Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10058

10058 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو أحمد بن زياد بن ابنه أحمد بن إبراهيم نا جدي نا الحسن بن منصور قال : سمعت علي بن عثام قال : دخل الفضيل بن عياض على ابنه و هو مريض يئن فقال يا بني إن الله أمرض فلا تئن قال : فصاح ابنه صيحة و غشي عليه قال الفضيل فقلت ابني ابني قال : فما أن حتى فارق الحياة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو احمد بن زیاد احمد بن ابراہیم نے ان کو ان کے دادا نے ان کو حسین بن منصور نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی بن عثام سے انہوں نے کہا کہ فضیل بن عیاض اپنے بیٹے کو ملنے گئے وہ بیمار تھا اور رہا تھا۔ انہوں نے اس سے کہا کہ بیٹے اللہ تعالیٰ نے بیمار کیا ہے آپ کو لہٰذا آپ نہ روئیں۔ کہتے ہیں کہ ان کے بیٹے نے ایک چیخ ماری اور وہ بے ہوش ہو گیا۔ حضرت فضیل نے کہا میرے بیٹے میرے بیٹے۔ کہتے ہیں کہ وہ بالکل نہ روئے یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہو گیا۔

فما أن حتى فارق الحياة ← الفضيل فقلت ابني ابني ← فصاح ابنه صيحة و غشي عليه ← يا بني إن الله أمرض فلا تئن ← دخل الفضيل بن عياض على ابنه و هو مريض يئن ← عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← جَدِّي، ← أبو أحمد بن زياد بن ابنه أحمد بن إبراهيم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10058

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10059

10059 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا عمرو محمد بن أحمد المقري يقول : سمعت أبا عثمان يقول : دخلت مع أبي حفص على عليل فقال العليل آوه فقال أبو حفص : من من ؟ فسكت العليل تصبرا فقال أبو حفص مع من

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عمرو محمد بن احمد مقری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عثمان سے وہ کہتے ہیں کہ میں داخل ہوا ابو حفص کے ساتھ ایک بیمار کے پاس۔ بیمار کہہ رہا تھاوہ ! ابو حفص نے کہا وہ کون ؟ وہ کون ؟ چنانچہ بیمار بردستی صبر کرتے ہوئے خاموش ہو گا۔ ابو حفص نے کہا کس کے ساتھ ہے؟

أبو حفص مع من ← أبو حفص من من فسكت العليل تصبرا ← العليل آوه ← دخلت مع أبي حفص على عليل ← أَبَا عُثْمَانَ ← أبا عمرو محمد بن أحمد المقري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10059

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10060

10060 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس بن يعقوب نا العباس بن محمد نا يحيى بن معين حدثني منجاب : قال رجل لشريك كيف تجدك ؟ قال : أجدني شاكيا غير شاكر لله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو حدیث بیان کی منجاب نے وہ کہتے ہیں کہ اگر ایک آدمی اپنے ساتھی سے کہتا ہے کہ آپ کیسے ہیں؟ وہ کہتا ہے کہ میں بیمار ہوں تو یہ شخص اللہ کا شکر کرنے والا نہیں ہے۔ ( ناشکرا ہے۔)

أجدني شاكيا غير شاكر لله عز و جل ← رجل لشريك كيف تجدك ← مِنْجَابٌ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10060

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10061

10061 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني فضل بن سهل قال : نا أبو النضر عن محمد بن طلحة عن خلف بن حوشب عن الحسن البصري : ـ { إن الإنسان لربه لكنود } قال : يذكر المصيبات و ينسى النعم

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو حدیث بیان کی فضل بن سہل نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابو النصر نے محمد بن طلحہ سے اس نے خلف بن حوشب سے اس نے حسن بصری ہے کہ اس آیت کا کیا مطلب ہے: ان الانسان لربہ لکنود بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ (حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا) کہ وہ اس طرح ہے کہ مصائب کو تو یاد رکھتا ہے اور نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔

يذكر المصيبات و ينسى النعم ← الحسن البصري إن الإنسان لربه لكنود ← خَلَفِ بْنِ حَوْشَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← أَبُو النَّضْرِ، ← فَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10061

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10062

10062 - قال و حدثنا فضل حدثني علي بن قادم نا سفيان عن بعض الفقهاء قال : من الصبر أن لا تحدث بمصيبتك و لا وجعك و لا تزكي نفسك

کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے فضل نے وہ کہتے ہیں کہ مجھ کو علی بن قادم نے ان کو سفیان نے بعض فقہاء سے وہ کہتے ہیں کہ صبر میں سے ہے یہ بات کہ آپ اپنی مصیبت اور دکھ درد کو بیان نہ کریں اور نہ ہی اپنے نفس کو پاک قرار دیں۔

بَعْضِ الْفُقَهَاءِ، ← سُفْيَانَ، ← علي بن قادم ← فضل، ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10062

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10063

10063 - أخبرنا أبو سعيد أنا أبو عبد الله نا أبو بكر نا المثنى بن معاذ نا أبي عن ابن عون قال : كان محمد بن سيرين إذا اشتكى لم يكد يشكو ذاك إلى أحد قال : و ربما اطلع على الشيء قال :

ہمیں خبر دی ابو سعید نے ان کو ابو عبداللہ نے ان کو ابو بکر نے ان کو مثنٰی بن معاذ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عون نے وہ کہتے ہیں کہ محمد بن سیرین جب بیمار ہوتے تھے۔ تو وہ کسی کو اس کی شکایت نہیں کرتے تھے ۔ بسا اوقات کہیں سے کوئی بات معلوم ہو جاتی تھی۔

و ربما اطلع على الشيء ← كان محمد بن سيرين إذا اشتكى لم يكد يشكو ذاك إلى أحد ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَبِي ← الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← أَبُو سَعِيدٍ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10063

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10064

10064 - و حدثنا أبو بكر نا المثنى بن معاذ نا يحيى بن سعيد عن ربيعة بن كلثوم قال : دخلنا على الحسن و هو يشتكي ضرسه و هو يقول مسني الضر و أنت أرحم الراحمين

ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر نے ان کو مثنٰی بن معاذ نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو ربیعہ بن کلثوم نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حسن (بصری ) کے پاس گئے تو وہ داڑھ کے درد میں مبتلا تھے اور وہ یہ پڑھ رہے تھے:رب انی مسنی الضروانت ارحم الراحمین اے میرے رب مجھے تکلیف لگ گئی ہے اور تو سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔

مسني الضر و أنت أرحم الراحمين ← دخلنا على الحسن و هو يشتكي ضرسه و هو ← رَبِيعَةَ بْنِ كُلْثُومٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10064

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10065

10065 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حمشاد نا أحمد بن محمد بن سالم حدثني إبراهيم بن الجنيد حدثني النضر بن عيسى بن يحيى قال : قال رجل لأبي عبد الله الساجي و أنا أسمع يا أبا عبد الله الراضي يسأل قال : يعرض قال : مثل أي شيء ؟ قال : مثل قول أيوب مسني الضر و أنت أرحم الراحمين

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ نے ان کو احمد بن محمد بن سالم نے ان کو حدیث بیان کی ابراہیم بن جنید نے ان کو نضر بن عیسیٰ بن یحییٰ نے وہ کہتے ہیں ایک آدمی نے ابو عبداللہ ساجی سے کہا جب کہ میں سن رہا تھا۔ اسے ابو عبداللہ ! اللہ کی قضا پر راضی شخص سوال کرتا ہے؟ فرمایا کہ عرض کرتا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیسے عرض کرتا ہے؟ فرمایا کہ اس قول کی مثل جیسے ایوب علیہ السلام نے عرض کیا:مسنی الضر وانت ارحم الراحمین مجھے تکلیف لگ گئی ہے اور تو یہی سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔

مثل قول أيوب مسني الضر و أنت أرحم الراحمين ← مثل أي شيء ← يعرض ← أسمع يا أبا عبد الله الراضي يسأل ← رجل لأبي عبد الله الساجي و ← النضر بن عيسى بن يحيى ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْجُنَيْدِ، ← أحمد بن محمد بن سالم ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَادٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10065

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10066

10066 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الفضل محمد بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا الحسين بن منصور قال : سمعت علي بن عثام يقول : دعاء الأنبياء تعريض { رب إني لما أنزلت إلي من خير فقير } { إلا تغفر لي و ترحمني أكن من الخاسرين } { لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين }

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل محمد بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو حسین بن منصور نے وہ کہتے کہ میں نے سنا علی بن عثام سے وہ کہتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کا دعائیں کرنا عرض پیش کرتا ہے۔ مثلاً :رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر اے میرے رب میں اس چیز کا محتاج ہوں۔ آپ نے جو میری طرف اتاری ہے۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کی دعا ہے۔ اور نوح علیہ السلام نے بایں الفاظ عرض کی تھی:الا تغفرلی وترحمنی اکن من الخاسرین اگر آپ مجھے معاف نہیں کریں گے اور مجھ پر رحم نہیں کریں گے تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔ اور حضرت یونس علیہ السلام نے اس طرح عرض کی تھی: لا الٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظٰلمین (اے میرے اللہ ) تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے میں ہی ظلم کرنے والوں میں سے ہوں ۔

عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10066

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10067

10067 - أخبرنا أبو الحسين علي بن محمد المقري الإسفرايني أنا أبو سعيد عمرو بن محمد نا إبراهيم بن أبي طالب حدثني يحيى بن طلحا نا فضيل بن عياض عن مالك بن دينار عن محمد بن واسع أنه قال : طوبى لمن أمسى جائعا و أصبح جائعا و هو عن الله راض

ہمیں خبر دی ابو الحسین علی بن محمد مقری اسفرائنی نے ان کو ابو سعید عمر بن محمد نے ان کو ابراہیم بن ابو طالب نے ان کو حدیث ان کی یحییٰ بن طلحہٰ نے ان کو فضیل بن عیاض نے ان کو مالک بن دینار نے ان کو محمد بن واسع نے بے شک انہوں نے کہا مبارک بادی ہے اس شخص کے لئے جو بھوک کی حالت میں صبح کرتا ہے اور بھوک کی حالت میں شام کرتا ہے (یعنی بھوکا سوتا ہے اور بھوکا اٹھتا ہے) مگر وہ اللہ سے راضی رہتا ہے۔

الله راض ← طوبى لمن أمسى جائعا و أصبح جائعا و هو ← محمد بن واسع أنه ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← يحيى بن طلحا ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو سَعِيدٍ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ← أبو الحسين علي بن محمد المقري الإسفرايني

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10067

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10068

10068 - سمعت أبا محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني يقول : سمعت أبا بكر الوراق يقول سمعت يوسف بن الحسين يقول : سمعت ذا النون المصري يقول ليس العجب ممن ابتلى فصبر و إنما العجب ممن ابتلي فرضي

میں نے سنا ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر وراق سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے یوسف بن حسین سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے ذوالنون مصری سے وہ کہتے ہیں اس شخص پر کوئی حیرانی نہیں جو آزمایا جائے اور وہ آزمائش پر صبر کرے۔ بلکہ در حقیقت حیرانی اس پر ہے جو آزمایا جائے اور آزمائش پر راضی اور خوش ہو جائے۔

ليس العجب ممن ابتلى فصبر و إنما العجب ممن ابتلي فرضي ← ذَا النُّونِ الْمِصْرِيَّ ← يُوسُفُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبَا بَكْرٍ الْوَرَّاقَ، ← أبا محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10068

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10069

10069 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا حامد أحمد بن يوسف الأشقر يقول : سمعت محمد بن حمدون القاضي يقول : قلت لأبي حفص الكبير من المريد ؟ قال : ما لم يجر العتبة لا يسمى مريدا قلت : و ما العتبة ؟ قال : يجد في المنع العطاء و يخاف في العطاء من البعد و يذكر الحق في خفاء الخلق و يجد لذة السرور في المحنة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو حامد احمد بن یوسف اشقر سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن حمدون قاضی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا ابو حفص کبیر سے کہ مرید کون ہوتا ہے؟ فرمایا کہ جو شخص سرزنش اور عتبہ نہ اٹھائے اس کو مرید نام نہیں دیا۔ میں نے کہا کہ وہ عتبہ کیا چیز ہے؟ فرمایا جو منع کرنے میں عطا کرنے کا مزہ پائے اور عطا کرنے میں دوری کا خوف کرے۔ اور مخلوق کی ناراضگی میں اللہ کو یاد کرے اور محنت میں سرور کی لذت پائے۔

ما لم يجر العتبة لا يسمى مريدا قلت و ما العتبة ← قلت لأبي حفص الكبير من المريد ← محمد بن حمدون القاضي ← أبا حامد أحمد بن يوسف الأشقر ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10069

chevron_left Previous
1…678…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood