شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10190
10190 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عبد الله محمد بن إبراهيم المؤذن قال : سمعت محمد بن عيسى الزاهد يقول : فيما بلغنا أن عبد الرحمن بن مهدي مات له ابن فجزع عليه جزعا شديدا حتى امتنع عن الطعام و الشراب فبلغ ذلك محمد بن إدريس الشافعي رحمه الله فكتب إليه أما بعد فعز نفسك بما تعز به غيرك و لتستقبح من فعلك ما تستقبحه من فعل غيرك و اعلم أن أمضى المصائب فقد سرور مع حرمان أجر فكيف إذا اجتمعا على اكتساب وزر و أقول : ( إني معزيك لا إني على طمع من الخلود و لكن سنة الدين ) ( فما المعزي بباق بعد صاحبه و لا المعزى و لو عاشا إلى حين ) قال : و كانوا يتهادونه بينهم بالبصرة
ہمیں حدیث بیان کی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم مؤذن نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنامحمد بن عیسیٰ زاہد سے وہ کہتے تھے ہمیں جو خبر پہنچی ہے وہ یہ ہے کہ عبدالرحمٰن بن مہدی کا بیٹا فوت ہو گیا تھا لہٰذا اس نے اس پر بہت شدید بے تابی اور بے صبری کا مظاہرہ کیا یہاں تک کہ اس نے اس کے غم میں کھانا پینا چھوڑ دیا چنانچہ یہ خبر امام محمد بن ادریس شافعی تک پہنچی انہوں نے اس کی طرف لکھا امام بعد ! آپ اپنے نفس کو اس چیز کے ساتھ صبر دلائیے جس کے ساتھ آپ کو صبر دلاتے ہیں۔ اور آپ کو چاہئے کہ آپ اپنے اس فعل کو بھی قبیح اور برا سمجھئے جس کو آپ نے دوسروں کے فعل میں قبیح اور برا سمجھتے ہیں۔ اور یقین کیجئے کہ اگر مصائب ختم ہو جائیں تو سرور مفقود ہو جائے اور اجر سے محرومی بھی ( مصائب ہیں تو اجر بھی ملے گا ) اور کیا حال ہو گا اس وقت جب۔ سرور ہی مفقود ہو جائے اجر سے بھی محرومی ہو جائے اور اوپر سے گناہ کا بوجھ بھی ہو جائے۔ اور میں اسی پر شعر کہتا ہوں۔ (خلاصہ مفہوم یہ ہے ) بے شک میں آپ کو تعزیت کرتا اور صبر دلاتا ہوں لیکن اس امید کے ساتھ نہیں کہ آپ ہمیشہ رہیں گے بلکہ اس لئے کہ یہ دین میں سنت ہے اور نہ ہی وہ شخص باقی رہے گا جس کو تعزیت کی جاتی ہے اس کے بعد جس کی یہ تعزیت کی جاتی ہے۔ اور نہ ہی خود تعزیت کرنے والا باقی رہتا ہے اگرچہ دونوں طویل زمانے تک زندہ رہ جائیں۔ فرماتے ہیں کہ یہ شعر لوگوں کو اتنے پسند آئے کہ لوگ بھرے میں ایک دوسرے کو یہ ہدیہ کے طور پر پیش کرتے تھے۔
فيما بلغنا ← محمد بن عيسى الزاهد ← أبو عبد الله محمد بن إبراهيم المؤذن ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10190
