Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10178

10178 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا أبو عثمان الخياط قال : سمعت السري يقول : هلك ابن لعون بن عبد الله فكتب إليه عمر بن عبد العزيز أما بعد فإنا ناس من أهل الآخرة أسكنا الدنيا أموات و أبناء أموات فعجب لميت يكتب إلى ميت يعزيه عن ميت

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابو عثمان خیاط نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سری سے وہ کہتے ہیں کہ ابن عون بن عبداللہ ہلاک ہو گئے تھے چنانچہ عمر بن عبدالعزیز نے اس کے والد کو لکھا۔ اما بعد بے شک ہم لوگ اہل آخرت کے لوگ ہیں جو کہ دنیا میں سکونت پذیر ہیں ہم سب مردہ ہیں اور مردوں کی اولاد ہیں حیرانی کی بات ہے کہ ایک میت دوسرے میت کی طرف خط لکھ رہا ہے اور اس کو ایک میت کے لئے تعزیت کر رہا ہے۔

مَيِّتٍ ← ناس من أهل الآخرة أسكنا الدنيا أموات و أبناء أموات فعجب لميت يكتب إلى ميت يعزيه ← إليه عمر بن عبد العزيز أما بعد ← هلك ابن لعون بن عبد الله ← السَّرِيُّ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْخَيَّاطُ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10178

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10179

10179 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق نا والدي نا محمد بن المسيب قال : سمعت عبد الله بن خبيق يقول : قال سفيان : مات ابن لرجل فأتاه عبد الله بن ثعلبة يعزيه فقال له : إن أباك كان أصلك و إن ابنك كان فرعك و إن امرأ ذهب أصله و فرعه لحري أن يقل بقاؤه

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ان کے والد نے ان کو محمد بن مسیب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن خبیق سے وہ کہتے ہیں کہ سفیان نے کہا ایک آدمی کا بیٹا فوت ہو گیا تھا چنانچہ اس کے پاس جناب عبداللہ بن ثعلبہ تعزیت کرنے آئے اور اس سے کہا کہ بے شک تیرا باپ تیرا اصل تھا اور تیرا بیٹا تیری شارخ تھی بے شک وہ آدمی جس کی اصل اور شاخ دونوں ختم ہو جائیں وہ اسی بات کے لائق ہے کہ اس کی بقا بھی بہت کم ہو ۔

سفيان مات ابن لرجل فأتاه عبد الله بن ثعلبة يعزيه ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خُبَيْقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ← وَالِدِي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10179

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10180

10180 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا عبد الله بن روح المدايني نا عبيد الله بن محمد العيشي نا سهم بن عبد الحميد قال : سمعت يونس بن عبيد و عزاه عمرو بن عبيد على ابن له يقال له عبد الله قال : و كأن فيما عزاه أن قال : إن أباك كان أصلك و أن ابنك كان فرعك و أن امرأ ذهب أصله و فرعه لحري أن يقل بقاؤه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عبداللہ بن روح مدائنی نے ان کو عبداللہ بن محمد عیشی نے ان کو سہم بن عبدالحمید نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا یونس بن عبید سے اور ان کی تعزیت کی عمرو بن عبید نے اس کے بیٹے کی وفات پر جس کا نام عبداللہ تھا۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے تعزیت کرتے ہوئے یوں کہا۔ کہ بے شک تیرا والد تیری اصل تھا۔ اور بے شک تیرا بیٹا تیری شاخ تھا اور وہ شخص جس کی اصل اور فرع ( تنا اور شاخیں) ختم ہو جائیں ۔ البتہ وہ اسی لائق ہے کہ اس کی بقا بھی کم رہ گئی ہو۔

سَهْمِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ؛ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَيْشِيُّ ← عبد الله بن روح المدائني ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10180

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10181

10181 - قال الشيخ رواه غيره عن العشي عن سهل بن يوسف قال : سمعت عمرو بن عبيد يعزي يونس بن عبيد في ابن له حدثنا أبو محمد بن يوسف أنا منصور بن محمد بن إبراهيم نا محمد بن الحسن الأديب نا الفضل بن محمد نا عبيد الله العاشي : فذكره

شیخ نے کہا کہ اس کو روایت کیا ہے اس کے ماسوا نے عیشی سے اس نے سہل بن یوسف سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عمرو بن عبید سے کہ وہ تعزیت کر رہے تھے یونس بن عبید سے اس کے بیٹے کے لئے۔ وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ابو محمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی منصور بن محمد بن ابراہیم نے ان کو محمد بن حسن ادیب نے ان کو فضل بن محمد نے ان کو عبیداللہ عاشی نے پھر اس نے مذکورہ روایت بیان کی ہے۔

عبيد الله العاشي فذكره ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← محمد بن الحسن الأديب ← منصور بن محمد بن إبراهيم ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← عمرو بن عبيد يعزي يونس بن عبيد في ابن له ← سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، ← العشي ← الشيخ رواه غيره

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10181

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10182

10182 - أخبرنا الروذباري أنا أحمد بن كامل القاضي نا الحارث نا ابن محمد أنا أبو الحسن المدائني عن عمر بن غياث عن محمد بن حارث قال : لما دفن عمر ابنه وقف على قبره فقال : قد شغلنا الحزن لك عن الحزن عليك ليت شعري ماذا تقول و ماذا يقال لك لولا هول المطلع لتمنيت اللحاق بك اللهم إني قد وهبت له ما قصر فيه من بري فاغفر له ما قصر فيه من طاعتك

ہمیں خبر دی روذباری نے ان کو احمد بن کامل قاضی نے ان کو حارث نے ان کو ابن محمد نے ان کو ابو الحسن مدائنی نے ان کو عمر بن غیاث نے ان کو محمد بن حارث نے وہ کہتے ہیں کہ جب عمر نے اپنے بیٹے کو دفن کر دیا تو پھر اس کی قبر پر ٹھہر کر فرمایا۔ (مرنے والے کو مخاطب کر کے کہا ) تیرے اوپر رونے کی وجہ سے تیرے لئے کوئی بھی فکر کرنے سے ہم قاصر ہو گئے ہیں کاش کہ مجھے معلوم ہو جا تاکہ تم سے کیا پو چھا جائے گا اور آپ اس کا کیا جواب دیں گے۔ اگر منظر ہولناک نہ ہوتا تو میں بھی تیرے ساتھ مل جانے کی آرزو کرتا۔ اے اللہ میرے ساتھ نیکی کرنے میں جو اس نے جو کوتاہی کی میں نے اس کو دے دیا ہے اور بخش دیا ہے اور آپ کی اطاعت میں اس نے جو کوتاہی کی ہے اللہ تو بھی اس کو معاف کر دے۔

قد شغلنا الحزن لك ← لما دفن عمر ابنه وقف على قبره ← مُحَمَّدُ بْنُ حَارِثٍ، ← عمر بن غياث ← أَبُو الْحَسَنِ الْمَدَائِنِيُّ: ← ابن محمد ← الْحَارِثِ ← أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي ← الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10182

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10183

10183 - و بإسناده عن محمد بن حرب قال : عزى رجل نصراني رجلا فقال : مثلي لا يعزي مثلك و لكن أنظر ما زهد فيه الجاهل فأرغب فيه

اور اپنی اسناد کے ساتھ مروی ہے کہ محمد بن حرب سے وہ کہتے ہیں کہ ایک عیسائی آدمی نے دوسرے آدمی کی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ میرے جیسا آدمی تیرے جیسے آدمی کی تعزیت نہیں کرتا لیکن آپ دیکھئے کہ جاہل و بے خبر آدمی جس طرن کسی چیز سے بے رغبت ہوتا ہے آپ اسی میں رغبت کریں۔ ( جو شخص ایک چیز کو سرے سے جانتاہی نہیں وہ کس قدر بے رغبت ہو گا )

عزى رجل نصراني رجلا ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10183

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10184

10184 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو نصر بن عمر نا حمدون بن الفضل نا محمد بن عيسى الطرسوسي نا حامد بن يحيى البلخي قال : سمعت سفيان بن عيينة يقول لما مات ذر بن عمر بن ذر وقف عمر بن ذر على شفير قبره و هو يقول : يا بني شغلني الحزن لك على الحزن عليك فليت شعري ما قلت و ما قيل لك : اللهم إنك أمرته بطاعتك و أمرته ببري فقد وهبت له ما قصر فيه من حقي فهب له ما قصر فيه من حقك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو نصر بن عمر نے ان کو حمدون بن فضل نے ان کو محمد بن عیسیٰ طرسوسی نے ان کو حامد بن یحییٰ بلخی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سفیان بن عیینہ ہے وہ کہتے ہیں جب ذر بن عمر بن ذر کا انتقال ہو گیا تو عمر بن ذراس کی قبر کے کنارے پر بیٹھ کر کہہ رہے تھے اے بیٹے تیرے غم نے تیرے اوپر غم کرنے سے مجھے مصروف کر رکھا ہے۔ اے کاش کہ میں جان لیتا کہ آپ سے کیا کہا گیا اور آپ نے کیا کہا۔ اے اللہ آپ نے اس کو میرے ساتھ نیکی کرنے کا اور آپ کی اطاعت کرنے کا حکم فرمایا تھا تو اس نے میرے حق میں جو کوتاہی کی تھی اس کو معاف کر دیا ہے۔ اور اس نے آپ کے حق میں جو کوتاہی کی ہے آپ بھی اس کو معاف کر دیجئے۔

سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ← محمد بن عيسى الطرسوسي، ← حمدون بن الفضل ← أبو نصر بن عمر ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10184

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10185

10185 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني محمد بن حامد حدثني أبو محمد بن منصور نا محمد بن عبد الوهاب أخبرني علي بن عثام عن إسماعيل بن سهيل قال : جاء ذر بن عمر و قد اشترى كذا أو معه جمال فسقط فمات فقيل لأبيه عمر و كان يكنى به : مات ذر قال : فجاء فأكب عليه ثم قال : ما علينا من موت ذر غصاصة و ما لنا إلى أحد سوى الله حاجة ثم قال : جهزوا ابني فلما كان عند القبر قال : شغلنا يا ذر الحزن لك عن الحزن عليك ليت شعري ما قيل لك و ما قلت ثم قال : اللهم إني قد وهبت أجري من مصيبتي له فلا تعذبه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ حدیث بیان کی محمد بن حامد نے ان کو ابو محمد بن منصور نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو خبر دی علی بن عثام نے ان کو اسمائیل بن سہیل نے وہ کہتے ہیں ذر بن عمر آئے حالانکہ انہوں نے اتنے خرید کئے یا یوں کہا کہ ان کے ساتھ اونٹ تھے چنانچہ وہ گر کر ہلاک ہو گئے لہٰذا ان کے والد عمر کو بتایا گیا ۔ جب کہ والدہ کی کنیت بھی انہیں کے نام سے تھی (یعنی ابو ذر ) بتایا گیا کہ ذر کا انتقال ہو گیا ہے۔ کہتے ہیںکہ والد آئے اور آ کر بیٹے کی میت پر اوندھے گر گئے۔ اس کے بعد کہنے لگے ہمارے اوپر ڈر کی موت سے گلوگیری نہیں ہے۔ اور ہمیں اللہ کے سوا کسی سے کوئی حاجت نہیں ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ میرے بیٹے کی تیاری کرواؤ۔ جب قبر کے پاس آئے تو فرمایا تیرے لئے فکر مندی کرنے سے ہم تیرے اوپر رونے سے مصروف اور قاصر ہو گئے ہیں۔ کاش کہ مجھے پتہ چل جاتا کہ آپ سے کیا کہا گیا اور تم نے کیا کہا۔ پھر فرمایا اے اللہ میں نے اپنی اس مصیبت پر ملنے والا اجر اپنے بیٹے کے لئے ہبہ اور ہدیہ کر دیا ہے لہٰذا اس کو آپ عذاب نہ دینا۔

إسماعيل بن سهيل ← عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أبو محمد بن منصور ← محمد بن حامد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10185

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10186

10186 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنبأني أبو العباس بن يعقوب فيما أجازه له محمد بن عبد الوهاب قال : قال علي بن عثام و قال عمر بن ذر : إن لكل الهموم موتة تحتمل إلا ما كان من هم الآخرة 10186 - مكرر ـ قال : و سمعت عليا يقول لنصر بن زياد : بلغني عن ابن جريج أنه عزى رجلا فقال : أسل صابرا قبل أن تسلو ناسيا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اس نے کہا کہ مجھے خبر دی ابو العباس بن یعقوب نے اس میں جو اس کو اجازت دی تھی محمد بن عبدالوہاب نے وہ کہتے ہیں علی بن عثام نے کہا اور کہا عمر بن ذر نے بے شک تمام فکرات کے لئے موت ہوتی ہے جو برداشت ہو سکتی ہے مگر جو آخرت کی فکر ہوتی ہے ( اس کو موت نہیں ہوتی ۔) ( مکرر ہے ) کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی سے وہ کہتے تھے نصر بن زیاد سے مجھے خبر پہنچی ہے ابن جریج سے کہ انہوں نے ایک آدمی کی (اس طرح) تعزیت کی میں تسلی دیتا ہوں صبر کرنے والے کو اس سے پہلے کہ تم تسلی دو بھولنے والے کو ۔

عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ← علي بن عثام و ← أبو العباس بن يعقوب فيما أجازه له محمد بن عبد الوهاب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10186

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10187

10187 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا أبو عثمان الخياط قال : سمعت الحسن الهمداني يقول : توفي للرشيد ابن فكتب إليه الفضيل بن عياض أما بعد يا أمير المؤمنين فإن استطعت أن يكون شكرك له حين أخذه منك أفضل من شكرك له حين وهبه لك يا أمير المؤمنين إنه جل ثناؤه لما وهبه لك أخذ هبته و لو بقي لك لم تسلم من فتنته أرأيت جزعك عليه و تلهفك على فراقه أرضيت الدنيا لنفسك و ترضاها لابنك أما هو قد خلص من الكدر و بقيت أنت في الخطر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابو عثمان خیاط نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسن ہمدانی سے وہ کہتے ہیں ہارون رشید کا ایک بیٹا فوت ہو گیا تھا۔ لہٰذا حضرت فضیل بن عیاض نے اس کی طرف لکھا اما بعد اے امیر المومنین اگر آپ کو اس بات کی طاقت ہے کہ آپ کا شکر کرنا اس وقت جب اس کو اللہ نے لے لیا ہے آپ کے اس وقت کے شکر کرنے سے افضل ہو جب اس نے یہ آپ کو عطا کیا تھا تو آپ ضرور ایسا کریں۔ امیر المؤمنین اس نے آپ کو عطا کیا تھا اب اس نے اپنی عطا اور ہبہ واپس لے لیا ہے اگر وہ باقی رہتا تو آپ فتنہ اور آزمائش سے نہیں بچ سکتے تھے ۔ آپ نے اس پر اپنی بے صبری دیکھی ہے اور اس کی جدائی پر اپنا افسوس کرنا دیکھا ہے۔ کیا آپ نے دنیا کو اپنے لئے پسند کیا ہے کہ آپ اس کو اپنے بیٹے کے لئے پسند کریں گے آگاہ ہو جائے کہ وہ کیچڑ وآلودگی سے چھٹکارا پا گیا ہے جب کہ آپ ابھی تک خطرے میں گھرے ہوئے ہیں۔

توفي للرشيد ابن ← الحسن الهمداني ← أَبُو عُثْمَانَ الْخَيَّاطُ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10187

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10188

10188 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن نا أبو عثمان قال : سمعت السري يقول : سمعت رجلا يسأل الفضيل قال له : يا أبا علي علمني الرضا فقال له الفضيل : يا ابن أخي ارض عن الله فبرضاك عن الله يهب لك الرضا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن نے ان کو ابو عثمان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سری سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا ایک آدمی سے جس نے فضیل بن عیاض سے پوچھا تھا۔ اس نے کہا اے ابو علی آپ مجھے رضا سکھلائیے۔ حضرت فضیل نے اس کو جواب دیا اے بھتیجے آپ اللہ سے راضی ہو جائیے بس اللہ تعالیٰ سے تیرا راضی ہو جانا جو ہے وہ تجھے اس کی رضا ہبہ کر دے گا اور عطا کر دے گا۔

الله يهب لك الرضا ← الله فبرضاك ← له الفضيل يا ابن أخي ارض ← له يا أبا علي علمني الرضا ← رجلا يسأل الفضيل ← السَّرِيُّ، ← أَبُو عُثْمَانَ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10188

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10189

10189 - أخبرنا أبو سعيد بن عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني أبو بكر التيمي نا عبد الله بن صالح حدثني الليث حدثني حميد الطويل عن مطرف بن عبد الله الجرشي قال : شهدت جنازة ثم اعتزلت من ناحية قريبا من قبر فركعت ركعتين خففتهما لم أرض إنفاقهما قال : فنعست فرأيت صاحب القبر يكلمني فقال : ركعت ركعتين لم ترض إنفاقهما فقلت : قد كان ذلك قال : تعلمون و لا تعلمون و لا تستطيع أن تعمل لأن أكون ركعت مثل ركعتيك أحب إلي من الدنيا بحذافيرها فقلت : من هاهنا ؟ فقال : كلهم مسلم و كلهم قد أصاب خيرا فقلت : من هاهنا أفضل ؟ فأشار إلى القبر فقلت في نفسي : اللهم ربنا أخرجه إلي فأكلمه قال : فخرج من قبره فتى شاب فقلت : أنت أفضل من هاهنا ؟ قال : قد قالوا ذلك قلت : فبأي شيء نلت ذلك فوالله ما أرى لك تلك السن فأقول نلت ذلك بطول الحج و العمرة و الجهاد في سبيل الله عز و جل و العمل قال : ابتليت بالمصائب فرزقت الصبر عليها فبذلك فضلتهم

ہمیں خبر دی ابو سعید بن عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو حدیث بیان کی ابو بکر تمیمی نے ان کو عبد الله بن صالح نے ان کو لیث نے ان کو حمید طویل نے مطرف بن عبداللہ جرشی سے وہ کہتے ہیں کہ میں ایک جنازے کے ساتھ قبرستان گیا ہوا تھا پھر میں وہاں پر ایک کونے میں علیحدہ ہو گیا ایک قبر کے قریب میں نے دو رکعت نماز پڑھی میں نے مختصر کیا نماز کو مگر میں نماز ختم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ کہتے ہیں کہ مجھے وہاں پر اونگھ آ گئی۔ میں کیا دیکھتا ہوں یہ قبر والا انسان مجھ سے بات کر رہا ہے ، اس نے کہا کہ آپ نے دورکعت نماز پڑھی ہے جب کہ آپ اس کو ختم کرنے پر خوش نہیں تھے۔ میں نے بتایا کہ جی ہاں بات تو اسی طرح ہی ہے۔ اس نے کہا کہ تم لوگ جانتے تو ہو مگر عمل نہیں کرتے ہو مگر ہم لوگ عمل نہیں کر سکتے اگر میں تیری ان دو رکعت کی مثل دو رکعت پڑھ سکتا تو مجھے وہ ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہوتیں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہاں پر کون لوگ ہیں اس نے جواب دیا کہ سارے ہی مسلمان ہیں۔ اور سب ہی نے خیر پائی ہے میں نے پوچھا کہ یہاں پر سب سے افضل کون ہے اس نے ایک قبر کی طرف اشارہ کیا۔ لہٰذا میرے دل میں خیال آیا کہ اے اللہ اس کو باہر نکال میرے پاس تاکہ میں اس سے بھی کلام کروں کہتے ہیں اتنے میں وہ بھی اپنی قبر سے نکل آیا جو جوان عمر آدمی تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ یہاں پر سب سے افضل ہیں؟ اس نے کہا کہ یہ لوگ یہی بات کہتے ہیں ۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ نے یہ مقام کیسے پا لیا ہے اللہ کی قسم میں آپ کی اتنی عمر نہیں دیکھ رہا ہوں کہ میں یہ سوچوں کہ آپ نے یہ مقام لمبے لمبے حج اور عمرے اور جہاد فی سبیل اللہ سے پایا ہے اور لمبے عمل سے پایا ہے۔ اس نے بتایا کہ میں بڑے مصائب میں مبتلا کیا گیا تھا اور مجھے اس پر صبر کرنے کی توفیق ملی تھی بس اسی وجہ سے میں ان پر فضیات دیا گیا ہوں۔

مطرف بن عبد الله الجرشي ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← أبو بكر التيمي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ عَمْرٍو

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10189

chevron_left Previous
1…161718…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood