شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10202
10202 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا سعيد بن رميح يقول : سمعت عمر بن محمد بن بجير يقول : خرجت في جنازة أحمد بن صالح بمصر فرأيت على قبر مكتوب : ( قبر عزيز علينا لو أن من فيه يغدى ) ( أسكنت قرة عيني و منية النفس لحدا ) ( ما صار خلق علينا و لا القضاء تعدى ) ( و الصبر أحسن ثوب به الفتى يتردى )
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو سعید بن رمیح سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عمر بن محمد بن بجیر سے وہ کہتے ہیں کہ میں احمد بن صالح کے جنازے میں کیا تھا مصر میں۔ میں نے ایک قبر پر یالکھا ہوا دیکھا۔ اشعار ( تھے جن کا مفہوم یہ ہے) یہ قبر ہمیں عزیز ہے کیونکہ اس کے اندر جو موجود ہے طاعون کی وبا سے ہلاک ہوا ہے میں نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کو اور اپنی امیدوں کے مرکز کو ( یعنی دل کی آرزو کو اس لحد سے میں سکونت دی ہے۔ نہ ہی مخلوق نے ہم سے اس کو جدا کیا ہے اور نہ ہی قضا اور تقدیر نے ہمارے اوپر ظلم زیادتی کی ہے اور صبر کرنے کا سب سے زیادہ خوبصورت لباس ہے اسی کے ساتھ خوبصورت جوان چادر اوڑھتا ہے۔
عمر بن محمد بن بجیر ← أبا سعيد بن رميح ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10202
