Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10070

10070 - أخبرنا عبد الله بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا أبو داود نا مسلم الحراني نا مسكين بن بكير عن محمد بن مهاجر عن يونس بن ميسرة قال : ليست الزهادة في الدنيا بتحريم الحلال و لا إضاعة المال و لكن الزهادة في الدنيا أن تكون بما في يد الله أوثق منك مما في يديك و أن يكون حالك في المصيبة و حالك إذا لم تصب بها سواء و أن يكون ذامك و مادحك في الحق سواء

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو ابو داؤد نے ان کو مسلم حرانی نے ان کو مسکین بن بکیر نے ان کو محمد بن مہاجر نے ان کو یونس بن میسرہ نے انہوں نے فرمایا کہ زہد اور دنیا سے بے رغبتی (یعنی ترک دنیا ) صرف حلال چیزوں کو حرام ٹھہرا کر ترک کرنے اور مال کو ضائع نہ کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ زاہد اور تارک الدنیا ہوتا یہ ہے کہ جو کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اس پر تیرا یقین اس سے بھی زیادہ پکا ہو جو کچھ تیرے اپنے ہاتھ میں ہے اور مصیبت کی حالت میں تیری حالت ویسی ہو جیسے بغیر مصیبت کی حالت میں ہوتی ہے دونوں حالتیں برابر ہوں۔ اور یہ کہ تیری برائی کرنے والا اور تیری مدح کرنے والا حق کے بارے میں برابر ہوں۔

يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، ← مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← مسلم الحراني ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10070

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10071

10071 - قال الشيخ : و قد روى هذا عن عمرو بن واقد عن يونس بن ميسرة عن أبي إدريس عن أبي الدرداء : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : و أن تكون في ثواب المصيبة إذا أصبت بها أرغب منك لو أنها أبقيت لك أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو طاهر محمد بن أحمد بن طاهر الصوفي نا أبو نعيم عبد الملك بن محمد بن عدي نا يزيد بن عبد الصمد نا محمد بن المبارك الصوري نا عمرو فذكره

شیخ نے فرمایا کہ تحقیق یہی مروی ہے عمرو بن واقد سے اس نے یونس بن میسرہ سے اس نے ابو ادریس سے اس نے ابو درداء سے اس نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا کہ جب تو مصیبت میں مبتلا ہو جائے تو حالت مصیبت میں ثواب کی امید اور رغبت اس سے بھی زیادہ ہو کہ اگر وہ ثواب مصیبت باقی رکھ دیا جاتا۔ ہمیں خبر دی عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو خبردی ابو طاہر محمد بن احمد بن طاہر صوفی نے ان کو ابو نعیم عبدالملک بن محمد بن عدی نے ان کو یزید بن عبدالصمد نے ان کو محمد بن مبارک سواری نے ان کو عمرو نے پھر اس نے مذکورہ روایت نقل کی ہے۔

و، ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِي إِدْرِيسَ، ← يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ ← عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10071

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10072

10072 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس هو الأصم نا إبراهيم بن سليمان نا مسدد نا يزيد بن زريع نا أبو رجاء عن الحسن في قوله تعالى : ـ { و جعلنا بعضكم لبعض فتنة أتصبرون و كان ربك بصيرا } قال يقول الفقير : لو شاء الله لجعلني غنيا مثل فلان و يقول السقيم : لو شاء الله لجعلني صحيحا مثل فلان يقول الأعمى : لو شاء الله لجعلني بصيرا مثل فلان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ابراہیم بن سلیمان نے ان کو مسدد نے ان کو یزید بن زریع نے ان کو ابو رجاء نے ان کو حسن نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں:وجعلنا بعضکم لبعض فتنۃ اتصبرون وکان ربک بصیرا ہم نے تمہارے بعض کو بعض کے لئے آزمائش بنایا کیا تم لوگ صبر کرو گے اور تیرا رب دیکھنے والا ہے۔ فرمایا کہ یوں کہے کہ اگر اللہ چاہا تو مجھے بھی غنی کر دیتا مثل فلاں غنی کے اور بیماریوں کے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو مجھے صحت مند کر دیتا مثل فلاں صحت مند کے اور اندھا یوں کہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو مجھے بھی آنکھوں والا بنا دیتا فلاں کی مثل ۔

الْحَسَنِ فِي قوله تعالى ← أَبُو رَجَاءٍ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدٌ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُلَيْمَانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10072

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10073

10073 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسين إسحاق بن أحمد الكاذي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا عبد الصمد نا عبد الله بن بكر المزني عن الحسن قال : إن هذا الحق جهد الناس و حال بينهم و بين شهواتهم و إنما صبر على هذا الحق من عرف فضله و رجا عاقبته إن من الناس ناسا قرؤوا القرآن لا يعلمون سنته و إن أحق الناس بهذا القرآن من اتبعه بعمله و إن كانوا لا يقرؤوه إنك لتعرف الناس ما كانوا في عافية فإذا نزل بلاء صار الناس إلى حقائقهم صار المؤمن إلى إيمانه و المنافق إلى نفاقه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسین اسحاق بن احمد کاذی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے علد یث بیان کی ہے میرے والد نے ان کو عبد الصمد نے ان کو عبداللہ بن کر مزنی نے حسن ہے وہ کہتے ہیں ۔ کہ بے شک یہ حق لوگوں کی جھد و سعی کا نام ہے ان کے اور ان کی خواہشات کے مابین حائل ہے۔ یقینی بات ہے کہ اس حق پر وہی شخص صبر کرتا ہے جو اس کی فضیلت پہچانتا ہے اور آخرت کے لئے اس کی امید قائم کرتا ہے۔ لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو قرآن مجید پڑھتے ہیں مگر اس کی سنت و طریقہ نہیں جانتے۔ بے شک سب لوگوں سے اس قرآن کے ساتھ زیادہ حق دار وہ شخص ہے جو اپنے عمل کے ساتھ اس کی اتباع کرے اگرچہ وہ لوگ قران کو نہ بھی پڑھتے ہوں۔ بے شک آپ لوگوں کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ عافیت میں نہیں ہیں۔ جب کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے تو لوگ اپنے حقائق اور اپنے اصل کی طرف رجوع کرتے ہیں مؤمن اپنے ایمان کی طرف اور منافق اپنے نفاق کی طرف۔

الْحَسَنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ الْمُزَنِيُّ ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْكَاذِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10073

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10074

10074 - أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني نا أبو بكر محمد بن أحمد بن يعقوب نا عبد الله بن سهل قال : سمعت حاتم الأصم يقول : قال شقيق من شكا مصيبة نزلت به إلى غير الله لم يجد في قلبه لطاعة الله حلاوة أبدا

ہمیں خبر دی ابو سعد احمد بن محمد مالینی نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن یعقوب نے ان کو عبداللہ بن سہل نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حاتم اصم سے سنا تھا وہ کہتے ہیں کہ شفیق بلخی نے کہا تھا جو شخص اپنے اوپر اترنے والی مصیبت کی شکایت غیر اللہ کی طرف کرے وہ اپنے دل میں اللہ کی اطاعت کی حلاوت اور مٹھاس کبھی نہیں پائے گا۔

حَاتِمٌ الْأَصَمُّ، ← عبد الله بن سهل ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَعْقُوبَ، ← أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10074

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10075

10075 - حدثنا أبو القاسم عبد الرحمن بن محمد السراج و أبو نصر بن قتادة قالا نا الإمام أبو سهل محمد بن سليمان نا أبو بكر الأنباري نا أبو عيسى الختلي نا أبو يعلى نا الأصمعي قال : نظر الفضيل بن عياض إلى رجل يشكو فقال : يا هذا تشكو من يرحمك إلى من لا يرحمك

ہمیں حدیث بیان کی ابو القاسم عبدالرحمٰن بن محمد سراج نے اور ابو نصر بن قتادہ نے دونوں نے کہا کہ ان کو امام ابو سہل محمد بن سلیمان نے ان کو ابو بکر انباری نے ان کو ابو عیسیٰ ختلی نے ان کو اصمعی نے۔ انہوں نے کہا کہ فضیل بن عیاض نے ایک آدمی کو دیکھا جو شکایت کر رہا تھا تو انہوں نے فرمایا اے فلانے آپ اس کی شکایت کر رہے ہیں۔ جو آپ کے اوپر رحم کرتا ہے اس کے آگے جو آپ کے اوپر رحم نہیں کر سکتا۔

نظر الفضيل بن عياض إلى رجل يشكو ← الْأَصْمَعِيُّ ← أَبُو يَعْلَى ← أَبُو عِيسَى الْخُتَّلِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ الأَنْبَارِيُّ ← الإمام أبو سهل محمد بن سليمان ← أبو القاسم عبد الرحمن بن محمد السراج و أبو نصر بن قتادة

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10075

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10076

10076 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك نا الحسن بن عمرو قال : سمعت بشر بن الحارث يقول : الصبر الجميل الذي لا شكوى فيه إلى الناس قال : و سمعت بشر بن الحارث يقول : من لم يحتمل الفم و الأذى لم يدخل فيما يحب قال : و سمعت بشرا يقول : إذا أحب الله أن يتحف العبد سلط عليه من يؤذيه قال : و قال سفيان لا خير فيمن لا يؤذى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمرو عثمان بن احمد بن سماک نے ان کو حسن بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بشر بن حارث وہ کہتے ہیں کہ صبر جمیل وہ ہوتا ہے جس میں لوگوں کے آگے شکوہ نہ ہو۔ فرماتے ہیں کہ میں نے سنابشر بن حارث سے فرماتے ہیں جو شخص غم اور ایذاء برداشت نہیں کرتا وہ اللہ کے محبوب لوگوں میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اور فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت بشر سے سناوہ کہتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو عظمت دینا پسند کرتا ہے تو اس پر کسی ایسے شخص کو مسلط کرتا ہے جو اس کو تکلیف پہنچاتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ سفیان نے کہا تھا کہ اس شخص میں کوئی خیر و بھلائی نہیں ہے جو نہ ستایا جائے۔

سفيان لا خير فيمن لا يؤذى ← و، ← إذا أحب الله أن يتحف العبد سلط عليه من يؤذيه ← بِشْرًا ← و، ← من لم يحتمل الفم و الأذى لم يدخل فيما يحب ← بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ ← و، ← الصبر الجميل الذي لا شكوى فيه إلى الناس ← بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ ← الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10076

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10077

10077 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا بكر محمد بن جعفر الأدمي ببغداد يقول : نا أبو العيناء نا عبد الله بن خبيق نا يوسف بن أسباط قال : سمعت سفيان الثوري يقول : ما أصاب إبليس من أيوب عليه السلام في مرضه إلا الأنين ثم قال سفيان لم يفقه عندنا من لم يعد البلاء نعمة و الرخاء مصيبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر محمد بن جعفر آدمی سے بغداد میں وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو العیناء نے ان کو عبداللہ بن خبیق نے ان کو یوسف بن اسباط نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سفیان ثوری سے وہ کہتے ہیں ایوب علیہ السلام کی طرف سے ابلیس کو سوائے رونے کے کچھ حاصل نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد سفیان نے کہا کہ جو شخص آزمائش کو نعمت اور راحت کو مصیبت شمار نہ کرے وہ ہمارے نزدیک سمجھدار اور فقیہ نہیں ہے۔

سفيان لم يفقه عندنا من لم يعد البلاء نعمة و الرخاء مصيبة ← ما أصاب إبليس من أيوب في مرضه إلا الأنين ثم ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← يُوسُفُ بْنُ أَسْبَاطٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خُبَيْقٍ، ← أَبُو الْعَيْنَاءِ، ← أبا بكر محمد بن جعفر الأدمي ببغداد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10077

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10078

10078 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أبا الحسن الفارسي يقول سمعت إبراهيم بن فاتك يقول : قال رويم الصبر ترك الشكوى قال : و قال رويم الرضا استلذاذ البلوى

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو الحسن فارسی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابراہیم بن فاتک سے وہ کہتے ہیں کہ رویم نے کہا کہ صبر ترک شکوہ کا نام ہے۔ کہتے ہیں کہ رویم نے کہا کہ رضا مصیبت میں لذت پانے کا نام ہے۔

رويم الرضا استلذاذ البلوى ← و، ← رويم الصبر ترك الشكوى ← إبراهيم بن فاتك ← أبا الحسن الفارسي ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10078

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10079

10079 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت محمد بن عبد الله يقول : سمعت محمد بن سعيد يقول : الشاكر من يشكر على النعماء و الشكور من يشكر على البلاء قال و قال : الشاكر من يشكر على النعماء و الشكور من يتلذذ بالبلاء

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنامحمد بن سعید سے وہ کہتے ہیں کہ شاکر وہ ہوتا ہے جو نعمتوں پر شکر کرے اور شکور وہ ہوتا ہے جو مصیبت میں صبر کرے کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ شاکر وہ ہوتا ہے جو نعمتوں پر شکر کرتا ہے اور شکور وہ ہوتا ہے جو آزمائش سے لذت حاصل کرتا ہے۔

الشاكر من يشكر على النعماء و الشكور من يتلذذ بالبلاء ← و، ← الشاكر من يشكر على النعماء و الشكور من يشكر على البلاء ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10079

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10080

10080 - أخبرنا أبو بكر محمد بن محمد بن عبد الله العطار نا أبو عمرو بن نجيد قال : سمعت أبا العباس السراج قال : سمعت إبراهيم بن السري السقطي يقول : مرض أبو المغيرة القاص و وقع في بطنه الأكلة فبعث إلى أبي بالسلام فقال أبي : اقرأ عليه السلام و قال له ليس من حمد الله على سيلان الصديد كمن حمده على أكل الثريد قال : أحمد و في استلذاذ البلوى لما يرى فيها من الراحة في العقبي و رد ما

ہمیں خبر دی ابو بکر محمد بن محمد بن عبد الله عطار نے ان کو خبر دی ابو عمرو بن نجید نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابو العباس سراج سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابراہیم بن سری سقطی سے وہ کہتے ہیں ابو المغیرہ واعظ بیمار پڑ گئے تھے ان کے پیٹ میں کوئی زخم ہو گیا تھا انہوں نے میرے والد سری سقطی کے نام سلام بھیجا تو میرے والد فرمایا کہ جا کر ان کو میرا بھی سلام کہ دیں اور ان سے کہیں کہ پیپ بہاتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کرنے کے برابر شدید کھا کر کر کرنا نہیں ہوسکتا۔ احمد نے کہا کہ آزمائش میں لذت حاصل کرنا اس لئے ہوتا ہے کہ وہ یہ سو چتا ہے کہ اس سے آخرت میں راحت حاصل ہو گی۔

أبي اقرأ و ← مرض أبو المغيرة القاص و وقع في بطنه الأكلة فبعث إلى أبي ← إِبْرَاهِيمَ بْنَ السَّرِيِّ السَّقَطِيِّ، ← أَبَا الْعَبَّاسِ السَّرَّاجَ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ محمد بن عَبْدِ اللَّهِ الْعَطَّارُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10080

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10081

10081 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا عبد الله بن محمد بن ناجية نا الحسن بن عيسى بن ماسرجس نا عبد الله المبارك أنا معمر أنا ثمامة بن عبد الله بن أنس أنه سمع أنس بن مالك يقول : لما طعن حرام بن ملحان و كان خاله يوم بئر معونة فقال بالدم هكذا فنضحه على وجهه و رأسه ثم قال : فزت و رب الكعبة رواه البخاري في الصحيح عن حيان بن موسى عن ابن المبارك

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ناجیہ نے ان کو حسن بن عیسیٰ ماسرجس نے ان کو عبداللہ مبارک نے ان کو معمر نے ان کو ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے کہ اس نے سنا انس بن مالک سے وہ فرماتے ہیں کہ حرام بن ملحان یوم بیر معونہ میں نیزے لگنے سے زخمی ہو گئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے وہ خون اپنے منہ اور سر پر مل لیا تھا پھر فرمایا کہ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔ بخاری نے اس کو روایت کیا صحیح میں حیان بن موسیٰ سے اس نے ابن مبارک سے۔

ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← حيان بن موسى ← فزت و رب الكعبة رواه البخاري في الصحيح ← بالدم هكذا فنضحه على وجهه و رأسه ثم ← لما طعن حرام بن ملحان و كان خاله يوم بئر معونة ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ ← مَعْمَرٌ، ← عبد الله المبارك ← الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى بْنِ مَاسَرْجَسٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10081

chevron_left Previous
1…789…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood