شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 38
38 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى أنبأ هوذة بن خليفة ثنا عوف عن عبد الله بن عمرو بن هند قال قال علي رضي الله عنه : إن الإيمان يبدأ لمظة بيضاء في القلب فكلما ازداد الإيمان عظما ازداد ذلك البياض فإذا استكمل الإيمان ابيض القلب كله و إن النفاق يبدو لمظة سوداء في القلب فكلما ازداد النفاق عظما ازداد ذلك السواد فإذا استكمل النفاق اسود القلب كله و ايم الله ! لو شققتم عن قلب مؤمن لوجدتموه أبيض و لو شققتم عن قلب منافق لوجدتموه أسود قال : و اللمظة هي الذوقة و هو أن يلمظ الإنسان أو الدابة شيئا يسيرا أي يتذوقه فكذلك القلب يدخله من الإيمان شيء يسير ثم يتسع فيه فيكثر
ہمیں خبر دی ہے ابو عبد اللہ الحافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے کہ بشر بن موسیٰ نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ھوذہ بن خلیفہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عوف عبداللہ بن عمر بن ہند سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ : دل کے اندر ایمان ایک سفید تقطہ کی صورت میں شروع ہوتا ہے ۔ پھر جس وقت ایمان بڑھتا اور عظیم ہوتا ہے وہ سفیدی بڑھتی ہے پھر جس وقت ایمان مکمل ہو جاتا ہےتو پورا دل ( روشن ) اور سفید ہو جاتا ہے ۔ اور نفاق شروع ہوتا ہے ایک سیاہ دھبے اور نقطے کی صورت دل میں پھر جیسے جیسے نفاق بڑھ کر زیادہ ہوتا ہے یہ سیاہی بھی بڑھتی ہے جب نفاق مکمل ہو جاتا تو پورا دل سیاہ ہو چکا ہوتا ہے ۔ قسم اللہ کی اگر تم لوگ کسی مومون کا دل چیر کر دیکھو تو اسے سفید پاؤ گے اور اگر کسی منافق کا دل چیر کر دیکھو تو اس کو سیاہ پاؤ گے ۔ پھر فرمایا وہ لمحہ و دھبہ ایک ذوقہ ہے جیسے کوئی انسان یا جانور کوئی معمولی چیز چھکتا ہے اسی طرح ایمان بھی تھوڑا سا دل میں داخل ہوتا ہے پھر اس میں وسعت اور کشادگی آتی ہے اور زیادہ ہوتا ہے ۔ ایمان چار ستون پر قائم ہے :
عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرو بْنِ هِنْدٍ ← عَوْفٌ، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى أنبأ هوذة بن خليفة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 38
