شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10070
10070 - أخبرنا عبد الله بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا أبو داود نا مسلم الحراني نا مسكين بن بكير عن محمد بن مهاجر عن يونس بن ميسرة قال : ليست الزهادة في الدنيا بتحريم الحلال و لا إضاعة المال و لكن الزهادة في الدنيا أن تكون بما في يد الله أوثق منك مما في يديك و أن يكون حالك في المصيبة و حالك إذا لم تصب بها سواء و أن يكون ذامك و مادحك في الحق سواء
ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو ابو داؤد نے ان کو مسلم حرانی نے ان کو مسکین بن بکیر نے ان کو محمد بن مہاجر نے ان کو یونس بن میسرہ نے انہوں نے فرمایا کہ زہد اور دنیا سے بے رغبتی (یعنی ترک دنیا ) صرف حلال چیزوں کو حرام ٹھہرا کر ترک کرنے اور مال کو ضائع نہ کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ زاہد اور تارک الدنیا ہوتا یہ ہے کہ جو کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اس پر تیرا یقین اس سے بھی زیادہ پکا ہو جو کچھ تیرے اپنے ہاتھ میں ہے اور مصیبت کی حالت میں تیری حالت ویسی ہو جیسے بغیر مصیبت کی حالت میں ہوتی ہے دونوں حالتیں برابر ہوں۔ اور یہ کہ تیری برائی کرنے والا اور تیری مدح کرنے والا حق کے بارے میں برابر ہوں۔
يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، ← مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← مسلم الحراني ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ،
Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10070
