Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10010

10010 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان البرذعي نا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا أبو بكر نا خالد بن خداش حدثني عبد الله بن زيد بن أسلم عن أبيه أسلم : أن أبا عبيدة حضر فكتب إليه عمر يقول : مهما ينزل بامرىء شدة يجعل الله بعدها فرجا و إنه لن يغلب عسر يسرين و إنه يقول : { اصبروا و صابروا و رابطوا و اتقوا الله لعلكم تفلحون }

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان برذعی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو الدنیا نے ان کو ابو بکر نے ان کو خالد بن خراش نے ان کو عبداللہ بن زید بن اسلم نے اپنے والد سلیم سے یہ کہ ابو عبیدہ حاضر ہوئے اس کی طرف عمر نے لکھا فرماتے تھے کہ جب کسی آدمی کے ساتھ شدت و سختی لاحق ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بعد اس کے لئے فراخی و خلاصی پیدا کرتے ہیں اور بے شک ہرگز ایک مشکل دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی بے شک اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اصبروا وصابروا ورابطوا اواتقو اللہ لعکم تفلحون صبر کرو اور صبر کی تلقین کر اور جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔

إِلَيْهِ عُمَرُ: ← أبيه أسلم أن أبا عبيدة حضر ← عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ← خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ← عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا أبو بكر ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ الْبَرْذَعِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10010

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10011

10011 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا علي بن الجعد نا شعبة عن معاوية بن قرة عمن حدثه عن عبد الله بن مسعود قال : لو أن العسر دخل في جحر لجاء اليسر حتى يدخل معه ثم قال : قال الله عز و جل : { فإن مع العسر يسرا * إن مع العسر يسرا } و روي هذا من وجه آخر مرفوعا و هو ضعيف

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو علی بن جعد نے ان کو شعبہ نے ان کو معاویہ بن قرہ نے اس شخص سے جس نے اس کو حدیث بیان کی تھی اس نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فرمایا کہ اگر عسر اور تنگی کسی بیل اور سوراخ میں گھس جائے تو یسر اور آسانی اس کا تعاقب کرتے ہوئے وہ بھی اسی سراخ میں داخل ہو جائے گا اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فان مع العسریسراً ان مع العسریسراً بے شک عسر کے ساتھ یسر ہے بے شک عسر کے ساتھ یسر ہے ( تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔)یہ روایت ایک اور طریق سے مرفوع طریقے سے مروی ہے مگر وہ ضعیف ہے۔

لو أن العسر دخل في جحر لجاء اليسر حتى يدخل معه ثم ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← معاوية بن قرة عمن ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10011

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10012

10012 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه نا عبد الله بن محمود المروزي نا محمود بن غيلان نا حميد بن حماد أبو الجهم نا عائذ بن شريح قال : سمعت أنس بن مالك يقول : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم جالسا و حياله جحر فقال : لو جاء العسر فدخل هذا الجحر لجاءه اليسر فدخل عليه فأخرجه قال قال : فأنزل الله عز و جل : { فإن مع العسر يسرا * إن مع العسر يسرا } قال الشيخ تفرد به حميد هذا أو روى مرسلا كما

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس احمد بن ہارون فقیہ نے ان کو عبداللہ بن محمود مروزی نے ان کو محمود بن غیلان نے ان کو حمید بن حماد ابو الجہم نے ان کو عائذ بن شریح نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے۔ اور آپ کے قریب ایک سوراخ تھا حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا اگر عسر آ کر اس سوراخ میں گھس جائے تو یسر ضرور آئے گا اور وہ بھی اس میں داخل ہو جائے گا اور اس کو نکال لائے گا۔ کہتے ہیں کہ پھر آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان مع العسریسرا ان مع العسریسراً بے شک عسر کے ساتھ یسر ہے بے شک عسر کے ساتھ یسر ہے۔ شیخ نے فرمایا کہ اس روایت کے ساتھ حمید متفرد ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَائِذُ بْنُ شُرَيْحٍ، ← حُمَيْدُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو الْجَهْمِ، ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ الْمَرْوَزِيُّ، ← أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10012

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10013

10013 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا محمد بن علي الصنعاني بمكة نا إسحاق بن إبراهيم الصغاني نا عبد الرزاق أنا معمر عن أيوب : عن الحسن في قوله عز و جل : { إن مع العسر يسرا } قال : خرج النبي صلى الله عليه و سلم يوما مسرورا فرحا و هو يضحك و هو يقول : لن يغلب عسر يسرين إن مع العسر يسرا إن مع العسر يسرا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن علی صنعانی نے مکہ میں ان کو اسحاق بن ابراہیم صنعانی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے حسن سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں:ان مع العسر یسراً تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔فرمایاکہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ انتہائی مسرور اور خوش تھے اور ہنس رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ ایک دن عسر دو یسروں پر ہرگز غالب نہیں آئے گا: ان مع العسر یسراً ان مع العسریسراً

أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّغَانِيُّ ← محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10013

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10014

10014 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن محمد الحبيبي بمرو نا محمد بن موسى الباساني قال : أنشدني محمد بن عامر البلخي : ( أيا فارج الهم عن نوح و أسرته و صاحب الحوت مولى كل مكروب ) ( و فالق البحر عن موسى و شيعته و مذهب الحزن عن ذي البيت يعقوب ) ( و جاعل النار لإبراهيم باردة و رافع السقم عن أوصال أيوب ) ( إن الأطباء لا يغنون عن وصب أنت الطبيب طبيب غير مغلوب )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن محمد تیمی نے مقام مرو میں ان کو محمد بن موسیٰ باسانی نے انہوں نے کہا کہ مجھے شعر سنائے تھے محمد بن عامر بلخی نے ۔ جن کا مفہوم یہ ہے۔ اے غم کو نوح علیہ السلام سے کھول دینے والے مچھلی والے یونس علیہ السلام کی قید ہٹانے والے ہر مصیبت زدہ کے آقا و مولیٰ ۔اے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی جماعت کے لئے دریا کو پھاڑنے والے اور یعقوب علیہ السلام کا حزن دور کرنے والے۔ اے ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ کو ٹھنڈا کرنے والے اور ایوب علیہ السلام کے اعضاء سے بیماری اٹھا دینے والے بے شک طبیب کوئی فائدہ نہیں دے سکتے موت سے مگر وہ ایسا طبیب ہے جو عاجز نہیں آ سکتا۔

وصب أنت الطبيب طبيب غير مغلوب ← أوصال أيوب إن الأطباء لا يغنون ← ذي البيت يعقوب و جاعل النار لإبراهيم باردة و رافع السقم ← موسى و شيعته و مذهب الحزن ← نوح و أسرته و صاحب الحوت مولى كل مكروب و فالق البحر ← أنشدني محمد بن عامر البلخي أيا فارج الهم ← محمد بن موسى الباساني ← علي بن محمد الحبيبي بمرو ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10014

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10015

10015 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان أنا أبو بكر بن أبي الدنيا قال : أنشدني أحمد بن يحيى قوله : ( مفتاح باب الفرج الصبر و كل عسر معه يسر ) ( و الدهر لا يبقى على حاله و الأمر يأتي بعده الأمر ) ( و الكره تفنيه الليالي التي يفنى عليها الخير و الشر ) ( و كيف يبقى حال من حاله يسرع فيها اليوم و الشهر )

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے شعر سنائے تھے احمد بن یحییٰ نے اپنے کلام سے کشادگی کے دروازے کی کنجی صبر ہے اور ہر عسر کے ساتھ یسر ہوتا ہے۔ اور زمانہ ایک جیسی حالت پر ہمیشہ نہیں رہتا اور ایک امر کے بعد دوسرا امر آتا رہتا ہے۔ اور مکروہ اور ناپسندیدہ امر کو راتیں فنا کر دیتی ہیں جن پر خیر وشرفنا ہوتے ہیں اور ایک حالت کیسے باقی رہ سکتی ہے جب کہ زمانے میں ماہ و ایام تیز رفتاری کے ساتھ گزر رہے ہیں۔

أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10015

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10016

10016 - قال : و حدثنا أبو بكر قال : قال محمد بن الحسين و كان القاسم بن محمد بن جعفر يقول كثيرا : ـ ( عسى ما ترى أن لا يدوم و أن ترى له فرجا مما ألح به الدهر ) ( عسى فرجا يأتي به الله إنه له كل يوم في خليقته أمر ) ( إذا لاح عسر فارج يسرا فإنه قضى الله إن العسر يتبعه يسر )

کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر نے وہ کہتے ہیں کہ کہ محمد بن حسین نے اور مجھے قاسم بن محمد بن جعفر ا کثر کہتے رہتے تھے۔ ( اشعار جن کا مفہوم یوں ہے۔) وہ چیز قریب ہے جس کو آپ دیکھیں گے وہ یہ ہے کہ یہ کیفیت ہمیشہ قائم نہیں رہے گی اور یہ کہ آپ اس کے لئے کھل جانا اور کشادگی بھی ملاحظہ کریں گے ان امور سے جن کے ساتھ زمانے نے اصرار کیا ہے۔ عنقریب اللہ تعالیٰ کشادگی کو لے آئے گا بے شک اللہ تعالیٰ کے لئے ہر دن اس کی مخلوق میں کوئی نہ کوئی امر پیدا ہوتا رہتا ہے۔ جب بھی کوئی عسر چمکتا ہے وہ یسر کو کھولنے والا ہوتا ہے بے شک بات یہ ہے کہ اللہ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ بے شک عسر کے پیچھے یسر آتا ہے ( تنگی کے بعد آسانی آتی ہے۔)

محمد بن الحسين و كان القاسم بن محمد بن جعفر ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10016

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10017

10017 - قال : و حدثنا أبو بكر حدثني محمد بن الحسين الأنصاري حدثني إبراهيم بن مسعود قال : كان رجل من تجار المدينة يختلف إلى جعفر بن محمد فيخالطه و يعرفه بحسن الحال فتغيرت حاله فجعل يشكو ذلك إلى جعفر بن محمد فقال جعفر : ( فلا تجزع و إن أعسرت يوما فقد أيسرت في الزمن الطويل ) ( و لا تيأس فإن اليأس كفر لعل الله يغني عن قليل ) ( و لا تظن بربك ظن سوء فإن الله أولى بالجميل ) قال : فخرجت من عنده و أنا أغنى الناس

اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو حدیث بیان کی ہے محمد بن حسین انصاری نے ان کو ابراہیم بن مسعود نے وہ کہتے ہیں کہ مدینے کے تاجروں میں سے ایک آدمی تھا وہ جعفر بن محمد کے پاس آتا جاتا تھا اس سے میل جول رکھتا تھا اور ان کو اچھے حالات کے ساتھ پہچانتا تھا یکایک اس کا حال بدل گیا لہٰذا وہ اس بات کا شکوہ جعفر بن محمد سے کرنے لگا لہٰذا جعفر نے کہا۔ شعر جن کا یہ مفہوم ہے مت گھبرا اگر تو ایک دن تنگی میں مبتلا ہو جائے اس لئے کہ آپ طویل زمانے تک آسانی میں بھی تو رہے ہو اور مایوس نہ ہونا اس لئے کہ مایوسی کفر ہے شاید کہ اللہ تعالیٰ قلیل سے بھی غنی بنا دے اور آپ اپنے رب کے ساتھ برا گمان نہ کیجئے بے شک اللہ تعالیٰ خوبصورت گمان کے لئے زیادہ اولیٰ ہے۔ کہتے ہیں کہ میں ان کے ہاں سے نکلا تو میں سب لوگوں سے زیادہ غنی ہو چکا تھا۔

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10017

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10018

10018 - أخبرنا أبو الحسين أنا الحسين بن صفوان أنا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني أبو عرفان قال : حدثني أبو عبيدة معمر بن المثنى عن يونس بن حبيب قال : قال لي أبو عمرو بن العلاء كنا نفر أيام الحجاج بصنعاء فسمعت منشدا ينشد : ( و بما تكره النفوس من الأمر له فرجة كحل العقال ) فاستظرفت قوله : فرجة فإني لك ذلك إذ سمعت قائلا يقول : مات الحجاج فما أدري بأي الأمرين كنت أشد فرحا بموت الحجاج أم بذلك البيت

ہمیں خبر دی ابو الحسین نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو ابو عرفان نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو عبیدہ معمر بن شؤمثنٰی نے ان کو یونس بن حبیب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے سے ابو عمرو بن علاء نے کہا کہ ہم لوگ حجاج بن یوسف کے دور میں صنعاء میں فرار ہو گئے تھے میں نے ایک شعر کہنے والے سے سنا جو کہ شعر کہہ رہا تھا۔ (جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے۔ ) کس وجہ سے دل ایک خاص امر کو ناپسند کرتے ہیں ان کے لئے تو خلاصی ہے جیسے اونٹ کے پیروں کی رسی کھل گئی ہے۔ ابو عمرو کہتے ہیں کہ میں نے اس شعر میں لفظ فرجتہ پر غور شروع کیا، کہ اس میں شاید میری مصیبت کے ختم ہو جانے کی طرف اشارہ ہے، چنانچہ اچانک میں نے سنا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے کہ حجاج مرچکا ہے (لہٰذا میری خوشی کی انتہانہ رہی ) اب میں نہیں سمجھ رہا تھا کہ میں دو باتوں میں سے کس بات کے ساتھ زیادہ خوشی کروں حجاج کی موت کی خبر کے ساتھ یا اس شعر کے ساتھ۔

لي أبو عمرو بن العلاء كنا نفر أيام الحجاج بصنعاء ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← أَبُو عُبَيْدَةَ مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أبو عرفان ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحَسَينِ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10018

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10019

10019 - قال : و أخبرنا أبو بكر حدثني محمد بن الحسين قال : رأيت مجنونا قد ألجأه الصبيان إلى مسجد فجاء فقعد في زاوية فتفرقوا عنه فقام و هو يقول : ( إذ ضاق أمر فانتظر فرجا فأصعب الأمر أدناه من الفرج )

کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی محمد بن حسین نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مجنون اور دیوانے کو دیکھا جس کو لڑکوں نے تنگ کر کے ایک مسجد میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا تھا چنانچہ وہ جا کر مسجد کے ایک کونے میں جا بیٹھا لہٰذا لڑکے اس سے منتشر ہو گئے پھر وہ وہاں سے اٹھا اور وہ یہ شعر کہہ رہا تھا۔ جب کوئی امر مجھے تنگ کر دیتا ہے تو میں خلاصی کا انتظار کرتا ہوں۔ پس مشکل ترین امر خلاصی کے قریب تر ہوتا ہے۔

مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10019

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10020

10020 - قال : و حدثنا أبو بكر حدثني الحسين بن عبد الرحمن : أن وزير الملك نفاه الملك لموجدة وجدها عليه فاغتم لذلك غما شديدا فبينما هو ذات ليلة في مسير له إذا أنشده رجل كان معه : ( أحسن الظن برب عودك حسنا أمس و سوى أودك ) ( إن ربا كان يكفيك الذي كان بالأمس سيكفيك غدك ) قال : فسرى عنه فأمر له بعشرة آلاف درهم

کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکرنے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے حسین بن عبدالرحمٰن نے بادشاہ نے اپنے وزیر کو نکال دیا تھا کسی ناراضگی کی وجہ سے کیونکہ وہ اس پر ناراض ہو گیا تھا وزیر اس بات پر سخت مغموم ہوا وہ ایک رات سفر کر رہا تھا کہ یکایک اس نے دیکھا کہ اس کے ساتھ کوئی آدمی ہے جو یہ شعر کہہ رہا ہے۔ (جن کا مفہوم یہ ہے ) رب کے ساتھ خوبصورت گمان کر وہ اس کا عوض اور بدلہ تجھے خوبصورت عطا کرے گا اور وہی تیری کمی وکمزوری درست کرے گا۔ بے شک رب ہی ہے جو تجھے کفایت کرتا ہے۔ جس نے کل تیری ضرورت پوری کی تھی وہ آئندہ کل صبح بھی تیری ضرورت پوری کرے گا۔ وزیر اس شعر کو سن کر خوش ہوا اور اس نے اس آدمی کو دس ہزار درہم دینے کا حکم دے دیا۔

الحسين بن عبد الرحمن أن ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10020

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10021

10021 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان قال أبو بكر بن أبي الدنيا : أنشدني رجل من قريش : ـ ( ألم تر أن ربك ليس يحصى أياديه الحديثة و القديمة ) ( تسل عن الهموم فليس شيء يقيم و ما همومك بالمقيمة ) ( لعل الله ينظر بعد هذا إليك بنظرة منه رحيمة )

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے کہا ابو بکر بن ابو الدنیا نے قریش کے ایک آدمی نے مجھے شعر سنائے ۔ (جن کا خلاصہ یہ ہے ) کیا تو دیکھتا نہیں کہ تیرے رب کے نئے اور پرانے احسانات اتنے ہیں جو شمار نہیں کئے جا سکتے ہموم و غموم سے تسلی رکھ کیونکہ جیسے کوئی بھی شئی دائمی نہیں ہے اسی طرح تیرے غم بھی دائمی اور ہمیشہ رہنے والے نہیں ہیں۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ اس کے بعد تیری طرف اپنی طرف سے کوئی نظر رحمت اور نظر کرم فرمائے۔

الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10021

chevron_left Previous
1234…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood