Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10226

10226 - أخبرنا أبو سعيد عبد الرحمن بن محمد بن شبانة بهمدان قال : أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن الأسدي نا إسماعيل بن محمد المزني نا أبو نعيم الفضل بن دكين نا عبد العزيز عن هلال مولى عمر بن عبد العزيز عن عمر بن عبد العزيز عن عبد الله بن جعفر قال : علمتني أسماء بنت عميس شيئا أمرها رسول الله صلى الله عليه و سلم بقولها عند الكرب الله الله ربي لا أشرك به شيئا

ہمیں خبر دی ابو سعید عبدالرحمٰن بن محمد بن شبانہ نے ہمدان میں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو القاسم عبدالرحمٰن بن حسن اسدی نے ان کو اسماعیل بن محمد مزنی نے ان کو ابو نعیم فضل بن دکین نے ان کو عبدالعزیز سے اس نے بلال مولیٰ عمربن عبدالعزیز سے اس نے عمر بن عبدالعزیز سے۔ اس نے عبداللہ بن جعفر سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے بی بی اسماء بنت عمیس نے ایک چیز سکھائی تھی جو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ان کو مصیبت کے وقت کہنے کے لئے سکھائی تھی وہ یہ ہے اللہ اللہ ربی لا اشرک بہ سیئاً۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← هلال مولى عمر بن عبد العزيز ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ← أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن الأسدي ← أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبَانَةَ بِهَمْدَانَ،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10226

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10227

10227 - أخبرنا أبو بكر الفارسي أنا أبو إسحاق الأصفهاني نا أبو أحمد بن فارس نا محمد بن إسماعيل قال : قال لي محمد بن أبي بكر نا عمر بن علي بن عبد العزيز عن هلال مولى عمر بن عبد العزيز عن بعض أصحاب عبد الله بن جعفر عن عبد الله بن جعفر عن أمه أسماء : مثله

ہمیں خبر دی ابو بکر فارسی نے ان کو ابو اسحٰق اصفہانی نے ان کو ابو احمد بن فارس نے ان کو محمد بن اسماعیل نے وہ کہتے ہیں مجھ سے کہا محمد بن ابو بکر نے ان کو عمربن علی بن عبدالعزیز نے بلال مولیٰ عمر بن عبدالعزیز نے بعض صحاب عبدالله بن جعفر سے اس نے عبداللہ بن جعفر سے اس نے اپنی ماں اسماء سے مذکورہ احدیت کی مثل نقل کیا۔

أمه أسماء مثله ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← بعض أصحاب عبد الله بن جعفر ← هلال مولى عمر بن عبد العزيز ← عمر بن علي بن عبد العزيز ← لي محمد بن أبي بكر ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ ← أبو إسحاق الأصفهاني ← أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10227

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10228

10228 - قال البخاري و قال قيس بن حفص نا عبد الواحد بن زياد سمع مجمع بن يحيى حدثني أبو الغريف صعب أو صعيب قال : سمعت أسماء بنت أبي بكر قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أصابه هم أو غم أو سقم أو شدة أو أزل أو لأواء فقال الله الله ربي لا شريك له كشف عنه قال البخاري و يقال أبو العيوف

بخاری نے کہا ہے اور کہا ہے قیس بن حفص نے ان کو عبدالواحد بن زیاد نے اس نے سنا مجمع بن یحییٰ سے وہ کہتے ہیں کہ تجھے حدیث بیان کی ہے ابو الغریف صعب نے پاس عیب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اسماء بنت ابو بکر سےوہ فرماتی تھیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے تھے۔ جس شخص کو کوئی فکر و ٹم پہنچے یا کوئی بیماری یا سختی یا کوئی مصیبت یاکوئی سختی د یوں پڑھے اللہ اللہ ربی لا اشرک لہٗ تو اس کی وہ تعریف اس سے دور ہو جائے گی۔ بخاری نے کہا ہے۔ اور کہا جاتا ہے ابو العیوف۔

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10228

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10229

10229 - أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى نا أبو عبد الله الصفار نا ابن أبي الدنيا نا زهير بن حرب العامري نا عفان بن مسلم عن عبد الواحد بن زياد نا مجمع بن يحيى حدثني أبو العيوف صعب أو صعيب الغنوي عن أسماء بنت عميس قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من أصابه هم أو غم أو سقم أو أزل أو لأواء فقال الله الله ربي لا شريك له كشف ذلك عنه

ہمیں خبر دی ابو سعد بن محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابن ابو الدنیا نے ان کو زبیر بن حرب نے عامری نے ان کو عفان بن مسلم نے ان کو عبدالواحد بن زیاد نے ان کو مجمع بن یحییٰ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ابو العیوف صعب یا صعیب غنوی نے ان کو اسماء بنت عمیس نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ فرماتے تھے جس شخص کو کوئی فکرو غم لاحق ہو یا بیماری یا مصیبت یا سختی۔ وہ یوں پڑھے اللہ اللہ ربی لاشریک لہ تو اس کی وہ پریشانی دور ہو جائے گی۔

من أصابه هم أو غم أو سقم أو أزل أو لأواء ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ← أبو العيوف صعب أو صعيب الغنوي ← مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَی ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← زهير بن حرب العامري ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10229

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10230

10230 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم أنا العباس الدوري نا عبيد الله بن محمد العائيشي نا صالح أبو يحيى عن عمرو بن مالك عن أبي الجوزاء عن ابن عباس قال : أخذ النبي صلى الله عليه و سلم بعضادتي الباب ثم قال يا بني عبد المطلب إذا نزل بكم كرب أو جهد أو بلاء فقولوا الله الله ربنا لا شريك له

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ سنے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو عباس دوری نے ان کو عبیداللہ بن محمد عائشی نے ان کو صالح ابو یحییٰ نے عمرو بن مالک سے اس نے ابو الجوزاء سے اس نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے میرے دروازے کی دونوں چوکھٹوں سے پکڑ کر کھڑے ہو کر فرمایا تھا اے بنو عبدالمطلب جب تمہارے ساتھ کوئی کرب و تکلیف اتر پڑے یا کوئی مشقت یا مصیبت تو یوں پڑھا کروں: اللہ اللہ ربنا لا شریک لہ

أخذ النبي صلى الله عليه و سلم بعضادتي الباب ثم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْجَوْزَاءِ ← عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، ← صالح أبو يحيى ← عبيد الله بن محمد العائيشي ← الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10230

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10231

10231 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا العباس الدوري نا عمر بن حفص بن غياث عن أبيه عن عبد الرحمن بن إسحاق عن القاسم عن ابن مسعود : أي النبي صلى الله عليه و سلم إذا نزل به كرب قال : يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو عباس دوری نے ان کو عمر بن حفص بن غیاث نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبدالرحمٰن بن اسحٰق نے قاسم سے اس نے ابن مسعود سے یعنی اس نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے کہ جس وقت ان کے ساتھ کوئی کرب و تکلیف نازل ہو جاتی تو یوں کہتے تھے: یا حیی یا قیوم برحمتک استغیث۔

الْقَاسِمِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِيهِ ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10231

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10232

10232 - و رواه غيره عن عبد الرحمن عن القاسم عن أبيه عن ابن مسعود : هذا بإرساله أصح

اور اس کو اس کے ماسوائے روایت کیا ہے عبدالرحمٰن سے اس نے قاسم سے اس نے اپنے والد سے اس نے ابن مسعود سے یہ روایت مرسل ہونے کے باوجود زیادہ صحیح ہے۔

ابن مسعود هذا بإرساله أصح ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← و رواه غيره

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10232

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10233

10233 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن سليمان الموصلي نا علي بن حرب الموصلي نا قاسم بن يزيد نا سفيان عن عبد الله بن عيسى عن عبد الله بن أبي الجعد عن ثوبان قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم لا يزيد في العمر إلا البر و لا يرد القدر إلا الدعاء و إن الرجل ليحرم الرزق بالذنب يصيبه

ہمیں خبر دی ابو عبیداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن سلیماموصلی نے ان کو علی بن حرب موصلی نے ان کو قسم بن یزید نے ان کو سفیان نے عبداللہ بن عیسیٰ سے اس نے عبداللہ بن ابو الجعد سے اس نے ثوبان سے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ نہیں اضافہ کرتی کوئی چیز عمر میں مگر نیکی اور نہیں رد کرتی تقدیر کو کوئی چیز مگر دعا اور بے شک انسان رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے گناہ کے بسبب جو اس سے سر زد ہوتا ہے۔

ثَوْبَانَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← سُفْيَانَ، ← قَاسِمُ بْنُ يَزَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمُوصِلِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَوْصِلِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10233

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10234

10234 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو فيما قرأت عليه أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني أبو بكر الصيرفي قال : عباية أبو غسان حممت بنيسابور فأطبقت علي الحمى فدعوت بهذا الدعاء اللهم كلما أنعمت علي نعمة قل عندها شكري و كلما ابتليتني ببلية قل عندها صبري فيا من قل شكري عند نعمته فلم يخذلني و يا من قل عند بلائه صبري فلم يعاقبني و يا من رآني على المعاصي فلم يفضحني اكشف ضري قال فذهب عني

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو روایت میں جو اس نے ان کے سامنے پرکھیں وہ کہتے ہیں کہ انہیں خبر دی ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ابو بکر صیرفی نے کہتے ہیں عبایہ ابو غسان میں نیشاپور میں تھا کہ مجھے بخار ہو گیا میں نے بخار کو بند کر دیا۔ میں نے دعا کی اس دعا کے ساتھ : اللھم کلما انعمت علی نعمۃ قل عندھا شکری وکلما ابتلیتنی ببلیۃ قل عندھا صبری فیامن قل شکری عند نعمۃ فلم یخذلنی ویامن قل عند بلانہ صبری فلم یعاقبنی ویامن رانی علی المعاصی فلم یفضحنی اکشف ضری اے اللہ آپ نے مجھ پر انعام فرمایا جس کا شکر میں نے بہت کم کیا ہے اور آپ نے جب بھی مجھے کسی آزمائش کے ساتھ آزمایا ہے اس پر میں نے بہت کم صبر کیا ہے اے وہ ذات جس کی نعمت پر میرا شکر کم ہونے کے باوجود اس نے مجھے بے یارو مددگار نہیں چھوڑا اے وہ ذات جس کے آزمانے پر میرا صبر بہت ہی کم رہا پھر بھی اس نے مجھے نہیں پکڑا اے وہ ذات جس نے مجھے گناہ کرتے دیکھا پھر بھی مجھے رسوا نہیں کیا میری تکلیف تو ہی دور فرما۔ کہتے ہیں میرا یہ دعا کرنا تھا کہ میرا بخار چلا گیا اور میں تندرست ہو گیا۔

أَبُو بَكْرٍ الصَّيْرَفِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← عَلَيْهِ ← أبو سعيد بن أبي عمرو فيما

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10234

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9679

9680 - و روينا هذا عن مجاهد : و هذا لما في الصيام من الصبر على الطعام و الشراب المعتادين بالنهار مع تحرك الطبع نحوهما و نزوع النفس إليهما و لهذا قيل لشهر رمضان شهر الصبر و قد مضى الخبر فيه في باب الصيام و قيل أراد بالصبر الصبر على ما يعرض للمسلمين من قتل أعدائهم المشركين ثم قال : { و إنها لكبيرة إلا على الخاشعين } فقيل رجعت الكناية إلى الصلاة وحدها و قيل رجعت إلى كل واحد منهما بمعنى الخصلة أو الطاعة أو الفعلة كأنه قال : و إن كل واحدة من هاتين الخصلتين لكبيرة أي شاقة إلا على الخاشعين الذين يظنون أنهم ملاقوا ربهم في ذلك الوقت فهم يحبون أم يردوا إلى الله صائمين قال جل جلاله : { يا أيها الذين آمنوا استعينوا بالصبر و الصلاة إن الله مع الصابرين } فالأشبه بالصبر في هذه الآية الصبر على الشديدة لأنه اتبع مدح الصابرين بقوله تعالى : { و لا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله أموات بل أحياء و لكن لا تشعرون } { و لنبلونكم بشيء من الخوف و الجوع و نقص من الأموال و الأنفس و الثمرات و بشر الصابرين * الذين إذا أصابتهم مصيبة قالوا إنا لله و إنا إليه راجعون * أولئك عليهم صلوات من ربهم و رحمة و أولئك هم المهتدون } و بسط الكلام في معنى هذه الآية

اور ہم نے یہر وایت مجاہد سےر وایت کیا ہے یہاس لئے ہے کہ روازے میں کھانے پیچھے سے صبر کرنا ہوتا ہے دن میں جن کی باقاعدہ انسان کو عادت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان دونوں کی طرف طبیعت سخت مائل ہوتی ہے اور نفس کو ان دونوں چیزوں کی شدید خواہش ہوتی ہے ۔ اسی لئے حدیث میں رمضان کو صبر کا مہینہ کہا گیا ہے اور اس بارے میں یہحدیث پہلے باب الصیام میں گذر چکی ہے ۔اور دوسرا قول یہ ہے کہ سبر سے مراد وہ کیفیت ہے جو مسلمانوں کو درپیش آتی ہے جب ان کے دشمن مشرکین انہیں قتل کرتے ہیں ۔ اس صدمے میں صبر کرنا مراد ہے اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ: نماز بڑی بھاری ہے مگر عاجزی کرنے والوں کے لئے ۔ اس میں ایک قول تو یہ ہے کہ انہا کی ضمیر صرف نماز کی طرف راجع ہے یعنی اس سے مراد صرف نماز ہے اور دوسر ا قول یہ ہے کہ وہ دونوں میں سے ہر ایک کیطرف راجع ہے یعنی پھر اس کا مرجع خصلت اور اطاعت مقدر ہو گا گویا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ان دونوں خصلتوں میں سے ہر ایک البتہ بڑی یعنی بڑی شان اور مشکل ہے مگر عاجزی کرنے والوں کے لئے جو یقن رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اسی وقت وہ پسند کرتے ہیں کہ وہ روزے کی حالت میں اللہ کی طرف لوٹا ئے جائیں۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ اے لوگوں جو ایمان لا چکے ہو تم لوگ صبر کے ساتھ اور نماز کے ساتھ مدد پکڑو بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ پس زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس آیت میں سبر سے مراد سختی اور مسیبت پر صبر کرنا مراد ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے پیچھے صبر کرنے والوں کی مدح فرمائی ہے ۔ اگلی آیت میںاس طرح ارشاد فرمایا: ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کر دیے جاتے ہیں ان کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ تو زندہہیں لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہے البتہ ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے کسی نہ کسی شے کے ساتھ خوف سے یا بھوک سے یا مالوں کی کمی سے جانوں کی کمی سے اور پھلوں کی کمی سے ۔ اور آپ صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے وہ لوگ ہیں جن کو جس وقت کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ یہ کہتے ہیں بےشک ہم اللہہی کے لئے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔ وہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے عنایت ہیں اور رحمتیں ہیں اور وہی لوگ ہدایت پر ہیں۔ اس آیت کا مفہوم میں تفصیل سے کام لیا گیا ہے ۔

و روينا هذا

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9679

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9680

9681 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد نا جدي نا عمرو بن عون الواسطي نا هشيم أنا خالد بن صفوان عن زيد بن علي بن الحسن عن أبيه عن ابن عباس قال : جاء نعي بعض أهله و هو في سفر فصلى ركعتين ثم قال : فعلنا ما أمرنا الله عز و جل : { و استعينوا بالصبر و الصلاة }

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی اسماعیل بن محمد بن فضیل بن محمد نے ان کو ان کے دادا نے ان کو عمرو بن عون واسطی نے ان کو ہثیم نے ان کو خالد بن صفوان نے ان کو زید بن علی بن حسن نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہان کے خاندان کے بعض افراد کی موت کی خبر ان کے پاس آئی تو اس وقت وہسفر میں تھے لہٰذا انہوں نے دو رکعت نماز ادا کی پھر کہنے لگے ہمارا کام تو بس وہی ہے جس کا ہمیں اللہ نے حکم دیا ہے صبر و صلوۃ کے ساتھ مدد طلب کرو۔

فعلنا ما أمرنا الله عز و جل و استعينوا بالصبر و الصلاة ← جاء نعي بعض أهله و هو في سفر فصلى ركعتين ثم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← زيد بن علي بن الحسن ← خَالِدِ بْنِ صَفْوَانَ، ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9680

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9681

9682 - أخبرنا أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن قتادة نا أبو منصور النضروي نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا إسماعيل بن إبراهيم أنا عيينة بن عبد الرحمن عن أبيه : أن ابن عباس نعي إليه أخوه قثم و هو في مسير فاسترجع ثم تنحى عن الطريق ثم صلى ركعتين فأطال فيهما الجلوس ثم قام يمشي إلى راحلته و هو يقول : { و استعينوا بالصبر و الصلاة و إنها لكبيرة إلا على الخاشعين }

ہمیں خبر دی ابو نصر عمرو بن عبدالعزیز بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم نے ان کو عیینہ بن عبدالرحمٰن نے ان کو ان کے والد نے یہ کہ حضرت ابن عباس کو ان کے بھائی قثم بن عباس کی وفات کی خبر دی گئی حالانکہ وہ اس وقت سفر میں تھے ۔ انہوں نے اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھا پھر راستے سے الگ ہو کر انہوں نے دو رکعت پڑھی ان میں لمبی دیر تک بیٹھے رہے اس کے بعد وہ اٹھ کر اپنی سواری کی طرف چلے گئے اور وہ یہ کہتے ہوئے جا رہے تھے ۔

عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن قتادة،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9681

chevron_left Previous
1…202122…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood