شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10010
10010 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان البرذعي نا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا أبو بكر نا خالد بن خداش حدثني عبد الله بن زيد بن أسلم عن أبيه أسلم : أن أبا عبيدة حضر فكتب إليه عمر يقول : مهما ينزل بامرىء شدة يجعل الله بعدها فرجا و إنه لن يغلب عسر يسرين و إنه يقول : { اصبروا و صابروا و رابطوا و اتقوا الله لعلكم تفلحون }
ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان برذعی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو الدنیا نے ان کو ابو بکر نے ان کو خالد بن خراش نے ان کو عبداللہ بن زید بن اسلم نے اپنے والد سلیم سے یہ کہ ابو عبیدہ حاضر ہوئے اس کی طرف عمر نے لکھا فرماتے تھے کہ جب کسی آدمی کے ساتھ شدت و سختی لاحق ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بعد اس کے لئے فراخی و خلاصی پیدا کرتے ہیں اور بے شک ہرگز ایک مشکل دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی بے شک اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اصبروا وصابروا ورابطوا اواتقو اللہ لعکم تفلحون صبر کرو اور صبر کی تلقین کر اور جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
إِلَيْهِ عُمَرُ: ← أبيه أسلم أن أبا عبيدة حضر ← عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ← خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ← عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا أبو بكر ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ الْبَرْذَعِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10010
