Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10214

10214 - حدثنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا المثنى بن سعيد عن قتادة عن عبد الله بن بريدة قال : دخل بريدة الأسلمي على رجل بخراسان و هو في الموت فإذا جبينه يرشح فقال بريدة : الله أكبر سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن المؤمن يموت بعرق الجبين

ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد سے ان کو مثنٰی بن سعید نے ان کو قتادہ نے ان کو عبداللہ بن بریدہ نے وہ کہتے ہیں کہ بریدہ اسلمی خراسان میں ایک آدمی کے پاس پہنچے وہ موت کی کیفیت میں تھا یکایک اس کی پیشانی سے پسینہ ٹپکنے لگا۔ بریدہ نے کہا اللہ اکبر۔ میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے بے شک مؤمن ماتھے کے پسینے کے ساتھ مرتا ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← قَتَادَةَ ← الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10214

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10215

10215 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي قالا نا أبو العباس هو الأصم نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا أبو النضر نا الحسام بن المصك عن أبي معشر عن إبراهيم عن علقمة بن قيس أنه غزا خراسان فحضرت ابن عم له وفاة فذهب يعوده فمسح جبينه فإذا هو يرشح فقال : الله أكبر حدثني ابن مسعود : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : موت المؤمن برشح الجبين و ما من مؤمن إلا له ذنوب يكفأ بها في الدنيا و يبقى عليه بقية و يشدد بها عليه عند الموت قال عبد الله و لا أحب موتا كموت الحمار قال الشيخ خالفه يونس بن عبيد من أبي معشر فوقفه على عبد الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسن قاضی سے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو ابو النضر نے ان کو حسام بن مصلک نے ان کو ابو معشر نے ابراہیم سے اس نے علقمہ بن قیس سے کہ انہوں نے خراسان میں جہاد کیا چنانچہ ان کے چچا زاد کو موت آ پہنچی وہ ان کی طبع پرسی کرنے پہنچے تو اس کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا اس سے پسینہ ٹپک رہا تھا ۔ انہوں نے کہا اللہ اکبر مجھے حدیث بیان کی ہے ابن مسعود نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے فرمایا کہ مومن کی موت پیشانی ٹپکنے کے ساتھ ہوتی ہے ہر ایک مومن کے کچھ نہ کچھ گناہ ہوتے ہیں دنیا میں جن کا بدلہ اس سے لے لیا جاتا ہے۔ اور پاکچھ باقی رہ جاتے ہیں ان کی وجہ سے اس پر موت کے وقت سختی کی جاتی ہے۔ عبداللہ نے فرمایا موت کو گدھے کی موت کی طرح پسند نہیں کرتا شیخ نے فرمایا۔ کہ یونس بن عبید نے اس کی مخالفت کی ہے ابو معشر سے اس نے ان کو عبداللہ پر موقوف مانا ہے۔

عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← الحسام بن المصك ← أَبُو النَّضْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ و أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِى

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10215

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10216

10216 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا قبيصة نا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم بن يزيد بن أوس قال : شهد علقمة ابن أخ له لما حضر فجعل يعرق جبينه فضحك فقيل له ما يضحكك يا أبا شبل فقال : سمعت ابن مسعود يقول : إن نفس المؤمن تخرج رشحا و إن نفس الكافر أو الفاجر تخرج من شدقه كما تخرج نفس الحمار و إن المؤمن ليكون قد عمل السيئة فيشدد عليه عند الموت ليكفر بها و إن الكافر أو الفاجر ليكون قد عمل الحسنة فيهون عليه عند الموت ليكفر بها و هذا أيضا موقوف

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو قدیصہ نے ان کو سفیان نے اعمش سے ان کو ابراہیم بن یزید بن یونس نے وہ کہتے ہیں کہ علقمہ اپنے بھائی کے پاس گئے جب اس کو موت آئی دیکھا تو اس کی پیشانی پسینہ پسینہ تھی چنانچہ یہ دیکھ کہ ہنس پڑے ان سے پوچھا گیا اے ابو شبل آپ کیوں ہنس رہے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے سنا تھا وہ فرماتے تھے بے شک مؤمن کی روح نکلتی ہے پسینہ ٹپکنے کے ساتھ اور بے شک کافر کی روح یا کہا تھا کہ فاجر کی روح نکلتی ہے اس کی باچھوں سے جیسے گدھے کی روح نکلتی ہے اور بے شک مومن کبھی عمل کرتا ہے گناہ کا پھر اس پر سختی کی جاتی ہے تاکہ اس کا کنارہ بنایا جائے لہٰذا اس پر موت بے وقت سختی کی جاتی ہے تاکہ اس کے ذریعے کفارہ بنایا جائے بے شک کافر یا فاجر کبھی نیکی کا عمل کرتا ہے لہٰذا اس پر موت کے وقت آسانی کر دی جاتی ہے تاکہ اس کے لئے کنارہ بن جائے یہ روایت بھی موقوف ہے۔

إِبْرَاهِيم بن يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10216

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10217

10217 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدوري نا محمد بن الصباح نا الوليد بن مسلم عن الأوزاعي قال : قال عمر بن عبد العزيز ما أحب أن يهون علي سكرات الموت لأنه آخر ما يؤجر عليه المؤمن و يكفر به عنه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو محمد بن صباح نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو اوزاعی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا میں یہ پسند نہیں کرتا کہ مجھ پر موت کی سکرات آسان ہو اس لئے کہ وہ آخری چیز ہوتی ہے جس پر مومن اجر دیا جاتا اور اس کے ساتھ اس سے گناہوں کا کفارہ بنایا جاتا ہے۔

الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10217

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10218

10218 - و أما موت الفجأة فأخبرنا : أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا معاوية بن عمرو عن أبي إسحاق عن عبيد الله بن الوليد عن عبد الله بن عبيد بن عمير قال : سألت عائشة عن موت الفجأ أيكره ؟ قالت : لأي شيء يكره ؟ سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ذلك فقال : راحة للمؤمن و أخذ أسف للفاجر

بہرحال رہی اچانک کی موت۔ اس کے بارے میں ہمیں خبر دی سے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو معاویہ بن عمر نے ان کو ابو اسحاق نے ان کو عبیداللہ بن ولید نے ان کو عبداللہ بن عبید بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ اس نے سیدہ عائشہ سے سنا اچانک ان کی موت کے بارے میں پوچھا تھا کہ کیا وہ پسندیدہ ہوتی ہے ؟ تو سیدہ نے فرمایا کس وجہ سے یہ پسند کی جاتی ہے ؟ میں نے اس بارے میں رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا تو آپ نے فرمایا: راحۃ للمؤمن واخذا سف للفاجر مؤمن کے لئے راحت سکون ہوتی ہے اور فاجر کے لئے افسوس کا حصول ہوتی ہے۔

ذلك فقال راحة للمؤمن و أخذ أسف للفاجر ← لأي شيء يكره سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← موت الفجأ أيكره ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْوَلِيدِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← و أما موت الفجأة فأخبرنا أبو عبد الله الحافظ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10218

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10219

10219 - و رواه الثوري عن عبيد الله : موقوفا على عبد الله بن مسعود و عائشة

اور اس کو ثوری نے روایت کیا ہے عبیداللہ سے بطور موقوف کے روایت عبداللہ بن مسعود پر اور عائشہ پر ۔

عبيد الله موقوفا على عبد الله بن مسعود و عائشة ← و رواه الثوري

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10219

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10220

10220 - و روي عن عبيد بن خالد السلمي : مرفوعا و موقوفا

اور روایت کی گئی ہے عبید بن خالد سلمی سے بطور مرفوع روایت بھی اور بطور موقوف روایت بھی ۔

عبيد بن خالد السلمي مرفوعا و موقوفا ← و روي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10220

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10221

10221 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التاريخ نا محمد بن إبراهيم بن الفضل الهاشمي نا محمد بن نعيم نا قتيبة بن سعيد أبو رجاء البغدادي بنيسابور نا أحمد بن بشير عن أبي طاهر البصري عن أبي السكن الهجري قال : مات خليل الله فجأة و ما داود فجأة و مات سليمان فجأة و الصالحون و هو تخفيف على المؤمن و تشديد على الكافر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے تاریخ میں ان کومحمد بن ابراہیم بن فضل ہاشمی نے ان کو محمد بن نعیم نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو ابو رجاء بغدادی نے نیشا پور میں ان کو احمد بن بشیر نے ان کو ابو طاہر نصری نے ان کو ابو السکن ہجری نے وہ کہتے ہیں ۔ کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ اچانک مرے تھے حضرت داؤد اچانک مرے تھے حضرت سلیمان بن داؤد اچانک مرے تھے اور نیک لوگ اچانک مرے تھے۔ وہ امن پر تخفیف اور آسانی ہے اور کافر پر تشدید ہے۔

أبي السكن الهجري ← أبي طاهر البصري ← أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ ← قتيبة بن سعيد أبو رجاء البغدادي بنيسابور ← مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ← محمد بن إبراهيم بن الفضل الهاشمي ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10221

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10222

10222 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الربيع بن سليمان نا عبد الله بن وهب أخبرني سليمان بن بلال عن علقمة بن أبي علقمة عن أمه : أن امرأة دخلت بيت عائشة فصلت عند بيت رسول الله صلى الله عليه و سلم و هي صحيحة فلم ترفع رأسها حتى ماتت قالت عائشة الحمد لله الذي يحيي و يميت إن هذا لعبرة لي في أخي عبد الرحمن بن أبي بكر و كان عبد الرحمن رقد في مقيل قال : فذهبوا يوقظونه فوجدوه قد مات فدخل نفس عائشة تهمة أن يكون صنع به شيء أو عجل عليه فدفن و هو حي فرأت أنها عبرة لها و ذهب ما كان في نفسها

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو خبر دی سلیمان بن بلال نے علقمہ بن ابو علقمہ سے اس نے اپنی ماں سے کہ ایک عورت سیدہ عائشہ کے گھر میں داخل ہوئی اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں نماز پڑھی حالانکہ وہ تندرست تھی مگر اس نے سجدے سے سر ہی نہ اٹھایا حتٰی کہ مر گئی۔ سیدہ عائشہ نے فرمایا کہ سب تعریف اسی ذات کی ہے جو زندگی دیتا ہے اور موت دیتا ہے یہ بات میرے لئے عبرت ہے میرے بھائی عبدالرحمٰن بن ابو بکر کے معاملے میں۔ عبدالرحمٰن اچھے بھلے دوپہر کی نیند سوئے تھے ۔ کہتے ہیں ان کو اٹھانے کے لئے گئے تو دیکھا تو وہ مر چکے تھے لہٰذا سیدہ عائشہ کے دل میں یہ تہمت آئی تھی کہ شاید اس کے ساتھ کچھ کیا گیا تھا یا اس پر کوئی جلدی کی گئی تھی اور انہیں جلدی جلدی دفن کر دیا گیا تھا اور وہ زندہ تھے۔ لہذا سیدہ نے مذکورہ واقعے کے بعد یقین کر لیا کہ ان کے لئے اس میں عبرت ہے لہٰذا ان کے دل میں جو بات آئی تھی وہ دور ہو گئی۔

عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10222

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10223

10223 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا العباس بن الفضل نا منجاب بن الحارث نا حاتم بن إسماعيل عن ابن عجلان عن محمد بن كعب القرظي عن عبد الله بن شداد عن عبد الله بن جعفر قال : علمني علي كلمات علمه رسول الله صلى الله عليه و سلم إياهن يقولهن عند الكرب أو لشيء يصيبه لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله تبارك الله رب العرش العظيم و الحمد لله رب العالمين

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عباس بن فضل نے ان کو منجاب بن حارث نے ان کو حاتم بن اسماعیل نے ان کو ابن عجلان نے ان کو محمد بن کعب قرظی نے ان کو عبداللہ بن شداد نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے علی المرتضیٰ نے چند کلمات سکھائے تھے کہ ان کو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے وہ سکھائے تھے جنہیں وہ کرب اور تکلیف کے وقت پڑھتے تھے یا کسی بھی شئی کے پہنچنے کے وقت :لا الٰہ الا اللہ الحلیم الکریم سبحان اللہ تبارک اللہ رب العرش العظیم والحمدللہ رب العالمین ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10223

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10224

10224 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن مكرم نا أبو أحمد الزبيري نا يونس بن أبي إسحاق عن إبراهيم بن محمد بن سعد عن أبيه عن جده قال : ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم أول دعوة فجاء أعرابي فشغله قال : فاتبعته فالتف إلي فقال أبو إسحاق ؟ قلت : نعم قال : مه أو فمه فقلت ذكرت أول دعوة ثم جاء أعرابي فشغلك فقال نعم دعوة ذي النون إذ دعا في الظلمات لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين فإنه لم يدع بها عبد في شيء إلا استجيب له

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسین قاضی نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو ابو احمد زبیری نے ان کو یونس بن ابو اسحاق نے ان کو ابراہیم بن محمد بن سعد نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے پہلی دعا ذکر فرمائی چنانچہ ایک اعرابی آیا اس نے آپ کو مصروف کر دیا۔ میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے چلا آپ میری طرف متوجہ ہوئے۔ پس کہا ابو اسحاق ہے؟ میں نے کہا جی ہاں فرمایا کہ رک جائیں نے کہا کہ آپ نے پہلی دعا کا ذکر کیا پھر اعرابی آ گیا اس نے آپ کو مشغول کر دیا۔ فرمایا کہ جی ہاں وہ مچھلی والے پیغمبر کی دعا ہے جب اس نے اندھیروں میں دعا مانگی تھی:لا الٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین بے شک حال یہ ہے کہ جو بھی شخص اس کے ساتھ کس چیز کے بارے میں دعا مانگتا ہے اس کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔

مه أو فمه فقلت ذكرت أول دعوة ثم جاء أعرابي فشغلك ← أبو إسحاق قلت نعم ← فاتبعته فالتف إلي ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أول دعوة فجاء أعرابي فشغله ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إبراهيم بن محمد بن سعد ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10224

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10225

10225 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن الحسن بن إسماعيل السراج نا أبو شعيب الحراني نا علي بن المديني نا محمد بن بشر و وكيع بن الجراح قالا نا عبد العزيز عن عبد الله بن جعفر عن أمه أسماء بنت عميس قال : علمني رسول الله صلى الله عليه و سلم كلمات أقولهن عند الكرب الله الله ربي لا أشرك بك شيئا قال : محمد بن بشر في حديثه عن عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز حدثني هلال مولى عمر و زاد في حديثه الله الله أكبر ربي لا أشرك به شيئا الله الله ربي لا أشرك به شيئا قالها مرتين و قال وكيع مرة

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن محمد بن اسماعیل سراج نے ان کو ابو ایوب حرانی نے ان کو علی بن مدینی نے ان کو محمد بن بشر نے اور وکیع بن جراح نے وہ دونوں کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی عبدالعزیز نے عبداللہ بن جعفر سے اس نے اس کی والدہ اسماء بنت عمیس سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے کچھ کلمات سکھائے تھے جن کو میں تکلیف اور مصیبت کے وقت پڑھوں:اللہ اللہ ربی لا اشرک بہ شیئاَ محمد بن بشر کہتے ہیں اپنی روایت میں عبدالعزیز بن عمر بن عبدالعزیز سے ان کو حدیث بیان کی ہلال مولیٰ عمر نے اور انہوں نے اپنی حدیث میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے:اللہ اللہ اکبر ربی لا اشرک بہ شیئاً اللہ اللہ ربی لا اشرک بہ شیئاً تین بار یہ الفاظ فرمائے تھے ۔ اور وکیع نے ایک بار کہے تھے۔

أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← محمد بن بشر و وكيع بن الجراح ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ← أبو الحسن محمد بن الحسن بن إسماعيل السراج ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10225

chevron_left Previous
1…192021…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood