Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9898

9898 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا علي بن إبراهيم بن الهيثم نا أحمد بن علي بن الأفطح المقري نا يحيى بن زهدم يعني ابن الحارث عن أبيه قال : حدثني أبي عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تكرهوا أربعة فإنها لأربعة لا تكرهوا الرمد فإنه يقطع عروق العمى و لا تكرهوا الزكام فإنه يقطع عروق الجذام و لا تكرهوا السعال فإنه يقطع عروق الفالج و لا تكرهوا الدماميل فإنه يقطع عروق البرص قال الشيخ هذا إسناد غير قوي

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نےان کو ابو احمد عدی حافظ نے ان کوعلی ابن ابراہیم بن ہثیم نے ان کو احمد بن علی بن افطح مقری نے اور یحییٰ بن زہدم نے یعنی ابن الحارث نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی میرے والد نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار چیزوں کو ناپسند نہ کرو وہ چار امور کے لئے ہوتی ہیں۔ ایک ہے آنکھوں کا دکھتے رہنا یہ اندھے پن کی رگوں کو کاٹتا ہے۔ اور زکام کو بھی نا پسند نہ کرو بے شک وہ جزام کی رگوں کو کاٹتا ہے اور کھانسی کو نا پسند نہ کرو یہ فالج کی رگوں کو کاٹتا ہے اور پھوڑوں کو نا پسند نہ کرو وہ برس کی رگوں کو کاٹتے ہیں۔ شیخ نے کہا ہے یہ اسناد غیر قوی ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي ← أَبِيهِ ← يحيى بن زهدم يعني ابن الحارث ← أحمد بن علي بن الأفطح المقري ← عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْهَيْثَمِ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9898

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9899

9899 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير نا أبو جعفر بن دحيم نا إبراهيم بن إسحاق نا جعفر بن عون ح و أخبرنا أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل نا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري نا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب أنا أبو جعفر بن عون أنا عبد الرحمن بن زياد عن عبد الله بن يزيد عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صدع في سبيل الله ثم احتسب غفر الله عز و جل له ما كان قبل ذلك من ذنب و في رواية الزهري من صدع صداعا

ہمیں خبر دی ابو محمد جناح بن نذیر نے ان کو ابو جعفر بن دحیم نے ان کو ابراہیم بن اسحاق نے ان کو جعفر بن عون نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو محمد حسن بن علی مومل نے ان کو ابو عثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ان کو ابو احمد محمد بن عبد الوہاب نے ان کو ابو جعفر بن عون نے ان کو عبدالرحمٰن بن زیاد نے ان کو عبداللہ بن یزید نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جس کو درد سر ہوا پھر اس نے اس پر ثواب کی امید رکھی اللہ تعالیٰ اس کے لئے بخش دے گا اس کے قبل جتنے گناہ تھے ۔ اور زہری کی روایت میں ہے کہ جو شخص درد سر میں مبتلا کیا گیا درد سر میں مبتلا ہونا ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← أبو جعفر بن عون ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ ← و، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9899

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9900

9900 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا القاسم بن هاشم نا علي بن عياش الحمصي نا الليث بن سعد نا يزيد بن أبي حبيب و غيره قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يزال الصداع و المليلة بالمرء حتى يدعه مثل الغصة المصفاة

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو قاسم بن ہاشم نے ان کو علی بن عیاش حمصی نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو یزید بن ابو حبیب وغیرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درد سر اور بخار ہمیشہ رہتے ہیں آدمی کے ساتھ یہاں تک کہ اس کو مثل سنگ مرمر کے صاف کر کے چھوڑتے ہیں۔

يزيد بن أبي حبيب و غيره ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ ← الْقَاسِمُ بْنُ هَاشِمٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9900

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9901

9901 - أخبرنا أبو سعيد نا أبو عبد الله نا أبو بكر حدثني إبراهيم بن عبد الله نا صفوان بن صالح نا الوليد بن مسلم نا عبد الله بن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب عن سهل بن أنس الجهني عن أبيه عن جده قال : دخلت على أبي الدرداء في مرضه فقلت : يا أبا الدرداء أما تحب أن تصح و لا تمرض فقال أبو الدرداء : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الصداع و المليلة لا يزالان بالمؤمن و إن كان ذنبه مثل أحد حتى لا يدعا من ذنبه مثقال حبة من خردل

ہمیں خبر دی ابو سعید نے ان کو ابو عبداللہ نے ان کو ابو بکر نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو صفوان بن صالح نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو عبداللہ بن لہیعہ نے ان کو یزید بن ابو حبیب نے ان کو سہل بن انس جھنی نے ان کو ان کے والد نے ان کے دادا سے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو درداء کے پاس گیا ان کی بیماری کے ایام میں۔ میں نے پوچھا کہ اے ابو درداء کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ آپ صحت یاب ہو جائیں اور آپ بیمار نہ ہوں۔ حضرت ابو درداء نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا تھا : بے شک درد سر اور بخار لگے رہتے ہیں مؤمن کے ساتھ اگرچہ ان کے گناہ اُحد پہاڑ کے برابر ہوں یہاں تک کہ نہیں چھوڑتے وہ اس پر کوئی گناہ ایک رائی کے دانے کے برابر بھی۔

دخلت على أبي الدرداء في مرضه فقلت يا أبا الدرداء أما تحب ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سهل بن أنس الجهني ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عبد الله بن لهيعة ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← أَبُو سَعِيدٍ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9901

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9902

9902 - و أخبرنا أبو سعيد انا أبو عبد الله نا أبو بكر نا الحسن بن عبد العزيز الجروي نا يحيى بن حسان نا ابن لهيعة نا يزيد بن أبي حبيب عن سهل بن معاذ عن أبيه عن أبي الدرداء قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الحمى و المليلة لا يزالان بالمؤمن و إن ذنبه مثل أحد فما يدعانه و عليه من ذنبه مثقال حبة من خردل

ہمیں خبر دی ابو سعید نے ان کو ابو عبداللہ نے ان کو ابو بکر نے ان کو حسن بن عبدالعزیز جروی نے ان کو یحییٰ بن حسان نے ان کو ابن لہیعہ نے ان کو یزید بن ابو حبیب نے ان کو سہل بن معاذ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو درداء نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے تھے۔ بے شک بخار اور تھکان ہمیشہ رہتے ہیں مؤمن کے ساتھ اگرچہ اس کے گناہ اُحد پہاڑ کے برابر ہوں یہاں تک کہ اس پر رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی گناہ باقی نہیں چھوڑتے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← أَبُو سَعِيدٍ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9902

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9903

9903 - أخبرنا أبو سهل محمد بن نصرويه المروزي نا أبو حاتم محمد بن سارويه الكندي نا خلف بن سليمان النسفي نا هانيء بن المتوكل الاسكندراني نا ضمام بن إسماعيل عن موسى بن وردان عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : الصداع و الحمى تصيب الإنسان و إن ذنوبه مثل جبل أحد فما يفارقه الحمى و الصداع حتى لا يدع من ذنوبه وزن خردلة

ہمیں خبر دی ابو سہل محمد بن نصرویہ مروزی نے ان کو ابو حاتم محمد بن سارویہ کندی نے ان کو خلف بن سلیمان نسفی نے ان کو ھانی بن متوکل اسکندرانی نے ان کو تمام بن اسماعیل نے ان کو موسیٰ بن وردان نے ان کو ابو ہریرہ نے ان کو نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے وہ کہتے ہیں کہ درد سر اور بخار جو انسان کو پہنچتا ہے نہیں جدا ہوتا بخار اور درد سر اس سے یہاں تک کہ نہیں باقی چھوڑتا اس کے گناہوں میں سے رائی کے دانے کے وزن کے برابر بھی اگرچہ اس کے گناہ اُحد پہاڑ کے برابر بھی کیوں نہ ہوں۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُوسَى بْنَ وَرْدَانَ، ← ضِمَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← هانيء بن المتوكل الاسكندراني ← خلف بن سليمان النسفي ← أبو حاتم محمد بن سارويه الكندي ← أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9903

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9904

9904 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا عبد الله بن أحمد بن سعد الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم البوشنجي نا محمد بن خلاد الإسكندراني حدثني ضمام بن إسماعيل عن موسى بن وردان عن أبي هريرة أنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما يزال الصداع و المليلة بالعبد و الأمة و إن عليه من الخطايا مثل جبل أحد فما يدعه و عليه مثقال خردلة قال الشيخ و كذلك رواه يعقوب بن سفيان عن محمد بن خلاد

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو عبداللہ بن احمد بن سعد حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم بوشنجی نے ان کو محمد بن خلاد اسکندرانی نے ان کو حدیث بیان کی ضمام بن اسماعیل نے موسیٰ بن وردان سے اس نے ابو ہریرہ سے کہ انہوں نے کہا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہمیشہ رہتا ہے درد سر اور بخار آدمی کے ساتھ یا عورت کے ساتھ حتٰی کہ نہیں باقی چھوڑتا اس کے گناہ رائی کے دانے کے برابر اگرچہ اس پر گناہ اُحد پہاڑ کے برابر بھی ہوں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← مُوسَى بْنَ وَرْدَانَ، ← ضِمَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9904

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9905

9905 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور الرمادي نا عبد الرزاق أنا معمر عن أيوب عن ابن سيرين عن أبي الزيات القشيري قال : دخلنا على أبي الدرداء نعوده فدخل علينا أعرابي فقال : ما لأميركم و أبو الدرداء يؤمئذ أمير قلنا هو شاك قال و الله ما اشتكيت قط أو قال : ما صدعت قط فقال أبو الدرداء أخرجوه عني ليمت بخطاياه ما أحب أن لي بكل وصب وصبته حمر النعم و إن وصب المؤمن يكفر خطاياه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور رمادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے ان کو ابن سرین نے ان کو ابو الزیات قشیری نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابو درداء کے پاس ان کی عیادت کرنے کے لئے گئے۔ ہمارے پاس ایک دیہاتی بھی آ گیا۔ اس نے آکر پوچھا کہ کیا ہوا تمہارے امیر کو اور اس وقت حضرت ابو درداء امیر تھے ہم نے بتایا کہ وہ بیمار ہیں۔ اس نے کہا اللہ کی قسم میں تو کبھی بھی بیمار نہیں ہوا۔ یا کہا کہ مجھے تو کبھی درد سر بھی نہیں ہوا۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کو میرے ہاں سے نکال دو۔ تاکہ یہ اپنے گناہوں کو ساتھ لے کر مرے۔ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرے لئے ہر بیماری کے بدلے میں اس کا بدلہ سرخ اونٹ ہوں بے شک مؤمن کی بیماری اس کے گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔

ما صدعت قط ← و الله ما اشتكيت قط أو ← ما لأميركم و أبو الدرداء يؤمئذ أمير قلنا هو شاك ← دخلنا على أبي الدرداء نعوده فدخل علينا أعرابي ← أبي الزيات القشيري ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9905

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9906

9906 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنا إسماعيل بن إسحاق نا سليمان بن حرب نا شعبة عن عمرو بن مرة قال : سمعت ابن أبي ليلى قال : ذكرت الأوجاع عند أبي الدرداء فقال رجل ما اشتكيت شيئا قط قال : فقال أبو الدرداء أخرجوه عني إن ذنوبك لحمة عليك كما هي ما حط عنك منها شيء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحٰق فقیہ نے ان کو اسماعیل بن اسحٰق نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو شعبہ نے ان کو عمرو بن مرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن ابو لیلیٰ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو درداء کے سامنے بیماریوں کا ذکر کیا تو ایک آدمی نے کہا کہ میں تو کبھی بیمار ہی نہیں ہوا۔ کہتے ہیں کہ حضرت ابو درداء نے فرمایا اس کو میرے پاس سے نکال دو۔ تیرے گناہ تیرے اوپر مسلط رہیں گے جیسے یہ موجود ہیں کچھ بھی ان میں سے تم سے نہیں مٹے گا۔

رجل ما اشتكيت شيئا قط ← ذكرت الأوجاع عند أبي الدرداء ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9906

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9907

9907 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن الحسين القاضي بمرو نا الحارث بن أبي أسامة نا سعيد بن عامر نا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأعرابي هل أخذتك أم ملدم ؟ قال : و ما أم ملدم ؟ قال : حر بين الجلد و اللحم قال : فما وجدت هذا قط قال : فهل أخذك الصداع ؟ قال : وما الصداع ؟ قال : عرق يضرب على الإنسان في رأسه قال : ما وجدت هذا قط فلما ولى قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سره أن ينظر إلى رجل من أهل النار فلينظر إلى هذا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ ن ان کو عبداللہ بن حسین قاضی نے مرو میں۔ ان کو حارث بن ابو اسامہ نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی کو فرمایا تھا کیا تمہیں کبھی بخار بھی آیا ہے؟ اس نے پوچھا کہ بخار کیا ہوتا ہے؟ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گوشت اور چمڑے کے مابین حرارت وگرمی ہوتی ہے اس نے کہا کہ میں یہ کبھی نہیں پایا (یعنی مجھے بھی بخار نہیں ہوا ) آپ نے پوچھا کہ تمہیں کبھی سر میں درد ہوا ہے؟ اس نے پوچھا کہ درد سر کیا ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ رگ ہوتی ہے سر میں جو ٹپتی ہے اس کے سر میں ۔ اس نے کہا کہ میں نے یہ بھی کبھی نہیں پایا۔ وہ جب واپس چلا گیا تو سول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کو یہ پسند ہو کہ وہ کسی جہنمی انسان کو دیکھے اس کو چاہئے کہ وہ اسے دیکھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9907

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9908

9908 - قال الشيخ أحمد و لهذا شاهد من حديث ابن المسيب عن أبي هريرة و من حديث معمر عن زيد بن أسلم : عن النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا

شیخ احمد نے فرمایا: اس مذکورہ حدیث کا شاہد دوسری حدیث موجود ابن مسیب سے اس نے ابو ہریرہ سے اور حدیث معمر سے اس نے زید بن اسلم سے اس نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے بطور مرسل روایت کے۔

النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← أبي هريرة و من حديث معمر ← الشيخ أحمد و لهذا شاهد من حديث ابن المسيب

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9908

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9909

9909 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا محمد بن الفرج الأزرق نا السهمي نا سنان عن الحضرمي عن أنس : أن امرأة أتت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله بنت لي كذا و كذا فذكرت حسنها و جمالها فآثرتك بها قال : قد قبلتها فلم تزل تمدحها حتى ذكرت أنها لم تصدع و لم تشتك شيئا قط قال : لا حاجة لي في بنتك

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو محمد بن فرج ازرق نے ان کو سہمی نے ان کو سنان نے حضرمی سے اس نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ ایک عورت حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور آکر کہنے لگی یا رسول اللہ میری بیٹی ہے اور وہ ایسی ایسی ہے اس نے اس کے حسن اور جمال ذکر کیا اور کہنے لگی کہ میں اس کے رشتے میں آپ کو سب پر ترجیح دیتی ہوں۔ حضور نے فرمایا کہ میں نے اس کو قبول کر لیا ہے۔ پھر بھی وہ اس کی تعریف کرتی رہی۔ کرتے کرتے اس نے کہا کہ وہ ایسی صحت مند ہے کہ اس کو کبھی سر میں درد بھی نہیں ہوا اور کوئی بھی تکلیف نہیں ہوئی۔ حضور نے فرمایا کہ تیری بیٹی کی مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔

أنس أن امرأة أتت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت ← الْحَضْرَمِيِّ ← سِنَانٍ ← السَّهْمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9909

chevron_left Previous
1…394041…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood