Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9910

9910 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن أحمد بن بالويه نا محمد بن يونس نا سعيد بن عامر نا شعبة عن عاصم الأحول عن أبي عثمان : أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم وجيه آل فلان فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : ما رزئت في مال و لا ولد ؟ قال : لا قال : إن أبغض عباد الله إلى الله العفريت النفريت الذي لم يرزأ في مال و لا ولد قال : فبايعه بأطراف أصابعه هكذا جاء مرسلا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی محمد بن احمد بن بالویہ نے ان کو محمد بن یونس نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو شعبہ نے ان کو عاصم احول نے ان کو ابو عثمان نے یہ کہ ایک آدمی نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( وجیہ ) آل فلاں ۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کبھی تمہارے مال یا اولاد میں کوئی نقصان پہنچا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ کے بندوں میں سے اللہ کے نزدیک مبغوض اور ناپسندیدہ شخص (عفریت نفریت ) ہوتا ہے۔ جس کو نہ کبھی اس کے مال میں گھاٹا ہو نہ اولاد میں۔ کہتے ہیں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اس کو بیعت تو کیا مگر انگلیوں کے کناروں اور پوروں کے ساتھ۔ یہ روایت مرسل طریقہ پر آئی ہے۔

أَبِي عُثْمَانَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9910

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9911

9911 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن عبد الله الرازي نا إبراهيم بن زهير الحلواني نا عمرو بن حكام نا شعبة قال : سمعت عاصم الأحول قال : سمعت أبا عثمان النهدي قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يبايع الناس فجاءه رجل فذكر معناه مرسلا

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن محمد بن عبداللہ رازی نے ان کو ابراہیم بن زہیر حلوانی نے ان کو عمرو بن حکام نے ان کو شعبہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عاصم احول سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عثمان نہدی سے وہ کہتے ہیں حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم لوگوں کی بیعت لیتے تھے ایک آدمی آپ کے پاس آیا۔ راوی نے اس کو مرسل روایت کیا ہے۔

معناه مرسلا ← كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يبايع الناس فجاءه رجل ← أبا عثمان النهدي ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ زُهَيْرٍ الْحُلْوَانِيُّ ← أبو محمد عبد الله بن محمد بن عبد الله الرازي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9911

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9912

9912 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود أنا البراء بن يزيد نا عبد الله بن شقيق العقيلي عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ألا أخبركم بأهل النار ؟ قالوا بلى يا رسول الله قال : كل شديد جعظري هم الذين لا يألمون رؤوسهم

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو براء بن یزید نے ان کو عبداللہ بن شقیق عقیلی نے ان کو ابو ہریرہ ے ان کو نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں خبر دوں اہل جہنم کے بارے میں ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ فرمایا کہ ہر سخت خو جھگڑا کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہیں کبھی سر میں درد بھی نہیں ہوتا۔

بَلٰی ← أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِأَهْلِ النَّارِ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیْقٍ الْعُقَیْلِیِّ ← الْبَرَاءُ بْنُ يَزِيدَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9912

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9913

9913 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا أحمد بن جميل أنا عبد الله بن المبارك نا شعبة عن الحكم عن ربيع بن عميلة قال : شعبة قلت : أسمعته منه حدثني هلال بن يساف أو بعض أصحابنا عنه قال : كنا قعودا عند عمار بن ياسر فذكروا الأوجاع فقال أعرابي ما اشتكيت قط قال عمار : ما أنت منا أو لست منا إن المسلم يبتلى ببلاء فتحط عنه ذنوبه كما يحط الورق من الشجر و إن كان الكافر أو قال : الفاجر ـ شعبة يشك ـ يبتلى ببلاء فمثله مثل بعير أطلق فلم يدر لم أطلق و عقل فلم يدر لم عقل

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو اسد بن جمیل نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو شعبہ نے حکم سے ان کو ربیع بن عمیلہ نے شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کیا آپ نے ان سے سنا تھا۔ اس نے مجھے حدیث بیان کی ہلال بن یساف سے ۔ یا ہمارے بعض اصحاب نے ان سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ عمار بن یاسر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے وہاں پر لوگوں نے تکلیفوں اور دردوں کا ذکر کیا۔ تو وہاں موجود کسی دیہاتی نے کہ دیا کہ میں تو کبھی بھی بیمار نہیں ہوا۔ لہٰذا حضرت عمار نے فرمایا کہ تو ہم میں سے نہیں ہے۔ بے شک مسلمان آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے جس سے اس کے گناہ اس سے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔ اگرچہ کافر ہی ہو یا کہا تھا اگرچہ فاجر ہی ہو۔ شعبہ کو شک ہے۔ آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے تو اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہوتی ہے جسے چھوڑ دیا گیا مگر اس کو یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس کو کیوں چھوڑا گیا ہے۔ اور پیروں میں رسی ڈال دی جاتی ہے مگر اس کو نہیں معلوم ہوتا کہ کیوں اس کو باندھا گیا ہے۔

أعرابي ما اشتكيت قط ← كنا قعودا عند عمار بن ياسر فذكروا الأوجاع ← هلال بن يساف أو بعض أصحابنا عنه ← شعبة قلت أسمعته منه ← رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9913

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9914

9914 - أخبرنا أبو بكر القاضي نا أبو العباس الأصم نا محمد بن إسحاق نا معاوية بن عمرو عن أبي إسحاق الفزاري عن الأعمش عن عمارة عن سعيد بن وهب قال : دخلت مع سليمان على صديق له نعوده فقال إن الله عز و جل إذا ابتلى عبده المؤمن بشيء من البلاء ثم عافاه كان كفارة لما مضى و مستعتبا فيما بقى و إن الفاجر إذا أصابه الله عز و جل بشيء من البلاء ثم عافه كان كالبعير عقله ثم أطلقوه لا يدري فيما عقلوه و لا فيما أطلقوه وكذلك قال : شعبة عن الأعمش عن عمارة بن عمير عن سعيد بن وهب

ہمیں خبر دی ابو بکر قاضی نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو معاویہ بن عمرو نے ان کو ابو اسحٰق فزاری نے اعمش سے اس نے عمارہ سے اس نے سعید بن وہب سے وہ کہتے ہیں کہ میں سلیمان کے ساتھ داخل ہوا اس کی بیمار پرسی کرنے کے لئے تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے مؤمن بندے کو کسی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے پھر اس کو عافیت دے دے تو اس کے گذشتہ گناہوں کے لئے کفارہ بن جاتا ہے اور آئندہ کے لئے انتباہ ہوتا ہے۔ اور گنہگار آدمی کو جب کوئی آزمائش پہنچتی ہے۔ پھر اس کو عافیت دے دیتا ہے تو وہ اس اونٹ کی طرح ہوتا ہے جس کو اس کے مالک رسی سے باندھ دیتے ہیں۔ پھر اس کو چھوڑ دیتے ہیں اس کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ مجھے کیوں باندھا تھا اور اب کیوں چھوڑ دیا ہے۔ اسی طرح کہا ہے شعبہ نے اعمش سے اس نے عمارہ بن عمیر سے اس نے سعید بن وہب سے۔

سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ← عُمَارَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9914

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9915

9915 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس هو الأصم نا محمد بن إسحاق نا أبو الجواب نا عمار بن زريق عن الأعمش عن إبراهيم عن سعيد بن وهب قال : دخلت أنا و سليمان على رجل من كندة نعوده فقال سليمان إن الله ليبتلي المؤمن بالبلاء ثم يعافيه فيكون كفارة لذنوبه و مستعتبا فيما يستقبل و يبتلي الكافر بالبلاء ثم يعافيه فيكون كالبعير يغفله أهله فلا يدري فيم عقل و يحلونه فلا يدري فيم حل

اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو ابو الجواب نے ان کو عمارہ بن زریق نے اعمش سے اس نے ابراہیم سے اس نے سعید بن وہب سے وہ کہتے ہیں کہ میں اور سلیمان بنو کندہ کے ایک آدمی کے پاس اس کی عیادت کرنے کے لئے گئے۔ تو سلیمان نے کہا بے شک اللہ تعالیٰ مؤمن کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے پھر اس کو عافیت دے دیتا ہے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور مستقبل کے لئے تنبیہ ہوتی ہے اور کافر آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے پھر اس کو عافیت مل جاتی ہے تو وہ اس اونٹ کی مثل ہوتا ہے جس کو اس کے مالکوں نے بے کار چھوڑ دیا ہو۔ اس کو نہیں معلوم ہوتا کہ کسی وجہ سے اس کو باندھا گیا تھا۔ اور پھر اس کو چھوڑ دیتے ہیں تو وہ نہیں جانتا کہ اس کو کیوں کھول دیا گیا ہے۔

و سليمان على رجل من كندة نعوده ← دَخَلْتُ ← سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← عمار بن زريق ← أَبُو الْجَوَّابِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9915

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9916

9916 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا محمد بن حميد الرازي نا محمد بن سلمة بن الفضل حدثني محمد بن إسحاق عن أبي منظور الشامي عن عمه عن عامر أخي الخضر قال : إني لبأرض محارب إذا رايات و آلوية فقلت ما هذا فقيل رسول الله صلى الله عليه و سلم فجئت فجلست إليه و هو في ظل شجرة قد بسط له كساء و هو جالس إليه و حوله أصحابه قال : فذكروا الأسقام فقال : إن العبد المؤمن إذا أصابه سقم ثم عافاه الله كان كفارة لما مضى من ذنوبه و هو عظة له فيما يستقبل من عمره و إن المنافق إذا مرض و عوفي كان كالبعير عقله أهله ثم أطلقوه لا يدري فيما عقلوه و لا فيما أطلقوه فقال رجل : يا رسول الله ما الأسقام ؟ قال : أو ما سقمت قط ؟ قال : لا قال : قم عنا فلست منا

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو محمد بن حمید رازی نے ان کو محمد بن سلمہ بن فضل نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی محمد بن اسحٰق نے ابو منظور شامی سے اس نے اپنے چچا سے اس نے عامر سے۔ جو خضر کے بھائی تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ جنگ کی سرزمین پر تھے اچانک دیکھا تو بڑے چھوٹے جھنڈے نظر آئے میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے بتایا گیا کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہیں میں بھی آکر ان کی صحبت میں بیٹھ گیا آپ درخت کے سائے تلے بیٹھے تھے آپ کے لئے چادر بچھائی گئی تھی آپ اس کے اوپر بیٹھے اور آپ کے ارد گرد آپ کے اصحاب تھے۔ چنانچہ وہاں لوگوں نے بیماریوں کا تذکرہ کیا۔ تو حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ مؤمن کو جب کوئی بیماری پہنچتی ہے پھراللہ تعالیٰ اس کو اس سے عافیت دے دیتا ہے۔ یہ اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ اور یہ اس کے مستقبل اور بقیہ زندگی کے لئے انتباہ اور نصیحت ہوتی ہے۔ اور منافق جب بیمار ہوتا ہے اور اس کو عافیت مل جاتی ہے تو وہ اس اونٹ کی طرح ہوتا ہے جس کو اس کے گھر والے باندھ دیتے ہیں پھر اس کو چھوڑ بھی دیتے ہیں وہ جنہیں جانتا کہ کس وجہ سے اس کو انہوں نے باندھا تھا اور کس وجہ سے کو چھوڑا ہے۔ وہاں پر ایک آدمی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ یہ بیماریاں کیسے ہوتی ہیں؟ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم کبھی بیمار نہیں ہوئے؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ ہماری مجلس سے اُٹھ جائیے آپ ہم میں سے نہیں ہیں۔

عامر أخي الخضر ← عَمِّہٖ ← أبي منظور الشامي ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← محمد بن سلمة بن الفضل ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9916

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9917

9917 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا أحمد بن عمران الأخنس قال : سمعت يحيى بن سعيد يقول : نا إسماعيل بن أبي خالد حدثني قيس بن أبي حازم قال : طلق خالد بن الوليد امرأته ثم أحسن عليها الثناء فقيل له يا أبا سليمان لأي شيء طلقتها ؟ قال : ما طلقتها لأمر رابني منها و لا ساءني و لكن لم يصبها عندي بلاء

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو احمد بن عمران اخنس نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا یحییٰ بن سعید سے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی اسماعیل بن ابو خالد نے دو کہتے مجھے حدیث بیان کی قیس بن ابو حازم نے کہا کہ خالد بن ولید نے اپنی عورت کو طلاق دی۔ اس کے بعد اس کی خوب تعریف کی۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ اے ابو سلیمان آپ نے کس وجہ سے اس کو طلاق دے دی تھی؟ فرمایا کہ میں نے اس کو اس لئے طلاق نہیں دی تھی کہ کوئی ایسی بات تھی جس کی وجہ سے مجھے اس سے کوئی شکایت تھی اور نہ ہی اس کی کوئی بات مجھے بری لگی تھی بلکہ میرے نزدیک اس کو کوئی بیماری اور آزمائش نہیں پہنچی تھی ۔

قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أحمد بن عمران الأخنس ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9917

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9918

9918 - قال : و حدثنا أبو بكر نا محمد بن حاتم نا أبو سلمة الخزاعي نا شبيب بن شيبة قال : سمعت الحسن قال : كان الرجل منهم أو من المسلمين إذا مر به عام لم يصب في نفسه و لا ماله قال : ما لنا أتودع الله منا

وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر نے ان کو محمد بن حاتم نے ان کو ابو سلمہ خزاعی نے ان کو شبیب بن شیبہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسن سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی ان میں سے تھا۔ یا کہا تھا کہ مسلمانوں میں سے تھا جب ان پر سال گزر جاتا مگر ان کو کوئی صدمہ یا تکلیف نہ پہنچتی ۔اس کے مال میں نہ ہی نفس میں تو وہ کہتے کہ کیا ہوا ہمیں اللہ تعالیٰ ہم سے بدلہ لینا چاہتا ہے۔

الْحَسَنِ، ← شَبِيبُ بْنُ شَيْبَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9918

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9919

9919 - قال : و حدثنا أبو بكر حدثني إبراهيم بن راشد نا أبو ربيعة نا حماد عن ثابت البناني عن عبيد بن عمير : أن النبي صلى الله عليه و سلم عاد مريضا فقال : ما منه عرق إلا و هو يألم منه غير أنه قال : قد أتاه آت من ربه فبشره أن ليس له بعده عذاب و دخل النبي صلى الله عليه و سلم على رجل من أصحابه و هو مريض فقال : كيف تجدك ؟ قال : أجدني راغبا و راهبا قال : و الذي نفسي بيده لا يجتمعا لأحد عند هذه الحال إلا أعطاه الله ما رجا و أمنه مما يخاف

کہتے ہیں کہ اور میں حدیث بیان کی ابو بکر نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن راشد نے ان کو ابو ربیعہ نے ان کو حماد نے ان کو ثابت البنانی نے عبید بن عمیر سے یہ کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ایک مریض کی عیادت کی اور فرمایا کہ اس کی ہر ہر رگ درد کر رہی ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اس کے پاس رب کی طرف سے آنے والا فرشتہ آیا ہے اور اس نے اس کو بشارت دی ہے کہ اس تکلیف کے بعد اس کے لئے کوئی عذاب نہیں ہے۔ اور حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں سے ایک آدمی کے پاس گئے جو کہ بیمار تھا آپ نے اس سے پوچھا کہ تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو؟ اس نے کہا کہ میں اپنے آپ کو امید کرنے والا اور ڈرنے والا پاتا ہوں ۔ آپ نے کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے جس انسان میں یہ دونوں کیفیات جمع ہو جائیں اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز عطا کر دیتا ہے۔ جس کی وہ امید کرتا ہے اور اس چیز سے اس کی حفاظت کرتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے۔

عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادٌ، ← أَبُو رَبِيعَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9919

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9920

9920 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن مرزوق نا وهب بن جرير نا شعبة عن عبد العزيز بن صهيب عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يتمنين أحدكم الموت من ضر نزل به فإن كنتم لا بد فاعلين فليقل اللهم أحينا ما كانت الحياة خيرا لنا وتوفنا إذا كانت الوفاة خيرا لنا أخرجاه في الصحيح من حديث ابن علية عن عبد العزيز

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ۔ دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس نے محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو شعبہ نے ان کو عبدالعزیز بن صہیب نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی کسی تکلیف کی وجہ سے جو کو پہنچی ہو موت کی تمنا نہ کرے اور اگر تم لوگ لا محالہ ایسا کرتے ہی ہو تو پھر یوں کہنا چاہئے۔ اللھم احینا ما کانت الحیاۃ خیراً لنا وتوفنا اذا کانت الوفات خیراً لنا اے اللہ ہمیں اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندہ رہنا ہمارے حق میں اچھا ہو اور جب ہمارے حق میں وفات بہتر ہو تو پھر ہمیں وفات دے دے۔ اس کو بخاری ومسلم نے نقل کیا ہے ابن علیہ کی حدیث سے اس نے عبدالعزیز سے۔

أَنَسٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9920

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9921

9921 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا أنا يوسف بن موسى نا عبد الرحمن بن معن الدوسي نا الأعمش عن أبي الزبير عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يود أهل العافية يوم القيامة أن جلودهم كانت قرضت بالمقاريض مما يرون من ثواب أهل البلاء

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابوعبد الله صفار نے ان کو ابو الدنیا نے ان کو یوسف بن موسیٰ نے ان کو عبدالرحمٰن بن معن دوسی نے ان کو اعمش نے ابو الزبیر سے اس نے جابر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خیریت وعافیت والے قیامت کے دن یہ پسند کریں گے کہ ان کے چمڑے قینچیوں سے کاش کہ دنیا میں کاٹے جاتے بوجہ اس کے جو وہ اہل آزمائش کا ثواب دیکھیں گے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْاَعْمَشِ ← عبد الرحمن بن معن الدوسي ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9921

chevron_left Previous
1…404142…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood