں ہیں )کیا تم دیکھتے نہیں ۔ ابن زبیر نے فرمایا نفسوں میں نشانیوں سے مراد پیشاب پاخانے کا راستہ ہے ۔

سبيل الخلاء و البول ← عبد الله بن الزبير وفي أنفسكم أفلا تبصرون ← محمد بن المرتفع ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أبو علي الروذباري أنبأ إسماعيل بن محمد الصفار

Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 111

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 112

112 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنبأ أبو جعفر الرزاز أنبأ أحمد بن الوليد الفحام ثنا أبو نعيم ثنا سفيان عن ابن جريج عن عبد الله بن كثير عن ابن الزبير : ـ { و في أنفسكم أفلا تبصرون } قال : سبيل الخلاء و البول كذا قال :

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو جعفر رزاز نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے احمد بن ولید نجام نے وہ کہتے ہیں ہمیں بات بیان کی ہے ابو نعیم نے وہ کہتے ہیں ہمیں بات بیان کی ہے سفیان نے ابن جریج سے انہوں نے عبداللہ بن کثیر سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر سے کہ : ( و فی انفسکم افلا تبصرون ) کہ تمہاری نفسوں میں نشانیاں ہیں سے مراد ہے کہ پیشاب پاخانے کا راستہ مراد ہے ۔مذکورہ آیت میں انسان کو اپنے وجود میں کارفرما خود کا نظام میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے جس میں اللہ کے وجود اس کی وحدانیت ۔ قدرت و تصرف کے بے شمار دلائل ہیں انسانی و جود در حقیقت اللہ کی عظیم ترین قدرت کا بے مثال شاہکار ہے جدید سائنس اور میڈیکل نے ثابت کیا ہے کہ انسانی وجود میں آٹھ بڑے بڑے نظام کارفرما ہیں جو کہ اپنی جگہ محیر العقول کارکردگی کا خود کار عمل انجام دے رہے ہیں جس پر غور کرنے کے بعد انسان یہ کہتے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ انسانی وجود میں ایک چھوی کائنات آباد ہے سچ حالق کائنات نے فرمایا : ( و فی انفسکم افلا تبصرون ) حضرت ابن زبیر کا ارشاد عوام الناس کو سمجھانے کے لئے سادہ اور اہم ہے ۔ کیونکہ یہ نظام اخراج ہے اور انتہائی اہم ہے جس پر زندگی کا دارومدار ہے اگر یہ خراب ہو جائے تو زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے اس لئے شارع علیہ السلام نے فراغت ہونے پر اللہ کا شکر ادا کرنے کی تعلیم دیا ہے : الحمد للہ الذی اذھب عنی الا ذی و عافانی ) ( مترجم )

ابْنُ الزُّبَيْرِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 112

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 113

113 - و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنبأ أبو بكر محمد بن عمر بن حفص التاجر ثنا السري بن خزيمة الأبيوردي ثنا أبو نعيم ثنا سفيان عن ابن جريج عن محمد بن المرتفع عن ابن الزبير : فذكره

اور ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے انہوں نے کہا خبر دی ہے ابو بکر محمد بن عمر بن حفص تاجر نے انہوں نے کہا ہمیں بات بیان کی ہے سری بن خزیمہ سے ابیوری نے انہوں نے کہا ہمیں بات بتائی ہے ابو نعیم نے انہوں نے کہا ہمیں بات بیان کی ہے سفیان نے ابن جریج سے انہوں نے محمد بن مرتفع سے انہوں نے ابن زبیر سے پھر مذکورہ بات کو ذکر کیا ہے ۔

ابن الزبير فذكره ← محمد بن المرتفع ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← السري بن خزيمة الأبيوردي ← أبو طاهر الفقيه أنبأ أبو بكر محمد بن عمر بن حفص التاجر ← و،

Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 113

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 114

114 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق حدثني محمد بن محمد بن محمد بن عبد الله الأديب ثنا محمود بن محمد ثنا عبد الله بن الهيثم ثنا الأصمعي قال سمعت ابن السماك يقول لرجل : تبارك من خلقك فجعلك تبصر بشحم و تسمع بعظم و تتكلم بلحم

ہمیں خبر دی ہے ابو ذکریا بن اسحٰق نے انہوں نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے محمد بن محمد بن عبیداللہ ادیب نے انہوں نے کہا ہمیں بات بیان کی ہے ۔ محمود بن محمد نے انہوں نے کہا ہمیں بات بیان کی ہے عبداللہ بن ھیثم نے انہوں نے کہا ہمیں بات بیان کی ہے الاصمعی نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ابن سماک سے وہ ایک آدمی سے کہہ رہے تھے ۔ ( تبارک من خلفک فجعلک تبصر بثحم و تسمع بعظم و تتکلم بلحم ) با برکت ہے وہ ذات جس نے تجھے پیدا کیا اور تجھے ایسا بنایا کہ تم ایک چربی کے ساتھ دیکھتے ہو۔ ایک ہڈی کے ساتھ سنتے ہو۔ اور ایک گوشت کے ساتھ کلام کرتے ہو۔

ابن السماك ← الْأَصْمَعِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← محمد بن محمد بن محمد بن عبد الله الأديب ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 114

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل في الإشارة إلى أطراف الأدلة في معرفة الله عز و جل في حدث العالم ـ · حديث 115

115 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في آخرين قالوا ثنا أبو العباس الأصم ثنا أبو أمية ثنا أبو عاصم ثنا صالح الناجي عن ابن شهاب في قوله تعالى : ـ { يزيد في الخلق ما يشاء } قال : حسن الصوت

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے آخر ین میں انہوں نے کہا ہمیں بات بیان کی ہے ابو العباس اصم نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو امیہ نے انہوں نے کہا ہمیں بات بتائی ہی ابو عاصم نے انہوں نے کہا ہمیں بیان کیا ہے صالح ناجی نے ابن جریج سے انہوں نے ابن شہاب سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں : ( یزید فی الخلق ما یشاء ) ( فاطر ۱) اللہ تعالیٰ جو چوہتا ہے اپنی تخلیق میں اضافہ فرماتا ہے ۔ ابن شہاب نے فرمایا اس سے حسن صورت مراد ہے ۔

حُسْنُ الصَّوْتِ ← ابن شهاب في قوله تعالى يزيد في الخلق ما يشاء ← صَالِحٌ النَّاجِيُّ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ

Shuab ul Iman · Book › Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world · Hadith 115

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood