شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9998
9998 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو القاسم عبد الرحمن بن محمد بن حامد بن منوية البلخي بنيسابور نا محمد بن إبراهيم بن سيس العامري نا يحيى بن معاذ الرازي نا عثمان بن عمار عن إبراهيم بن أدهم قال : دخلت الإسكندرية فلقيت شيخا يقال له أسلم بن زيد الجهني فقال لي : من أين أنت ؟ قلت : من أهل خراسان فقال : ما حملك على الخروج من الدنيا ؟ قلت : زهد فيها و رجاء ثواب من الله عز و جل فقال لي : إن العبد لا يتم له رجاء ثواب من الله عز و جل حتى يحمل نفسه على الصبر فقال رجل من أصحابه : و أي شيء الصبر ؟ قال : هو أن يروض نفسه على احتمال مكاره الأنفس قال إبراهيم : هذا تصبر و ليس بصبر ففزع و راعه قولي و قال : يا غلام من أين لك هذا الذي قلت قلت : عطاء من الله عز و جل فقال لي : صدقت هو تصبر و ليس بصبر يا غلام احفظ عني وعه و احتمل و اعقل و اعلم إن أدنى منازل الزاهدين في الدنيا احتمال المكاره للأنفس فإذا كان العبد محتملا للمكاره أورث الله عز و جل قلبه نورا قلت : و ما ذاك النور قال : سراج يضيء قلبه
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو القاسم عبدالرحمٰن بن محمد بن حامد بن منوبہ ہلخی نے نیسا پور میں ان کو محمد بن ابراہیم بن سیس عامری نے ان کو یحییٰ بن معاذ رازی نے ان کو عثمان بن عمار نے ان کو ابراہیم بن ادہم نے وہ کہتے ہیں کہ میں اسکندریہ میں داخل ہوا اور وہاں ایک شیخ سے میری ملاقات ہوئی جسے اسلم بن زید جہنی کہا جاتا تھا انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ میں نے کہا اہل خراسان سے۔ انہوں نے پوچھا کہ تمہیں دنیا کے خلاف خروج اور بغاوت پر کس چیز نے ابھارا۔ میں نے جواب دیا کہ وہ زہد ہے اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ بے شک بندے کے لئے اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید اس وقت تک پوری نہیں ہوتی جب تک وہ اپنے نفس کو صبر پر نہ ابھارے۔ چنانچہ ان کے اصحاب میں سے ایک آدمی نے کہا کہ صبر کون سی چیز ہوتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ صبر یہ ہے کہ نفوس کی مشکلات کو برداشت کرنے پر اپنے نفس کو راضی کر لے ۔ ابراہیم نے کہا کہ یہ صبر نہیں ہے تعمیر ہے اور بہ تکلف صبر کرتا ہے۔ لہٰذا وہ گھبرا گئے اور میری بات نے ان کو ڈرا دیا۔ اور وہ کہنے لگے اے لڑکے یہ بات جو تم نے کہی ہے یہ کہاں سے تم نے سیکھی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء ہے۔چنانچہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ نے سچ کہا کہ زبردست صبر کرنا صبر نہیں ہے اسے لڑکے مجھ کو محفوظ کر اور اس کو یاد رکھ اور برداشت کر اور سمجھ حاصل کر اور تو جان لے کہ زاہدین کی سب سے ادنٰی منزل دنیا میں مشکلات نفس کو برداشت کرتا ہے۔ جب بندہ مشکلات و مکارہ کو برداشت کرنے والا بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے دل میں نور پیدا فرما دیتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ وہ نور کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک چراغ ہوتا ہے جو اس کے دل کو روشن کر دیتا ہے۔
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَدْهَمَ ← عُثْمَانُ بْنُ عَمَّارٍ ← يحيى بن معاذ الرازي ← محمد بن إبراهيم بن سيس العامري ← أبو القاسم عبد الرحمن بن محمد بن حامد بن منوية البلخي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9998
