Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9886

9886 - أخبرناه عاليا أبو الحسن محمد بن يعقوب الطابراني بالطابران نا أبو بكر محمد بن أحمد بن المفيد نا أحمد بن عبد الرحمن أبو العباس السقطي نا يزيد بن هارون عن عاصم الأحول عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الموت كفارة لكل مسلم

ہمیں اس کی خبر دی سند عالی کے ساتھ ابو الحسن محمد بن یعقوب طاہرانی نے طاہران میں ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن مفید نے ان کو احمد بن عبدالرحمٰن ابو العباس سقطی نے ان کو یزید بن ہارون نے عاصم احول سے اس نے انس رضی اللہ عنہ بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موت ہر مسلمان کے لئے کفارہ ہوتی ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أحمد بن عبد الرحمن أبو العباس السقطي ← أبو بكر محمد بن أحمد بن المفيد ← عاليا أبو الحسن محمد بن يعقوب الطابراني بالطابران

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9886

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9887

9887 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر الفارسي قالا نا أبو عمرو بن مطر نا إبراهيم بن علي نا يحيى بن يحيى نا عبد الله بن وهب عن يحيى بن عبد الله عن أبي عبد الرحمن الحبلى عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : توفي رجل بالمدينة عن ولد بالمدينة فصلى عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا ليته مات في غير مولده فقال رجل من القوم و لم يا رسول الله ؟ قال إن الرجل إذا مات في غير مولده قيس له من مولده إلى منقطع أثره في الجنة

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے اور ابو بکر فارسی نے دونوں نے کہا ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو حیی بن عبداللہ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن حبلی نے ان کو عبداللہ بن عمرو بن العاص نے وہ کہتے ہیں کہ مدینے میں ایک آدمی کی وفات ہو گئی اور وہ مدینے ہی میں پیدا بھی ہوا تھا حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جناز و پڑھائی اور فرمایا کاش کہ وہ اپنی جائے پیدائش کے علاوہ جگہ پر انتقال کرتا۔ ایک آدمی نے پوچھا کیوں یا رسول اللہ؟ فرمایا: آدمی جب اپنی جائے پیدائش سے دور کہیں وفات پا جاتا ہے یعنی مسافر ہو کر تو اس کی جائے پیدائش سے وہاں تک جہاں تک وہ چل کر گیا مسافت برابر جنت میں ناپی جاتی ہے ( یعنی اتنی ہی ان کو جنت کے قریب کر دیا جاتا ہے۔ )

رجل من القوم و لم ← "يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ", ← ولد بالمدينة فصلى عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم ← توفي رجل بالمدينة ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر الفارسي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9887

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9888

9888 - قال و حدثنا يحيى بن يحيى نا إسماعيل بن عياش عن صفوان بن عمرو عن شريح بن عبيد الحضرمي : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الأبدا بدا غريبا و سيعود غريبا فطوبى للغرباء إلا أنه لا غربة على من مات في أرض غربة غاب فيه بواكيه إلا بكت عليه السماء و الأرض هكذا وجدته مرسلا

کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو صفوان بن عمرو نے ان کو شریح بن عبید حضرمی نے یہ کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک (ابداء) ( یعنی اسلام نے ابتداء کی تھی کہ مسافر تھا اور عنقریب پھر مسافر ہو جائے گا پس مبارک بادی ہے مسافروں کے لئے خبردار اس آدمی پر کوئی مسافرت نہیں ہے جو ارض مسافرت میں انتقال کر جائے جس زمین پر اس کو رونے والے ہی نہ ہوں مگر اس پر زمین و آسمان روتے ہیں۔ میں نے اس کو اسی طرح مرسل ہی پایا ہے۔

شريحٍ بن عبيدٍ الحضرمي، ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9888

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9889

9889 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ نا القاسم بن زكريا المقري نا محمد بن يحيى نا عمر بن علي المقدمي نا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم عن عبد الله بن مسعود : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا كان أجل أحدكم بأرض أتت له إليها حاجة فإذا بلغ أقصى أثره فتوفاه فتقول الأرض يوم القيامة يا رب هذا ما استودعتني تابعه هشيم و محمد بن خالد الوهبي عن إسماعيل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو علی حسین بن علی حافظ نے ان کو قاسم بن زکریا مقری نے ان کو محمد بن یحییٰ نے ان کو عمرو بن علی مقدمی نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ان کو قیس بن ابو حازم نے ان کو عبداللہ بن مسعود نے ان کو نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کی اجل (موت) کسی خاص جگہ پر طے ہوتی ہے تو اس کو وہاں کوئی ضرورت پیش آ جاتی ہے جب وہ اپنے آخری قدم تک پہنچ جاتا ہے اس کو وفات دے دیتا ہے پس قیامت کے دن وہ زمین کہے گی اے میرے رب یہ ہے وہ امانت جو آپ نے میرے پاس امانت رکھوائی تھی۔ اس کو ہثیم نے اور محمد بن خالد وہبی نے اسماعیل سے اس کا متابع بیان کیا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُقْرِئُ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9889

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9890

9890 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو علي الحافظ غير مرة أنا الحسين بن نهار العسكري نا زيد بن الحريش الأهوازي نا عمران بن عيينة عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي عن عروة بن مضرس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أراد الله قبض عبد بأرض جعل له إليها حاجة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو علی حافظ نے کئی بار۔ ان کو خبر دی حسین بن نہار عسکری نے ان کو زید بن حریش اہوازی نے ان کو عمران بن عیینہ نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ان کو شعبی نے ان کو عروہ بن مطرس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کسی خاص جگہ پر وفات دینا چاہتے ہیں اس کے لئے وہاں پر کوئی کام اور ضرورت پیدا کر دیتے ہیں (جس کے لئے وہ وہاں پہنچ جاتا ہے۔ )

عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ الْأَهْوَازِيُّ ← الحسين بن نهار العسكري ← أبو علي الحافظ غير مرة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9890

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9891

9891 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو النضر الفقيه و أحمد بن محمد العنبري قالا نا عثمان بن سعيد الدارمي نا يحيى بن صالح الوحاظي نا عبد العزيز بن محمد حدثني أنيس بن أبي يحيى مولى الأسلميين عن أبيه عن أبي سعيد الخدري قال : مر النبي صلى الله عليه و سلم بجنازة عند قبر فقال قبر من هذا ؟ فقالوا قبر فلان الحبشي يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا إله إلا الله سيق من أرضه و سمائه إلى تربته التي خلق منها

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو نضر فقیہ نے اور احمد بن محمد عنبری نے دونوں نے کہا کہ ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو یحییٰ بن صالح وحاظی نے ان کو عبدالعزیز بن محمد نے ان کو انیس بن ابو یحییٰ مولیٰ اسلمین نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو سعید خدری نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس ایک جنازے کے پاس سے گزرے۔ تو پوچھا کہ یہ کس شخص کی قبر ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں حبشی کی قبر ہے یا رسول اللہ : رسول اللہ نے فرمایا: اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے اپنی زمین سے اور اپنے آسمان سے چلایا گیا ہے اس سرزمین کی طرف جس سے وہ پیدا کیا جائے گا۔

قبر فلان الحبشي ← قبر من هذا ← مر النبي صلى الله عليه و سلم بجنازة عند قبر ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← أنيس بن أبي يحيى مولى الأسلميين ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو النضر الفقيه و أحمد بن محمد العنبري ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9891

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9892

9892 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا عبد الله بن أيوب المخرمي نا إبراهيم بن بكر عن عبد العزيز بن أبي رواد و أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي أنا أبو يعلى نا أبو بكر بن أبي شيبة نا الهذيل بن الحكم الأردني و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أبو علي الرفا أنا علي بن عبد العزيز نا محمد بن كثير العبدي نا الهذيل بن ابن الحكم أبو المنذر نا عبد العزيز بن أبي رواد عن عكرمة عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : موت الغريب شهادة

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو عبداللہ بن ایوب مخرمی نے ان کو ابراہیم بن بکر نے ان کو عبدالعزیز بن ابو رواد نے ان کو خبر دی ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو ابو یعلیٰ نے ان کو ابو بکر بن ابو شیبہ نے ان کو ہذیل بن حکم اردنی نے۔ اور ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو علی رفا نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو محمد بن کثیر عبیدی نے ان کو ہذیل بن ابن الحکم ابو المنذر نے ان کو عبدالعزیز ابو رواد نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ مسافر کی موت شہادت ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← الهذيل بن ابن الحكم أبو المنذر ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو نصر بن قتادة أبو علي الرفا ← الهذيل بن الحكم الأردني و ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ ← عبد العزيز بن أبي رواد و ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَكْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9892

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9893

9893 - قال الشيخ أحمد : أشار البخاري إلى تفرد الهذيل بن الحكم بهذا قال و هو منكر الحديث

شیخ احمد نے فرمایا کہ بخاری نے ہذیل بن حکم کے اس روایت کے ساتھ تفرد کا اشارہ کیا ہے۔ فرمایا کہ وہ منکر الحدیث ہے۔

و هو منكر الحديث ← الشيخ أحمد أشار البخاري إلى تفرد الهذيل بن الحكم بهذا

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9893

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9894

9894 - و قد روينا من حديث إبراهيم بن بكر الكوفي : عن ابن أبي رواد و زعم ابن عدي أنه سرقة من الهذيل و الله أعلم و روي من وجه أضعف من هذا

اور تحقیق ہم نے اس کو روایت کیا ہے حدیث ابراہیم بن بکر کوفی سے اس نے ابو رواد سے اور ابن عدی نے گمان کیا ہے کہ اس نے اسے بذیل سے چرایا ہے۔ واللہ اعلم اور اس سے بھی زیادہ ضعیف طریق سے مروی ہے۔

و قد روينا من حديث إبراهيم بن بكر الكوفي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9894

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9895

9895 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصغاني نا حجاج بن محمد قال : قال ابن جريج عن إبراهيم بن محمد عن موسى بن وردان عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من مات غريبا مات شهيدا و وقي فتانى القبر و غدي و ريح عليه برزقه من الجنة تفرد به إبراهيم بن أبي يحيى الأسلمي و قد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو حجاج بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ ابن جریج نے کہا کہ مروی ہے ابراہیم بن محمد سے اس نے موسیٰ بن ردان سے اس نے ابو ہریرہ سے اس نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا: جو شخص مسافر ہو کر مرا وہ شہید ہو کر مرا اور وہ قبر کی آزمائشوں سے یا قبر سے (سوال جواب کرنے والوں سے) بچ گیا اور صبح و شام جنت سے اس کا رزق اس کے پاس آتا رہے گا۔ اس کے ساتھ ابو یحییٰ اسلمی کا تفرد ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُوسَى بْنَ وَرْدَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9895

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9896

9896 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا دعلج بن أحمد نا أحمد بن علي الأبار نا ابن أبي سكينة الحلبي قال : سمعت إبراهيم بن أبي يحيى يقول حكم الله بيني و بين مالك بن أنس هو سماني قدريا و أما ابن جريج فإني حديثه : من مات مرابطا مات شهيدا و نسبني إلى جدي من قبل أبي فقال إبراهيم بن أبي عطاء قلت كذا قال ابن جريج في بعض الروايات عنه إبراهيم بن أبي عطاء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو دعلج بن احمد نے ان کو علی آبار نے ان کو ابن ابو سکینہ حلبی نے اس نے سنا ابراہیم بن ابو یحییٰ سے وہ کہتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ فیصلہ کرے گا میرے اور مالک بن انس کے درمیان انہوں نے مجھے قدری کا نام دیا ہے۔ بہرحال ابن جریج میں ان کی حدیث نقل کرتا ہوں کہ جو شخص جہاد کے سفر میں گھوڑا باندھے ہوئے انتقال کر جائے وہ شہید ہو کر مرتا ہے۔ انہوں نے میری نسبت میرے دادا کی طرف کی ہے میرے والد کی طرف سے۔ ابراہیم بن عطاء نے کہا ہے کہ میں نے کہا ہے اسی طرح کہا ہے ابن جریج نے بعض روایات میں اس سے ابراہیم بن عطاء نے ۔

إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، ← ابْنُ أَبِي سَكِينَةَ الْحَلَبِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ ← دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9896

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9897

9897 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو علي إسماعيل بن محمد الصفار نا الحسن بن مكرم نا الحسن بن قتيبة نا عبد العزيز بن أبي رواد عن محمد بن عمرو عن عطاء عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من مات مريضا مات شهيدا و وقي فتاني القبر و غدى و ريح عليه برزقه من الجنة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو علی اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو حسن بن قتیبہ نے ان کو عبدالعزیز بن ابو رواد نے ان کو محمد بن عمرو نے عطاء سے اس نے اپنے والد سے اس نے حضرت ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بیمار ہو کر مرتا ہے وہ شہید ہو کر مرتا ہے۔ اور قبر کی آزمائش اور فتنوں اور سوال و جواب سے محفوظ رہتا ہے اور صبح و شام اس کے پاس جنت کا رزق آتا رہتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عَطَاءٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9897

chevron_left Previous
1…383940…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood