Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10034

10034 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد المقري نا أبو العباس هو الأصم نا الخضر بن أبان نا سيار نا جعفر نا ثابت قال : بلغنا أن الله تبارك و تعالى وكل جبريل عليه السلام بحاجات أو قال : بحوائج الناس فإذا دعا المؤمن قال : يا جبريل احبس حاجته فإني أحب دعاءه و إذا دعا الكافر قال : يا جبريل اقض حاجته فإني أبغض دعاءه هذا هو المحفوظ و قد روي مسندا كما

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو محمد مقری نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے ان کو ثابت نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر پہنچی ہے کہ بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو کئی حاجات سپرد کر رکھی ہیں۔ یا یوں فرمایا کہ لوگوں کی حوائج پر مقرر کر رکھا ہے پس جس وقت مؤمن دعا مانگتا ہےتو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے جبرائیل اس کی حاجت کو روک لو اس لئے کہ میں اس کی دعا کو محبوب رکھتا ہوں۔ اور جب کافر دعاما نگتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے جبرائیل اس کی حاجت پوری کر دو کیونکہ میں اس کی دعا کو سخت ناپسند کرتا ہوں ۔ یہی مروی محفوظ ہے اور یہ بطور مسند روایت بھی مروی ہے جیسے ذیل میں ہے۔

يا جبريل احبس حاجته فإني أحب دعاءه و إذا دعا الكافر ← بحوائج الناس فإذا دعا المؤمن ← بلغنا أن الله تبارك و تعالى وكل جبريل بحاجات أو ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد المقري

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10034

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10035

10035 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد جعفر بن نصير نا الحارث بن أبي أسامة نا الحسن بن قتيبة نا يزيد بن إبراهيم عن أبي الزبير عن جابر : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : إن جبريل عليه السلام موكل بحاجات العباد فإذا دعاه عبده المؤمن قال له : يا جبريل احبس حاجة عبدي هذا فإني أحبه و أحب صوته و إذا دعاه عبده الكافر قال : يا جبريل اقض حاجة عبدي هذا فإني أبغضه و أبغض صوته

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد جعفر بن نضیر نے ان کو حارث بن ابو اسامہ نے ان کو حسن بن قتیبہ نے ان کو یزید بن ابراہیم نے ابو الزبیر سے اس نے جابر سے اس نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا : بے شک جبرائیل علیہ السلام بندوں کی حاجات پر مقرر ہیں جب اللہ کا بندہ مومن اس کو پکارتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے جبرائیل میرے اس بندے کی حاجت روک لیجئے بے شک میں اس کو پسند کرتا ہوں اور اس کی آواز کو بھی اور جب اس کو اس کا بندہ کا فر پکارتا ہے تو وہ فرماتے ہیں اے جبرائیل میرے اس بندے کی حاجت پوری کر دیجئے میں اس کو ناپسند کرتا ہوں اور اس کی آواز کو بھی ناپسند کرتا ہوں ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← أبو محمد جعفر بن نصير ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10035

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10036

10036 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري قالا : نا أبو العباس هو الأصم نا الخضر بن أبان قال : نا سيار نا جعفر نا ثابت قال : أخذ عبيد الله بن زياد ابن أخي صفوان بن محرز فحبسه في السجن فلم يدع صفوان أحدا من الوجوه إلا تجمل به عليه فلم ير لحاجته نجاحا فبات في مصلاه فأتاه آت في منامه فقال : قم يا صفوان فاطلب حاجتك من قبل وجهها قال : فقام فزعا فتوضأ ثم صلى ثم دعا فإذا بابن أخيه يضرب الباب فقال : من هذا ؟ فقال : أنا فلان يعني ابن أخيه فقال : و أي هذه الساعة قال انتبه الأمير في جوف الليل فدعا بالنيران و الشرط فتحت أبواب السجون و نودي أين ابن أخي صفوان بن محرز أخرجوه فإني قد منعت النوم منذ الليلة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو محمد بن ابو حامد مقری نے وہ دونوں کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو خضر بن ابان نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی سیار نے ان کو جعفر نے ان کو ثابت نے وہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد نے صفوان بن محرز کے بھتیجے کو گرفتار کر کے قید میں بند کر دیا تھا صفوان نے ہر طریقہ آزما لیا مگر اپنے بھتیجے کے چھٹکارے والی حاجات کے لئے اسے کوئی کامیابی کی صورت نظر نہ آئی۔ چنانچہ اس نے ساری رات مصلے پر دعا مانگتے گزار دی۔ لہٰذا اس نے خواب میں دیکھا کہ کوئی آنے والا آیا ہے اور دو کہہ رہا ہے اے صفوان اٹھ جائیے اپنی حاجت طلب کیجئے۔ وہ گھبرا کر اٹھے وضو کیا پھر نماز پڑھی پھر اس نے دعا کی۔ اچانک دیکھتا ہے کہ وہ قید سے چھوٹ کر آ گیا اور دروازہ کھٹکا رہا ہے۔ جا کر پوچھا کہ کون ہو۔ اس نے بتایا کہ میں ہوں یہ بولے کہ اس وقت کیسے؟ بتایا کہ آدھی رات کے وقت امیر بیدار ہو گئے تھے اور انہوں نے روشنی منگوائی اور پولیس والے کو بلا کر حکم دیا لہٰذا جیل کے دروازے کھول دیئے گئے اور آواز لگائی گئی کہ کہاں ہے صفوان بن محرز کا بھتیجا اس کو جیل سے باہر نکال دو میں رات بھر نہیں سویا۔

ثَابِتٍ، ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقري

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10036

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10037

10037 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أحمد بن محمد بن صالح الحافظ السمرقندي يقول : سمعت محمد بن محمود السمرقندي يقول : سمعت يحيى بن معاذ الرازي يقول : عيل صبري و ضاق صدري و اشتدت فاقتي إلى مغفرتك و عظم رجائي لرحمتك ألححت في الدعاء اضطرارا و أنت تجيبني إذا شئت اختيارا أما ترحمني محتاجا إليك و معتمدا في حاجتي عليك ليس لي إله سواك فألتجىء إليه و لا لك شريك فأعتمد عليه بنور جلال وجهك أسألك إلا عجلت فرجي يا أرحم الراحمين

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا احمد بن محمد بن صالح حافظ سمرقندی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن محمود سمرقندی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یحییٰ بن معاذ رازی سے وہ کہتے ہیں کہ میرا صبر پورا ہو چکا ہے، اور میرا سینہ تنگ ہو چکا ہے، اور میری بھوک تیری مغفرت کے لئے شدید ہو چکی ہے اور تیری رحمت کے لئے میری امید بہت بڑی ہو چکی ہے میں دعا کے لئے عاجزی اور اصرار کر رہا ہوں بطور مجبور ہونے کے اور آپ میری اجابت اس وقت کریں گے جب آپ چاہیں گے بطور اختیار کے۔ کیا آپ مجھ پر رحم نہیں کریں گے بایں طور کہ میں محتاج ہوں آپ کی طرف۔ اور بائیں وجہ کہ میں اپنی حاجت میں تیری طرف ہی اعتماد کرتا ہوں میرے لئے تیرے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے ( جو میری مغفرت کرے دعا قبول کرے مجھ پر رحم کرے) میں جس کی بارگاہ میں التجا کروں اور تیرا کوئی شریک بھی نہیں ہیں جس پر میں اعتماد کروں۔ تیری ذات کے جلال کے نور کے ساتھ میں سوال کرتا ہوں کہ جلدی میرا چھٹکارا فرما دے اے ارحم الراحمین ۔

يحيى بن معاذ الرازي ← محمد بن محمود السمرقندي ← أحمد بن محمد بن صالح الحافظ السمرقندي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10037

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10038

10038 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسين أحمد بن عثمان بن يحيى الآدمي نا أبو قلابة الرقاشي نا سعيد بن عامر نا محمد بن عمرو بن علقمة قال : سمعت عمر بن عبد العزيز يقول : ما أنعم الله على عبد نعمة فانتزعها منه فعاضه من ذلك الصبر إلا كان ما عاضه خيرا مما انتزع منه و قرأ : { إنما يوفى الصابرون أجرهم بغير حساب }

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ان کو ابو الحسین احمد بن عثمان بن یحییٰ آدمی نے ان کو ابو قلابہ رقاشی نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو محمد بن عمرو بن علقمہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عمر بن عبدالعزیز سے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے پر کوئی انعام کرتا ہے پھر اس سے اس کو چھین لیتا ہے پھر وہ بندہ اس کے عوض میں صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے صبر کے بدلے میں اس نعمت سے بڑھ کر نعمت عطا کرتا ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی:انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب سوائے اس کے نہیں کہ صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر ملتا ہے۔

عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبُو قِلاَبَةَ الرَّقَاشِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الأَدَمِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10038

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10039

10039 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا علي بن محمد الحنيني بمرو أخبرني محمد بن عبد الوهاب الجوهري أخبرني الفيض بن إسحاق قال : سئل الفضيل بن عياض عن قول الله تبارك و تعالى : { سلام عليكم بما صبرتم } ثم قال : بما احتملتم من المكاره و صبرتم عن اللذات في الدنيا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن محمد حسینی نے مرو میں ان کو خبر دی محمد بن عبد الوہاب جریری نے ان کو خبر دی فیض بن اسحاق نے وہ کہتے ہیں کہ فضیل بن عیاض سے پوچھا گیا تھا کہ اس فرمان الہیٰ کا مطلب کیا ہے سلام علیکم بماصبرتم تم پر سلامتی ہو تمہارے صبر کرنے کی وجہ سے تو فرمایا کہ یہ اس وجہ سے کہ تم نے دکھ برداشت کیا دنیا کی لذتوں سے دنیا میں صبر کیا۔

اللذات في الدنيا ← بما احتملتم من المكاره و صبرتم ← قول الله تبارك و تعالى سلام عليكم بما صبرتم ثم ← سئل الفضيل بن عياض ← الْفَيْضُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← محمد بن عبد الوهاب الجوهري ← علي بن محمد الحنيني بمرو ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10039

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10040

10040 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي قال : سمعت محمد بن الحسن البغدادي قال : سمعت محمد بن أحمد بن سهل قال : سمعت سعيد بن عثمان يقول : سمعت ذا النون يقول : أفضل الصبر الصبر على المخالفات

میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن حسن بغدادی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن احمد بن سہل سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سعید بن عثمان سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ذوالنون سےوہ کہتے ہیں افضل صبر مخالف حالات پر صبر کرتا ہے۔

أفضل الصبر الصبر على المخالفات ← ذَا النُّونِ، ← سعيد بن عثمان ← محمد بن أحمد بن سهل ← محمد بن الحسن البغدادي ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10040

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10041

10041 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت عبد الله بن الحسين الصوفي يقول : سمعت عبد الله بن محمد يقول : سمعت علي بن عبد الحميد يقول : سمعت سريا يقول : أصبر الناس من صبر على الحق

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن حسین صوفی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن محمد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی بن عبدالحمید سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سری سقطی سے وہ کہتے تھے سب لوگوں سے بڑا صابر وہ ہے جو حق پر صبر کرے۔

أصبر الناس من صبر على الحق ← سريا ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عبد الله بن الحسين الصوفي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10041

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10042

10042 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن إسحاق بن أحمد الكاذي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل نا أبي نا عبد الله بن يزيد نا كمهس عن عون بن عبد الله عن رجل قال : قال أبو الدرداء ثلاث من ملاك أمرك يا بن آدم أن لا تشكو مصيبتك و أن لا تحدث بوجعك و أن لا تزكي نفسك بلسانك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسن اسحاق بن احمد کاذی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبداللہ بن یزید نے ان کو خبر دی ہمس نے ان کو عون بن عبداللہ نے ایک آدمی سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو درداء نے فرمایا : تین چیزیں تیرے معاملے کا خلاصہ اور اصل ہیں اے ابن آدم کہ تو اپنی مصیبت کا شکوہ نہ کر اور اپنے دکھ درد کو بیان نہ کر۔ اور اپنی زبان سے اپنی ذات کو پاک نہ گردان۔

رَجُلٌ: ← عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← كمهس ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو الْحَسَنِ إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْكَاذِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10042

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10043

10043 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا محمد بن صالح بن هانىء نا محمد بن عمرو الجرشي نا إبراهيم بن سعيد الجوهري نا إسماعيل بن عبد الكريم عن عبد الصمد بن معقل قال : سمعت وهب بن منبه يقول : وجدت في التوراة أربعة أسطر متوالية من شكى مصيبته فإنما يشكو ربه و من تضعضع لغنى ذهب ثلثا دينه و من حزن على ما في يد غيره فقد سخط قضاء ربه و من قرأ كتاب الله عز و جل يظن أن لا يغفر له فهو من المستهزئين بآيات الله عز و جل قال الشيخ : و قد روي هذا من وجه آخر مسند و ليس بالقوي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن صالح بن ھانی نے ان کو محمد بن عمر جرشی نے ان کو ابراہیم بن سعید جوہری نے ان کو اسماعیل بن عبدالکریم نے ان کو عبد الصمد بن معقل نے اس نے سنا وہب بن منبہ سے وہ کہتے تھے کہ میں نے تورات میں چار مسلسل سطریں پڑھی تھیں۔ جن کا خلاصہ یہ تھا کہ جو شخص اپنی مصیبت کا شکوہ کرتا ہے وہ در حقیقت اپنے رب کا شکوہ کرتا ہے۔ اور جو شخص دولت مند کے آگے جھکتا ہے اور عاجزی کرتا ہے اس کے دین کی دو تہائیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔ جو شخص اس نعمت پر غم کرتا ہے جو دوسرے کے ہاتھ میں ہے وہ اپنے رب کے فیصلے سے ناخوش ہے ۔ اور جو شخص قرآن تو پڑھتا ہے مگر اس کا گمان یہ ہوتا ہے کہ اس کی بخشش نہ ہو گی وہ آیات الہٰی کے ساتھ استہزاء کرنے والوں میں سے ہے۔ شیخ نے فرمایا کہ یہ حدیث ایک اور طریق سے بھی مروی ہے بطور مسند روایت کے مکروہ قوی نہیں ہے۔

وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ مَعْقِلٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْجُرَشِيُّ، ← محمد بن صالح بن هانىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10043

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10044

10044 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري نا سليمان بن شعيب الكسائي نا علي بن معبد نا وهب بن راشد عن مالك دينار عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أصبح حزينا على الدنيا أصبح ساخطا على ربه و من أصبح يشكو مصيبة نزلت به فإنما يشكو الله عز و جل و من تضعضع لغنى لينال من دنياه أحبط ثلثي عمله و من أعطى القرآن فدخل النار فأبعده الله قال الشيخ أحمد رحمه الله : تفرد به وهب بن راشد بهذا الإسناد و روي ذلك بإسناد ضعيف

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد مصری نے ان کو سلیمان بن شعیب کسائی نے ان کو علی بن معبد نے ان کو وہب بن راشد نے ان کو مالک بن دینار نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دنیا کے غم میں واقع ہو جاتا ہے وہ در حقیقت اپنے رب سے ناخوش ہوتا ہے۔ اور جو شخص اپنے ساتھ واقع ہونے والی مصیبت کا شکوہ کرتا ہے وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کا شکوہ کرتا ہے اور جو دولت مند کے آگے جھکتا ہے تاکہ اس کی دنیا حاصل کرے۔ اللہ تعالیٰ اس کے دو تہائی اعمال ضائع کر دیتے ہیں۔ اور جس کو قرآن عطا کیا جائے اور پھر بھی وہ جہنم میں چلا جائے اللہ تعالیٰ اس کو لعنت کر دیتے ہیں۔ شیخ احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اس روایت کے ساتھ وھب بن راشد کا تفرد ہے اسی اسناد کے ساتھ اور یہ روایت دوسری ضعیف اسناد کے ساتھ بھی مروی ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مالك دينار ← وَهْبُ بْنُ رَاشِدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← سليمان بن شعيب الكسائي ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10044

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10045

10045 - أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله الرزجاهي الأديب نا أبو محمد عبد الله بن محمد بن علي بن زياد الدقاق نا أبو الحسن علي أحمد البلخي نا محمد بن يوسف بن ثابت بن آدم الربعي من كتابه إملاء علينا عن محمد بن القاسم بن جعفر نا شقيق بن إبراهيم عن سفيان الثوري عن طلحة بن مصرف عن شمر بن عطية عن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أصبح محزونا على الدنيا أصبح ساخطا على ربه و من أصبح يشكو مصيبته فإنما يشكو ربه و من دخل على غنى فتضعضع له ذهب ثلثا دينه و من قرأ القرآن فدخل النار فهو ممن اتخذ آيات الله هزوا

ہمیں خبر دی ابو عمرو محمد بن عبداللہ رزجاہی ادیب نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن محمد بن علی بن زیاد و دقاق نے ان کو ابو الحسن علی بن احمد بلخی نے ان کو محمد بن یوسف بن ثابت بن آدم ربعی نے اپنی کتاب سے جس کو اس نے لکھوایا تھا ہم لوگوں پر محمد بن قاسم بن جعفر سے اس نے شقیق بن ابراہیم سے اس نے سفیان ثوری سے اس نے طلحہ بن مصرف سے اسی نے شمر بن عطیہ سے اس نے ابن مسعود سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دنیا کے لئے غمگین ہوتا ہے درحقیقت وہ اپنے رب سے ناخوش ہوتا ہے۔ اور جو شخص اپنی مصیبت کی شکایت کرتا ہے وہ اپنے رب کی شکایت کرتا ہے جو شخص دنیا دار کے پاس جا کر عاجزی کرتا ہے اس کا دو تہائی دین ضائع ہو جاتا ہے اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے پھر بھی جہنمی بن جاتا ہے۔ درحقیقت وہ ان لوگوں میں سے ہوتا ہے جو آیات الہٰی کا مذاق اڑاتا ہے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← شقيق بن إبراهيم ← محمد بن القاسم بن جعفر ← محمد بن يوسف بن ثابت بن آدم الربعي من كتابه إملاء علينا ← أبو الحسن علي أحمد البلخي ← أبو محمد عبد الله بن محمد بن علي بن زياد الدقاق ← أبو عمرو محمد بن عبد الله الرزجاهي الأديب

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10045

chevron_left Previous
1…456…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood