Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9754

9754 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن عبيد الله المنادي نا يونس بن محمد نا خالد بن ميسرة أبو حاتم البصري و كان ينزل بمكة عن معاوية بن قرة عن أبيه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا جلس تحلق إليه نفر من أصحابه و فيهم رجل له بني صغير يأتيه من خلف ظهره ففقده بين يديه إلى أن ظعن في جنازة ذلك الصبي قال : فامتنع الرجل من الحلقة لم يحضرها يذكر بنيه حزنا عليه قال : و فقده النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ما بالي لا أرى فلانا ؟ قالوا : يا نبي الله هلك الذي رأيته فمنعه الحزن عليه و الذكر له أن يحضر الحلقة فلقيه نبي الله صلى الله عليه و سلم فسأله عن بنيه فأخبره أنه هلك قال : فعزاه النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا فلان أيما كان أحب إليك أن تمتع به عمرك أو لا تأتي غدا بابا من أبواب الجنة إلا وجدته قد سبقك إليه يفتحه لك قال : يا نبي الله لا بل يسبقني إلى أبواب الجنة أحب إلي قال : فذاك لك فقام رجل من الأنصار فقال : يا نبي الله أهذا لهذا خاصة أم من هلك له طفل من المسلمين كان ذاك له قال : بل من هلك له طفل من المسلمين كان ذلك له

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبداللہ المنادی نے ان کو یونس بن محمد نے ان کو خالد بن میسرہ نے ان کو ابو حاتم بصری نے اور وہ مکے میں آیا کرتے تھے وہ روایت کرتے ہیں معاویہ بن قرہ سے وہ اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ جب بیٹھتے تھے تو صحابہ کرام آپ کے گر دحلقہ بنا لیتے تھے ان میں ایک آدمی تھا جس کے ساتھ اسکا چھوٹا بیٹا تھا جو اس کے پیچھے آجاتا تھا۔ وہ بچہ فوت ہو گیا اور وہ آدمی حلقہ رسول سے غیر حاضر رہنے لگا۔ اور اپنے بیٹے کی یاد میں غمگین رہنے لگا حضور ﷺ نے اسے غیر حاضر پایا تو پوچھا کیا بات ہے وہ آج کل نظر کیوں نہیں آتا ۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہﷺ اس کا بیٹا فوت ہو گیا ہے اسی کو یاد کرتا رہتا ہے اسی کے غم کی وجہ سے نہیں آتا حضور ﷺ خود جا کر اس سے ملے اور اس کی تعزیت کی اور فمایا اے فلانے دو باتوں میں سے کوئی بات آپ کو زیادہ پسند ہے یہ کہ تو عمر بھر اس کے ساتھ فائدہ اٹھائیے یا یہ بات کہ کل آپ جب جنت کے دروازے پر آئیں تو جس دروازے پر جائیں آپ دیکھیں کہ وہ آپ سے پہلے وہاں موجود ہو اور آپ کے لئے وہ دروازہ کھولے اس نے کہا کہ بلکہ یہی پسند ہے کہ وہ مجھ سے پہلے جنت کے دروازے پر ہو حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہی بات ہے تیرے لئے چنانچہ انصار میں سےا یک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی کیا یہ بات صرف اسی شخص کے لئے ہے یا سب کے لئے مسلمانوں میں سے جس کے بھی بچے فوت ہو جائیں فرمایا کہ یہ اس کے لئے تو ہے ہی اور مسلمانوں میں سے ہر وہ شخص جس کے بچے ہلاک ہو جائیں اس کے لئے بھی ہے ۔

أَبِيهِ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← خالد بن ميسرة أبو حاتم البصري و كان ينزل ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمُنَادِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9754

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9755

9755 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد نا أحمد بن علي بن إسماعيل نا داود بن رشيد نا الوليد بن مسلم عن عبد الله بن العلاء و ابن جابر قالا : نا أبو سلام و حدثنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو علي الحسن بن يحيى الكرماني بمكة نا محمد بن عبد الله بن سليمان الحضرمي نا داود بن رشيد نا الوليد بن مسلم عن عبد الله بن العلاء أنا أبو سلام الأسود نا أبو سلمى راعي رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : بخ بخ خمس ما أثقلهن في الميزان لا إله إلا الله و سبحان الله و الحمد لله و الله اكبر و الولد الصالح يتوفى للمرء المسلم فيحتسبه و في رواية ابن عبدان خمس من أثقلهن في الميزان

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد ب عبید نے ان کو احمد بن علی بن اسماعیل نے ان کو داؤد بن رشید نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو عبداللہ بن علاء نے اور ابن جابر نے دونوں نے کہا ان کو ابو سلام نے اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو علی حسن بن یحییٰ کرمانی نے مکہ مکرمہ میں ان کو محمد بن عبداللہ بن سلیمان حضرمی نے ان کو داؤد بن رشید نے ان کو ولید بن سلیمان حضرمی نے ان کو داؤد بن رشید نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو عبداللہ بن علاء نے ان کو ابو اسلام اسود نے ان کو ابو سلمی نے جو کہ رسول اللہﷺ کی طرف چرواہے تھے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہﷺ فرماتے تھے رک رک پانچ چیزں ہیں کس قدر ہی وہ ترازو میں بھاری ہیں۔ اور نیک صالح بیٹا کسی مسلمان مرد کا جو وفات پا جائے اور وہ اس پر ثواب کی نیت رکھے ۔ اور ابن عبدان کی ایک روایت میں ہے کہ کس نے انکو ترازوں میں اس قدر بھاری بنا دیا ہے ۔ مراد ہے کہ خود وزنی ہیں ترازوئے اعمال میں۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أبو سلمى راعي رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبُو سَلَّامٍ الْأَسْوَدُ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلاَءِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ ← أبو علي الحسن بن يحيى الكرماني بمكة ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← أبو سلام و ← عبد الله بن العلاء و ابن جابر ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← أحمد بن علي بن إسماعيل ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9755

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9756

9756 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران انا أبو جعفر الرزاز نا أحمد بن عبد الجبار نا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن الحارث بن سويد عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما تعدون الرقوب فيكم ؟ قالوا : الرقوب الذي لا يولد له قال : لا و لكن الرقوب الذي لا يقدم من ولده شيئا أخرجه مسلم من حديث أبي معاوية

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو ابو معاویہ نے اعمش سے ان کو ابراہیم نے حارث بن سوید سے اس نے عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم لوگ اپنے تین رقوب کس کو شمار کرتے ہو ؟ لوگوں نے کہا کہ رقوب وہ ہے جس کے بچے نہ ہوتے ہوں۔ حضؤر ﷺ نے فرمایا کہ نہیں رقوب وہ ہے جس کے بچے آگے نہ گئے ہوں بالکل اس کو مسلم نے نقل کیا ہے حدیث ابو معاویہ سے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9756

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9757

9757 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو طاهر الفقيه و محمد بن موسى قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن عبد الله القصار الكوفي أنا جعفر بن محمد عن بشير بن مهاجر عن عبد الله بن بريدة عن أبيه قال : كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم إذ بلغه وفاة ابن امرأة من الأنصار فقام و قمنا معه فلما رآها قال : ما هذا الجزع قالت : يا رسول الله و ما لي لا أجزع و أنا رقوب لا يعيش لي ولد فقال لها النبي صلى الله عليه و سلم : إنما الرقوب الذي يعيش ولدها أما تحبين أن تريه على باب الجنة و هو يدعوك إلينا ؟ قالت : بلى قال : فإنه كذلك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو طاہر فقیہ نے اور محمد بن موسیٰ نے انہوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بنعبداللہ قصار کوفی نے ان کو جعفر بن محمد نے ان کو بشر بن مہاجر نے ان کو عبداللہ بنبریدہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک ان کو انصار کی ایک عورت کے بیٹے کیوفات کی خبر پہنچی حضور ﷺ اتھ کھڑے ہوئے ہم لوگ بھی کھڑے ہو گئے حضور ﷺ نے جاکر دیکھا تو وہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ ک یسا واد یلا اور بے صبر ی ہے وہ بولی یا رسول اللہ میں کیسے بے صبر ی نہ کروں حالانکہ میں رقوب ہوں میرے بچے مر جاتے ہیں زندہ نہیں رہتے حضور ﷺ نے اس کو فرمایا کہ رقوب تو وہ ہیں جن کے بچے زندہ رہتے ہیں کیا آپ یہ پسند کرتیں کہ آپ اپنے بیٹے کو اس حالت میں دیکھو کہ وہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہو اور بلا رہا ہو آپ کو کہ ہمارے پاس آجاؤ؟ عورت نے کہاجی ہاں یہ تو پسند ہے آپﷺ نے فرمایا بے شک وہ اسی طرح ہے ۔

ما هذا الجزع ← فاة ابن امرأة من الأنصار فقام و قمنا معه فلما رآها ← كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم إذ بلغه ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← إبراهيم بن عبد الله القصار الكوفي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو طاهر الفقيه و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9757

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9758

9758 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا الكارزي أنا علي بن عبد العزيز عن أبي عبيد : في حديث النبي صلى الله عليه و سلم و سأله رجل فقال : يا رسول الله ما لي من ولد قال : ما قدمت منهم ؟ قال : فمن خلفت بعدي قال : لك منهم ما لمضر من ولده

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سمی نے ان کو کارزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابو عبید نے نبی کریم ﷺ کی حدیث میں جب کہ ان سے ایک آدمی نے پوچھا تھا یا رسول اللہ میرے بیٹے میں سے میرے لئے کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ ان میں سے کیا کچھ آپ نے آگے بھیجا ہے ؟ اس شخص نے کہا کہ میرے بعد میرے پیچھے کیا رہے گا؟ آپ نے فرمایا تیرے لئے ان میں سے وہ کچھ ہے جو مضر کے لئے اس کی اولاد میں سے ہے ۔

عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← الْكَارِزِيُّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9758

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9759

9759 - قال أبو عبيد نا ابن علية عن ليث بن أبي سليم عن سعيد عن حميد بن عبد الرحمن الحميري : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال و قال حميد : لأن أقدم سقطا أحب إلي من مائة مستليم قال أبو عبيد قوله : لك منهم ما لمضر من ولده يقول : إن مضر ليس يؤجر فيمن مات من ولده و قوله : مائة مستليم يعني أنه قد لبس لامته يعني الدرع

ابو عبید نے کہا کہ ہمیں ابن علیہ نے خبر دی بن ابو سلیم سے اس نے سعید سے اس نے حمید بن عبدالرحمٰن حمیری سے اس نے نبی کریم ﷺ سے کہ آپ نے فرمایا اور حمید نے کہا کہ البتہ اگر میں ایک نا مکمل بچہ آگے بھیجوں یعنی کچا حمل ساقط ہو جائے تو وہ مجھے زیادہ محبوب ہے ایک سو صحیح سالم بچنے والوں سے زرہ پوشوں سے اور ابو عبید نے یہ بھی کہا کہ تیرے لئے ان میں سے وہی کچھ ہے جو مضر کے لئے ہے ان کی اولاد میں سے یا بیٹوں میں سے کہتے ہیں کہ بےچک مضر نہیں اجر دئیے جاتے ان میں سے جو مر چکے ان کے بیٹوں میں سے اور حمید کا یہ قول کہ ۔ یعنی بے شک شان یہ ہے کہ تحقیق اس نے اپنی زرہ بہنی ہے ۔

أبو عبيد قوله لك منهم ما لمضر من ولده ← حميد لأن أقدم سقطا أحب إلي من مائة مستليم ← و، ← النبي صلى الله عليه و سلم ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ← سَعِيدٌ، ← ليث بن أبي سليم ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبُو عُبَيْدٍ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9759

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9760

9760 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في آخرين قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن هشام بن ملاس النميري نا مروان بن معاوية الفزاري نا حميد عن أنس قال : أصيب حارثة يوم بدر فجاءت أمه فقالت : يا رسول الله قد علمت منزل حارثة مني فإن يك في الجنة صبرت و إن يك غير ذلك ترى ما أصنع فقال : جنة واحدة إنها جنان كثيرة و إنه في الفردوس الأعلى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے آخرین میں کہ انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن ہشام بن ملاس نمیری نے ان کو خبر دیمروان بن معاویہ خزاری نے ان کو حمید نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ جنگ بدر میں حادثہ شہید ہو گئے تھے چنانچہ ان کی والدہ آئی اور عرض کرنے لگی یا رسول اللہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرے دل میں حارثہ کی کتنی محبت ہے اگروہ جنت میں ہے تو میں صبر کر لیتی ہوں اور اگر کوئی دوسری بات ہے تو پھر آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں؟ حضور ﷺ نے فرمایا کیا سمجھتی ہو کہ جنت ایک ہی ہے نہیں بلکہ جنتیںبہت ساری ہیں اور حارثہ تو فردوس اعلیٰ میں ہے ۔

أصيب حارثة يوم بدر فجاءت أمه فقالت ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ← محمد بن هشام بن ملاس النميري ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ فِي آخَرِينَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9760

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9761

9761 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو العباس محمد بن إسحاق الضبعي نا الحسن بن علي بن زياد السري نا ابن أبي أويس نا عبد الله بن وهب عن ثوابة بن مسعود عمن حدثه عن أنس بن مالك أنه قال : توفي ابن لعثمان بن مظعون فاشتد حزنه عليه حتى اتخذ في داره مسجدا يتعبد فيه فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا عثمان إن الله عز و جل لم يكتب علينا الرهبانية إنما رهبانية أمتي الجهاد في سبيل الله يا عثمان بن مظعون إن للجنة ثمانية أبواب و للنار سبعة أبواب فما يسرك أن لا تأتي بابا منها إلا و قد وجدت ابنك إلى جنبك آخذا بحجزتك يستشفع لك إلى ربك عز و جل قال : بلى قيل : يا رسول الله و لنا في فرطنا ما لعثمان ؟ قال : نعم لمن صبر منكم و احتسب ثم قال له : يا عثمان بن مظعون من صلى صلاة الفجر في جماعة ثم جلس يذكر الله حتى مطلع الشمس كان له في الفردوس سبعون درجة بين كل درجتين كركض الفرس الجواد المضمر سبعون سنة و من صلى الظهر في جماعة كان له في جنات عدن خمسون درجة بين كل درجتين كركض الفرس الجواد المضمر خمسين سنة و من صلى صلاة العصر في جماعة كان له كأجر ثمانية من ولد إسماعيل كلهم رب بيت أعتقهم و من صلى المغرب في جماعة كان كحجة مبرورة و عمرة متقبلة و من صلى العشاء في جماعة كان له كقيام ليلة القدر

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو العباس محمد بن اسحٰق ضبعی نے ان کو حسن بن علی بن زیاد سری نے ان کو ابن ابو اوس نے ان کو عبداللہ بن وہب نے اس کے ثواب کے بارے میں ابن مسعود سے انہوں نے اس سے جس نے ان کو حدیث بیان کی تھی انس بن مالک سے کہ انہوں نے کہا کہ حضرت عثمان بن مظعون کا بیٹا فوت ہو گیا تھا چنانچہ اس کا غم ان پر بہت شدید ہو گیا تھا یہاں تک کہ انہوں ن ے اپنے گھر میں مسجد مقرر کر لی اور اسی میں عبادت کرنے لگے حضور ﷺ کو اس بات کی خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا اے عثمان اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں پر رہبانیت کی اجازت نہیں دی۔ یا ہمارے اوپر رہبانیت فرض نہیں کی ۔ بلکہ میری امت کی رہبانیت جہاد فی سبیل اللہ ہے اے عثمان بن مظعون بے شک جنت کے آٹھ دروازے ہیں جب کہ جہنم کے ساتھ دروازے ہیں کیا تمہیں یہ بات خوش نہیں کرے گی؟ کہ جنت کے جس دروازے پر آئیں آپ وہاں ہی اپنے اس بیتے پا لیں کہ وہ آپ کے پہلو میں آکر کھڑا ہو اور اپنی کمر میں ہاتھ ڈالے ہوئے ہو اور آپ کے لئے آپ کے رب سفارش کر رہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں؟ چنانچہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ کیا ہمارے لئے بھی وہی اجر ہے ہمارے مرنے والے بیٹوں میں جو عثمان کے لئے ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا بے شک ہے اس کے لئے جو تم میں سے صبر کرے اور طلب ثواب کی نیت کرے گا۔ پھر حضور ﷺ نے اس کو فرمایا۔ اے عثمان بن مظعون جو شخص فجر کی نماز با جماعت ادا کرے اس کے بعد بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے ا کے لئے جنت الفردوس میں ستر درجے ہوں گے دونوں درجوں کے درمیان مسافت اتنی طویل ہو گی جس کو طے کرنے کے لئے خالص اور مشاق گھوڑا ستر سال دوڑتا رہے اور جو شخص ظہر ک ی نماز باجماعت ادا کرے ۔اس کے لئے جنت عدن میں پچاس درھے ہوں گے جن کے دو درجوں کے درمیانی مسافت اتنی ہو گی جس کے طے کرنے کے لئے اسماٹ خالص گھوڑ ا پچاس سال تک دوڑتا رہے ۔ اور جو شخص عصر کی نماز با جماعت ادا کرے اس کا اجر ایسے ہو گا جیسے کوئی شخص اولاد اسماعیل علیہ السلام کے آٹھ افراد کو آزاد کر دے جن میں ہر ایک نے بیت اللہ آباد کیا ہو ۔ اور جس نے مغرب کی نماز با جماعت ادا ک اس کی مثال ایسی ہو گی جیسے کیس نے حج مقبول اور عمرہ مقبول کیا ہو۔ اور جس نے عشاء کی نماز با جماعت ادا کی اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے لیلتہ القدر کی عبادت کر لی ہو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثوَابة بْنِ مَسْعُودٍ، عَمَّنْ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ السَّرِيُّ ← أبو العباس محمد بن إسحاق الضبعي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9761

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9762

9762 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التاريخ أنا أبو الطيب محمد بن عبد الله بن المبارك نا عمرو بن هشام نا عبد الله بن الجراح القهستاني نا عبد الخالق بن إبراهيم بن طهمان عن أبيه عن بكر بن خنيس عن ضرار بن عمرو عن ثابت البناني عن أنس بن مالك قال : توفي ابن لعثمان بن مظعون فحزن عليه حزنا شديدا و اتخذ في داره مصلى يتعبد فيه و غاب عن النبي صلى الله عليه و سلم خمس عشرة ليلة فسأل عنه النبي فأخبروه أنه مات له ابن و أنه حزن عليه حزنا شديدا و أنه اتخذ في داره مصلى يتعبد فيه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ادعه لي و بشره بالجنة فلما أتاه قال له : يا عثمان بن مظعون أما ترضى أن للجنة ثمانية أبواب و للنار سبعة أبواب لا تنتهي إلى باب من أبواب الجنة إلا وجدت ابنك قائما عنده آخذا بحجزتك يشفع لك عند ربك ؟ قال : بلى يا رسول الله قال أصحاب محمد : و لنا في أبنائنا مثل ذلك ؟ قال : نعم و لكل من احتسب من أمتي ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا عثمان هل تدري ما رهبانية الإسلام ؟ الجهاد في سبيل الله يا عثمان من صلى صلاة الغداة في الجماعة ثم ذكر الله حتى تطلع الشمس كانت له كحجة مبرورة و عمرة متقبلة و من صلى صلاة الظهر في جماعة كانت له بخمس و عشرين صلاة كلها مثلها و سبعين درجة في الفردوس و من صلى صلاة العصر في جماعة ثم ذكر الله حتى تغرب الشمس كانت له كعتق ثمانية من ولد إسماعيل دية كل واحد منهم اثنا عشر ألفا و من صلى صلاة المغرب في جماعة كانت له خمس و عشرون صلاة كلها مثلها و سبعين درجة في جنة عدن و من صلى صلاة العشاء في جماعة كانت له كأجر ليلة القدر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے تاریخ میں ان کو ابو الطیب محمد بن عبداللہ بن مبارک نے ان کو عمرو بن ہشام نے ان کو عبداللہ بن جراح قہستانی نے ان کو عبدالخالق بن ابراہیم بن طہمان نے ان کو ان کے والد نے ان کو بکر بن خنیس نے ضرار بن عمرو سے اس نے ثابت بنانی سے اس نے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان بن مظعون کا بیٹا فوت ہو گیا تھا وہ اس پر شدید غمگین تھے جس کی وجہ سے انہوں ے اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی ایک جگہ ٹھہرا لی تھی جہاں وہ عبادت کر لیتے تھی۔ حضور ﷺ نے نمائندہ بھیجا کہ اس کو میرے پاس بلا لاؤ اور اس کو جنت کی خوشخبری بھی دے دو۔ عثمان بن مظعون جب حضؤر ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ نے اس کو فرمایا اے عثمان بن مظعون کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں؟ کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور جہنم کے ساتھ دروازے ہیں آپ جنت کے جس دروازے پر جائیں گے وہاں آپ یہ پائیں گے کہ آپ کا بیٹا وہاں کھڑا ہو گا جو آپ کی کمر میں با نہیں ڈالتے ہوئے تیرے لئے تیرے رب کے آگے شفاعت کرے گا؟عثمان نے کہا کہ کیوں نہیں میں تو خواہش کرتا ہوں یا رسول اللہ۔ چنانچہ اصحاب محمد ﷺ نے عرض کی یا رسول اللہ کی اہمارے لئے بھی ہمارے مرحوم بیٹوں میں یہی اجر ہو گا حضور ﷺ نے فرمایا کہ بالکل ہو گا ہر اس شخص کے لئے جو ثواب کی نیت کرے گا میری امت میں سے اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عثمان کیا تم جانتے ہو کہ اسلام میں رہبانیت کیا ہے ؟ وہ جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔ اے عثمان جو شخص جماعت کے ساتھ صبح کی نماز ادا کرے اس کے بعد اللہ کا ذکر کرتا رہے یہاں تک کہ سورط طلوع ہو جائے اس کو ایک حج مقبول اور عمرہ مقبول کا اجر ملے گا اور جس نے ظہر کی نماز با جماعت ادا کی اس کے لئے بچیس نمازوں کا اجر ہو گا ہر ایک ان میں سے اسکی مثال ستر درجے ہوں گے جنت الفردوس میں۔ اور جس نے عصر کی نماز با جماعت ادا کی اس کے بعد وہ ذکر اللہ کرتا رہا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ۔ اس کے لئے اولاد اسماعیل میں سے آٹھ آدمیوں کو آزاد کرنے کے برابر اجر ملے گا ایسے آٹھ افراد جن کی دیت اور خون بہایا ہزار ہو اور جس نے مغرب کی نماز باجماعت ادا کی اس کی پچیس نمازوں کا ثواب ہو گا اور ستر درجے جنت عدن میں ہوں گے اور جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی اس کے لئے شب قدر کی عبادت کے برابر ثواب ہو گا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← ضرار بن عمرو ← بكر بن خنيس ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ الْقُهِسْتَانِيُّ ← عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9762

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9763

9763 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا العباس الدوري نا إسحاق بن منصور السلولي نا مندل عن الحسن بن الحكم عن أسماء بنت عابس بن ربيعة عن أبيها عن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن السقط يراغم ربه يوم القيامة أن يدخل والده النار فيقال : أيها السقط المراغم ربه إني قد أدخلت والديك الجنة فيجرهما بسرره فيدخلهما الجنة قوله : يراغم ربه يغاضبه و في معناه ما رواه أبو عبيد مرسلا في السقط يظل محتبطئا على باب الجنة يقيرهم يعني متغضبا مستبطئا و قيل : المحتبطىء هو كالغلام المدل على أبويه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو عباس دوری نے ان کو اسحٰق بن منسور سلولی نے ان کو مندل نے ان کو حسن بن حکم نے ان کو اسماء بنت عابس بن ربیعہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو علی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ساقط ہو جانے والا کل قیامتکے دن اپنے رب کے ساتھ حجت کرے گا کہ اس کے والد کو جہنم میں داخل نہ جکرے اس سے کہا جائے گا اے ساقط ہو جانے والے اپنے رب کے ساتھ جھگڑنے والے بے شک میں تیرے والدین کو جنت میں داخل کرنے کا فیصلہ کر دیا ہے وہ ان دونوں کو دامن سے کھینچ کر لے جائے گااور جنت میں داخل کرے گا۔ آپ کا یہ قول کرنا کہ اور اسی مفہوم میں وہ روایت جس کو ابو عبید نے بطور مرسل روایت ساقط ہونے والے حمل کی بابت روایت کیا ہے وہ جنت کے دروازے پر سب کو روک دینے والا ثابت ہو گا ناراض ہو کر سب کو تاخیر کرائے گا اور جنت میں نہیں جانے دے گا اور کہا کیا ہے محتبطی سے مراد ہے اس لرکے کی مثل ہے جو اپنے والدین کے دامن سے لپٹ جاتا ہے ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهَا ← أسماء بنت عابس بن ربيعة ← الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ ← مِنْدَلٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ ← الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9763

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9764

9764 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا هشام عن قتادة عن راشد عن عبادة بن الصامت : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : النفساء يجرها ولدها يوم القيامة بسرره إلى الجنة

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ہشام نے ان کو قتادہ نے راشد سے اس نے عبادہ بن صامت سے یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وضع حمل کرنےو الیوں کو قیامت کےدن ان کا بچہ ان کے دامن سے کھینچ کر جنت میں لےجائے گا۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← رَاشِدٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9764

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9765

9765 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصغاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن زيد بن أسلم قال : مات ابن لداود صلوات الله عليه و سلم فجزع عليه جزعا شديدا فقيل له : ما كان يعدل عندك ؟ قال : كان أحب إلي من ملء الأرض ذهبا قال : قيل له : إن لك من الأجر على قدر ذلك أو قال : على حسب ذلك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زید بن اسلم نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت داؤد علہ السلام کا ایک بیٹا فوت ہو گیا تھا۔ انہوں نے اس پر بہت زیادہ بے صبری کا مظاہر کیا اور پریشان ہوئے ان سے کہا گیا کہ تیرے نزدیک کیا چیز اس کا بدلہ یا اس کے برابر ہو سکتی ہے ؟ انہوں نے کہا وہ مجھے اس بات سے کہی زیادہ محبوب تھے کہ میرے پاس ساری روئے زمین سونےسے بھر دی جائے فرمایا کہ ان سے کہا گیا ہم صدمے پر تجھے اسی طرح روئے زمین بھر سونے کئ دینے کےبرابر اجر عطا کرتے ہیں یا فرمایا تھا کہ اسی کے مطابق۔

زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله الصغاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9765

chevron_left Previous
1…272829…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood