Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9838

9838 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حمشاد نا عبيد بن شريك نا ابن أبي مريم و أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا أبو الحسن علي بن محمد المصري نا ابن أبي مريم نا جدي سعيد بن أبي مريم أخبرني نافع بن يزيد حدثني جعفر بن ربيعة عن عبيد الله بن عبد الرحمن بن السائب أن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن أزهر حدثه عن أبيه عبد الرحمن بن أزهر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إنما مثل العبد المؤمن حين يصيبه الوعك أو الحمى كمثل حديدة تدخل في النار فيذهب خبثها و يبقى طيبها لفظهما سواء

ہمیں خبردی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو ابن ابو مریم نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسين بن بشران نے اور ان کو ابو الحسن علی بن محمد مصری نے ان کو ابن ابو مریم نے ان کو میرے دادا سعید بن ابو مریم نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی نافع بن یزید نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی جعفر بن ربیعہ نے ان کو عبیداللہ بن عبدالرحمٰن بن سائب نے یہ کہ عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن ازہر نے ان کو حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ مومن کی مثال جب اس کو بخار آتا ہے لوہے جیسی ہے جو آگ میں ڈالا جاتا ہے پھر اس کا میل اور رنگ دور ہو جاتا ہے اور وہ صاف ہو کر رہ جاتا ہے۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← جَدِّي سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← ابن أبي مريم و ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَادٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9838

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9839

9839 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا عبيد الله بن عمر الجشمي نا يزيد بن زريع نا الحجاج الصواف نا أبو الزبير نا جابر بن عبد الله : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دخل على أم السائب أو أم المسيب ـ أبو الزبير يشك ـ و هي تزفزف فقال مالك تزفرين ؟ قال : الحمى لا بارك الله فيها قال : لا تسبي الحمى فإنها تذهب خطايا بني آدم كما يذهب الكير خبث الحديد رواه مسلم في الصحيح عن عبيد الله القواريري

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ بن عمر حشمی نے ان کو یزید بن زریع نے ان کو حجاج صواف نے ان کو ابو الزبیر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے یہ کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابو زبیر اُم سائب۔ یا اُم مسیب کے پاس پہنچے تو وہ بخار سے کانپ رہی تھی۔ اس نے پوچھا کہ آپ کو کیا ہوا کانپ رہی ہو؟ بولی بخار ہو گیا ہے اللہ اس کو برباد کرے گا۔ انہوں نے فرمایا کہ بخار کو برا نہ کہو بے شک وہ گناہ کو ایسے ختم کر دیتا جیسے بھٹی لوہے کے زنگ کو مسلم نے اس کو روایت کیا ہے عبیداللہ قواریری سے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عبيد الله بن عمر الجشمي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9839

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9840

9840 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران انا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور الرمادي نا عبد الرزاق انا معمر عن الزهري قال : حدثتني فاطمة الخزاعية و كانت قد أدركت عامة أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم عاد امرأة من الأنصار و هي وجعة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كيف تجدينك ؟ قالت : بخير يا رسول الله و قد برحت بي أم ملدم تريد الحمى فقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم اصبري فإنها تذهب بخبث الإنسان كما يذهب الكير من خبث الحديد

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور رمادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے فاطمہ خزاعیہ نے۔ انہوں نے عام اصحاب رسول کو پا لیا تھا۔ وہ فرماتی ہیں رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت کی عیادت کی تھی اس کو تکلیف تھی حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم اپنے آپ کو کیسے پاتی ہو؟ وہ کہنے لگی کہ خیریت سے ہوں یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم مگر شام سے اُم ملدم میرے ساتھ ہے اس سے اس کی مراد بخار سے تھی۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اس کو فر مایا کہ تم صبر کرو بے شک وہ انسان کے میل کو دور کرتا ہے جیسے بھٹی لوہے کا زنگ دور کرتی ہے۔

الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9840

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9841

9841 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا تمتام نا حاجب بن الوليد نا الوليد بن محمد الموقري عن الزهري عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إنما مثل المريض إذا برىء وصح من مرضه كمثل البردة من السماء في صفائها و لونها قال الشيخ أحمد : هذا يعرف بالموقري و هو ضعيف و قد

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے ان کو حاجب بن ولید نے ان کو ولید بن محمد موقری نے ان کو زہری نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوائے اس کے نہیں کہ مریض کی مثال جب وہ صحت یاب ہو جائے اپنے مرض سے آسمان سے گرنے والی برف جیسی ہے رنگ اور صاف ہونے کے اعتبار سے۔ شیخ احمد نے کہا یہ روایت معروف ہے موقری سے اور وہ ضعیف ہے۔

أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الوليد بن محمد الموقري ← حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9841

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9842

9842 - أخبرنا أبو منصور أحمد علي الدامغاني من ساكني بيهقي أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا الحسين بن محمد مودود نا عبد الوهاب نا بقية عن الزبيدي عن الزهري عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنما مثل المريض إذا بريء و صح منه مرضه كمثل البردة من السماء في صفائها و حسنها و لونها

ہمیں خبر دی ابو منصور احمد بن علی دامغانی نے جو کہ بیہقی کے رہنے والے تھے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو حسین بن محمد بن مودود نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو بقیہ نے زبیدی سے اس نے زہری سے اس نے انس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مریض کی مثال جب وہ صحت یاب ہو جاتا ہے اور ٹھیک ہو جاتا ہے مثل برف کے ہے جو آسمان سے گرتی ہے اپنی صفائی اور حسن اور رنگ کے اعتبار سے۔

أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← بَقِيَّةُ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← الحسين بن محمد مودود ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أبو منصور أحمد علي الدامغاني من ساكني بيهقي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9842

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9843

9843 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق نا يزيد بن هارون و علي بن عياش الحمصي و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يحيى بن أبي طالب أنا يزيد بن هارون قالا أنا محمد بن مطرف عن أبي الحصين عن أبي صالح الأسعري عن أبي أمامة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الحمى كير من جهنم فما أصاب المؤمن منها كان حظه من النار لفظهما سواء غير أن علي بن عياش قال : نا محمد بن مطرف حدثني أبو حصين و قال : يزيد عن أبو الحصين مروان بن رؤبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق نے ان کو یزید بن ہارون نے اور علی بن عیاش خمصی نے ۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو یزید بن ہارون نے ان دونوں نے کہا کہ ان کو محمد بن مطرف نے ان کو ابو الحسین نے ابو صالح اسعدی سے ان کو ابو امامہ نے ان کو نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخار جہنم کی بھٹی ہے اس میں اسے مومن کو جو کچھ پہنچے وہ اس شخص کا جہنم میں سے حصہ تھا۔ دونوں کے الفاظ برابر ہیں علاوہ ازیں یہ بات ہے کہ علی بن عیاش نے فرمایا کہ ہمیں خبر دی محمد بن مطرف نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ابو حصین نے ۔ اور کہا ہے یزید نے ابو الحصین سے اور وہ ابو الحسین مروان بن روبہ ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أبي صالح الأسعري ← أَبِي الْحُصَيْنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← يزيد بن هارون و علي بن عياش الحمصي و ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9843

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9844

9844 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن علي بن عفان نا أبو أسامة نا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن إسماعيل بن عبد الله عن أبي صالح الأشعري عن أبي هريرة قال : عاد رسول الله صلى الله عليه و سلم مريضا من وعك كان به و معه أبو هريرة فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أبشر فإن الله تبارك و تعالى يقول : ناري أسلطها على عبدي المؤمن في الدنيا لتكون حظه من النار في الآخرة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر نے ان کو اسماعیل بن عبداللہ نے ان کو ابو صالح اشعری نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ایک مریض کی عیادت کی جس کو بخار تھا۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو ہریرہ بھی تھے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوش ہو جا بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندہ مومن پر اپنی آگ مسلط کرتا ہوں دنیا کے اندر تاکہ یہ اس کے آخرت کی آگ کے حصے کے قائمقام ہو جائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9844

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9845

9845 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا أبو هشام نا يحيى بن اليمان نا عثمان عن مجاهد قال : الحمى حظ كل مؤمن من النار ثم قرأ { و إن منكم إلا واردها كان على ربك حتما مقضيا } و الورود في الدنيا هو الورود في الآخرة

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو ابو ہشام یحییٰ بن یمان نے ان کو عثمان نے ان کو مجاہد نے فرمایا کہ بخار ہر مؤمن کا حصہ ہے جہنم کا اس کے بعد انہوں نے یہ آیت تلاوت کی ( بطور استدلال ) وان منکم الا واردھا کان علی ربک حتما مقضیاً تم میں سے ہر شخص نے جہنم میں جانا ہے یہ تیرے رب کا طے شدہ فیصلہ ہے۔ (وارد ہونا آنا یا داخل ہونا ہے) دنیا کا درود وہی آخرت کا درود ہے ۔

مُجَاهِدٍ ← عُثْمَانَ، ← يحيى بن اليمان ← أبو هشام ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9845

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9846

9846 - أخبرنا القاضي أبو سعيد الخليل بن أحمد بن محمد بن يوسف المهلبي البستي قدم علينا بنيسابور نا أبو العباس أحمد بن المظفر البكري انا ابن أبي خيثمة نا مسلم بن إبراهيم نا عصمة بن سالم الهنائي و كان صدوقا نا أشعث بن جابر عن شهر بن حوشب عن أبي ريحانة الأنصاري : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الحمى كير من حر جهنم و هي نصيب المؤمن من النار

ہمیں خبردی قاضی ابو سعید خلیل بن احمد بن محمد بن یوسف مہلبی البستی نے جو کہ ہمارے پاس نیشاپور میں آئے تھے ۔ ان کو ابو العباس احمد بن مظفر بکری نے ان کو ابن ابو خیثمہ نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو عصمہ بن سالم ھنائی نے اور وہ سچے آدمی تھے ان کو اشعث بن جابر نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو ابو ریحانہ انصاری نے ان کو نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخار جہنم کی تپش کی بھٹی ہے اور یہ مومن کا جہنم کا حصہ ہے۔

الحمى كير من حر جهنم و هي نصيب المؤمن من النار ← أبي ريحانة الأنصاري ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← أشعث بن جابر ← عصمة بن سالم الهنائي و كان صدوقا ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابن أبي خيثمة ← أبو العباس أحمد بن المظفر البكري

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9846

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9847

9847 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا عبد الله بن محمد بن أسماء نا مهدي بن ميمون نا واصل مولى أبي عيينة عن أبي سيف و هو بشار عن الوليد بن عبد الرحمن رجل من فقهاء أهل الشام عن عياض بن عطيف قال : دخلت على أبي عبيدة الجراح في مرضه و امرأته لجنبه جالسة عند رأسه و هو يقبل بوجهه على الجدار قال : قلنا كيف بات أبو عبيدة الليلة قالت : بات و الله بأجر قال : فأقبل علينا بوجهه فقال إني و الله ما بت بأجر قال : و كان القوم ساءهم ذلك فقال : أفلا تسألوني عما قلت ؟ قال : ما أعجبنا ما قلت و كيف نسألك قال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من ابتلاه الله ببلاء في جسده فهو له حظه و روى أبي الدرداء عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذا المعنى و إليه ذهب ابن مسعود

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن اسماء نے مہدی بن میمون نے ان کو واصل مولیٰ ابو عیینہ نے ابو سیف سے وہ بشار ہیں۔ انہوں نے ولید بن عبدالرحمٰن سے وہ اہل شام کے فقہاء میں سے تھے۔ اس نے عیاض بن عطیف سے وہ کہتے ہیں کہ میں ابو عبیدہ بن جراح کے پاس گیا ان کی بیماری کے ایام میں اور ان کی عورت ان کے پہلو میں بیٹھی ہوئی تھی اور وہ دیوار کی طرف منہ کئے ہوئے تھی۔ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا ابو عبیدہ آپ نے آج رات کیسی گزاری؟ خاتون نے جواب دیا اللہ کی قسم اجرو ثواب کے ساتھ ۔ کہتے ہیں کہ آپ خود ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اللہ کی قسم میں نے آج رات کسی اجرو ثواب کے ساتھ نہیں گزاری کہتے ہیں۔ ہمارے ساتھ جو لوگ تھے ان کو یہ بات بری لگی انہوں نے خود اور فرمایا کہ یا آپ لوگ مجھ سے نہیں پوچھو گے اس کے بارے میں جو کچھ میں نے کہا ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا کہ آپ نے جو کہا تھا ہمیں وہ بات کچھ اچھی نہ لگی تھی اور کیسے آپ سے پوچھتے ۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ فرماتے تھے اللہ تعالیٰ جس شخص کو اس کے جسم کے بارے میں کسی آزمائش میں مبتلا کریں وہ اس کا حصہ ہی ہوا کرتا ہے۔ اور ابو درداء سے مروی ہے انہوں نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم میں اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس طرف گئے ہیں۔

عياض بن عطيف ← الوليد بن عبد الرحمن رجل من فقهاء أهل الشام ← أبي سيف و هو بشار ← وَاصِلٌ مَوْلٰی اَبِیْ عُیَیْنَۃَ ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9847

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9848

9848 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة انا أبو عمرو بن مطر نا أبو خليفة نا محمد بن كثير أنا سفيان عن الأعمش عن عمارة بن عمير عن أبي معمر عن عمرو بن شرحبيل عن عبد الله : قال : إن الوجع لا يكتب به الأجر إنما الأجر في العمل و لكن يكفر الله عز و جل به الخطايا

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابو خلیفہ نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سفیان نے اعمش سے ان کو عمارہ بن عمیر نے ان کو ابو معمر نے ان کو عمرو بن شرحبیل نے ان کو عبداللہ نے انہوں نے فرمایا: بے شک درد و بیماری کے ساتھ اجر نہیں لکھا جاتا یقینی بات ہے کہ اجر عمل میں ہوتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ گناہوں کو مٹا دیتے ہیں۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← أَبِي مَعْمَرٍ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9848

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9849

9849 - قال الشيخ أحمد و قد روينا في حديث منصور عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة : عن النبي صلى الله عليه و سلم في حديث الشوكة إلا كتبت له بها درجة و محيت عنه بها خطيئة

شیخ احمد نے فرمایا کہ ہم نے روایت کیا ہے حدیث منصور میں ابراہیم سے اسود سے اس نے سیدہ عائشہ سے انہوں نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے۔ کانٹے والی حدیث میں کہ مگر اس کے لئے اس کے بدلے میں درجہ لکھا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ اس کی خطا منا دی جاتی ہے۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الشيخ أحمد و قد روينا في حديث منصور

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9849

chevron_left Previous
1…343536…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood