Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10202

10202 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا سعيد بن رميح يقول : سمعت عمر بن محمد بن بجير يقول : خرجت في جنازة أحمد بن صالح بمصر فرأيت على قبر مكتوب : ( قبر عزيز علينا لو أن من فيه يغدى ) ( أسكنت قرة عيني و منية النفس لحدا ) ( ما صار خلق علينا و لا القضاء تعدى ) ( و الصبر أحسن ثوب به الفتى يتردى )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو سعید بن رمیح سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عمر بن محمد بن بجیر سے وہ کہتے ہیں کہ میں احمد بن صالح کے جنازے میں کیا تھا مصر میں۔ میں نے ایک قبر پر یالکھا ہوا دیکھا۔ اشعار ( تھے جن کا مفہوم یہ ہے) یہ قبر ہمیں عزیز ہے کیونکہ اس کے اندر جو موجود ہے طاعون کی وبا سے ہلاک ہوا ہے میں نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کو اور اپنی امیدوں کے مرکز کو ( یعنی دل کی آرزو کو اس لحد سے میں سکونت دی ہے۔ نہ ہی مخلوق نے ہم سے اس کو جدا کیا ہے اور نہ ہی قضا اور تقدیر نے ہمارے اوپر ظلم زیادتی کی ہے اور صبر کرنے کا سب سے زیادہ خوبصورت لباس ہے اسی کے ساتھ خوبصورت جوان چادر اوڑھتا ہے۔

عمر بن محمد بن بجیر ← أبا سعيد بن رميح ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10202

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10203

10203 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت سعيد بن القاسم البرذعي يقول عمر بن محمد بن بجير قال : سمعت امرأة تنوح على شفير قبر و تقول : فذكر البيتين غير أنه قال : قرة عيني و نور قلبي لحدا

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سعید بن قاسم برذعی سے کہتے ہیں عمر بن محمد بن بجیر نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے سنا جو قبر کے دہانے بیٹھ کر بین کر رہی تھی اور مذکورہ شعر پڑھا رہی تھی صرف فرق اس قدر تھا وہ بتاتے ہیں کہ (میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور میرے دل کا نور لحد میں سو رہا ہے۔ )

قرة عيني و نور قلبي لحدا ← امرأة تنوح على شفير قبر و تقول فذكر البيتين غير أنه ← عمر بن محمد بن بجیر ← سعيد بن القاسم البرذعي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10203

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10204

10204 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني يقول : سمعت جدي يقول : سمعت عبيد الله بن محمد العائشي يقول : قدمت امرأة إلى البصرة في سنة شهباء و معها اثنان لها فلم يأت عليها الحول حتى دفنتهما فقعدت بين قبريهما فقالت : ( فلله عيناي اللذان أراهما قريبي مني و المزار بعيد ) ( هما تركا عيني لا ماء فيهما و شكا سواد القلب فهو عميد ) ( مقيمان بالبيداء لا يرجانه و لا يسألان الركب أين تريد ) فقيل لها : لو أتيت عبد الله بن عباس فقصصت عليه القصة فأتته فقالت له : يا ابن عم رسول الله إني أصبحت لا عند قريب يحميني و لا عند عشير يؤويني و إني سألت عن المرء خاشية المأمول نائلة المعطي سائلة فأرشدت إليك فأعمل بي واحدة من ثلاث إما أن تقيم أودي أو تحسن صلتي أو تردني إلى أهلي فقال عبد الله : كل يفعل بك

ہمیں خبردی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اسماعیل بن محمد بن فضل بن محمد شعرانی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے دادا سے کہتے تھے میں نے سنا عبیداللہ بن محمد عائشہ سے وہ کہتے ہیں ایک عورت بصرے میں آئی قحط سالی والے سال اس کے ساتھ اس کے دو بیٹے بھی تھے اس بچاری پر پورا ایک سا بھی نہیں گزرا تھا کہاس نے ان دونوں کو دفن بھی کر لیا پھر وہ ان دنوں کی قبروں کےدرمیان میں بیٹھ کر کہہ رہی تھی ۔ ( شعر جن کا مفہوم یہ ہے) قسم ہے اللہ کی میری دونوں آنکھیں جنہیں میں دیکھ رہی ہوں وہ دونوں میرے قریب ہیں اور مزار ( قبر میں ) دور ہیں، ان دونوں نے میری آنکھوں کو ایسا کر چھوڑا ہے کہ ان میں آنسو کا پانی بھی خشک ہو گیا ہے اور دل مریض ہو چکا ہے حالانکہ وہ تو ( جسم کے اندر ) سردار ہے رئیس و شریف عضو ہے۔) یہ دونوں بیابان میں مقیم ہیں۔ اس بیابانی کے ویرانے سے ڈرتے بھی نہیں ہیں، اور قریب گزرنے والے قافلے سے بھی نہیں پوچھتے کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔ چنانچہ اس عورت سے کہا گیا کہ آپ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر اپنی کسم پرسی کی داستان ان کو سنائیے وہ ان کی شاید کوئی مدد کریں۔ چنانچہ وہ عورت ان کے پاس گئی اور جا کر ان کو اپنا قصہ بیان کیا اور عرض کی کہ اے رسول اللہ کے چچا کے بیٹے میں اس حال میں گھر گئی ہوں کہ نہ کوئی میرا قریبی رشتہ دار ہے جو میری حفاظت کرے اور نہ ہی کوئی میرا کنبہ قبیلہ ہے جو مجھے پناہ دے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کسی ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا ہے جو میری امید پر پورا اترے اور میرا سوال پورا کر دے۔ چنانچہ مجھے آپ کی طرف راہنمائی کی گئی ہے۔ آپ میرے ساتھ تین باتوں میں سے ایک کام کریں۔ یا تو میری بھی کو سیدھا کر دیئے۔ یا میری تلوار کی تیزی کو اچھا کر دیجئے۔ یا مجھے میرے خاندان اور اہل خانہ تک واپس پہنچا دیجئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ آپ کے یہ سارے سوال پورے کئے جائیں گے۔

عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَائِشِيُّ ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10204

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10205

10205 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني محمد بن العباس بن موسى نا عبيدة بن حميد عن القاسم بن معن قال : قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه رحم الله زيدا يعني أخاه هاجر قبلي و استشهد قبلي ما هبت الرياح من تلقاء اليمامة إلا أتتني برياه و ما ذكرت قول متم بن نويرة إلا ذكرته و قال غير محمد إلا هاج بي شجيا : ( و كنا كندماني جذيمة حفنة من الدهر حتى قل أن يتصدعا ) ( فلما تفرقنا كأني و مالكا بطول اجتماع لم نبت ليلة معا )

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن عباس بن موسیٰ نے ان کو عبیدہ بن حمید نے قاسم بن معن سے وہ کہتے ہیں کہ کہا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ میرے بھائی زید بن خطاب رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے اس نے مجھ سے پہلے ہجرت کی تھی اور مجھ سے پہلے شہید بھی ہو گئے ( جنگ یمامہ میں ) یمامہ کی طرف جب بھی ہوا چلتی ہے تو میرے پاس (میرے بھائی ) زید کی خوشبو لے آتی ہے۔ اور مجھے جب بھی متم بن نویرہ کا قول یاد آتا ہے تو مجھے میرے بھائی زید بن خطاب کی یاد آجاتی ہے۔ محمد بن عباس کے علاوہ دیگر نے کہا ہے۔ جب مجھے یمامہ کی طرف کی ہوا لگتی ہے تو وہ مجھے اس کی یاد پر ابھارتی غ،غمگین کرتے ہوئے۔ (یعنی زید کا غم تازہ کر دیتی ہے۔) (متمم بن نویرہ کے اشعار جو حضرت عمر بن خطاب کو ان کے بھائی زید بن خطاب کا غم یاد دلا دیتے تھے۔ ) کا خلاصہ ہم دونوں بھائی مختصر وقت زمانے سے جذیمہ کے ساتھیوں کی مانند ساتھ ساتھ رہے جیسے وہ بہت ہی کم ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں۔ جب ہم ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے میں اور میرا بھائی مالک بن نویرہ نے باوجود طویل صحبت کے ایک رات بھی ساتھ نہیں گزاری۔

الْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ ← عبيدة بن حميد ← محمد بن العباس بن موسى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10205

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10206

10206 - قال : و حدثني أبو بكر حدثني ابن أبي عمر عن سفيان بن عيينة قال : كان عمر إذا أصيب بمصيبة قال : قد أصبت بزيد فصبرت

کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ابو بکر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ابن ابو عمر نے سفیان بن عینیہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کو جب کوئی مصیبت پہنچتی تھی تو فرماتے تھے کہ تحقیق میں زید بن خطاب کی وجہ سے مصیبت دیا گیا ہوں اور میں نے صبر کیا ہے۔

قد أصبت بزيد فصبرت ← كان عمر إذا أصيب بمصيبة ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10206

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10207

10207 - قال : و حدثنا أبو بكر عن محمد بن هاني الطائي حدثني محمد بن شبويه حدثني سليمان بن صالح عن عبد الله بن المبارك عن خالد بن سعيد بن عمرو بن سعيد أن عمر قال : لمتمم بن نويرة : لو كنت شاعرا أثنيت على أخي كما أثنيت على أخيك متمم فقال : لو كان مهلك أخي كمهلك أخيك لتعزيت عنه فقال عمر : ما رأيت تعزية أحسن من هذه

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر نے محمد بن ہانی طائی سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے محمد بن شبویہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی سلیمان بن صالح نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو خالد بن سعید بن عمرو بن سعد نے یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے متمم بن نویرہ سے کہا تھا۔ کہ اگر میں شاعر ہوتا تو میں بھی اپنے بھائی ( زید بن خطاب) کے لئے ایسے تعریف کرتا جیسے آپ نے اپنے بھائی مالک کی تعریف کی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ اگر میرا اس طرح ہلاک ہوتا جیسے آپ کا بھائی ہلاک ہوا ( یعنی جہاد میں ) تو میں اس کی طرف سے تعزیت کرتا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ میں نے اس سے زیادہ خوبصورت تعزیت نہیں سنی۔

خالد بن سعيد بن عمرو بن سعيد أن عمر ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ← محمد بن شبويه ← محمد بن هانئ الطائي ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10207

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10208

10208 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا الحسن بن حليم بن محمد بن حليم نا أبو الموجه أنا عبدان أنا عبد الله بن المبارك أخبرني يحيى بن أيوب عن بكر بن عمرو عن عبد الرحمن بن زياد عن أبي عبد الرحمن الحبلي عن عبد الله بن عمرو : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : تحفة المؤمن الموت

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن حلیم بن محمد بن حلیم نے ان کو ابو الموجہ نے ان کو عبدان نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو خبر دی یحییٰ بن ایوب نے ان کو بکر بن عمرو نے ان کو عبدالرحمٰن بن زیاد نے ان کو ابو عبدالرحمٰن حبلی نے ان کو عبداللہ بن عمر نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا کہ تحفتہ المؤمن الموت ۔ مؤمن کا تحفہ ہے موت۔

«تُحْفَةُ الْمُؤْمِنِ الْمَوْتُ» ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدَانُ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← الحسن بن حليم بن محمد بن حليم ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10208

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10209

10209 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه نا محمد بن عبد الله الحضرمي نا يحيى بن بشر نا معاوية بن سلام عن يحيى بن أبي كثير أخبرني أبو قلابة أن عبد الرحمن بن شيبة أخبره أن أم المؤمنين عائشة أخبرته : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الصالحين يشدد عليهم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحاق فقیہ نے ان کو محمد بن عبداللہ حضرمی نے ان کو یحییٰ بن بشر نے ان کو معاویہ بن سلام نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو خبر دی ابو قلابہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن شیبہ نے ان کو خبر دی ہے کہ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا:ان الصالحین یشدد علیھم بے شک نیک صالح لوگوں پر سختی کی جاتی ہے۔

أَنَّ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، ← أَبُو قِلَابَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شَيْبَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10209

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10210

10210 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن إسحاق الفقيه و علي بن حمشاد العدل قالا : نا هشام بن علي السيرافي نا عبد الله بن رجاء نا حرب بن شداد أن يحيى بن أبي كثير حدثه أن أبا قلابة حدثه عن عبد الرحمن بن شيبة عن عائشة قالت : طرق رسول الله صلى الله عليه و سلم وجع فجعل يتقلب على فراشه فقلت : يا رسول الله لوضح هذا من بعضنا لخشي أن تجد عليه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المؤمن ليشدد عليه و ليس من مؤمن يصيبه نكبة أو وجع إلا حط الله عنه خطيئة و رفع له بها درجة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحاق فقیہ نے اور علی بن حمشاذ عدل نے وہ دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہشام بن علی سیرافی نے ان کو عبداللہ بن رجاء نے ان کو حرب بن شداد نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو حدیث بیان کی ہے کہ ابو قلابہ نے اس کو حدیث بیان کی ہے عبدالرحمٰن بن شیبہ سے اس نے سیدہ عائشہ سے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو رات کو شدید درد شروع ہو گیا تھا جس کی وجہ سے آپ بستر پر الٹ پلٹ ہو رہے تھے۔ میں نے عرض کی یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم اگر یہ تکلیف ہم میں سے کسی کو ہوتی تو وہ ڈرتا کہ آپ اس پر ناراض ہو جا ئیں گے۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک مؤمن پر شدت اور سختی کی جاتی ہے جس مومن کو بھی تکلیف پہنچتی ہے یا درد پہنچتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے گناہ مٹا دیتے ہیں اور اس کے لئے درجہ بلند کر دیتے ہیں۔

عَائِشَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ ← أنَّ أبا قلابةَ ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، أَنْ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السِّيرَافِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه و علي بن حمشاد العدل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10210

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10211

10211 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق عن أبي سلمة الخزاعي أنا الليث عن يزيد بن الهاد عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة قالت : توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم أو قبض بين حاقنتي و ذاقنتي فلا أكره شدة الموت لأحد أبدا بعد الذي رأيت من رسول الله صلى الله عليه و سلم أخرجه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن يوسف عن الليث

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن قاضی نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق نے ان کو ابو سلمہ خزاعی نے ان کو لیث نے ان کو یزید بن ھاذ نے ان کو عبدالرحمٰن بن قاسم نے اپنے والد سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ کی وفات ہوئی تو وہ۔ یا یوں کہا کہ آپ کی روح قبض کی گئی تھی اس حالت میں کہ آپ میری ٹھوڑی کے نیچے میری چھاتی کے ساتھ سہارا لئے ہوئے تھے۔ پس میں موت کی شدت اور سختی کو کسی کے لئے برا نہیں جانتی ہوں کبھی بھی اس کے بعد جب میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی تکلیف دیکھی تھی۔ اس کو بخاری نے نقل کیا صحیح میں عبداللہ بن یوسف سے اس نے لیث سے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← اللَّيْثُ ← أبي سلمة الخزاعي ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10211

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10212

10212 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو أحمد بكر بن محمد الصيرفي نا محمد بن غالب نا قبيصة نا سفيان عن الأعمش عن أبي وائل عن مسروق عن عائشة قالت : ما رأيت أحدا كان أشد الوجع عليه من رسول الله صلى الله عليه و سلم رواه البخاري في الصحيح عن قبيصة و أخرجه مسلم من وجه آخر عن سفيان

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو احمد بکر بن محمد صیرفی نے ان کو محمد بن غالب نے ان کو سفیان نے اعمش سے اس نے ابو وائل سے اس نے مسروق سے اس نے سیدہ عائشہ سے وہ کہتی ہیں میں نے نہیں دیکھا کہ کسی ایک کو بھی جو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے زیادہ شدید تکلیف میں اور درد میں مبتلا ہوتا ہو۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں قدیمہ سے اور مسلم نے لیا ہے دوسرے طریق سے سفیان سے۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10212

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10213

10213 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو علي محمد بن أحمد بن العباس المزكي الطابراني بها أنا علي بن عبد العزيز نا مسلم بن إبراهيم نا المثنى بن سعيد الأزدي نا قتادة عن عبد الله بن بريدة عن أبيه : سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول : إن المؤمن يموت بعرق الجبين

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو علی محمد بن احمد بن عباس مزکی طابرانی نے طاہر ان میں ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان مسلم بن ابراہیم نے ان کو مثنٰی بن سعید ازدی نے ان کو قتادہ نے عبداللہ بن بریدہ سے اس نے اپنے والد سے کہ اس نے سنا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے کہ:ان المؤمنین یموت بعرق الجبین بے شک مومن ۔پیشانی کے پسینے کے ساتھ مرتا ہے۔ (یعنی تکلیف اور مشقت کے ساتھ ) جس سے اس کے گناہ مٹ جاتے ہیں۔

إن المؤمن يموت بعرق الجبين ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← قَتَادَةَ ← المثنى بن سعيد الأزدي ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو علي محمد بن أحمد بن العباس المزكي الطابراني بها ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10213

chevron_left Previous
1…181920…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood