Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9742

9742 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا إسماعيل بن قتيبة نا يحيى بن يحيى قال : قرأت على مالك عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يموت لأحد من المسلمين ثلاثة من الولد فتمسه النار إلا تحلة القسم رواه البخاري عن ابن أبي أويس عن مالك و رواه مسلم عن يحيى بن يحيى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق نے ان کو اسماعیل بن قتبیہ نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مالک کے ساتھ یہ روایت پڑھی تھی انہوں نے ابن شہاب سے اس نے سعید بن مسیب سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی آپ نے فرمایا جس انسان کےتین بیٹے مر جاتے ہیں اس کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف قسم پوری کرنے کے لئے ۔اس کو بخاری نے روایت کیا ہے ابن ابو اویس سے اس نے مالک سے اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے یحییٰ بن یحییٰ سے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← على مالك، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9742

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9743

9743 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا يحيى بن محمد بن يحيى نا مسدد نا أبو عوانة عن عبد الرحمن بن الأصبهاني عن أبي صالح ذكوان عن أبي سعيد الخدري قال : جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت يا رسول الله ذهب الرجال بحديثك فاجعل لنا من نفسك يوما نأتيك فيه تعلمنا مما علمك الله فقال : اجتمعن يوم كذا كذا في مكان كذا و كذا فاجتمعن فأتاهن رسول الله صلى الله عليه و سلم فعلمهن مما علمه الله ثم قال : ما منكن امرأة تقدم بين يديها من ولدها ثلاثة إلا كانوا لها حجابا فقالت امرأة منهن يا رسول الله و اثنين قال : فأعادها مرتين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم و اثنين و اثنين و اثنين رواه البخاري عن مسدد و رواه مسلم عن أبي كامل عن أبي عوانة و هذا على من أصيب منهم فصبروا و احتسب فقد

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نے ان کو مسدد نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن اصفہانی نے ان کو ابو صالح ذکوان نے ان کو ابو سعید خدری نے وہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی یا رسول اللہ ﷺ مرد تو آپ کی حدیث آپ کی بات سن کر استفادہ کر لیتے ہیں آپ ہمارے لئے بھی اپنی طرف سے کوئی ایک دن مقرر کر دیں جس دن ہم لوگ آپ کے پاس حاضر ہوا کریں جس میں آپ ہمیں تعلیم دیا کریں وہ تعلیم جو اللہ نے آپ کو دی ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ آپ لوگ فلاں دن فلاں جگہ جمع ہو جایا کریں حضؤر ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور ان کو اس علم میں سے تعلیم دی جو اللہ نے آپ کو علم دیا تھا ان کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا تم لوگوں میں سے کوئی عورت بھی جس کے تین بچے اس کے آگے چلے جائیں وہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گے ان میں سے ایک عورت نے کہا یا رسول اللہ اگر دو بچے فوت ہوئے ہوں؟َ وہ کہتے ہیں ی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ دو۔ دو دو بھی یعنی اسی جواب کو آپ نے بار بار دہرایا۔ اس کو بخاری نےر وایت کیا ہے مسدد سے اور اس کو روایت کیا مسلم نے ابو کامل سے اس نےابو عوانہ سے یہ اجر اس شرط پر ہے کہ جو شخص اس میں سے اس مصیبت سے دو چار ہو جائے پھر وہ لوگ اس پر صبر کریں اور ثواب کی نیت کریں۔

جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي صَالِحٍ ذَکْوَانَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9743

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9744

9744 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا أبو طاهر المحمد أباذي نا العباس بن محمد الدوري نا خالد بن مخلد نا عبد الله بن عمر عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أصيب له ولدان أو ثلاثة لم يبلغوا الحنث فاحتسبهم كانوا له سترا من النار أخرجه مسلم من حديث الدراوردي عن سهيل

ہمیں خبر دی ابو الحسن محمد بن حسین بن داؤد علوی نے ان کو ابو طاہر محمد آبادی نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو خالد بن مخلد نے ان کو عبداللہ بن عمر نے ان کو سہیل بن ابو صالح نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس شخص کے دو یا تین بیٹے ہلاک ہو جائیں جو ابھی تک بلوغت کو نہ پہنچے ہوں اور وہ ان کے گذر جانے پر ثواب کی نیت کرے وہ اس کے لئے جہنم سےآڑ بنیں گے ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے در اور دی کی حدیث سے اس نے سہیل سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ أَبَاذِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9744

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9745

9745 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا محمد بن الفضل بن جابر نا عبيد الله بن عمر القواريري نا يزيد بن زريع نا محمد بن إسحاق حدثني محمد بن إبراهيم بن الحارث عن محمد بن لبيد عن جابر بن عبد الله قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من مات له ثلاثة من الولد فاحتسبهم دخل الجنة قال : قلت : يا رسول الله و اثنان ؟ قال : و اثنان فقال محمود لجابر بن عبد الله : و الله إني لأراكم لو قلتم واحد قال : واحد قال : أنا و الله أظن ذلك

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو محمد بن فضل بن جابر نے ان کو عبداللہ بن عمر قواریری نے ان کو یزید بن زریع نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو محمد بنابراہیم بن حارث نے ان کو محمد بن لبید نےانکو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا فرماتے تھے جس شخص کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ اس پر ثواب کی امید رکھے وہ جنت میں داخل ہو گا کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ اگر دو بیٹے فوت ہو جائیں ؟ حضور ﷺ نےف رمایا کہ دو ہوتب بھی محمود نے کہا جابر بن عبداللہ سے اللہ کی قسم البتہ میں خیال کرتا ہوں کہ اگر تم لوگایک کا بھی کہتے تو آپ ﷺ ایککے بارے میں بھی یہی بات فرماتے جابر نے فرمایا اللہ کی قسم میں بھی یہی گمان کرتا ہوں۔

قُلْتُ ← "مَنْ ماتَ له ثلاثَةٌ مِنَ الولدِ فاحْتَسَبهُمْ؛ دخَلَ الجنَّة". ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ لَبِيدٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9745

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9746

9746 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله بن يعقوب نا إبراهيم بن محمد نا أبو كريب نا حفص فقال : سمعت طلق بن معاوية يقول : سمعت أبا زرعة بن عمرو بن جرير يذكر عن أبي هريرة قال : جاءت امرأة إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : ادع الله له فإني دفنت ثلاثة فقال : لقد احتظرت بحظار شديد من النار رواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة و غيره عن حفص بن غياث

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن محمد نے ان کو ابو کریب نے ان کو حفص نے وہ کہتے ہیں کہ میں نےس نا طلق بن معاویہ سے وہ کہتے ہیں میں نےس نا ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے وہ ذکر کرتے تھے حضرت ابو ہریرہ سے وہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت حضور ﷺ کی خدمت میں آئی کہنے لگی آپ ہمارے لئے دعا کریں مین نے تین بیٹے دفن کئے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا کہ البتہ تحقیق آپنے سخت حصار او ردیوار بنا لی ہے جہنم کے آگے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو بکر بن ابو شیبہ وغیرہ سے اس نے حفص بن عیاث سے۔

حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أبي بكر بن أبي شيبة و غيره ← لقد احتظرت بحظار شديد من النار رواه مسلم ← ادع الله له فإني دفنت ثلاثة ← جاءت امرأة إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أبا زرعة بن عمرو بن جرير يذكر ← طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ← حَفْصٌ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9746

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9747

9747 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ثنا الحسن بن الحسن الحربي نا عثمان بن الهيثم نا عوف عن محمد بن سيرين عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مسلمين يموت لهم ثلاثة من الولد لم يبلغوا الحنث إلا أدخلهم الله و أبويهم الجنة بفضل رحمته قال : و يكونون على باب من أبواب الجنة يقال لهم : ادخلوا فيقولون حتى يجيء أبوانا قال : فيقال لهم : ادخلوا أنتم و أبواكم بفضل رحمة الله

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو بکر محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو حسن بن حسن حربی نے ان کو عثمان بن ہثیم نے ان کو عوف نے ان کو محمد بن سیرین نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ۔ کوئی بھی مسلمان جن کے تین بیٹے فوت ہو جائیں جو نابالغ ہوں اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے والدین کو محض اپنے فضل اور اپنی رحمت کےساتھ جنت میں داخل کریں گے۔ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ہوں گے ان سے کہا جائے گا داخؒ ہو جاؤ وہ کہیں گے کہ نہیں اس وقت تک ہم نہیں داخل ہوں گے جب تک ہمارے ماں باپ نہ آجائیں۔ فرمایا کہ اس سے کہا جائے گا کہ تم بھی اور تمہارے والدین بھی اللہ فضل اور رحمت کےساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← عَوْفٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ← الحسن بن الحسن الحربي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9747

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9748

9748 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران و أبو الحسين بن الفضل القطان قالا : نا أبو عمرو بن السماك نا محمد بن عبيد الله المنادي نا عبد الله بن بكر السهمي نا هشام يعني ابن حسان عن الحسن عن صعصعة بن معاوية قال : لقيت أبا ذر يقود حملا له أو يسوقه في عنقه قربة فقلت : يا أبا ذر ما مالك ؟ قال : لي عملي قال : قلت : يا أبا ذر ما مالك ؟ قال لي : عملي ثلاث مرات قال : قلت : ألا تحدثني شيئا سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من مسلمين يموت لهما ثلاثة لم يبلغوا الحنث إلا أدخلهم الله الجنة بفضل رحمته إياهم و ما من مسلم أنفق زوجين في سبيل الله إلا ابتدرته حببة الجنة

ہمیں خبر دیابو الحسین بن بشران نے اور ابو الحسین بن فضل قطان نے دونوں نے کہا ان کو عمرو بن سماک نے ان کو محمد بنعبید اللہ المنادی نے ان کو عبداللہ بن بکر سہی نے انکو ہشام نے یعنیئ ابن حسان نے ان کو حسن نے صعصعہ بن مطرویہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں ابو ذر سے ملا وہ اپنے سواری کے جانور کو آگے پکڑ کر چلا رہے تھے اور ان کے گلے میں مشک لتکی ہوئی تھی میں نے کہا ابو ذر کیا ہوا آپ کو؟ انہوں نے کہا میرا کام میرے لئے ہے میں نے کہا اے ابو ذر اپ کو کیا ہوا؟ انہوں نے تینبار کہا کہ میرے لئے میرا عمل ہے کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بتائیں گے ؟ جو آپ نے رسول اللہﷺ سے سنی ہو فرمایا کہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا جن دو مسلمانوں کے تین بچے فوت ہو جائیں جو بلوغت کو نہ پہنچے ہوں مگر اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل اور رحمت کے ساتھ جنت میں داخل کر دے گا۔

صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ← الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمُنَادِي ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أبو الحسين بن بشران و أبو الحسين بن الفضل القطان

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9748

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9749

9749 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا محمد بن عبيد الله المنادي و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا سعدان بن نصر قالا : نا إسحاق الأزرق نا العوام عن أبي محمد مولى عمر بن الخطاب عن أبي عبيدة عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قدم ثلاثة لم يبلغوا الحنث كانوا له حصنا حصينا من النار قال : فقال أبي بن كعب أبو المنذر سيد القراء : قدمت إثنين قال : و اثنين قال أبو ذر : قدمت واحدا قال : و واحدا و لكن إنما ذاك عند الصدمة الأولى

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو محمد بن عبید اللہ المنادی نے اور ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو سعدان بن نصر نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی اسحاق ازرق نے ان کو العوام نے ان کو ابو محمد مولی عمر بن خطاب نے ان کو ابو عبیدہ نے ان کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس شخص کے تین بچے آگے پہنچ جائیں جو بلوغت تک نہ پہنچے ہوں وہ اس کے لئے جہنم سے مضبوط حصار اور قلعہ ثابت ہوں گے کہتے ہیں کہ ابی بن کعب ابو المنذر سید القراء ہیں انہوں نے کہا کہ دو آگے چلے جائیں؟ انہوں نے فرمایا ہاں اگر دو بھی آگے چلے جائیں ابو ذر نے کہا کہ میں نے کہا اگر ایک ہو؟ انہوں نے فرمایا اگر چہ ایک بھی ہو۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أبي محمد مولى عمر بن الخطاب ← العوام ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← محمد بن عبيد الله المنادي و ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9749

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9750

9750 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بن جناح نا أبو جعفر بن دحيم نا أحمد بن حازم أنا عبد الله بن محمد بن أبي شيبة نا يزيد بن هارون ح و أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا محمد بن أبي بكر نا يزيد بن هارون الواسطي نا العوام بن حوشب عن أبي محمد مولى عمر بن الخطاب عن أبي عبيدة بن عبد الله عن ابن مسعود : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من مسلمين رضي لهما ثلاثة من أولادهم لم يبلغوا الحنث إلا كانوا له حصنا حصينا من النار قال أبو ذر : مضى لنا اثنان قال : و اثنان قال أبي بن كعب أبو المنذر سيد القراء مضى لي واحدا يا رسول الله قال : و واحد و ذاك في الصدمة الأولى لفظ حديث المقري

ہمیں خبر دی ابو محمد جناح نذیر بن جناح نے ان کو ابو جعفر بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو شیبہ نے ان کو یزید بن ہارون نے ح اور ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو یزید بن ہارونواسطی نے ان کو عوام بن حؤشب نے ان کو ابو محمد مولیٰ عمر بن خطاب نے ابو عبیدہ بن عبداللہ سےا س نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم ﷺ سے انہوں نے فرمایا کوئی بھی دو مسلمانوالدین جن کے تین بچے وفات پا جائیں جو کہ ابھی نابالغ ہی ہوں وہ بچے ان کے لئے جہنم سے حفاظت کا محفوظ قلعہ ثابت ہوں گے۔ حضرت ابو ذر نے فرمایا ہمارے دو بچے گذرے گئے ہیں اپ نے فرمایا کہ دو بچے بھی اسی طرح ہیں ابی بن کعب ابو المنذر سید القراء نے کہا یا رسول اللہ میرا ایک بیٹا گذر گیا ہے یا رسول اللہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ہاں ایک بیٹا بھی اور یہ بات صدمہ اولیٰ کےوقت ہوتی ہے الفاظ حدیث مقری کے ہیں۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ← أبي محمد مولى عمر بن الخطاب ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ الْوَاسِطِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ ← و، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير بن جناح

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9750

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9751

9751 - حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان إملاء أنا أبو الحسن محمد بن عبد الله بن علي الدقاق نا محمد بن إبراهيم العبدي نا عيسى بن إبراهيم البركي نا عبد ربه بن بارق الحنفي حدثني سماك بن الوليد الحنفي قال : سمعت عبد الله بن عباس يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يا عائشة من كان له فرطان من أمتي أدخله الله الجنة بهما قالت : يا نبي الله فمن كان له فرط واحد ؟ قال : و من كان له فرط واحد يا موفقة قالت : يا نبي الله فمن لم يكن له فرط ؟ قال : فأنا فرط من لا فرط له لم يصابوا بمثلي تابعه يحيى القطان و نصر بن علي و غيرهما عن عبد ربه بن بارق

ہمیں حدیث بیان کی امام ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان ے بطور املاء کئ ان کو ابو الحسن محمد بن عبداللہ بن علی وقاق نے ان کو ان محمد بن ابراہیم عبدی نے ان کو عیسیٰ بن ابراہیم بر کی نے انکو عبدربہ بن بارق ؟حنفی نے ان کو سماک بن ولید حنفی نے وہ کہتے ہیں کہ میں ن سنا عبداللہ بن عباس سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا رسول اللہﷺ سے فرماتے تھے اے عائشہ جس شخص کے دو بچے آگے جا کر ذخیرہ بن چکے ہوں میری امت کے اللہ تعالیٰ ان کو بدلے میں جنت میں داخل کرے گا سیدہ نے عرض کی اے اللہ کے نبی جس کا صرف ایک بیٹا آگے جا چکا ہو؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ بھی جن کا ایک بیٹا فوت ہو چکاہو اے تو فیق یا فتہ عرض کیا اے اللہ کے نبی جس کا ایک بھی بیٹا آگے نہ گیا ہو فرمایا کہ جس کا آگے کوئی ذریعہ نہ ہو میں اس کے لئے آگے کا ذریعہ ہوں میری مثل ذریعہ نہ پائیں گے۔ یحییٰ بن قطان نے اس حدیث کے متابع بیان کی ہے اور نضر بن علی وگیرہ نےر وایت کی عبدربہ بن بارق سے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← سماك بن الوليد الحنفي ← عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ بَارِقٍ الْحَنَفِيُّ ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ عَلِىٍّ الدَّقَّاقُ ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9751

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9752

9752 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله نا الحسن بن سفيان نا عبيد الله بن معاذ العنبري و عبد الواحد بن غياث قالا : نا المعتمر بن سليمان قال : قال أبي نا أبو السليل عن أبي حسان قال : قلت لأبي هريرة إنه قد مات لي ابنان فهل أنت محدثي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بحديث تطيب به أنفسنا عن موتانا قال : نعم صغارهم دعاميص أهل الجنة يلقى أحدهم أباه أو قال : أبويه فيأخذ بثوبه أو قال : بيده كما آخذ أنا بضعة ثوبك هذا فلا يتناهى أو قال : لا ينتهي حتى يدخله الله وإياه الجنة رواه مسلم عن سويد و محمد بن عبد الأعلى عن معتمر

اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو بکر عبداللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو عبید اللہ بن معاذ عنبری نے اور عبدالوحد بن غیاث نے دونوں نے کہا ان کو معتمر بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا ان کو ابو السلیل نے ان کو ابو حسان نے وہ کہتے ہیں میں نے ابو ہریرہ سے کہا کہ میرے دو بیٹے فوت ہو گئے ہیں کیا آہ مجھے رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث بیان کریں گے جس کے ساتھ ہمارے دل خوش ہو جائیں ہمارے مرنے والوں کے بعد کہتے ہین کہ انہوں ن ے فرمایا جی ہاں ان کے چھوٹے بچے اہل جنت کے تالابو ں کے مینڈک میں ان بچوں میں سے ایک اپنے والد سے ملے گا یا یوں فرمایا تھا کہ اپنےوالدین سے ملے گا۔ اور اس کا کپڑا پکڑ لے گا یا یوں فرمایا تھا کہ اس کا ہاتھ پکڑ لے گا جیسے میں نے آپ کے کپڑے کو نہ پکڑ لیا ہے بس پھر وہ نہیں رکے گا یہاںتک کہ اللہ اس کو جنت میں داخل کر دے گا اور اس بچے کو بھی اس کو مسلم نے روایت کیا ہئ سوید سے اور محمد بن عبدالا علیٰ سے اس نے معتمر سے ۔

مُعْتَمِرٌ ← سويد و محمد بن عبد الأعلى ← لا ينتهي حتى يدخله الله وإياه الجنة رواه مسلم ← بضعة ثوبك هذا فلا يتناهى أو ← بِيَدِهِ کَمَا آخُذُ ← أَبَوَيْهِ فَيَأْخُذُ بِثَوْبِهِ أَوْ ← نعم صغارهم دعاميص أهل الجنة يلقى أحدهم أباه أو ← مَوْتَانَا‏؟‏ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم بحديث تطيب به أنفسنا ← قلت لأبي هريرة إنه قد مات لي ابنان فهل أنت محدثي ← أَبِي حَسَّانَ، ← أَبُو السَّلِيلِ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عبيد الله بن معاذ العنبري و عبد الواحد بن غياث ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9752

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9753

9753 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز نا أحمد بن الوليد الفحام نا الحجاج يعني ابن محمد نا شعبة قال : سمعت معاوية بن قرة أبا إياس يحدث عن أبيه أن رجلا كان يأتي النبي صلى الله عليه و سلم و معه بني له فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتحبه ؟ فقال : أحبك الله كما أحبه قال : ففقده رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ما فعل بني فلان ؟ قالوا : توفي يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما يسرك أنه كلما أتيت بابا من أبواب الجنة تستفتحه يسعى حتى يفتح لك فقال رجل : أله خاصة أم لنا كلنا ؟ فقال : لكم كلكم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمر و رزاز نے ان کو احمد بن ولید فحام نے ان کو حجاج نے یعنی ابن محمد نے ان کو شعبہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا معاویہ ب قرہ سے ان کو ابو ایاس نے وہ حدیث بیان کرتے ہیں اپنے والد سے یہ کہ ایک آدمی حضور ﷺ کے پاس آیا کرتا تھا اور اسکے ساتھ اس کا بیٹا بھی ساتھ ہوتا تھا حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم اس سے محبت کرتے ہو؟ اس نے کہا اللہ آپ سے محبت کرے جیسے میں اس سے محبت کرتا ہوں کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک دن اس کو نہ دیکھا تو پوچھ لیا کہ بچہ کہاں ہے ۔ اس نے کہا کہ وہ فوت ہو گیا ہے یا رسول اللہ حضؤر ﷺ نے فرمایا کیا آپ یہ پسند کریں گے کہ آپ جب بھی جنت کے کسی دروازے پر جائیں اور دروازہ کھلوانے کیکوشش کریں تو وہ بیٹا بھاگ کر دروازے کھولے اس شخُص نے پوچھا کہ کیا یہ صرف میرے لئے ہے یا ہم سب کے لئے ایسے ہو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ یہ تم سب کے لئے ہو گا۔

أَبِيهِ ← مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ أَبَا إِيَاسٍ ← شُعْبَةُ، ← الْحَجَّاجُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9753

chevron_left Previous
1…262728…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood