شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10166
10166 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو و أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا أحمد بن إبراهيم بن كثير نا أبو داود عن مبارك بن فضالة قال : شهدت الحسن في مسجد الجامع و جاء رجل من فارس فقال : إني لم أجيء حتى مات سعيد بن أبي الحسن قلنا : فلا تخبره قال : و كانا قلنا أخبره فما ترك الحسن يبلغ إلى البيت حتى نعاه إليه فقال : فما تمالك الحسن أن وضع يده على الحائط ثم قال : دخلنا عليه و لما نفق يبكي و معنا بكر بن عبد الله المزني فقال : يا أبا سعيد إنك تعلم هذا المصر و مودتهم و إنهم لا يرون منك اليوم شيئا إلا سعوا به إلى عشائرهم و قبائلهم فتكلم الحسن فقال : الحمد لله الذي جعل هذه الرحمة في قلوب المؤمنين فرحم بها بعضهم بعضا تدمع العين و يحزن القلب و ليس ذلك بالجزع إنما الجزع ما كان من اللسان و اليد الحمد لله الذي لم يجعل حزن يعقوب عليه ذنبا إذ قال : { و ابيضت عيناه من الحزن فهو كظيم } رحم الله سعيدا و تجاوز عن سيئته في أصحاب الجنة وعد الصدق الذي كانوا يوعدون ثم قال : و الله ما كانت لتنزل شديدة إلا أن يكون به دوني قال أبو داود قلت للمبارك : ما كان الحسن يرد عليهم إذا عزوه قال : كان يقول : فعل الله ذلك بنا و بكم
ہمیں خبر دی ابو سعدی بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو د نیا نے ان کو احمد بن ابراہیم بن کثیر نے ان کو ایو داؤد نے ان کو مبارک بن فضالہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں جامع مسجد میں حضرت حسن کے پاس حاضر ہوا۔ اور ایک آدمی فارس سے بھی آ گیا۔ اس نے بتایا کہ میں جب آیا ہوں تو اس وقت حضرت کے بیٹے سعید بن ابو الحسن فوت ہو چکے تھے۔ ہم لوگوں نے کہا۔ کہ آپ ان کو اس کی خبر نہ دیں (یعنی ان کے بیٹے کی وفات کی خبر ) کہتے ہیں ایسے لگا جیسے ہم نے اس سے کہہ دیا ہو کہ تم ان کو خبر دے دینا۔ ابھی تک وہ گھر تک بھی نہیں پہنچے تھے کہ ہم نے ان کو ان کے بیٹے کی موت کی خبر دے دی چنانچہ وہ اپنے اختیار پر قابو نہ رکھ سکے انہوں نے اپنا ہاتھ دیوار پر کھا لیا۔ پھر کہا کہ ہم لوگ ان کے پاس داخل ہوئے تو وہ رو رہے تھے۔ اور ہمارے ساتھ بکر بن عبداللہ مزنی بھی تھے انہوں نے پوچھا اے ابو سعید بے شک آپ جانتے ہیں اس شہر کو اور اس کے رہنے والوں کی محبت کو بے شک وہ لوگ نہیں دیکھتے آپ سے کسی چیز کو مگر اس کو لے دوڑتے ہیں اپنی قوم اور اپنے قبیلے کی طرف چنانچہ حضرت حسن نے تکلم کیا اور یوں گویا ہوئے اللہ کا شکر ہے جس نے اس رحمت کو مؤمنوں کی دلوں میں پیدا کر دیا ہے جس کے ساتھ وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں آنکھ آنسو بہاتی ہے دل غمگین ہوتا ہے جب کہ یہ بات جزع فزع اور بے صبری کرنا نہیں ہے یقیناً ہے میری زبان اور ہاتھ سے ہوتی ہے اللہ کا شکر ہے جس نے یعقوب علیہ السلام کے حزن کو ان کے خلاف گناہ نہیں بنایا۔ کیونکہ فرمایا:وابیضت عیناہ من الحزن فھو کظیم حزن کی وجہ سے ان کی دونوں آنکھیں روتے روتے سفید ہو گئی تھیں اور وہ غم کو گھٹ کر چھپا رہے تھے ( پھر انہوں نے دعا کی) اللہ تعالیٰ سعید پر رحم فرمائے اور اس کی غلطیوں سے درگزر فرمائے اہل جنت میں یہ وہ سچا وعدہ ہے جس کا جنتیوں کو وعدہ دیا گیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا اللہ کی قسم نہیں تھی یہ مصیبت کہ یہ شدید اترتی مگر یہ کہ ہو اس کے ساتھ مجھ سے کم ابو داؤد کہتے ہیں کہ میں نے مبارک سے کہا حضرت حسن ان لوگوں کو پلٹ کر جواب نہیں دیتے تھے جب وہ اس کی تعزیت کرتے تھے۔ بلکہ وہ یوں کہتے تھے یہ کام تو اللہ نے ہمارے ساتھ بھی کیا ہے اور تمہارے ساتھ بھی۔
مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أبو سعيد بن أبي عمرو و
Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10166
