Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9766

9766 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصغاني نا عمرو بن طارق أنا السري عن ابن شوذب : أن رجلا كان له ابن لم يبلغ الحلم فأرسل إلى قومه فقال : إن لي إليكم حاجة أن تفعلوها قالوا : نعم قال : إني أريد أن أدعو على ابن هذا أن يقبضه الله إليه و تؤمنون على دعائي فسألوه عن ذلك فأخبرهم أنه رأى في نومه كأن الناس جمعوا ليوم القيامة فأصاب الناس عطش شديد فإذا الولدان قد خرجوا من الجنة معهم الأباريق فأبصرت ابن أخ لي فقلت : يا فلان اسقني فقال : يا عم إنا لا نسقي إلا الآباء قال الرجل : فأحببت أن يجعل الله ولدي هذا فرطا لي فدعا و أمنوا فلم يلبث الغلام إلا يسيرا حتى مات

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو عمرو بن طارق نے ان کو سری نے ان کو ابن شوذب نے کہ ایک آدمی کا بیٹا تھا وہ ابھی بلوغت کو نہیں پہچا تھا ا س نے اپنی قوم کو بلایا او رکہنے لگا کہ مجھے آپ سب لوگوں سے ایک ضروری کام ہے اگر آپ لوگ کر دو گے تو بہت ہی مہر بانی ہو گی لوگوں نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم کریں گے اس شخص نے کہا میں دعا کروںگا اللہ تعالیٰ سے کہ وہ اس کو قبض کر لے یعنی اس کو موت دے دے اور اپنے پاس بلا لے اور آپ سب لوگ میری اس دعا پر آمین کہنا لوگوں نے اس شخص سے پوچھا کہ وہ کیوں ایسے کر رہا ہے ؟ اس نے ان کو بتلایا کہ میں خواب میں دیکھا ہے کہ قیامت قائم ہو گئی ہے اور لوگ میدان محشر میں جمع ہیں اور سخت پیاس لگی ہوئی ہے اچانک میں نے دیکھا کہ کچھ بچے جنت میں سے باہر آرہے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں پانی کے کوزے بھرے ہوئے ہیں مین نے دیکھا کہ ان میں ایک میرے بھائی کا بیٹا بھی ہے میں نےا سکو آواز دی اے فلاں نے مجھے بھی پانی پلا دے وہ کہتا ہے اے چچا جان ہم لوگ اپنے اپنے والد کے سوا کسی کو نہیں پلاتے اس آدمی نے کہا کہ جب سے مجھے اشتیاق ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس بیٹے کو بھی میرے لئے آخرت کے لئے آگے کا ساما ن بنا کر بھیج دے انہوں نے دعا کی اور سب لوگوں نے آمین کہی وہ لڑکا تھوڑی دیر ہی زندہ رہا پھر اس کا انتقال ہو گیا۔

ابْنِ شَوْذَبٍ ← السَّرِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ طَارِقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9766

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9767

9767 - أخبرنا أبو القاسم عبد الواحد بن محمد بن إسحاق بالكوفة أنا محمد بن علي بن دحيم نا إبراهيم بن إسحاق نا قبيصة عن سفيان عن عمر بن سعيد أخبرني كثير بن تميم قال : كنت جالسا مع سعيد بن جبير فطلع علينا ابنه عبد الله فقال : إني لأعلم خير حالاته قالوا : و ما هو ؟ قال : أن يموت فأحتسبه

ہمیں خبر دی ابو القاسم عبدالواحد بن محمد بن اسحٰق نے کوفے میں ان کو محمد بن علی بن دحیم نے ان کو ابرہیم بن اسحٰق نے ان کو قبیصہ نے ان کو سفیان نے ان کو عمر بن سعید نے ا ن کو خبر دی کثیر بن تمیم نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ان کا بیٹا عبداللہ سامنے آگیا تو وہ کہے لگے بیشک میں ا س کے بہتر حالات کو جانتا ہوں لوگوں نے کہا کہ وہ کیا ہے ؟ فرمایا کہ یہ فوت ہو جائے اور میں اس پر اجر و ثواب کی توقع کروں۔

أن يموت فأحتسبه ← و ما هو ← إني لأعلم خير حالاته ← كنت جالسا مع سعيد بن جبير فطلع علينا ابنه عبد الله ← كثير بن تميم ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ← أبو القاسم عبد الواحد بن محمد بن إسحاق بالكوفة

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9767

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9768

9768 - حدثنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي أنا الحسن بن محمد الزعفراني نا سفيان عن حميد الأعرج قال : كنا جلوسا مع سعيد بن جبير فأقبل ابنه فقال سعيد : إني لأعلم خير خلة فيه أن يموت فأحتسبه

ہمیں حدیث بیان کی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو سفیان نے ان کو حمید اعرج نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت سعید بن جبیر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ان کا بیٹا سامنے آگیا سعید نے کہا بے شک میں اس کے بارے میں بہتر دوستی جانتا ہوں وہ یہ کہ یہ مر جائے اور میںا س پر ثواب ملنے کی امید کروں۔

كنا جلوسا مع سعيد بن جبير فأقبل ابنه ← حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9768

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9769

9769 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك نا حنبل بن إسحاق نا محمد بن داود قال : سمعت عيسى بن يونس يقول : ما لقيت سفيان الثوري قط إلا و أول ما يبتدىء به يقول : لا تعبأ بصاحب عيال فقل : ما رأيت صاحب عيال إلا خلط قال : و كان له بني تعيس يقول : يا أبا عمرو ليت الله قبضه فاسترحت فأقول : لله أبوك أوليس قد أخبرتني أن عندك مائتي دينار و ربما ربحت فيها قال : فقدمت قدمة من الغزو فأول ما ابتدأني به مات حبيبي و استرحت

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن بشران نے ان کو ابو عمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحٰق نے ان کو محمد بن داؤد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عیسیٰ بن یونس سے وہ کہتے ہیں کہ میں سفیان ثوری کو جب بھی ملنے گیا سب سے پہلی بات انہوں نے مجھ سے یہی کہی کہ کسی صاحب عیال کی پرواہ نہ کر میں نے کسی عیالدار کو نہیں دیکھا مگر پریشان تھا کہتے ہیں کہ ان کا ایک چھوٹا بیٹا تھا کھیلتا رہتا تھا وہ کہا کرتے تھے کہ اے ابو عمرو کاش کہ اللہ تعالیٰ اس کپو قبض کر لے ۔ اور مجھے آرام مل جائے میں نے کہا کہ اللہ نے آپ کو باپ بنایا ہے کیا آپ نے مجھے بتا یا نہیں تھا کہ آپ کے پاس دو سو دینار ہیں اور بسا اوقات اس میں منافع بھی ہوتا رہتا ہے کہنے لگے میں جہاد سے واپس آیا تھا تو پہلی چیز جس کے ساتھ میری ابتدا ہوئی تھی یہ تھی کہ میرا حبیب فوت ہو گیا تھا مجھے آرام مل گیا۔

ما لقيت سفيان الثوري قط إلا و أول ما يبتدىء به ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9769

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9770

9770 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا يعقوب بن إبراهيم العبدي نا إسماعيل بن إبراهيم عن منصور بن عبد الرحمن قال : كنت جالسا مع الحسن فقال لي رجل : سله عن قول الله عز و جل : { ما أصاب من مصيبة في الأرض و لا في أنفسكم إلا في كتاب من قبل أن نبرأها } فسألته عنها فقال : سبحان الله من يشك في هذا كل مصيبة بين السماء و الأرض ففي كتاب من قبل أن ( نبرأها ) النسمة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیان نے ان کو یعقوب بن ابراہیم عبدی نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم نے منصور بن عبدالرحمٰن سے وہ کہتے ہیں کہ میں حسن بصری کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ایک آدمی نے مجھ سے کہا کہ آپ ان سے اس فرمان الہٰی کے بارے میں پوچھیں: نہیں پہنچتی کوئی مصیبت نہ زمین میں اور نہ ہی خود تمہارے نفسوں میں مگر وہ اصل کتاب اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں۔ چنانچہ میں نے اس آیت کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا سبحان اللہ اس میں کون شک کرے گا ہر وہ مصیبت جو زمین و آسمان کے درمیان ہے وہ سب ضبط تحریر میں ہے اس سے قبل کہ ہم اس کو پیدا کرتے یعنی روح کو۔

قول الله عز و جل فسألته عنها ← لي رجل سله ← كُنْتُ جَالِسًا مَعَ الْحَسَنِ، ← مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9770

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9771

9771 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا عبيد الله بن موسى عن سفيان عن سماك عن عكرمة : عن ابن عباس في قوله : { لا تأسوا على ما فاتكم ولا تفرحوا بما آتاكم } قال : ليس أحدا إلا يفرح و يحزن و لكن إذا أصابته مصيبة جعلها صبرا و إن أصابه خير جعله شكرا

ہمیں خ بر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسن قاضی نے ان ودونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن حازم بن ابو غزرہ نے ان کو عبداللہ بن موسیٰ نے ان کو سفیان نے ان کو سماک بن حرب نے ان کو عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اللہ کے اس قول کے بارے میں: جو چیز تم سے رہ جائے اس پر رنج و غم نہ کرو اور جو چیزی تمہیں عطا کرے اس پر نہ اتراؤ۔ فرمایا کہ ہر شخص یا تو نہ ملنے پر رنج کرتا ہے یا ملنے پر اتراتا ہے لیکن جب اسے کوئی مصیبت پہنچے و اس پر صبر کرے اور اس کو جو چیز پہنچےتو اس پر شکر کرے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ و أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِى

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9771

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9772

9772 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا محمد بن عبيد الله المنادي نا محمد بن عبيد نا الأعمش ح و أخبرنا أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل نا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري نا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب أنا يعلى بن عبيد نا الأعمش عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد عن عبد الله قال : دخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو يوعك فوضعت يدي عليه فقلت : يا رسول الله إنك لتوعك وعكا شديدا فقال : إني أوعك كما يوعك رجلان منكم قال : قلت ذلك بأن لك أجرين قال : أجل و ما من مسلم يصيبه أذى من مرض فما سواه إلا حط الله عنه من سيئاته كما تحط الشجرة ورقها

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر زاز نے ان کو محمد بن عبید اللہ المنادی نے ان کو محمد بن عبید نے ان کو اعمش نے ح او ر ہمیں خبر دی اور ابو محمد حسن بن علی بن مؤمل نے ان کو ابو عثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ان کو ابو احمد محمد بن عبدالوہاب نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو اعمش ابراہیم تیمی نے ان کو حارث بن سوید نے ان کو عبداللہ وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوا اور آپ کو بخار ہو رہا تھا میں نے اپنا ہاتھ ان کے اوپر رکھا۔ اور میں نے کہا یا رسول اللہ آپ کو تو شدید بخار ہو رہا ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اتنا شدید بخار ہوتا ہے جیست تم لوگوں میں سے دو آدمیوں کو ہوتا ہے ۔ میں نے کہا یہ اس لئے ہے کہ آپ کا اجر بھی تو دہرار ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ جی ہاں یہی بات ہے جس مسلمان کو کوئی تکلیف بیماری وغیرہ پہنچے یا اس کے ما سوا کوئی اور تکلیف تو اس کے بدلے میں اس کے گناہ اللہ تعالیٰ جھاڑ دیتے ہیں جیسے درخت اپنے پتے جھاڑ دیتا ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ ← و، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمُنَادِي ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9772

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9773

9773 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في آخرين قالوا : أنا أبو العباس الأصم نا أحمد بن عبد الجبار نا أبو معاوية الضرير عن الأعمش : فذكره بإسناده و معناه و رواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة و غيره عن أبي معاوية و أخرجه البخاري من أوجه عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے آخری میں انہوں نے کہا کہ خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابو معاویہ ضریر نے اعمش سے اس نے اس کو ذکر کیا ہے اس کی اسناد اور اسی مفہوم کے ساتھ اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے ابو بکر بن ابو شیبہ وغیرہ سے اس نے ابو معاویہ سے ۔ اور بخاری نے اس کو نقل کی اہے اعمش سے کئی وجوہ سے ۔

الْاَعْمَشِ ← أبي معاوية و أخرجه البخاري من أوجه ← أبي بكر بن أبي شيبة و غيره ← الأعمش فذكره بإسناده و معناه و رواه مسلم ← أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9773

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9774

9774 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر القاضي قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا بحر بن نصر بن سابق الخولاني أخبرني ابن وهب أخبرني هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار : أن أبا سعيد الخدري دخل على رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو موعوك عليه قطيفة فوضع يده عليه فوجد حرارتها فوق القطيفة فقال أبو سعيد الخدري : ما أشد حر حماك يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنا كذلك يشدد علينا البلاء و يضاعف لنا الأجر فقال : يا رسول الله من أشد الناس بلاء ؟ قال : الأنبياء قال : ثم من ؟ قال : ثم الصالحون لقد كان أحدهم يبتلى بالفقر حتى ما يجد إلا العبادة يتحريها فيلبسها و يبتلى بالقمل حتى يقتله و لأحدهم كان أشد فرحا بالبلاء من أحدكم بالعطاء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحاق اور ابو بکر قاضی نے ان کو خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحر بن نصر بن سابق خولانی نے ان کو خبر دین ابن وہیب نے ان کو خبر دی ہشام بن سعید نے زید بن اسلم سے اس نے عطا بن یسار سے یہ کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو حضور ﷺ کو شدید بخار تھا آپ نے کوئی کپڑا اوڑھ رکھا تھا ابو سعید نےاس کے اوپر ہاتھ رکھ دیا اس نے بخار کی تپش کپڑے کے اوپر محسوس کی تو ابو سعید خدری نے عرض کی یا رسول اللہ کتنا شدید بخار ہے آپ کو آپ کے بخار کی گرمی کتنی شدید ہے ہم لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں ہمارے اوپر تکلیف اور آزمائش سخت کر دی جاتی ہے ۔ اور ہمارے لئے اجر بھی آپ کے بخار کی گرمی کتنی شدید ہے ۔ ہم لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں ہمارے اوپر تکلیف اور آزمائش سخت کر دی جاتی ہے ۔ اور ہمارے لئیے اجر بھی دہرا کر دیا جاتا ہے ۔ ابو سعید نے پوچھا یا رسول اللہ سب سے زیادہ لوگوں میں مصیبت کس کیزیادہ سخت ہوتی ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ انبیاء کی تکلیف زیادہ سخت ہوتی ہے انہوں نے پوچھا کہان کے بعد پھر کس تکلیف زیادہ ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نیک لوگوں کی البتہ ہوتا تھا ایک شیخ ان میں سے فقر میں مبتلا کیا جاتا اور فقر کے ساتھ آزمایا جاتا یہاں تک کہ نہ پاتا سوائے ایک قمیص کے اس کو ڈھونڈتا اور پہن لیتا اور آزمایا جاتا چچڑوں کے ساتھ یہاں تک ک ہ وہ اس کو ماردیتیں اور البتہ ایک انسان ان میں سے آزمائش کے ساتھ اس سے زیادہ خوش ہوتا جتنا کہ تم میں سے کوئی آدمی انعام کے ساتھ خو ش ہوتا ہے ۔

عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر القاضي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9774

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9775

9775 - حدثنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة و هشام و حماد بن سلمة ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الحسين بن تميم القنطري نا جعفر بن محمد بن شاكر نا عفان نا حماد بن سلمة و حماد بن زيد و أبان العطار كلهم عن عن عاصم بن بهدلة عن مصعب بن سعد عن أبيه قال : قلت يا رسول الله أي الناس أشد بلاء ؟ قال : الأنبياء ثم الأمثل فالأمثل حتى يبتلى الرجل على قدر دينه فإن كان صلب الدين اشتد بلاؤه و إن كان في دينه رقة ابتلي على حسب ذلك أو قدر ذلك فما يبرح البلاء بالعبد حتى يمشي على الأرض و ما عليه خطيئة لفظ حديث ابن فورك و في رواية أبي عبد الله يبتلي العبد على حسب ذلك فما يزال البلاء بالعبد حتى يدعه يمشي على الأرض ما عليه خطيئة

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے اور ہشام اور حماد بن سلمہ نے ح اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسین بن تمیم قطری نے ان کو جعفر بن محمد بن شاکر ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے اور حماد بن زید نے اور ابان عطار نے ان سب نے عاصم بن بہدلہ سے اس نے مصعب بن سعد سے اس نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ آزمائش سب سے زیادہ سخت کس کی ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ انبیاء کی اس کے بعد درجہ بدرجہ جس کو انبیاء کے ساتھ زیادہ عملی مناسبت ہو۔ یہاں تک کہ آدمی آزمایا جاتا ہے ۔ اپنے دین کے اندازے کے مطابق اگر وہ دین میں سخت ہے تو اس کی آزمائش بھی سخت ہو جاتی ہے ۔ اور اگر وہ دین کے اعتبادر سے ذرا نرم ہوتو وہ اسی کے مطابق آزمایا جاتا ہے ۔ یا اس انداز کے مطابق فرمایا تھا۔ آزمائش بندے سے جدا نہیں ہوتی یا نہیں ٹلتی یہاں تک کہ وہ دھرتی پر چل پھر رہا ہوتا ہے کوئی گناہ باقی نہیں رہتا ۔ یہ ابن فورک کی روایت کے الفاظ ہیں۔ اور ابو عبداللہ کی ایک روایت کے مطابق بندہ اسی کے مطابق آزمایا جاتا ہے ہمیشہ آزمائش بندے کے ساتھ رہتی ہے یہاں تک کہ ا کو اس طرح کر کے چھوڑتی ہے کہ وہ زمین پر چلتا ہے مگر اس پر کوئی گناہ باقی نہیں ہوتا۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حماد بن سلمة و حماد بن زيد و أبان العطار كلهم ← عَفَّانُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أبو الحسين بن تميم القنطري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← شعبة و هشام و حماد بن سلمة ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9775

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9776

9776 - أخبرنا أبو الفتح هلال بن محمد بن جعفر الحفار ببغداد أنا الحسين بن يحيى بن عياش القطان نا أبو الأشعث نا خالد بن الحارث عن شعبة أخبرني حصين قال : سمعت أبا عبيدة يحدث عن عمته فاطمة أنها قالت : أتينا رسول الله صلى الله عليه و سلم في نساء نعوده فإذا سقاء يقطر عليه من شدة ما يجده من الحمى فقلت : يا رسول الله لو دعوت الله أن يكشف عنك فقال : إن أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم

ہمیں خبر دی ابو الفتح ہلال میں بن محمد بن جعفر حفار نے بغداد میں ان کو حسین بن یحییٰ بن یحییٰ بن عیاش قطان نے ان کو ابو الاشعث نے ان کو خالد بن حارث نے ان کو شعبہ نےا کو خبر دی حصین نے وہ کہتے ہیں کہ میں نےسنا ابو عبیدہ سے وہ حدیث بیان کرتے تھے اپنی پھوپھی فاطمہ سے کہ وہ فرماتی ہیں ہم لوگ حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوئے عورتیں کی ایک جماعت میں ۔ حضور ﷺ کی مزاج پر سی کرنے کے لئے ہم نے دیکھا کہ بخار کی شدت کی وجہ سے جو آپ کو تکلیف ہو رہی تھی اس کو کم کرنے کے لئے پانی کی مشک سے آپ کے اوپر پانی کے قطرے گرائے جا رہے ہیں۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ اگر آپ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ لیتے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی یہ تکلیف آپ سے دور کر دیتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا آزمائش کے اعتبار سے سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء علیہم السلام کی ہوتی ہے اس کے بعد ان لوگوں کی جو ان کے قریب تر ہوتے ہیں۔ پھر ان لوگوں کی جو ان لوگوں کے قریب تر ہوتے ہیں۔

عمته فاطمة أنها ← أَبَا عُبَيْدَةَ، ← حُصَيْنٍ ← شُعْبَةُ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← أَبُو الْأَشْعَثِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9776

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9777

9777 - و أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا محمد بن كثير نا سليمان بن كثير عن حصين عن أبي عبيدة بن حذيفة عن عمته : أنها دخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم و قد حم فأمر بسقاء فعلق على شجرة ثم اضطجع تحته فجعل يقطر على فؤاده فقلت : ادع الله ليكشف عنك قال : إن أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الذين يلونهم

ہمین خبر دی ابو ا لحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سلیمان بن کثیر نے حصین بن ابی عبیدہ بن حذیفہ سے ان کو پھوپھی نے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی جب کہ آپ کو بخار آچکا تھا آپ ﷺ نے حکم دیا کہ درخت پر پانی کی مشک لٹکا دی جائے پھر آپ اس کے نیچے لیٹ گئے اور مشک سے آپ کے دل کے مقام پر قطرے گرنے لگے میں نے کہا آپ اللہ سے دعا کر لیتے تاکہ آپ کی تلیف دور کر دیتا حضور ﷺ نے فرمایا بے شک سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے اس کے بعد پھر ان لوگوں کی جوان کے قریب تر ہوتے ہیں۔

أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ ← حُصَيْنٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9777

chevron_left Previous
1…282930…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood