Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10082

10082 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن جعفرالعدل نا يحيى بن محمد نا عبيد الله بن معاذ نا أبي نا شعبة حدثني شيخ عن أبي الدرداء قال : أحب الفقر تواضعا لربي و أحب الموت اشتياقا إلى ربي و أحب المرض كفارة لخطيئتي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن جعفر عدل نے ان کو یحییٰ بن محمد نے ان کو عبیداللہ بن معاذ نے ان کو ان کے والد نے ان کو شعبہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ایک شیخ نے ابو درداء سے انہوں نے فرمایا کہ میں فقرو غربت کو اپنے رب کے آگے عاجزی کرنے کے لئے پسند کرتا ہوں۔ اور موت کو اپنے رب سے ملاقات کے اشتیاق کے لئے پسند کرتا ہوں اور بیماری کو اپنے گناہوں کے کفارہ کے لئے پسند کرتا ہوں۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← شَيْخٌ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← يَحْيَی بْنُ مُحَمَّدٍ ← محمد بن جعفرالعدل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10082

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10083

10083 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا بحر بن نصر نا ابن وهب نا عثمان بن عطاء عن أبيه : أن معاذ بن جبل قام في الجيش الذي كان عليه حين وقع الوباء فقال للناس هذه رحمة ربكم و دعوة نبيكم صلى الله عليه و سلم و كفت الصالحين قبلكم ثم قال معاذ و هو يخطب : اللهم ادخل على آل معاذ نصيبهم الأوفى من هذه الرحمة فبينما هو كذلك إذ أتى فقيل له قد طعن ابنك عبد الرحمن فلما رأى أباه معاذا قال : يقول عبد الرحمن يا أبت الحق من ربك فلا تكونن من الممترين قال : يقول : ستجدني إن شاء الله من الصابرين قال : فمات من الجمعة إلى الجمعة آل معاذ كلهم ثم هو كان آخرهم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو عثمان بن عطاء نے ان کو ان کے والد نے یہ کہ حضرت معاذ بن جبل اس لشکر میں خطبہ دینے کھڑے ہوئے جس پر وہ مقرر تھے جب ( عمر اس کی) دوبارہ واقع ہو چکی تھی تو انہوں نے یوں کہا لوگو یہ تمہارے رب کی رحمت ہے۔ اور تمہارے نبی کی دعا ہے اور تم سے قبل نیک لوگوں کو کفایت کر چکی ہے۔ اس کے بعد حضرت معاذ بن جبل نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ آل معاذ کو اس رحمت سے پورا پورا حصہ عطا فر مایا۔ ابھی وہ اسی جگہ پر تھے کہ خبر دینے والے نے آ کر خبر دی کہ معاذ آپ کے بیٹے عبدالرحمٰن کو نیزہ لگنے سے زخم ہو گیا ہے۔ جب اس نے اپنے والد حضرت معاذ کو دیکھا تو کہا کہ اے ابا جان عبدالرحمٰن کہتا ہے کہ میں اپنے رب سے ملنے جا رہا ہوں آپ شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ نے کہا:ستجدنی انشآء اللہ من الصابرین اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ کہتے ہیں اس کے بعد کیا ہوا کہ ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک پوری آل معاذ فوت ہو گئی وہ خود ان میں فوت ہونے والے آخری فرد تھے۔

عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10083

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10084

10084 - أخبرنا يحيى بن إبراهيم بن يحيى نا أبو العباس الأصم نا بحر بن نصر نا ابن وهب نا ابن لهيعة عن محمد بن عبد الرحمن عن عورة بن الزبير : أن وجع عمواس كان معافى منه أبو عبيدة بن الجراح و أهله فقال اللهم نصيبك في آل أبي عبيدة قال : فخرجت بأبي عبيدة في خصره بثره فجعل ينظر إليها فقيل إنها ليست بشيء فقال إني أرجو أن يبارك الله فيها فإنه فيها فإنه إذا بارك في القليل كان كثيرا

ہمیں خبر دی یحییٰ بن ابراہیم بن یحییٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو ابن لہیعہ نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن نے ان کو عورہ بن زبیر نے کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور ان کی آل واہل عمو اس کی وباء سے محفوظ رہ گے تھے لہٰذا انہوں نے دعا کی تھی اے اللہ آل ابو عبیدہ کا حصہ عطا فرما۔ کہتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ کی کوکھ میں ایک پھوڑا نکلا تو وہ اس کو بار بار دیکھنے لگے ان سے کہا گیا کہ یہ تو کچھ بھی نہیں ہے وہ فرمانے لگے کہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ اس میں برکت دے گا وہ جب قلیل چیز میں برکت ڈالتا ہے تو وہ چیز کثیر ہو جاتی ہے۔

عورة بن الزبير ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← يحيى بن إبراهيم بن يحيى

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10084

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10085

10085 - و قد روينا هذا المعنى في دلائل النبوة عن معاذ بن جبل و هو أنه أخبر فيما روى عنه : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما سمعته يذكر في قدومهم الشام و خروج ذلك بهم ثم قال : اللهم إن كنت تعلم إني سمعت هذا فارزق معاذا و آل معاذ من ذلك الحظ الأوفى قال : فطعن في السبابه فجعل ينظر إليها و هو يقول : اللهم بارك فيها فإنك إذا باركت في الصغير كان كبيرا

ہم نے اس مفہوم کو دلائل النبوۃ میں معاذ بن جبل سے روایت کیا ہے انہوں نے خبر دی اس میں جو انہوں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ جو میں نے سنا ہے وہ ذکر کرتے ہیں ان کے شام کے ملک میں آنے اور وہاں سے نکلنے کے بارے میں۔ پھر انہوں نے دعا کی۔ اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے اس کو سنا ہے تو پھر معاذ کو اور آل معاذ کو اس میں سے کامل حصہ عطا کر ۔ کہتے ہیں کہ لہٰذا ان کی شہادت کی انگلی پر زخم لگ گیا تو وہ اس کو دیکھے جاتے تھے اور دعا کرتے جا رہے تھے کہ اے اللہ تو اس زخم میں برکت عطا فرما بے شک آپ جب کسی چھوٹی سی میں برکت ڈالتے تو وہ بڑی بن جاتی ہے۔

اللهم بارك فيها فإنك إذا باركت في الصغير كان كبيرا ← فطعن في السبابه فجعل ينظر إليها و هو ← هذا فارزق معاذا و آل معاذ من ذلك الحظ الأوفى ← اللهم إن كنت تعلم إني ← يذكر في قدومهم الشام و خروج ذلك بهم ثم ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ما ← معاذ بن جبل و هو أنه أخبر فيما روى عنه ← و قد روينا هذا المعنى في دلائل النبوة

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10085

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10086

10086 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن قتادة قال : وقع طاعون بالشام في عهد عمر رضي الله عنه حتى كان الرجل لا يرفع إليه ساقيه فقام عمرو بن العاص و هو أمير بالشام يومئذ فقال : تفرقوا من هذا الرجز في هذه الجبال و هذه البرية فقال شرحبيل بن حسنة : بل رحمة ربكم و دعوة نبيكم و موتة الصالحين قبلكم لقد أسلمت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم و إن هذا لأضل من حمار أهله قال : فقال معاذ بن جبل و سمعته يقول ذلك اللهم أدخل على آل معاذ نصيبهم من هذا البلاء قال : فطعنت له امرأتان فماتتا حتى طعن له ابن فدخل عليه فقال الحق من ربك فلا تكن من الممترين قال : ستجدني إن شاء الله من الصابرين قال : ثم مات ابنه ذلك فدفنه قال : ثم طعن معاذ فجعل يغشى عليه فإذا أفاق قال : رب عمني عمتك فوعزتك إنك لتعلم أني أحبك قال : ثم يغشى عليه فإذا أفاق قال : مثل ذلك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن علی صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں شام کے ملک میں طاعون کی وبا پھیل گئی تھی یہاں تک کہ لوگوں نے وہاں جانا چھوڑ دیا۔ چنانچہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ جو کہ اس وقت شام میں امیر و گورنر تھے وہ خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اس عذاب سے تم لوگ پہاڑوں اور دیہاتوں جنگلوں میں بکھر جاؤ۔ لہٰذا حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ( عذاب نہ کہو) بلکہ تمہارے رب کی رحمت ہے اور تمہارے نبی کی دعا ہے۔ اور تم سے پہلے والے صالحین کی موت ہے۔ البتہ آپ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسلام لے آئے ہو اور بے شک یہ بات ان کے گھر والوں کے گدھے سے زیادہ گمراہی ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ نے یہ فرمایا کہ اور میں نے سنا وہ یہی کہہ رہے تھے اے اللہ آل معاذ پر بھی ان کا حصہ اس آزمائش کا داخل فرما۔ کہتے ہیں کہ ان کی دو عورتوں کو نیزہ لگا جس سے وہ دونوں مر گئیں حتٰی کہ ان کے ایک بیٹے کو زخم لگ گیا آپ اس کے پاس گئے اور کہا کہ اپنے رب سے مل جا اور شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔ انہوں نے کہا اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ فرمایا کہ پھر ان کا یہ بیٹا فوت ہو گیا انہوں نے اس کو دفن کیا۔ اس کے بعد حضرت معاذ کو تیر لگا جس سے ان پر بیہوشی طاری ہو گئی۔ پھر جس وقت ہوش میں آئے تو کہا مجھے اپنی خیریت اور سلامتی سے خیریت عطا کر ۔ تیری عزت کی قسم ہے بے شک تو جانتا ہے کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ پھر وہ بے ہوش ہو گئے جب ہوش میں آئے تو پھر انہوں نے یہی کہا۔

قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10086

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10087

10087 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن علي بن عفان نا عبيد الله بن موسى عن عيسى عن الشعبي عن حذيفة قال : كنتم تسألون عن الرخاء و كنت أسأله عن الشدة و لقد رأيتني و ما من يوم أحب إلي من يوم شكوا لي فيه أهل الحاجة إن الله إذا أحب عبدا ابتلاه يا موت عظ عظك و سد سدل أي قلبي إلا حبك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو عیسیٰ نے ان کو شعبی نے ان کو حذیفہ نے وہ کہتے ہیں کہ تم لوگ ہو کہ نرمی اور رحمت کے بارے میں سوال کرتے رہتے ہو میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے شدت وسختی کے بارے میں پوچھتا رہتا تھا مجھے کوئی دن اس دن سے زیادہ محبوب نہیں ہوتا جس دن اہل ضرورت میرے آگئے شکایت کرتے ہیں بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے اس کو آزماتا ہے۔

الرخاء و كنت أسأله ← كنتم تسألون ← حُذَيْفَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← عِيسَى؛ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10087

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10088

10088 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : حدثني أبو جعفر محمد بن علي الزوزني الأديب نا علي بن القاسم النحوي الأديب قال : سمعت عبد الله بن عزره الهروي يذكر بإسناد له عن الأحنف بن قيس قال : ما سمعت بعد كلام رسول الله صلى الله عليه و سلم أحسن من كلام أمير المؤمنين علي رضي الله عنه حيث يقول : إن للنكبات نهايات لا بد لأحد إذا نكب من أن ينتهي إليها فينبغي للعاقل إذا أصابته نكبة أن ينام لها حتى تنقضي مدتها فإن في دفعها قبل انقضاء مدتها زيادة في مكروهها قال الأحنف و في مثله يقول القائل : ( الدهر يخنق أحيانا قلادته فاصبر عليه و لا تجزع و لا تثب ) ( حتى يفرجها في حال مدتها فقد يريد احتنانا كل مضطرب )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حدیث بیان کی ابو جعفر محمد بن علی زوزنی ادیب نے ان کو علی بن قاسم نحوی ادیب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن عزرہ ہروی سے اپنی اسناد کے ساتھ احنف بن قیس سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کلام رسول کے بعد امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے کلام سے زیادہ خوبصورت کلام کسی کا نہیں سنا جہاں فرماتے تھے ۔ بے شک رنج اور سختیوں کے لئے بھی انتہائیں ہوا کرتی ہیں لازمی ہے کسی ایک کے لئے کہ وہ جس وقت رنج اور مصیبت میں مبتلا ہو جائے کہ وہ اس کی انتہاء تک پہنچے لہٰذا عقلمند کو چاہئے کہ جب اس کو کوئی سختی اور مصیبت پہنچے اس سے وہ سو جائے (یعنی اس سے غافل ہو جائے ) حتٰی کہ اس کی مدت پوری ہو جائے کیونکہ اس کی مدت پوری ہونے سے پہلے اس کو دفع کرنے کی کوشش کرنا اس کے مکروہ اور ناپسندیدہ پن کو زیادہ کر دیتا ہے۔ احنف شاعر نے کہا کہ اسی کی مثل کیفیت کے بارے میں کسی کہنے والے نے کہا ہے (شعر کا مفہوم ہے ) زمانہ کبھی کبھی اپنے قلادہ کو یعنی گلے کے بند کو زیادہ تنگ کر دیتا ہے لہٰذا اس پر صبر کیجئے اور بے صبری نہ کیجئے۔ اور نہ ہی اچھلئے ۔ یہاں تک کہ وہ اس کی پوری مدت کرنے کو خود بخود اس کو کھول دے وہ تو ہر مضطرب اور پریشان کو رولانا چاہتا ہے۔

مَا ← الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← عبد الله بن عزره الهروي يذكر بإسناد له ← علي بن القاسم النحوي الأديب ← أبو جعفر محمد بن علي الزوزني الأديب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10088

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10089

10089 - قال علي بن القاسم لأبي تمام : ـ ( و من لم يسلم للنوائب أصبحت خلائقه جمعا عليه نوائبا )

علی بن قاسم نے ابو تمام شاعر کا شعر کہا (جس کا مفہوم یہ ہے۔) جو شخص مصائب کے ساتھ صلح نہیں کرتا اس کی تمام تر عادات اس کے خلاف مصائب بن جاتی ہیں جمع ہو کر۔

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10089

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10090

10090 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الصقر أحمد بن الفضل الكاتب بهمذان نا المبرد قال لي الجاحظ : أتعرف مثل قول إسماعيل بن القاسم : ـ ( و لا خير فيمن لا يوطن نفسه على نائبات الدهر حين ينوب ) فقلت قول كثير و منه أخذ : ( فقلت لها باعز كل مصيبة إذا وطئت لها النفس ولت ) قال أبو العباس المبرد و يروي أن عبد الملك بن مروان لما سمع هذا قال : لو قاله في صفة الحرب كان فيه أشعر الناس

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الصقر احمد بن فضل کاتب نے ہمدان میں ان کو مبرد نے ان سے کہا حافظ نے کہ کیا آپ اسماعیل بن قاسم کے قول جیسا کسی کا کلام جانتے ہیں شعر کا مفہوم ہے۔ اس من اس شخص میں کوئی خیر کا پہلو نہیں ہے جو اپنے نفس کو گردشات زمانے کو سہنے کے لئے تیار نہیں کرتا جب وہ مصائب باری باری آتے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ کثیر شاعر کا قول ہے جس سے یہ شعر لیا گیا ہے۔ (مفہوم) میں نے (فلاں سے ) کہا کہ ہر مصیبت کا مقابلہ کیجئے جب آپ اس پر سوار ہوں گے تو وہ کمزور اور عاجز ہو جائے گی ابو العباس مبرد نے کہا کہ روایت کی گئی ہے کہ عبد الملک بن مروان نے جب اس کو سنا تو فرمایا اگر وہ شاعر یہ نظم جنگ کی صفت کے بارے میں کہتا تو وہ اس بارے میں سب سے بڑا شاعر بن جاتا۔ ( مراد ہے برداشت کرنا )۔

الْمُبَرِّدُ، ← أبو الصقر أحمد بن الفضل الكاتب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10090

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10091

10091 - أنشدنا أبو سعد عبد الرحمن بن محمد بن دوست لنفسه : ـ ( لا تبع سرك غير قلبك موضعا فالسر بين مضيع و مباحث ) ( واعد لصبر للنوائب جنة فالمرء برهن مصائبه حوادث ) ( و اسمح بمالك في الحقوق فإنما مال البخيل لحارث أو وارث ) ( و احرث لنفسك حرث خير إنه لا يحصد المعروف غير الحارث ) ( لا ينفع التدبير و الحزم امرأ حتى يعززه القضاء بثالث )

ہمیں شعر سنائے ابو سعد عبدالرحمٰن بن محمد بن دوست نے اپنے کلام میں سے۔ (مفہوم) اپنے راز کو اپنے دل کے سوا کسی اور جگہ پر نہ رکھنا ورنہ وہ راز ضائع کرنے والے اور زید نے والے اور پھیلانے والے کے درمیان واقع ہو جائے گا۔ اور اپنے صبر کو مصائب کے لئے ڈھال بنائے۔ کیونکہ انسان تو حوادث اور مصائب کے ساتھ گروی ہے۔ اور اپنے مال کو حقوق پر خرچ کرنے میں سخاوت کیجئے کیونکہ بخیل اور کنجوس کا مال یا تو وارث لے جاتے ہیں یا کسان لے جاتے ہیں۔ آپ اپنی ذات کے لئے خیر کی کھیتی کاشت کیجئے اس لئے کہ اچھائی کا کھیت وہی کاٹتا ہے جو اچھائی جوتا اور کاشت کرتا ہے حسن تدبیر ہو یا ہوشیاری اور عقلمندی یہ دونوں اس وقت تک کسی آدمی کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتے جب تک تیری چیز قضا اور تقدیر خداوندی اس کو تائید و غلبہ عطا نہ کرے۔

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10091

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10092

10092 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنشدنا أبو الصقر أحمد بن الفضل الكاتب بهمدان أنشدنا أحمد بن يحيى النحوي ثعلب : ـ ( هون عليك الأمر صفحاتهن فقل ما سكنت إلا سكن ) ( اقبل من الدهر تصاريفه و اقنع به إن لان أو إن خشن ) ( كم لذة قد نلت في ساعة ثم تولت فكأن لم تكن ) ( هن كلما شئت فإن البلى يمضي بما صنت و ما لم تصن ) ( إن كنت بالأيام مستأنسا فهات يوما واحدا لم يخن )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو شعر سنائے ابو الصقر احمد بن فضل کاتب نے ہمدان میں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں شعر بیان کئے احمد بن یحییٰ نحوی ثعلب نے۔ کسی بھی امر اور معاملے کو ان کی انتہا ئیں آسان کر دیں گی تو کہہ دیجئے اے مشکل امر تو نہیں ٹھہرا مگر وہ رک گئیں (یعنی تیری انتہا ء )۔گردشات زمانہ کو قبول کر لیجئے (جو کہ زمانے کی فطرت میں شامل ہیں آئیں گی) اور انہیں کے ساتھ گزارہ کر لیتے اگرچہ وہ نرم ہوں یا سخت ہوں۔ بہت ساری لذتیں اپنے ایک ہی ساعت پاتی ہیں پھر جاتی ہے تو ایسے ہوتا ہے جیسے تھی ہی نہیں ۔ جب بھی آپ چاہیں بے شک ان میں پرانا ہونا جاری ہو گا ان میں جن کی آپ حفاظت کریں اور ان میں جن کی آپ حفاظت نہ کریں۔ اگر آپ زمانے کے ایام کے ساتھ آپ محبت کرتے ہیں تو صرف ایک دن ایسا دکھا دو جو خیانت نہ کرے۔

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10092

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10093

10093 - أنشدنا أبو عبد الرحمن السلمي أنشدنا الحسين بن يحيى الشافعي أنشدنا السكوني قال : أنشدنا الحسن بن علي البصري قال : أنشدنا عمر بن تدرك لعلي بن أبي طالب رضي الله عنه : ـ ( اصبر على مضض الإدلاج بالسحر و بالرواح على الحاجات بالبكر ) ( لا يعجزنك و لا يضجرك مطلبه فالحجج تتلف بين العجز و الضجر ) ( إني رأيت و في الأيام تجربة للصبر عاقبة محمودة الأثر ) ( فقل من جد في شيء يطالبه فاستصحب الصبر إلا فاز بالظفر )

ہمیں شعر بیان کئے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو شعر بیان کئے حسن بن یحییٰ شافعی نے ہمیں شعر سنائے سکونی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں شعر سنائے حسن بن علی بصری نے وہ کہتے ہیں ہمیں شعر سنائے عمر بن مدرک نے حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کے کلام سے (مفہوم) صبر کیجئے اول شب کے اندر مصیبت سے رنجیدہ خاطر ہونے پر صبح تک اور شام کے وقت سے سحر تک حاجات کے ساتھ ۔ ان کا ڈھونڈھنا تلاش کرنا نہ تو آپ کو عاجز کرے اور نہ ہی تنبیہ کرے اس لئے کہ قوت عجز کے اور ڈانٹ کے درمیان ضائع ہو جاتی ہے میں نے دیکھا ہے بلکہ زمانے میں تجربہ ہے اس بات پر کہ صبر کا انجام انتہائی پیارا ہوتا ہے۔ پس آپ کہئے کہ جو شخص کسی چیز کی طلب میں اچھی سعی کرتا ہے اور وہ صبر کے ساتھ دوستی کرتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔

أنشدنا الحسن بن علي البصري ← أنشدنا أبو عبد الرحمن السلمي أنشدنا الحسين بن يحيى الشافعي أنشدنا السكوني

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10093

chevron_left Previous
1…8910…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood