شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9766
9766 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصغاني نا عمرو بن طارق أنا السري عن ابن شوذب : أن رجلا كان له ابن لم يبلغ الحلم فأرسل إلى قومه فقال : إن لي إليكم حاجة أن تفعلوها قالوا : نعم قال : إني أريد أن أدعو على ابن هذا أن يقبضه الله إليه و تؤمنون على دعائي فسألوه عن ذلك فأخبرهم أنه رأى في نومه كأن الناس جمعوا ليوم القيامة فأصاب الناس عطش شديد فإذا الولدان قد خرجوا من الجنة معهم الأباريق فأبصرت ابن أخ لي فقلت : يا فلان اسقني فقال : يا عم إنا لا نسقي إلا الآباء قال الرجل : فأحببت أن يجعل الله ولدي هذا فرطا لي فدعا و أمنوا فلم يلبث الغلام إلا يسيرا حتى مات
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو عمرو بن طارق نے ان کو سری نے ان کو ابن شوذب نے کہ ایک آدمی کا بیٹا تھا وہ ابھی بلوغت کو نہیں پہچا تھا ا س نے اپنی قوم کو بلایا او رکہنے لگا کہ مجھے آپ سب لوگوں سے ایک ضروری کام ہے اگر آپ لوگ کر دو گے تو بہت ہی مہر بانی ہو گی لوگوں نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم کریں گے اس شخص نے کہا میں دعا کروںگا اللہ تعالیٰ سے کہ وہ اس کو قبض کر لے یعنی اس کو موت دے دے اور اپنے پاس بلا لے اور آپ سب لوگ میری اس دعا پر آمین کہنا لوگوں نے اس شخص سے پوچھا کہ وہ کیوں ایسے کر رہا ہے ؟ اس نے ان کو بتلایا کہ میں خواب میں دیکھا ہے کہ قیامت قائم ہو گئی ہے اور لوگ میدان محشر میں جمع ہیں اور سخت پیاس لگی ہوئی ہے اچانک میں نے دیکھا کہ کچھ بچے جنت میں سے باہر آرہے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں پانی کے کوزے بھرے ہوئے ہیں مین نے دیکھا کہ ان میں ایک میرے بھائی کا بیٹا بھی ہے میں نےا سکو آواز دی اے فلاں نے مجھے بھی پانی پلا دے وہ کہتا ہے اے چچا جان ہم لوگ اپنے اپنے والد کے سوا کسی کو نہیں پلاتے اس آدمی نے کہا کہ جب سے مجھے اشتیاق ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس بیٹے کو بھی میرے لئے آخرت کے لئے آگے کا ساما ن بنا کر بھیج دے انہوں نے دعا کی اور سب لوگوں نے آمین کہی وہ لڑکا تھوڑی دیر ہی زندہ رہا پھر اس کا انتقال ہو گیا۔
ابْنِ شَوْذَبٍ ← السَّرِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ طَارِقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9766
