Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 26

26 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنبأ أبو بكر محمد بن عمر بن حفص الزاهد ثنا السري بن خزيمة الأبيوري ثنا عبد الله بن يزيد هو المقرئ ثنا سعيد ـ هو ابن أبي أيوب ـ حدثني محمد بن عجلان عن القعقاع بن حكيم عن أبي صالح عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن عمر بن حفص زاہد نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سری بن خزیمہ ابیوری نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن یزید مقری نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سعید نے اور وہ ابن ابو ایوب ہیں وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے محمد بن عجلان نے قعقاع بن حکیم سے انہوں نے ابو صالح سے انہوں نے ابو ہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( اکمل المؤمنین ایمانا احسنھم خلقا ) مومنوں میں کامل ترین ایمان والا سب سے اچھے اخلاق کا مالک ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عبد الله بن يزيد هو المقرئ ← السري بن خزيمة الأبيوري ← أبو طاهر الفقيه أنبأ أبو بكر محمد بن عمر بن حفص الزاهد

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 26

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 27

27 - و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنبأ أبو محمد حاجب بن أحمد الطوسي ثنا محمد بن يحيى الذهلي ثنا يعلى بن عبيد ثنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أكمل المؤمنين إيمانا أحسنهم خلقا و خياركم خياركم لنسائكم قال الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ فدل هذا القول على أن حسن الخلق إيمان و أن عدمه نقصان إيمان و أن المؤمنين متفاوتون في إيمانهم فبعضهم أكمل إيمانا من بعض

اور خبر دی ہے ہمیں ابو طاہر فقیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو محمد حاجب بن احمد طوسی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن یحییٰ ذھلی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے یعلی بن عبید نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن عمرو نے ابو سلمہ سے وہ ابو ہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( ان اکمل المومنین ایمانا احسنھم خلقا و خیار کم خیار کم لنساء کم ) بے شک مومنوں میں ایمان کے اعتبار سے زیادہ کامل ان میں زیادہ اچھے اخلاق والا ہے اور تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے ساتھ بہتر ہو۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ فرمان دلات کرتا ہے کہ حسن خلق ایمان ہے اچھا اخلاق نہ ہونا ایمان کا نقصان و کم ہونا ہے اور یہ کہ مومن اپنے ایمان میں مختلف ہیں بعض بعض سے ایمان میں زیادہ کامل ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← أبو طاهر الفقيه أنبأ أبو محمد حاجب بن أحمد الطوسي ← و،

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 27

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 28

28 - أخبرنا أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الله بن بشران ثنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا ابن نمير عن الأعمش عن إسماعيل بن رجاء عن أبيه قال : أخرج مروان المنبر و بدأ بالخطبة قبل الصلاة فقام رجل فقال : يا مروان ! خالفت السنة أخرجت المنبر و لم يكن يخرج و بدأت الخطبة قبل الصلاة فقال أبو سعيد : من هذا ؟ فقالوا : فلان فقال أبو سعيد : قد قضى هذا الذي عليه إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من رأى منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه و ذلك أضعف الإيمان أخرجه مسلم في الصحيح من حديث الأعمش

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد بن عبداللہ بن بشران نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے اسماعیل بن محمد صفار نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن علی بن عفان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن نمیر نے اعمش سے انہوں نے اسماعیل بن رجاء سے انہوں نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں مروان نے منبر نکالا اور خطبہ شروع کیا نماز عید سے قبل ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا اے مروان آپ نے سنت کی مخالفت کی ہے آپ نے منبر نکالا ہے جب کہ وہ نہیں نکالا جاتا تھا ۔ اور آپ نے خطبہ نماز عید سے قبل شروع کیا ہے ابو سعید نے کہا کون ہے یہ ؟ لوگوں نے بتایا فلاں ہے ابو سعید کہتے ہیں اس شخص نے اپنا وہ فرض ادا کیا جو اس کے ذمہ تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ و ذلک اضعف الا یمان ) جو شخص تم میں سے غلط اور ناجائز کام کو دیکھ لے اسے چاہئے کہ اس برائی کو اپنے ہاتھ سے بدل دے اور اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہ رکھے تو پھر زبان سے روکے اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پھر صرف دل سے برا جانے یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے ۔ امام مسلم نے اس کو اعمش کی حدیث سے نقل کیا ہے ۔

أَبِيهِ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الله بن بشران

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 28

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 29

29 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ أحمد بن إبراهيم بن ملحان ثنا ابن بكير ثنا الليث عن ابن الهاد عن عبد الله بن دينار عن عبد الله بن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا معشر النساء ! تصدقن و أكثرن الاستغفار فإني رأيتكن أكثر أهل النار قالت امرأة منهن و ما لنا يا رسول الله ؟ قال : تكثرن اللعن و تكفرن العشير و ما رأيت من ناقصات عقل و دين أغلب لذي اللب منكن قالت : يا رسول الله ! و ما نقصان العقل و الدين ؟ قال : أما نقصان العقل : فشهادة امرأتين تعدل شهادة رجل فهذا نقصان العقل و تمكث الليالي لا تصلي و تفطر في رمضان فهذا نقصان الدين رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن رمح عن الليث و أخرجاه من حديث أبي سعيد

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن اسٰحق فقیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے احمد بن ابراہیم بن ملحان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن بکیر نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے لیث نے وہ کہتے ہیں انہوں نے روایت کی ہے ابن الہاد سے انہوں نے عبداللہ بن دینار سے انہوں نے عبداللہ بن عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( یا معشر النساء تصدقن و اکثرن الا ستغفار فانی رأیتکن اکثر اھل النار قالت امرأۃ منھن و مالنا یا رسول اللہ قال تکثرن اللعن و تکفرن العشیر و مارأت من ناقصات عقل و دین اغلب لذی اللب منکن قالت یا رسول اللہ وما نقصان العقل و الدین ؟ قال اما نقصان العقل فشھاۃ امرأتین تعد شھادۃ رجل فھذا نقصان العقل و تمکث للیالی لا تصلی ، تفطر فی رمضان فھذا نقصان الدین ) اے عورتوں کی جماعت صدقہ کرو اور استغفار کی کثرت کرو میں نے تمہیں زیادہ اہل جہنم سے دیکھا ہے ایک عورت بولی ہمیں کیا ہوا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا تم لعنت زیادہ کرتی ہو، شوہر کی ناشکری کرتی ہو اور میں نے تم لوگوں سے زیادہ دین اور عقل کے اعتبار سے ادھورا نا مکمل نہیں دیکھا جو عقلمند پر زیادہ غالب ہو تم لوگوں سے وہ بولی یا رسول اللہ عقل اور دین کا نقصان کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا عقل کا نقصان تو یوں کہ دو عورتوں کی شہادت ایک آدمی کی شہادت کے برابر ہوتی ہے یہ تو عقل کا نقصان ہوا۔ کئی کئی راتیں ایک عورت نماز نہیں پڑھ سکتی رمضان کے روزے نہیں رکھ سکتی یہ دین کا نقصان ہوا۔ امام مسلم نے اس کو اپنی صحیح میں محمد بن صالح سے انہوں نے لیث سے روایت کیا اور بخاری مسلم نے اس کو ابو سعید کی روایت سے نقل کیا ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← ابْنِ الْھَادِ ← اللَّيْثُ ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 29

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 30

30 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو منصور محمد بن القاسم العتكي ثنا الفضل بن محمد الشعراني ثنا إسماعيل بن أبي أويس حدثني مالك ـ ح و أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله الأديب أنبأ أبو بكر الإسماعيلي أخبرني الحسن بن سفيان ثنا هارون بن سعيد الأيلي حدثنا عبد الله بن وهب حدثني مالك عن عمرو بن يحيى المازني أخبرني أبي عن أبي سعيد الخدري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يدخل الله أهل الجنة الجنة يدخل من يشاء برحمته و يدخل أهل النار النار ثم يقول : انظروا من وجدتم في قلبه مثقال حبة خردل من إيمان فأخرجوه فيخرجون منها حمما قد امتحشوا و يلقون في نهر الحياة أو الحيا فينبتون فيه كما تنبت الحية إلى جانب السيل ألم تروها تخرج صفراء ملتوية ؟ هذا لفظ حديث ابن وهب رواه البخاري في الصحيح عن ابن أبي أويس و رواه مسلم عن هارون بن سعيد قال الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ : و وجه هذا أن يكون في قلب واحد توحيد ليس معه خوف غالب على القلب فيردع و لا رجاء حاضر له فيطمع بل يكون صاحبه ساهيا قد أذهلته الدنيا عن الآخرة فإنه إذا كان بهذه الصفة انفرد التوحيد في قلبه عن قرائنه التي لو كانت أبوابا من الإيمان تتكثر بالتوحيد و يتكثر التوحيد بها إذ كانت تصديقا و التصديق من وجه واحد أضعف من التصديق من وجوه كثيرة فإذا كان ذلك خف وزنه و إذا تتابعت شهاداته ثقل وزنه و له وجه آخر : و هو أن يكون إيمان واحد في أدنى مراتب اليقين حتى إن تشكك تشكك و إنما آخر في أقصى غايات اليقين فهذا يثقل وزنه و الأول يخف وزنه و له وجه آخر : و هو أن يكون إيمان واحد ناشئا عن استدلال قوي و نظر كامل و إيمان آخر واقع عن الخبر و الركون إلى المخبر به على ما النبي ذكره فيكون الأول أثقل وزنا و الثاني أخف وزنا و هذا الخبر يدل على تفاوت الناس في إيمانهم قال الإمام الحافظ أبو بكر البيهقي ـ رحمه الله ـ و قد روي عن عبد الرحمن بن بزرج قال سمعت أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أخاف على أمتي إلا ضعف اليقين

ہمیں خبر دی ہے ہیں ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو منصور قاسم عتکی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے فضل بن محمد شعرانی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے اسماعیل بن ابی اویس نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے مالک نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عمرو محمد بن عبداللہ ادیب نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو بکر اسماعیل نے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ہے حسن بن سفیان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ہارون بن سعید ایلی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن وہب نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی مالک نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی میرے والد نے حضرت ابو سعید حذری سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں داخل کرے گا ۔ جس کو چاہے گا اپنی رحمت سے داخل کرے گا۔ اور اہل جہنم کو جہنم میں داخل کرے گا پھر فرمائے گا دیکھو جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو اس کو جہنم سے نکال لو فرشتے جہنم سے نکالیں گے وہ مکمل جل چکے ہوں گے ۔ پھر زندگی کی نہر ( نہر الحیات ) یا نہر الحیا شرم و حیاء کی نہر میں ڈالے جائیں گے ۔ پھر وہ اس طرح اگیں گے جیسے سیلاب کے کنارے دانہ اگتا ہے کیا دیکھا نہیں کہ اس کی نوک مڑی ہوئی پیلی ہوتی ہے ۔ یہ الفاظ ابن وہب کی حدیث کے ہیں ۔ بخاری نے صحیح میں اس کو ابو اویس سے روایت کیا ہے اور مسلم نے ہارون بن سعید سے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا : ( اس مذکورہ تشریح کی ) وجہ یہ ہے کہ ایک دل میں توحید ہو جس کے ساتھ کوئی خوف غالب نہ ہو دل پر جس سے ڈرایا جائے اور نہ ہی کوئی امید موجود ہو جس کا طمع کیا جائے بلکہ صاحب توحید بھول چکا ہو ( یعنی توحید میں گم ہو کر ) دنیا و آخرت کو بھول چکا ہو جب کوئی انسان اس صفت اور اس کو کیفیت میں آ جائے تو توحید اس کے دل میں ان تمام قرائن سے منفرد ہو چکی ہو گی کہ اگر وہ ہوتے تو یمان کے کئی کئی بات ہوتے جو توحید کے ساتھ زیادہ ہو جاتے اور توحید ان کے ساتھ زیادہ ہو جاتی جب وہ تصدیق ہو۔ ( اور یہ حقیقت ہے کہ ) ایک وجہ کی توحید کمزور تر ہوتی ہے وجوہات کثیرہ کی توحید سے جب توحید من وجہ واحد ہو گی تو اس کا وزن بھی ہلکا ہو گا۔ اور توحید کی شہادتیں کثیر اور مسلسل ہوں گی تو اس کا وزن بھی بھاری ہو گا۔ ( اور سابق تشریح کی ) ایک اور وجہ اور ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایمان یقین کی ادنیٰ مراتب ہو حتیٰ کہ اگر آپ شک میں ڈالیں فوراً شک میں پڑ جائے ۔ اور دوسرا ایمان ایسا ہو جو یقین کی آخری حدود تک پہنچا ہو تو اس کا وزن یقیناً بھاری ہو گا اور پہلے کا ہلکا ہو گا۔ اس کی ایک اور وجہ بھی ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایمان ایسا ہو جو قوی دلیل سے پیدا ہوا ہے اور کامل یقین سے اور ایک دوسرا ایمان ایسا ہو جو محض خیر سننے سے اور جس چیز کی خبر ملی ہے اس کی طرف میلان سے پیدا ہوا ہو یقیناً پہلا وزن کے اعتبار سے بہاری اور دوسرا وزن میں اس سے ہلکا ترین ہو گا۔ ( علاوہ ازیں ) حدیث مذکور اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ لوگ اپنے ایمان میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ امام حافظ ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ل تحقیق عبدالرحمن بن بزرج سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( ما اخاف علیٰ امتی الا ضعف الیقین ) میں اپنی امت پر یقین کی کمزوری کے سوا کسی چیز کا خوف نہیں کرتا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو عمرو محمد بن عبد الله الأديب أنبأ أبو بكر الإسماعيلي ← و، ← مَالِكٍ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أبو منصور محمد بن القاسم العتكي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 30

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 31

31 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا أحمد بن بشر المرثدي ثنا أحمد بن عيسى ثنا عبد الله بن وهب ثنا سعيد بن أبي أيوب عن عبد الرحمن بن بزرج : فذكره و هذا يدل على تفاوتهم في اليقين أما قوله عز و جل : { اليوم أكملت لكم دينكم } و ما ورد في معناه فإنه لا يمنع من قولنا بزيادة الإيمان و نقصانه لأن معنى قوله : { اليوم أكملت لكم دينكم } أي أكملت لكم وضعه فلا أفرض عليكم من بعد ما أفرضه عليكم إلى اليوم و لا أضع عنكم بعد اليوم قد ما فرضته قبل اليوم فلا تغليظ من الآن و لا تخفيف و لا نسخ و لا تبديل و ليس معناه أنه أكمل لنا ديننا من قبل أفعالنا لأن ذلك لو كان كذلك لسقط عن المخاطبين بالآية الدوام على الإيمان لأن الدين قد كمل و ليس بعد الكمال شيء فإذا كان الدوام على الإيمان مستقبلا و هو إيمان فلذلك الطاعات الباقية التي تجب شيئا فشيئا كلها إيمان و الكمال راجع إلى إكمال الشرع و الوضع لا إلى كمال أداء المؤدين له و قيام القائمين به و الله تعالى أعلم

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن عبدان صفار نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن بشر مرثدی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن عیسیٰ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن وہب نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سعید بن ابو ایوب نے عبدالرحمن بن بزرج سے پھر اس نے گزشتہ حدیث کو ذکر کیا ہے یہ حدیث بھی لوگوں کے ایمان کے ایک دوسرے سے فرق اور تفاوت پر دلالت کرتی ہے ۔ کہ اگر ایمان اور دین شئی واحد ہے اور دین نص قرآنی کے مطابق مکمل ہو چکا تو مطلب یہ ہوا کہ ایمان مکمل ہو چکا پھر کامل اور ناقص ہونا کم زیادہ ہونا چہ معنی دار تو مصنف اس کا جواب دینے کی کوشش فرماتے ہیں ( از مترجم ) بہر حال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : ( الیوم اکملت لکم دینکم ) ( المائدہ ۳) کہ میں نے آج تمہارے واسطے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے ۔ یہ آیت اور دیگر وہ تمام نصوص جو اس مفہوم میں وارد ہوئی ہیں وہ ہمارے اس قول کے منافی نہیں ہیں کہ ایمان زیادہ ہوتا اور کم ہوتا ہے اس لئے کہ الیوم اکملت لکم دینکم کا معنی یہ ہے کہ میں نے اس کی وضع تمہارے لئے مکمل کر دی ہے ۔ یعنی آج کے بعد میں تمہارے اوپر آئندہ کوئی چیز مزید فرض نہیں کروں گا جو آج تک میں نے فرض نہیں کی ۔ اور آج سے پہلے جو کچھ فرض کر چکا ہوں اس کی فرضیت تم سے ساقط نہیں کروں گا۔ یعنی آج کے بعد نہ مزید سختی ہو گی اور نہ ہی تخفیف ہو گی اور نہ ہی کوئی نسخ ہو گی نہ ہی کوئی تبدیلی ہو گی ۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمارا دین ہمارے لئے ہمارے اعمال و افعال کے کرنے سے پہلے مکمل کر دیا گیا ہے ۔ یہ اس لئے کہ اگر ایسا ہی ہوتا تو پھر اس آیت کے ساتھ مخاطبین پر ہمیشہ ایمان پر قائم رہنا بھی ساقط ہو جاتا اس لئے کہ دین تو کامل ہو چکا ۔ اور کامل ہو جانے کے بعد تو کوئی شئی مزید نہیں ہوتی ۔ جب ایمان پر مداوامت آئندہ اور مستقبل کے لئے ہے اور وہی ایمان ہے تو اسی لئے وہ طاعات جو باقی ہیں جو بتدریح لازم ہوتی ہیں وہ سب کی سب ایمان ہیں ۔ وہاں کامل ہونا تو یہ راجع ہے شریعت اور وضع اور ہئیت اور اس کی شکل صورت کی طرف ۔ اس کے ادا کرنے والوں کے کامل کرنے کی طرف نہیں اور نہ ہی اس کے ساتھ قائم لوگوں کے قیام کی طرف ۔ واللہ اعلم ۔

سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أحمد بن عيسى، ← أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 31

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 32

32 - أخبرنا محمد بن عبد الرحمن بن محبوب الدهان أنبأ الحسين محمد بن هارون ثنا أحمد بن محمد بن نصر حدثنا يوسف بن بلال ثنا محمد بن مروان عن الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس : في هذه الآية : { اليوم يئس الذين كفروا من دينكم } يقول : يئس أهل مكة أن ترجعوا إلى دينهم ـ عبادة الأوثان أبدا { فلا تخشوهم } في اتباع محمد صلى الله عليه و سلم { و اخشون } في عبادة الأوثان و تكذيب محمد صلى الله عليه و سلم فلما كان واقفا بعرفات نزل عليه جبريل عليه السلام و هو رافع يده و المسلمون يدعون الله تعالى { اليوم أكملت لكم دينكم } يقوله : حلالكم و حرامكم فلم ينزل بعد هذا حلالا و لا حرام { و أتممت عليكم نعمتي } قال : منتي فلم يحج معكم مشرك { و رضيت } يقول : و اخترت { لكم الإسلام دينا } ثم مكث رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد نزول هذه الآية إحدى و ثمانين يوما ثم قبضه الله تعالى إليه و إلى رحمته

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبدالرحمن بن محبوب دھان نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے حسین بن محمد بن ہارون نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن محمد بن نصر نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا یوسف بن بلال نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا محمد بن مروان نے کلبی سے انہوں نے ابو صالح سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے اس آیت کے بارے میں ( الیوم یئس الذین کفرو امن دینکم ) ( مائدہ ۳) کہ آج کافر تمہارے دین سے مایوس ہو چکے ہیں ۔ ان عباس فرماتے ہیں ۔ کہ اہل مکہ ( کفار ) اس بات سے مایوس ہو چکے ہیں کہ تم مسلمان کے دین کی طرف لوٹو گے کبھی بھی یعنی بتوں کی عبادت کی طرف ۔ فلا تخشو ھم ۔ ان سے نہ ڈر و یعنی محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی اتباع کرنے میں ۔ واخشون اور مجھ ہی سے ڈرو بتوں کی عبادت میں اور محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی تکذیب و مخالفت کرنے کے بارے میں جب حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم عرفات میں کھڑے تھے حضرت جبرائیل علیہ السلام اترے ، انہوں نے اپنا ہاتھ بلند کر رکھا تھا اور مسلمان اللہ سے دعا کر رہے تھے یہ آیت لائے الیوم اکملت لکم دینکم جبرائیل کہہ رہے تھے حلالکم و حرامکم ، اپنے حلال کو حلال سمجھو اور حرام کو حرام سمجھو ، فلم ینزل بعد ھذا حلال و لا حرام ، اس کے بعد نہ مزید کچھ حلال ہوگا نہ ہی کچھ حرام ہوگا۔ و اتممت علیکم نعمتی میں نے اپنے نعمت تمہارے اوپر مکمل کر دی ہے ۔ ابن عباس نے فرمایا : اپنا انعام احسان پورا کر دیا تمہارے ساتھ کوئی مشرک حج نہ کرے ۔ و رضیت ابن عباس فرماتے ہیں میں نے منتخب کر لیا لک مالا سلام دینا ، تمہارے اسلام کو دین ۔ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اکیاسی ۸۱ دن دنیا میں زندہ رہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو وفات دے دی اور ان کو اپنی طرف اور اپنی رحمت کی طرف سمیٹ لیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الكلبي ← محمد بن مروان ← يُوسُفُ بْنُ بِلَالٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ← محمد بن عبد الرحمن بن محبوب الدهان أنبأ الحسين محمد بن هارون

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 32

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 33

33 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الرحمن بن عيسى الدهقان بالكوفة ثنا أحمد بن حازم بن أبي عرزة الغفاري ثنا جعفر بن عون عن أبي العميس عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب : أن رجلا من اليهود قال لعمر : يا أمير المؤمنين ! آية في كتابكم تقرؤونها لو علينا معشر اليهود نزلت لاتخذنا ذلك اليوم عيدا قال : أي آية ؟ قال : { اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا } فقال عمر : قد عرفنا ذلك اليوم و المكان الذي أنزلت فيه على رسول الله صلى الله عليه و سلم بعرفات يوم جمعة رواه البخاري في الصحيح عن الحسن بن الصباح و رواه مسلم عن عبد بن حميد كلاهما عن جعفر بن عون و ذهب بعض من قال بزيادة الإيمان و نقصانه إلى أنه إذا ارتكب معصية فإنها تحبط مما تقدمها من الطاعات بقدرها و حتى ارتقى بعضهم إلى أصل الإيمان غير أنه لا يقول بالتخليد و أمره موكول إلى الله تعالى إن شاء عفا عنه برحمته أو بشفاعة الشافعين و إن شاء عاقبه بذنوبه ثم أدخله الجنة برحمته و احتج بعض من قال بقولهم : بقول الله عز و جل : { يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي ولا تجهروا له بالقول } الآية إنما أراد بذلك أن رفع الصوت فوق صوته يقع معصية فيخرج إيمان الواقع و يحبط بعض عمله و احتج أيضا بقوله : { يا أيها الذين آمنوا لا تبطلوا صدقاتكم بالمن والأذى } قال الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ و قد يخرج هذا على غير ما قاله المحتج به و هو أن يكون المعنى : لا يحملنكم أيها المهاجرون هجرتكم معه و لا أيها الأنصار إيواؤكم إياه على أن تضيعوا حرمته و ترفعوا أصواتكم فوق صوته فتكونوا بذلك صارفين ما تقدم منكم من الهجرة و الإيواء و النصرة عن ابتغاء وجه الله به إلى غرض غيره و وجه سواه فلا تستوجبوا به مع ذلك أجرا و يخرج على وجه آخر و هو أن يقال : { لا تجهروا له بالقول كجهر بعضكم لبعض } فإن ذلك قد يبلغ بكم حد الازراء به و الاستخفاف له فتكفروا و تحبط أعمالكم إلا أن تتوبوا و تسلموا و كذلك قوله : { لا تبطلوا صدقاتكم بالمن و الأذى } فليس على أن المن يحبط الصدقة و إنما وجهه أن الصدقة يبتغى بها وجه الله تعالى جده و هو المأمول منه ثوابها فإذا من المتصدق على السائل و آذاه بالتعيير فقد صرفها عن ابتغاء وجه الله تعالى بها إلى وجه السائل فحبط أجره عند الله لهذا فضلت عند المتصدق عليه مع ذلك لأنه إن كان حباه فقد آذاه و إن كان أعطاه فقد أخزاه و لو كان ذلك على معنى إفساد الطاعة بالمعصية لم يختص بالبطلان صدقته و بسط الكلام فيه ـ إلى أن قال ـ و إن من الطعن على هذا القول أن سيئات المؤمن متناهية الجزاء و حسناته ليست بمتناهية لأن مع ثوابها الخلود في الجنة فلا يتوهم أن يكون التبعة المتناهية التي يستحقها المؤمن بسيئة تأتي على ثواب حسنة لا نهاية له فأما قول النبي صلى الله عليه و سلم : من اقتنى كلبا إلا كلب صيد أو ماشية فإنه ينقص من عمله كل يوم قيراطان فإنما هو على معنى أنه ينقص من أجر عمله كل يوم قيراطان و هو في أكثر الرواية عن ابن عمر في هذا الحديث من أجره و في بعضها من عمله قال الحليمي و إنما هو على معنى أنه يحرم لأجل هذه السيئة بعض ثواب عمله و لسنا ننكر جواز أن يحرم الله تعالى المؤمن بعض جزاء حسناته و يقلل ثوابه لأجل سيئة أو سيئات تكون منه و إنما أنكرنا قول من يقول أن السيئة قد تحيط بالطاعة أو توجب إبطال ثوابها أصلا و ذلك أنه لم يأت به كتاب و لا خبر و لا يمكن أن يكون مع ثبوت الخلود للمؤمنين في الجنة و الله تعالى أعلم قال الإمام الحافظ أبو بكر البيهقي ـ رحمه الله : و أما قول النبي صلى الله عليه و سلم : أتدرون ما المفلس ؟ قالوا : المفلس فينا من لا درهم له و لا متاع قال : إن المفلس من أمتي رجل يأتي يوم القيامة بصلاة و صيام و زكاة و يأتي و قد شتم هذا و قذف هذا و أكل مال هذا و سفك دم هذا و ضرب هذا فيعطى هذا من حسناته و هذا من حسناته فإن فنيت حسناته قبل أن يقضى ما عليه أخذ من خطاياهم فطرحت عليه ثم طرح في النار فهذا إنما احتج به من قال بإحباط السيئة الحسنة و وجهه عندي ـ و الله تعالى أعلم ـ أنه يعطى خصماؤه من أجر حسناته ما يوازي عقوبة سيئاته فإن فنيت حسناته أي أجر حسناته الذي قوبل بعقوبة سيئاته أخذ من خطاياهم فطرحت عليه و طرح في النار كي يعذب بها إن لم يغفر له حتى إذا انتهت عقوبة تلك الخطايا رد إلى الجنة بما كتب له من الخلود و لا يعطى خصماؤه ما زاد من الأجر على ما قابل عقوبة سيئاته لأن ذلك فضل من الله تعالى يخص به من وافى يوم القيامة مؤمنا و الله تعالى أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ الحافظ نے کہ خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد بن عبدالرحمن بن عیسیٰ دھقان نے کوفہ میں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن حازم بن ابی عرزہ غفاری نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے جعفر بن عون نے ابو عمیس سے انہوں نے قیس بن مسلم سے انہوں نے طارق بن شہاب سے یہود کے ایک آدمی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا ۔ اے امیر المومنین تمہاری کتاب میں ایک ایسی آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو اگر وہ ہماری جماعت یہود پر اترتی تو ہم اس دن کو عید کا دن ٹھہرا لیتے حضرت عمر نے پوچھا کون سی آیت اس نے کہا یہ آیت ( الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الا سلام دینا ) ( مائدہ ۳) حضرت عمر نے جواب دیا ۔ ہم اس دن کو بھی جانتے اور اس جگہ بھی جہاں وہ نازل ہوئی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم عرفات میں تھے جمعہ کا دن تھا۔ یعنی ہم مسلمان اس سے قطعا غافل و بے خبر نہیں ہیں ہمیں معلوم ہے کہ : وہ رسول اللہ پر نازل ہوا۔ جمعہ کا دن نازل ہوئی۔ عرفات میں نازل ہوئی ۔ حج کے عظیم اجتماع کے موقع پر نازل ہوئی ہمارے لئے وہ ذات مقدس ہے جس پر اتری ۔ وہ کتاب مقدس ہے جس میں اتری وہ مقام مقدس ہے جہاں اتری وہ دن مقدس ہے جس دن اتری وہ اجتماع مقدس ہے جس میں اتری وہ حج سب سے مقدس ہے حجتہ الوداع جس میں اتری تو مسلمانوں کے لئے اس سے بڑی عید اور بڑی خوشی کیا ہو سکتی ہے ۔ ( از مترجم ) امام بخاری نے اپنی صحیح میں اس حدیث کو حسن بن صباح سے روایت کیا ہے اور امام مسلم نے اس کو عبد بن حمید سے دونوں نے جعفر بن عون سے ۔ جن لوگوں نے ایمان کم یا زیادہ ہونے کا قول کیا ہے ان میں سے بعض کی رائے یہ ہے کہ انسان جب گناہ اور معصیت کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ معصیت اس کی ان طاعات کو اور عبادات کو اکارت و ضائع کر دیتی ہے جو وہ پہلے کر چکا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق حتیٰ کہ بعض تو اصل ایمان تک کو ڈوبتی ہیں ( ایمان کے ضیاع کے بعد تو وہ دائمی جہنمی ہو جائے ) وہ بعض قائل ایسے شخص کی خلود اور دائمی جہنم کا قول نہیں کرتا بلکہ اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتا ہے اگر چاہے تو اس کو اپنی رحمت سے معاف کر دے ، یا شفاعت کرنے والوں کی شفاعت سے نجات ہو جائے اور اگر چاہے تو اس کو اس کے گناہوں کی پاداش میں سخت عذاب دے پھر اپنی رحمت کے ساتھ اس کو جنت میں داخل کر دے ۔ سابقہ قول کے قائلیں ک استدلال اور حجت یہ آیت ہے ۔ ( یا ایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صورت النبی ولا تجھرو الہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم و انتم لا تشعرون ) ( حجرات ۲) ایمان والو اپنی آوازوں کو نبی کریمی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی آواز سے اونچا نہ کرو اور آپ کے ساتھ زور سے بات نہ کرو جیسے تم ایک دوسرے سے کرتے ہو کہیں تمہارے اعمال اکارت ہو جائیں حالانکہ تمہیں اس کا علم ہی نہ ہو۔ استدلال کرنے والوں کی مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی آواز سے اونچی کرنا معصیت واقع ہوا ہے لہذا معصیت کرنے والے کا ایمان نکل جاتا ہے اور بعض اعمال بھی ضائع ہو جاتے ہیں اور ان کی دوسری دلیل یہ ہے ( یا ایھا الذین امنوا لا تبطلوا صد قاتکم با لمن و الا ذی ) ( بقرہ ۲۶۴) ایمان والوں اپنے صدقات کو احسان جتلانے اور تکلیف پہنچانے کے ساتھ ضائع نہ کرو۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مذکورہ آیات سے استدلال کرنے والوں نے جو استدلال کیا ہے کبھی اس کے برعکس بھی مفہوم ہو سکتا ہے وہ یہ کہ آیت کا معنی اور مفہوم یہ ہو۔ کہ اے مہاجرین نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ تمہارا ہجرت کرنا اور اسے انصار تمہارا نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو ٹھکانہ دینا ۔ تمہیں کہیں اس بات پر نہ اکسا دے کہ تم اس کی عزت و حرمت کو ضائع کر دو اور اپنی آوازوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے اونچا کر بیٹھو لہذا اپنی اس حرکت سے اپنی ہجرت اور پیغمبر کو جگہ دینے اور نصرت کرنے کی نیکی سے جو مقصود رضائے الہی تھی کہیں اس غرض سے ہٹ نہ جاؤ لہذا اس کے عظیم اجر سے محروم ہو جاؤ گے ۔ اور ایک تو جیہ اس آیت کے مفہوم کی اور بھی ممکن ہے وہ اس طرح ہے کہ ( لا تجھرو الہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ( الحجرات ۲) بہ جھر بالقول ۔ کبھی ایسا نہ ہو کہ تم سے توہین کی حد کو پہنچ جائے پھر تم کافر ہو جاؤ اور کفر کی وجہ سے تمہارے اعمال تباہ ہو جائیں مگر یہ ک تم توبہ کر و اور اسلام میں آؤ۔ اسی طرح ( لا تبطلوا ضد قاتکم با لمن و الاذی ) ( بقر ۲۶۴) اس پر محمول نہیں کہ احسان جتلانا صدقہ کو تباہ کرتا ہے بلکہ اس کی توجیہ یہ ہے کہ صدقہ ایسی چیز ہے جس کے ساتھ خالص اللہ کی رضا ڈھونڈی جاتی ہے اور اس کے ثواب سے یہی توقع اور امید ہوتی ہے ۔ جب صدقہ کرنے والا سائل پر احسان جتلاتا ہے اور اس کو عیب لگا کر ایذا دیتا ہے تو وہ اپنے صدقہ کو اللہ کی رضا جوئی سے ہٹا کر سائل کی رضا کی طرف لے آتا ہے تو اللہ کے نزدیک اس کا اجر تباہ ہو جاتا ہے ( اللہ کے ہاں اجر ضائع ہونے کے بعد ) پھر اجر اس کی طرف سے ہونا چاہیے جس پر صدقہ کیا جس کو دیا اگر اس کو ایذا دی گئی ہو اور دے کر رسوا کیا ہو گا تو وہاں سے بھی ضائع ہوا یا احسان جتلانے ایذا پہنچانے کی وجہ سے تو لا محالہ اجر دونوں طرف سے ضائع ہی ہوا۔ اور اگر معنی ہے طاعات کو معصیت کے ساتھ خراب کر دینا تو یہ صدقہ کے باطل کرنے کے ساتھ مختص نہیں کوئی بھی طاعت ہو سکتی ہے ۔ اس موضوع پر حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے تفصیلی کلام کیا ہے یہاں تک کہ یہ کہا ہے کہ اس قول پر طعن اور اعتراض یہ بھی ہے کہ اہل ایمان کی خطائیں جزا کے اعتبار سے متناہی ہیں یعنی سزا کی ایک حد ہے جہاں وہ ختم ہو جاتی ہے اور ان کی حسنات اور نیکیاں جزا کے اعتبار سے غیر متناہی ہیں یعنی ختم ہونے والا نہیں ہے کیونکہ وہ جنت کا دائمی دخول ہے اس اعتبار سے جنت میں اجر ہمیشہ جاری و ساری رہے گا تو اس طرح اجر نہ ختم ہونے والا ہوا۔ یہ وہم نہ کیا جائے کہ ختم ہو جانے والی سزا مومن اپنی غلطی کی وجہ سے جس کا مستحق ہو جاتا ہے ۔ وہ مومن کی ایسی نیکی کو لے ڈوبتی ہے جس کا ثواب نا ختم ہونے والا ہوتا ہے جس کی انتہا نہیں ہوتی ۔ بہر حال حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا یہ فرمان : ( من اقتنیٰ کلیا الا کلب صید او ماشیۃ فانہ ینقص من عملہ کل یوم قیراطان ) جو شخص کتا پالتا ہے شکاری کتے یا مال مویشی کے حفاظتی کتے کے علاوہ اس کے عمل سے دو قیراط روزانہ کم ہوتے ہیں ۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے عمل کے اجر سے روزانہ دو قیراط کم ہوتے ہیں اور یہ اکثر روایات ابن عمر سے اس حدیث میں من اجرہ کے الفاظ ہیں اور بعض میں من عملہ ہے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا : کہ مذکورہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس غلطی کی وجہ سے اپنے عمل کے ثواب کے کچھ حصے سے محروم ہو جائے گا۔ ہم اس بات کے جواز کا انکار نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اس کی ایک غلطی یا کئی غلطیوں کی وجہ سے ان نیکیوں کی کچھ جزاء سے محروم کر دے اور اس کا ثواب کم کر دے ۔ ہاں ہم اس شخص کے قول کا انکار کرتے ہیں جو یہ کہتا ہے کہ غلطی اور گناہ طاعات و عبادت کو اکارت کر دیتی ہے ۔ اس کو ثواب کے بالکل باطل کرنے کو لازم کر دیتی ہے ۔ یہ ہمارا انکار اس لئے ہے کہ اس کے بارے میں نہ قرآن میں وضاحت ہے نہ ہی حدیث میں اور یہ بات اہل ایمان کے جنت میں دائمی دخول کے ثبوت کے بعد نا ممکن ہے واللہ اعلم ۔ امام بیہقی کا قول : امام حافظ ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں بہر حال نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا یہ فرمان : کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے ؟ ( اتدرون ما المفلس ؟ قالوا ان المفلس من لا درھم لہ و لا متاع ان المفلس من امتی رجل یاتی یوم القیمۃ بصلاۃ و صوم و زکاۃ و یاتی و قدشتم ھذا و قذف ھذا واکل مال ھذا و سفک دم ھذا و ضرب ھذا فبعطی ھذا من حسناتہ و ھذا من حسانہ فان فنیت حسنانۃ قبل ان یقضی ما علیہ اخذ من خطایا ھم فطرحت علیہ ثم طرح فی النار ) لوگوں نے جواب دیا مفلس وہ ہے جس کے روپیہ پیسہ نہ ہو سامان نہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا امت کا مفلس وہ ہے قیامت کے دن نماز روزہ زکوٰۃ سب لے کر آے مگر کسی کو گالی دی ہے کسی پر جھوٹی تہمت لگائی ہے اس کا مال کھایا ہے اس کا نا حق خون کیا ہے اس کو مارا ہے تو قیامت کے روز ا س کو اس کی نیکیاں دی جائیں گی اور اس کو دی جائیں گی اگر اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی اس کے قرض چکانے سے پہلے پھر ان کے گناہ اس پر ڈالے جائیں گے پھر یہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ امام بیہقی فرماتے ہیں جس شخص نے یہ قول کیا ہے کہ برائی نیکی کو تباہ و برباد کر دیتی ہے اس نے اس مذکورہ حدیث سے دلیل پکڑی ہے ۔ میرے نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ اس کے حریفوں کو اس کی نیکیوں کے اجر میں سے کچھ اس قدر دیا جائے گا جو اس کی غلطی کی سزا کے برابر ہو سکے اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں یعنی اس کی نیکیوں کا اجر ختم ہو گیا جو اجر اس کی غلطیوں کی سزا کے مقابل کیا گیا تھا تو پھر ان کے خطائیں لی جائیں گی وہ اس پر ڈالی جائیں گی اور یہ شخص جہنم میں ڈال دیا جائے گا تانکہ وہاں عذاب دیا جائے گا اگر اس کی بخشش نہ کی گئی تھی ٰ کہ جب اس کے گناہوں کی سزا ختم ہو جائے گی جنت میں واپس بھیج دیا جائے گا اس لئے کہ اس کے لئے جنت کا دوام لکھا ہوا تھا اور اس کے دعویداروں کو غلطیوں کے تقابل کے بعد باقی اجر زیادہ نہیں دیا جائے گا اس لئے کہ یہ اللہ کا فضل ہے یہ اس کے لئے مخصوص جو قیامت دن ایمان دار آئے گا ؛۔ واللہ اعلم ۔

طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← أَبِي الْعُمَيْسِ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أحمد بن حازم بن أبي عرزة الغفاري

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 33

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 34

34 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر أحمد بن سليمان الفقيه أنبأ أحمد بن إبراهيم بن ملحان ثنا يحيى بن بكير عن عقيل عن الزهري عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام عن أبي هريرة أنه قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يزني الزاني حين يزني و هو مؤمن و لا يسرق السارق حين يسرق و هو مؤمن و لا يشرب الخمر حين يشربها و هو مؤمن و لا ينتهب نهبة يرفع الناس إليه فيها أبصارهم حين ينتهبها و هو مؤمن

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ الحافظ نے کہ خبر دی ہے ابو بکر احمد بن سلمان فقیہ سے انہوں نے کہا خبر دی ہے احمد بن ابراہیم بن ملحان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن بکر نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے لیث نے وہ کہتے ہیں ہم روایت کیا عقیل نے انہوں نے زہری سے انہوں نے ابو بکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ زانی اس حالت میں زنا نہیں کرتا کہ وہ مومن ہو چور اس حالت میں چوری نہیں کرتا وہ مومن ہو شرابی جب شراب پیتا ہے تو اس حالت میں انہیں پیتا کہ وہ مومن ہو مال چھیننے والا ڈاکو جب مال جھپٹتا ہے تو وہ اس حالت میں نہیں کرتا کہ وہ مومن ہو ( اس طرح کہ نظریں اٹھا کر اس کو دیکھتے رہ جائیں ) ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَقِیلٍ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ،

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 34

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 35

35 - و بهذا الإسناد عن ابن شهاب عن سعيد و أبي سلمة عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم مثل حديث أبي بكر و لم يذكر النهبة رواه البخاري في الصحيح من حديث يحيى بن بكير و رواه مسلم من وجه آخر عن الليث و إنما أراد ـ و الله تعالى أعلم ـ و هو مؤمن مطلق الإيمان لكنه ناقص الإيمان بما ارتكب من الكبيرة و ترك من الانزجار عنها و لا يوجب ذلك تكفيرا بالله عز و جل ـ مضى شرحه و كل موضع من كتاب أو سنة ورد فيه تشديد على من ترك فريضة أو ارتكب كبيرة فإن المراد به نقصان الإيمان فقد قال الله عز و جل : { إن الله لا يغفر أن يشرك به و يغفر ما دون ذلك لمن يشاء } و ذكرنا في كتاب الإيمان من الأخبار و الآثار التي تدل على صحة ما ذكرنا من التأويل ما فيه كفاية و بالله التوفيق و ذكر الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ ها هنا آثار تدل على أن الطاعات من الإيمان و إن الإيمان يزيد و ينقص و أن أهل الإيمان يتفاضلون في الإيمان و نحن قد ذكرناها في كتاب الإيمان و نشير إلى طرق منها ها هنا بمشيئة الله عز و جل

اور اسی اسناد کے ساتھ ابن شہاب سے سعید سے اور ابو سلمہ سے ابو ہریرہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے حدیث ابو بکر کی مثل مروی ہے لیکن اس میں نھبہ یعنی مال چھیننے کا ذکر نہیں ہے اس حدیث کو بخاری نے یحییٰ بن بکیر سے روایت کیا ہے اور مسلم نے دوسرے طریق سے لیث سے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے و ھو مومن ۔ حالانکہ وہ مومن سے مطلق ایمان مراد لیا ہے لیکن وہ ناقص ایمان ہے کبیرہ گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے اور للہ کی نہی کو ترک کرنے کی وجہ سے چنانچہ یہ امر تکفیر با للہ کو لازم نہیں کرتا اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے ۔ قرآن اور حدیث میں ہر وہ مقام جہاں فرض کو ترک کرنے پر تشدد اور سختی ہے یا ارتکاب کبیرہ پر تو اس سے مراد ایمان کا ناقص ہونا ہے ۔ تحقیق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ ( ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر مادون ذلک لمن یشاء ) ( نساء ۴۸ – ۱۱۶) بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو معاف نہیں کریں گے کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے ما سوا کو جس کے لئے چاہیں گے معاف فرما دیں گے ۔ ہم نے کتاب الایمان میں احادیث اور آثار ذکر کئے ہیں جو ہماری ذکر کردہ تاویل کی صحت پر دلالت کرتے ہیں جو کافی ہیں ۔ اور توفیق اللہ کی طرف سے ہے اور حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے یہاں ایسے آثار جو دلالت کرتے ہیں طاعات ایمان ہیں اور یہ کہ ایمان زیادہ اور کم ہوتا ہے ۔ اور یہ کہ اہل ایمان ، ایمان میں ایک دوسرے پر سے کم زیادہ ہیں یا ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں ۔ ہم نے اس مسئلہ کو کتاب الایمان میں ذکر کیا ہے اور یہاں ہم اس کے کئی طرق کی طرف اللہ کی مشیت کے ساتھ اشارہ کرتے ہیں ۔

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 35

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 36

36 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنبأ محمد بن عيسى بن السكن ثنا موسى بن عمران ثنا ابن المبارك عن ابن شوذب عن محمد بن جحادة عن سلمة بن كهيل عن هزيل بن شرحبيل قال : قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه : لو وزن إيمان أبي بكر بإيمان أهل الأرض لرجح بهم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ الحافظ نے کہ خبر دی ہے ابو بکر احمد بن اسحاق فقیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے محمد بن عیسیٰ بن سکن نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے موسیٰ بن عمران نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن مبارک نے ابن شوزب سے انہوں نے محمد بن حجادہ سے انہوں نے سلمہ بن کھیل سے انہوں نے ھذیل بن شرحبیل سے وہ کہتے عمر بن خطاب نے فرمایا تھا ۔ ( لو وزن ایمان ابی بکر بایمان اھل الارض لرجح بھم ) اگر ابو بکر صدیق کا ایمان تمام روئے زمین کے لوگوں کے ایمان کے ساتھ تو لا جائے تو ان سب کے ایمان سے بھاری ہوگا۔

هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← ابْنِ شَوْذَبٍ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← موسى بن عمران

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 36

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 37

37 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق ثنا محمد بن أيوب أنبأ سهل بن بكار عن محمد بن طلحة عن زبيد عن ذر قال : كان عمر بن الخطاب رضي الله عنه ربما أخذ بيد الرجل و الرجلين يقول : تعالوا نزداد إيمانا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ الحافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن اسحق نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن ایوب نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے سہل بن بکار نے محمد بن طلحہ سے زبیر سے انہوں نے ذر سے وہ کہتے ہیں ۔ عمر بن عبدالعزیز بسا اوقات ایک یا دو آدمیوں ہاتھ پکڑتے اور فرماتے : ( تعالو انز داد ایمانا ) آ جاؤ ہم ایمان زیادہ کریں ۔

تعالوا نزداد إيمانا ← كان عمر بن الخطاب ربما أخذ بيد الرجل و الرجلين ← ذَرٍّ، ← زُبَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 37

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood