شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9958
9958 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق في آخرين قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنا أبي و شعيب قالا : نا الليث و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الحسن علي بن محمد بن سختويه نا أحمد بن إبراهيم بن ملحان نا ابن بكير حدثني الليث عن ابن الهاد عن عمرو بن أبي عمرو عن أنس بن مالك قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله عز و جل قال : إذا ابتليت عبدي بحبيبتيه ثم صبر عوضته بها الجنة و قال الشيخ أحمد في الرواية الأولى يقول : قال الله عز و جل و قال : عوضته منها الجنة يريد عينيه رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن يوسف عن الليث بن سعد قال البخاري تابعه أشعث بن جابر و أبو ظلال عن أنس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے آخرین میں انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبداللہ بن عبدالحکیم نے ان کو خبر دی ان کے والد نے اور ہمیں خبر دی ہے شعیب نے دونوں نے کہا کہ ان کو لیث نے ۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد بن سختویہ نے ان کو احمد بن ابراہیم بن ملحان نے ان کو ابن بکیر نے ان کو حدیث بیان کی ابن ہاد نے ان کو عمر بن ابو عمرو نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتے تھے بے شک اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جس وقت میں اپنے بندے کو اس کی محبوب ترین چیز کے ساتھ آزماتا ہوں پھر وہ صبر کرتا ہے تو میں اس کے عوض اس کو جنت دیتا ہوں اور شیخ احمد نے فرمایا کہ پہلی روایت میں ہے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اس کے عوض جنت دوں گا کا مطلب ہے کہ اس سے مراد جنت کے دو چشمے ہیں۔ بخاری نے اس کو روایت کیا صحیح میں عبداللہ بن یوسف سے اس نے لیث بن سعد سے بخاری کہتے ہیں کہ اس کے متابع بیان کیا اشعث بن جابر نے اور ابو طلال نے انس رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے۔
النبي صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← البخاري تابعه أشعث بن جابر و أبو ظلال ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← عوضته منها الجنة يريد عينيه رواه البخاري في الصحيح ← الله عز و جل و ← الشيخ أحمد في الرواية الأولى ← إذا ابتليت عبدي بحبيبتيه ثم صبر عوضته بها الجنة و ← ان الله عز و جل ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← ابْنِ الْھَادِ ← اللَّيْثُ ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← اللَّيْثُ و ← أبي و شعيب ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق في آخرين
Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9958
