Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10190

10190 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عبد الله محمد بن إبراهيم المؤذن قال : سمعت محمد بن عيسى الزاهد يقول : فيما بلغنا أن عبد الرحمن بن مهدي مات له ابن فجزع عليه جزعا شديدا حتى امتنع عن الطعام و الشراب فبلغ ذلك محمد بن إدريس الشافعي رحمه الله فكتب إليه أما بعد فعز نفسك بما تعز به غيرك و لتستقبح من فعلك ما تستقبحه من فعل غيرك و اعلم أن أمضى المصائب فقد سرور مع حرمان أجر فكيف إذا اجتمعا على اكتساب وزر و أقول : ( إني معزيك لا إني على طمع من الخلود و لكن سنة الدين ) ( فما المعزي بباق بعد صاحبه و لا المعزى و لو عاشا إلى حين ) قال : و كانوا يتهادونه بينهم بالبصرة

ہمیں حدیث بیان کی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم مؤذن نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنامحمد بن عیسیٰ زاہد سے وہ کہتے تھے ہمیں جو خبر پہنچی ہے وہ یہ ہے کہ عبدالرحمٰن بن مہدی کا بیٹا فوت ہو گیا تھا لہٰذا اس نے اس پر بہت شدید بے تابی اور بے صبری کا مظاہرہ کیا یہاں تک کہ اس نے اس کے غم میں کھانا پینا چھوڑ دیا چنانچہ یہ خبر امام محمد بن ادریس شافعی تک پہنچی انہوں نے اس کی طرف لکھا امام بعد ! آپ اپنے نفس کو اس چیز کے ساتھ صبر دلائیے جس کے ساتھ آپ کو صبر دلاتے ہیں۔ اور آپ کو چاہئے کہ آپ اپنے اس فعل کو بھی قبیح اور برا سمجھئے جس کو آپ نے دوسروں کے فعل میں قبیح اور برا سمجھتے ہیں۔ اور یقین کیجئے کہ اگر مصائب ختم ہو جائیں تو سرور مفقود ہو جائے اور اجر سے محرومی بھی ( مصائب ہیں تو اجر بھی ملے گا ) اور کیا حال ہو گا اس وقت جب۔ سرور ہی مفقود ہو جائے اجر سے بھی محرومی ہو جائے اور اوپر سے گناہ کا بوجھ بھی ہو جائے۔ اور میں اسی پر شعر کہتا ہوں۔ (خلاصہ مفہوم یہ ہے ) بے شک میں آپ کو تعزیت کرتا اور صبر دلاتا ہوں لیکن اس امید کے ساتھ نہیں کہ آپ ہمیشہ رہیں گے بلکہ اس لئے کہ یہ دین میں سنت ہے اور نہ ہی وہ شخص باقی رہے گا جس کو تعزیت کی جاتی ہے اس کے بعد جس کی یہ تعزیت کی جاتی ہے۔ اور نہ ہی خود تعزیت کرنے والا باقی رہتا ہے اگرچہ دونوں طویل زمانے تک زندہ رہ جائیں۔ فرماتے ہیں کہ یہ شعر لوگوں کو اتنے پسند آئے کہ لوگ بھرے میں ایک دوسرے کو یہ ہدیہ کے طور پر پیش کرتے تھے۔

فيما بلغنا ← محمد بن عيسى الزاهد ← أبو عبد الله محمد بن إبراهيم المؤذن ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10190

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10191

10191 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا عبد الله بن الحسين الكاتب ببغداد نا ابن الأنباري قال : بلغني أن ابن السماك حضر جنازة فعزى أهلها و قال : عليكم بتقوى الله و الصبر فإن المصيبة واحدة إن صبر لها أهلها و هي اثنتان إن جزعوا و لعمري المصيبة بالأجر أعظم من المصيبة بالميت ثم قال : لو كان من جزع على ميته رد إليه لكان الصابر أعظم أجرا و أجزل ثوابا

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو عبیداللہ بن حسین کاتب نے بغداد میں ان کو ابن الانباری نے وہ کہتے ہیں مجھے خبر پہنچی ہے کہ حضرت ابن سماک ایک جنازے میں پہنچے اور وہاں جنازہ کی تعزیت کی۔ اور ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اللہ سے ڈرنے کو لازم کر لو اور صبر کرنے کو بے شک مصیبت ایک ہے اگر اہل مصیبت اس کے لئے صبر کریں۔ اور اگر بے صبری کریں تو وہ دو ہیں میری زندگی اور جان کی قسم مصیبت اجر کے اندر بہت بڑی ہے میت والی مصیبت سے اس کے بعد فرمایا جو شخص اپنی میت پر بے صبری کرے اگر وہ میت اس کے پاس واپس بھی لوٹا دیا جائے تو پھر بھی صبر کرنے والے کا اجر اس کے مقابلے میں عظیم اور ثواب جزیل ہوتا۔

بلغني أن ابن السماك حضر جنازة فعزى أهلها و ← ابن الأنباري، ← عبد الله بن الحسين الكاتب ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10191

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10192

10192 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت عبد الله بن الحسين الكاتب يقول : سمعت ابن الأنباري يقول : عزى إبراهيم بن يحيى بعض الخلفاء فقال : إن أحق من عرف حق الله فيما أخذ منه من عظم حق الله عنده فما أبقى و اعلم أن الماضي قبلك الباقي لك و أن الباقي بعدك المأجور فيك إن أجر الصابرين فيما يصابون به أعظم من النعمة عليهم فيما يعانون فيه

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن حسین کاتب سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابن الانباری سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم بن یحییٰ نے بعض خلفاء کی تعزیت کی اور فرمایا۔ بے شک زیادہ حقدار ان لوگوں میں سے جواللہ کے حق کو پہچانتا ہے ان چیزوں میں جو اس نے اس سے لے لیا ہے وہ شخص ہے جس کے نزدیک اللہ کا حق عظیم تر ہو۔ ان چیزوں میں جو وہ باقی رکھے۔ یقین جانیئے کہ تم سے پہلے گزر جانے والا وقت باقی ہے تیرے لئے۔ اور جو کچھ تیرے بعد باقی ہو گا وہ تیرے بارے میں اجر دیا جائے گا بے شک صبر کرنے والوں کا اجر ان امور میں جن میں ان کو مصیبت پہنچی ہے اس نعمت سے بہت بڑا ہے جو ان کے اوپر ہوئی ہوتی ہے ان امور میں جن کے اندر ان کی معاونت کی گئی ہوتی ہے۔

عزى إبراهيم بن يحيى بعض الخلفاء ← ابن الأنباري، ← عبد الله بن الحسين الكاتب ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10192

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10193

10193 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت عبد الله بن الحسين يقول : لما تغير الحال على أبي عثمان وقت وفاته مزق ابنه أبو بكر قميصا على نفسه ففتح أبو عثمان عينه و قال : يا بني خلاف السنة في الظاهر من رياء باطن في القلب

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا عبداللہ بن حسین سے وہ کہتے ہیں کہ جب ابو عثمان کی طبیعت بگڑ گئی تھی ان کی وفات کے وقت تو ان کے بیٹے ابو بکر نے اپنی قمیص پھاڑ ڈالی تھی چنانچہ ابو عثمان نے آنکھ کھولی۔ اور فرمایا اے بیٹے ظاہر امور میں سنت کے خلاف کرنا باطن کی ریاء کاری ہے دل میں۔

لما تغير الحال على أبي عثمان وقت ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10193

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10194

10194 - أنشدنا أبو عبد الرحمن السلمي أنشدنا عبد الله بن الحسين الكاتب : أنشدني ابن الأنباري لعبد الله بن المعتز : ( هو الدهر قد جربته و عرفته فصبرا على مكروهه و تجلدا ) ( و ما الناس إلا سابق ثم لاحق و ابن موت سوف يلحقه غدا )

ہمیں شعر بیان کئے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں شعر سنائے عبداللہ بن حسین کاتب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے شعر سنائے ابن الانباری نے عبداللہ بن معتز کے کلام ہے ۔ (خلاصہ مطلب) زمانہ وہی ہے جس کا آپ تجربہ کر چکے ہیں اور اسے پہچان چکے ہیں لہٰذا اس کے ناگوار حالات پر آپ صبر کیجئے اور اپنے آپ کو سخت اور مضبوط کیجئے۔ لوگ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کچھ پیش رو ہیں اور کچھ پیچھے پہنچنے والے ہیں۔ اور موت سے مرنے والے کو عنقریب کل دوسرا بھی لاحق ہو جائے گا۔

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10194

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10195

10195 - أنشدنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : أنشدنا أبو العباس أحمد بن محمد بن عيسى الحافظ المصري لمنصور : ( ما بين كان فلان و بين ابن فلان إلا عقد له ما ينقضي به النفسان )

ہمیں شعر سنائے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں ہمیں شعر سنائے ابو العباس احمد بن محمد بن عیسیٰ حافظ مصری نے منصور کے کلام سے۔ (مفہوم) فلاں شخص تھا اور اب اس کا بیٹا ہے اس بات کے درمیان بس صرف ایک عقد ہے جس کے ساتھ صرف دو سانس ہی گزرتے ہیں۔

أنشدنا أبو عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10195

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10196

10196 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا عبد الله بن علي الدقيقي نا السراج نا محمد بن الحسين بن الحذاء قال : قال سهل بن هارون للتهنئة على آجل ثواب أولى من التعزية على عاجل المصيبة

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو عبداللہ بن علی دقیقی نے ان کو سراج نے ان کو محمد بن حسین بن حذاء نے وہ کہتے ہیں کہا سہل بن ہارون نے کہ آخرت کے ثواب پر مبارک بادی زیادہ بہتر ہے دنیا کی مصیبت پر تعزیت کرنے سے۔

محمد بن الحسين بن الحذاء ← السَّرَّاجُ: ← عبد الله بن علي الدقيقي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10196

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10197

10197 - قال : و حدثنا محمد بن الحسين قال : كتب رجل إلى بعض إخوانه يعزيه من أيقن بالثواب عد المصيبة نعمة و مصيبة وجب أجرها خير من نعمة لا يؤدى شكرها

کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی محمد بن حسین نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے بعض بھائیوں کو لکھا تھا جب کہ دوا سے تعزیت کر رہا تھا۔ جو شخص ثواب کا یقین رکھتا ہے وہ مصیبت کو بھی نعمت تصور کرتا ہے۔ اور وہ مصیبت جو اجرو ثواب کو لازم کرے وہ اس نعمت سے بہتر ہے جس نعمت کا شکر ادا نہ کیا جائے۔

مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10197

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10198

10198 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا سعيد المؤذن يقول : سمعت أبا العباس سعيد السراج يقول : مات أبو الحسن بن عبد العزيز الجردي فدخلت على أمه فقلت لها : تعزي فقالت : مصيبتي أعظم من أن أفسدها بجزع

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو سعید مؤذن سے وہ کہتے تھے میں نے سنا ابو العباس سعید سراج سے وہ کہتے تھے کہ ابو الحسن بن عبدالعزیز جردی فوت ہو گئے تھے۔ چنانچہ میں ان کی والدہ کے پاس پہنچا اور میں نے کہا کہ آپ صبر کیجئے ۔ وہ کہنے لگی کہ میری مصیبت بہت بڑی ہے اس سے کہ میں اس کو بے صبری کے ساتھ لگا سکوں۔

أبا العباس سعيد السراج ← أبا سعيد المؤذن ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10198

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10199

10199 - حدثنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو منصور محمد بن إبراهيم الفقيه أنا الحسن بن أحمد الصوفي نا العلاء بن هلال قال : قيل للعتبي : مات محمد بن عباد فقال : نحن متنا بفقده و هو حي بمجده

ہمیں حدیث بیان کی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو منصور محمد بن ابراہیم فقیہ نے ان کو حسن بن احمد نے ان کو خبر دی صوفی نے ان کو علاء بن بلال نے وہ کہتے ہیں کہ عتبی سے کہا گیا تھا کہ محمد بن عباد مر گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سے محروم ہو کر ہم مر گئے ہیں وہ تو اپنی بزرگی اور عظمت کی وجہ سے زندہ جاوید ہے۔

نحن متنا بفقده و هو حي بمجده ← قيل للعتبي مات محمد بن عباد ← الْعَلَاءُ بْنُ هِلَالٍ ← الحسن بن أحمد الصوفي ← أبو منصور محمد بن إبراهيم الفقيه ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10199

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10200

10200 - أنشدنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : أنشدني يوسف بن صالح اليشكري قال : أنشد بعض إخواني : ( و قلت أخي قالوا أخ من قرابة فقلت نعم إنا السلوك أقارب ) ( يسيني في أرى و غرمي و منصبي و إن باعدتنا في الديار المناسب ) ( عجبت لصبري بعده و هو ميت و قد كنت أبكيه دما و هو غائب ) ( علي إنما الأيام قد صرن كلها عجائب حتى ليس فيها عجائب )

ہمیں شعر سنائے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے شعر سنائے یوسف بن صالح بشکری نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے بعض احباب نے شعر کہے تھے۔ (مفہوم) میں نے کہا ہے کہ وہ میرا بھائی ہے ان لوگوں نے کہا کہ بھائی قرابت اور رشتہ داری سے ہوتا ہے میں نے جواب دیا کہ جی ہاں بے شک اہل سلوک ومحبت اقارب اور رشتہ دار ہوتے ہیں۔ میری قسم میں اور میر کی رائے میں میرے قرض میں اور میرے منصب میں اگرچہ اب ہمیں ایک دوسرے سے مختلف دیار میں دور کر دیں مجھے میرے صبر کرنے پر تعجب ہے حیرانی ہے اس کے بعد حالانکہ مر چکا ہے۔ حالانکہ میں اس کے پیچھے خون کے آنسو روتا تھا وہ غائب ہوتا تھا حقیقت یہ ہے کہ تمام ایام مجھ پر عجائب بن چکے ہیں یہاں تک کہ اب ان میں کوئی عجائبات نہیں رہے۔

أخ من قرابة فقلت نعم ← أنشد بعض إخواني و قلت أخي ← أنشدني يوسف بن صالح اليشكري ← أنشدنا أبو عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10200

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10201

10201 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني قال : سمعت أبا بكر محمد بن عبد الله الرازي يقول : سمعت يوسف بن الحسين الرازي يقول : سمعت ذا النون المصري يقول : كنت في الطواف و إذا أنا بجاريتين قد أقبلتا فتعلقت إحداهما بأستار الكعبة فإذا هي تقول : ( أما لفتاة جرد و الهجر بينهما و بين الذي تهواه يا رب من وصل ) ( حججت و لم أحج لسوء عملته و لكن لتعذيبي على قاطع الحبل ) ( ذهبت بعقلي في هواه صغيرة فقد كبرت سني فرد به عقلي ) ( و إلا فساء الحب بيني و بينه فإنك يا مولاي توصف بالعدل ) قال : فصحت بها فقلت : ويحك أمثل هذا الشعر يقال لله عز و جل فقالت : إليك عني يا ذا النون فلو أطلعك الخبير على الضمير لرحمت من عزلت بمرو بيت الأخرى فقالت : يا ذا النون لأقولن أعجب من هذا ثم أنشأت تقول : ( صبرت و كان الصبر مغبة و هل جزع يجري علي فأجزع ) ( صبرت على ما تحمل بعضه جبال مرودي لأصبحت تتصدع ) ( ملكت دموع العين ثم رددتها إلى ناظري فالعين في القلب تدفع ) قلت : من ماذا يا جارية فقالت : من مصيبة تالتني لم تصب أحدا قط قلت : و ما هذه المصيبة قالت : يا ذا النون كان لي شبلان يلعبان أمامي و كان أبوهما ضحى بكبشين فقال أحدهما لأخيه : يا أخي أريك كيف ضحى أبونا فنام أحدهما و أخذ الآخر شفرة فنحره و هرب القاتل فدخل أبوهما فقلت : إن ابنك قتل أخاه فهرب فخرج في طلبه فوجده قد افترسه السبع فرجع الأب فمات في الطريق ظمأ و جوعا و كان لي طفل صغير و كنت أطبخ قدرا فغفلت عنه فأصاب فسقط القدر عليه فمات حرقا قال ذو النون : فلم أسمع بشيء أعجب من ذلك

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر محمد بن عبداللہ رازی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یوسف بن حسین رازی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ذوالنون مصری سے وہ کہتے تھی کہ میں طواف کر رہا تھا یکایک میں نے دو لڑکیوں کو دیکھا جو سامنے آئیں اور ان میں سے ایک غلاف کعبہ سے لپٹ گئی اور اس نے یہ شعر پڑھنے شروع کئے ۔ ( جن کا مفہوم یہ ہے ) کیا قصور ہے اس جوان عورت کا جو اکیلی رہ گئی ہے اور اس کے درمیان اور جس سے وہ عشق کرتی ہے دائمی جدائی واقعی ہو گئی ہے اے میرے رب کون ملاپ کرائے گا۔ میں حج کر رہی ہوں مگر اس لئے نہیں کر رہی ہوں کہ میں نے کوئی برا کام کیا ہے۔ بلکہ اس عذاب اور سزا کی وجہ جو مجھ پر آئی ہے جس نے زندگی کو کاٹ کر ختم کر دیا ہے اس کے عشق میں میری عقل چلی گئی ہے اس وقت سے جب میں صغیر سن تھی اب تو میری عمر بڑی ہو چکی ہے۔ اب تو میری عقل و ہوش واپس لوٹا دے۔ ورنہ میرے اور اس کے درمیان محبت بری ہو جائے گی اے میرے مولا تو تو انصاف کی صفت سے موصوف ہے۔ ذوالنون مصری فرماتے ہیں کہ میں نے اس عورت کو نصیحت کی اور میں نے کہا کہ اللہ کی بندی کیا ایسے شعر بھی اللہ پاک کی بارگاہ میں کہے جاتے ہیں؟ اس عورت نے کہا۔ اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو اے ذوالنون اگر تمام حالات سے باخبر ذات تمہیں دلوں کے احوال پر مطلع کر دے تو تم بھی اس بندی پر رحم کرو گے جو اکیلی رہ گئی ہے راستے میں۔ اور گھر میں۔ کہنے لگی اے ذوالنون میں اس سے بھی زیادہ تعجب اور حیران کن قول کروں گی۔ اس کے بعد اس نے یہ شعر کہنا شروع کئے۔ (مفہوم) میں صبر کر بیٹھی ہوں حالانکہ صبر غائب ہو چکا تھا۔ کیا ہے کوئی بے صبری جو مجھے پر جاری ہو اور میں بے صبری کروں۔ میں نے تو ان مصائب پر صبر کیا ہے کہ ان میں سے تھوڑی سی بھی اگر پہاڑ برداشت کر لیں تو ان کے بھی جگر پاش پاش ہو جائیں۔ میں نے آنکھوں کے آنسو پر کنٹرول کر لیا ہے پھر میں نے ان کو واپس کر دیا ہے ناظرین کی طرف لہٰذا آنکھ دل میں جھانکنے لگی ہے۔ اس کی بعد میں نے اس عورت سے پوچھا کہ پریشانی کیا ہے۔ اے لڑکی ۔ کیوں یہ رونا رو رہی ہو، وہ کہنے لگی کہ اس مصیبت کی وجہ سے ہے جو مجھ پر واقع ہو گئی ہے، جو مجھ سے پہلے کبھی کسی پر نہیں پڑی۔ اس عورت سے پوچھا کہ وہ کون سی مصیبت ہے ؟ وہ کہنے لگی اے ذوالنون میرے دو شیر کے بچوں جیسے دو بیٹے تھے جو میرے سامنے کھیلتے رہتے تھے۔ ایک دن ان کے والد نے ان کے سامنے دو مینڈھے ذبح کئے تھے لہٰذا ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا بھائی میں آپ کو دکھلاؤں گا کہ ابا نے اپنا مینڈھا کیسے ذبح کیا تھا لہٰذا ایک بھائی سو گیا تو دوسرا کہیں سے چھری اٹھا کر لے آیا اور اپنے سوتے ہوئے بھائی کو ذبح کر ڈالا اور جب اس قتل کو دیکھا تو ڈر کر بھاگ گیا۔ اب جو ان کا والد گھر میں داخل ہوا اس نے یہ منظر دیکھا اور پوچھا کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا ہے میں نے بتایا کہ تیرے بیٹے نے یہ کچھ کیا ہے۔ چنانچہ باپ بیٹے کی تلاش میں نکل گیا۔ وہ جا کر کیا دیکھتا ہے کہ جنگل کے درندوں نے اس کو پھاڑ دیا ہے اب باپ جب واپس لوٹا تو بھوکا پیاسا تھا ۔ وہ راستے میں مر گیا بھوک پیاس کی وجہ سے۔اور باقی میرا ایک چھوٹا سا بیٹا رہ گیا تھا میں ہنڈیا چڑھا رہی تھی میں ذرا سی اس سے غافل ہوئی تھی کہ وہ ہنڈیا کے پاس پہنچ گیا لہٰذا وہ ہنڈیا اس کے اوپر گر گئی سودہ بھی جل کر مر گیا۔ ذوالنون مصری نے کہا میں نے اس سے زیادہ حیرانی اور پریشانی کی خبر کبھی نہیں سنی۔

ذَا النُّونِ الْمِصْرِيَّ ← يوسف بن الحسين الرازي ← أبا بكر محمد بن عبد الله الرازي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10201

chevron_left Previous
1…171819…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood