Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10166

10166 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو و أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا أحمد بن إبراهيم بن كثير نا أبو داود عن مبارك بن فضالة قال : شهدت الحسن في مسجد الجامع و جاء رجل من فارس فقال : إني لم أجيء حتى مات سعيد بن أبي الحسن قلنا : فلا تخبره قال : و كانا قلنا أخبره فما ترك الحسن يبلغ إلى البيت حتى نعاه إليه فقال : فما تمالك الحسن أن وضع يده على الحائط ثم قال : دخلنا عليه و لما نفق يبكي و معنا بكر بن عبد الله المزني فقال : يا أبا سعيد إنك تعلم هذا المصر و مودتهم و إنهم لا يرون منك اليوم شيئا إلا سعوا به إلى عشائرهم و قبائلهم فتكلم الحسن فقال : الحمد لله الذي جعل هذه الرحمة في قلوب المؤمنين فرحم بها بعضهم بعضا تدمع العين و يحزن القلب و ليس ذلك بالجزع إنما الجزع ما كان من اللسان و اليد الحمد لله الذي لم يجعل حزن يعقوب عليه ذنبا إذ قال : { و ابيضت عيناه من الحزن فهو كظيم } رحم الله سعيدا و تجاوز عن سيئته في أصحاب الجنة وعد الصدق الذي كانوا يوعدون ثم قال : و الله ما كانت لتنزل شديدة إلا أن يكون به دوني قال أبو داود قلت للمبارك : ما كان الحسن يرد عليهم إذا عزوه قال : كان يقول : فعل الله ذلك بنا و بكم

ہمیں خبر دی ابو سعدی بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو د نیا نے ان کو احمد بن ابراہیم بن کثیر نے ان کو ایو داؤد نے ان کو مبارک بن فضالہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں جامع مسجد میں حضرت حسن کے پاس حاضر ہوا۔ اور ایک آدمی فارس سے بھی آ گیا۔ اس نے بتایا کہ میں جب آیا ہوں تو اس وقت حضرت کے بیٹے سعید بن ابو الحسن فوت ہو چکے تھے۔ ہم لوگوں نے کہا۔ کہ آپ ان کو اس کی خبر نہ دیں (یعنی ان کے بیٹے کی وفات کی خبر ) کہتے ہیں ایسے لگا جیسے ہم نے اس سے کہہ دیا ہو کہ تم ان کو خبر دے دینا۔ ابھی تک وہ گھر تک بھی نہیں پہنچے تھے کہ ہم نے ان کو ان کے بیٹے کی موت کی خبر دے دی چنانچہ وہ اپنے اختیار پر قابو نہ رکھ سکے انہوں نے اپنا ہاتھ دیوار پر کھا لیا۔ پھر کہا کہ ہم لوگ ان کے پاس داخل ہوئے تو وہ رو رہے تھے۔ اور ہمارے ساتھ بکر بن عبداللہ مزنی بھی تھے انہوں نے پوچھا اے ابو سعید بے شک آپ جانتے ہیں اس شہر کو اور اس کے رہنے والوں کی محبت کو بے شک وہ لوگ نہیں دیکھتے آپ سے کسی چیز کو مگر اس کو لے دوڑتے ہیں اپنی قوم اور اپنے قبیلے کی طرف چنانچہ حضرت حسن نے تکلم کیا اور یوں گویا ہوئے اللہ کا شکر ہے جس نے اس رحمت کو مؤمنوں کی دلوں میں پیدا کر دیا ہے جس کے ساتھ وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں آنکھ آنسو بہاتی ہے دل غمگین ہوتا ہے جب کہ یہ بات جزع فزع اور بے صبری کرنا نہیں ہے یقیناً ہے میری زبان اور ہاتھ سے ہوتی ہے اللہ کا شکر ہے جس نے یعقوب علیہ السلام کے حزن کو ان کے خلاف گناہ نہیں بنایا۔ کیونکہ فرمایا:وابیضت عیناہ من الحزن فھو کظیم حزن کی وجہ سے ان کی دونوں آنکھیں روتے روتے سفید ہو گئی تھیں اور وہ غم کو گھٹ کر چھپا رہے تھے ( پھر انہوں نے دعا کی) اللہ تعالیٰ سعید پر رحم فرمائے اور اس کی غلطیوں سے درگزر فرمائے اہل جنت میں یہ وہ سچا وعدہ ہے جس کا جنتیوں کو وعدہ دیا گیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا اللہ کی قسم نہیں تھی یہ مصیبت کہ یہ شدید اترتی مگر یہ کہ ہو اس کے ساتھ مجھ سے کم ابو داؤد کہتے ہیں کہ میں نے مبارک سے کہا حضرت حسن ان لوگوں کو پلٹ کر جواب نہیں دیتے تھے جب وہ اس کی تعزیت کرتے تھے۔ بلکہ وہ یوں کہتے تھے یہ کام تو اللہ نے ہمارے ساتھ بھی کیا ہے اور تمہارے ساتھ بھی۔

مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أبو سعيد بن أبي عمرو و

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10166

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10167

10167 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن خالد بن خلي نا أحمد بن خالد الوهبي نا إسرائيل عن عبد الله بن عيسى عن جبر بن عتيك عن عمه أنه قال : دخلت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم على أهل بيت من الأنصار فوجدهم يبكون على ميت لهم فقيل لهم : تبكون و هذا رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فقال النبي صلى الله عليه و سلم : دعهن يبكين ما كان عندهن فإذا وجب فلا يبكين باكية قال : فسألني عم بن عبد العزيز عن قوله : إذا وجب فقلت : إذا أدخل القبر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن خالد بن خلی نے ان کو احمد بن خالد وہی نے ان کو اسرائیل نے ان کو عبداللہ بن عیسیٰ نے جبر بن عتیک سے اس نے اپنے چچا سے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصار کے ایک گھرانے میں گیا حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے کسی میت پر روتے ہوئے پایا، تو ان سے کہا گیا۔ کیا تم لوگ رو رہے ہو حالانکہ یہاں رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم موجود ہیں۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوڑ دیجئے ان عورتوں کو ان کو رونےدیجئے ، جب تک میت ان کے پاس ہے جب یہ یہ واجب ہو جائے گا تو پھر کوئی بھی رونے والی نہیں روئے گی۔ کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے مجھ سے حضور کے اس قول کے بارے میں پوچھا کہ اذا وجب کا کیا مطلب ہے میں جواب دیا کہ اذا ادخل الشبرجس وقت یہ قبر میں داخل کر دیا جائے گا۔

عَمِّہٖ ← جَبْر بنِ عَتِيك ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← اِسْرَائِیْلُ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10167

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10168

10168 - أخبرنا أبو سعيد الخليل بن أحمد البستي القاضي نا أبو العباس أحمد بن المظفر البكري أنا ابن أبي خيثمة نا أبو معاوية الفلابي نا قمامة أبو زيد العبدي قال : نظر علي بن أبي طالب إلى عدي بن حاتم كئيبا حزينا فقال له : ما لي أراك كئيبا حزينا فقال : و ما يمنعني يا أمير المؤمنين و قد قتل أبي و فقئت عيني فقال : يا عدي بن حاتم إنه من رضي بقضاء الله جرى عليه و كان له أجرا و من لم يرض بقضاء الله جرى عليه و حبط عمله

ہمیں خبر دی ابو سعید خلیل بن احمد البستی قاضی نے ان کو ابو العباس احمد بن مظفر بکری نے ان کو ابن کو ابن خثیمہ نے ان کو ابو معاویہ یہ فلابی نے ان کو تمامہ نے ان کو ابو زید عبدی نے وہ کہتے ہیں کہ علی بن ابو طالب نے عدی بن حاتم کو دل کرفتہ اور مغموم پایا تو اس سے پو چھا کیا بات ہے میں آپ کو مغموم اور غم زدہ دیکھ رہا ہوں۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں غمگین کیوں نہ ہوں میرا بیٹا( یا باپ) قتل ہو کیا ہے، اور میری آنکھ پھوٹ کئی ہے۔ حضرت علی نے فرمایا اے عدی بن حاتم بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ کی اس فضا ء اور تقدیر پر راضی ہو جائے جو تقدیر اس پر چل جائے اس کے لئے بہت بڑا ثواب ہو گا اور جو شخص اللہ کے فیصلے پر راضی نہ ہو جو اس کے خلاف جاری ہوا ہے اس کے عمل تباہ ہو جاتے ہیں۔

لَهُ: مَا لِي أَرَاكَ كَئِيبًا حَزِينًا؟ ← نَظَرَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِلَى عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ كَئِيبًا حَزِينًا ← قُمَامَةَ أَبُو زَيْدٍ الْعَبْدِيُّ ← أبو معاوية الفلابي ← ابن أبي خيثمة ← أبو العباس أحمد بن المظفر البكري ← أَبُو سَعِيدٍ الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْبُسْتِيُّ الْقَاضِي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10168

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10169

10169 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني يعقوب يعني ابن يوسف بن موسى نا جرير عن المغيرة عن إبراهيم التيمي قال : نعي لعبد الله أخوه عتبة فقال : كان أعز الناس علي قال : و أراه استرجع و قال : ما يسرني أنه بين ظهرانيكم حيا قالوا : كيف يكون هذا و هو أعز الناس عليك ؟ قال : إني أوجر فيه أحب إلي من أن يؤجر في

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمر نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبد الله صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو حد بیث بیان کی یعقوب یعنی ابن یوسف بن موسیٰ نے ان کو جریر نے مغیرہ سے اس نے ابراہیم تیمی سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کو ان کے بھائی عتبہ کی موت کی خبر دی گئی۔ تو کہنے لگے کہ وہ میرے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ عزت دار تھے فرمایا میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اس کی جگہ چلا جاؤں ۔ مگر میں یہ بھی پسند نہیں کرتا ہوں کہ وہ تمہارے بیچ میں زندہ رہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے حالانکہ وہ آپ کے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ عزیز ہے ؟ فرمایا کہ مجھے اس کی جدائی پر اجر عطا کیا جائے یہ مجھے زیادہ محبوب ہے اس بات سے کہ میرے بارے میں اس کو اجر دیا جائے۔

إني أوجر فيه أحب إلي من أن يؤجر في ← كيف يكون هذا و هو أعز الناس عليك ← ما يسرني أنه بين ظهرانيكم حيا ← و أراه استرجع و ← نعي لعبد الله أخوه عتبة فقال كان أعز الناس علي ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْمُغِيرَةِ، ← جَرِيرٌ ← يعقوب يعني ابن يوسف بن موسى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10169

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10170

10170 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد المقري و أبو عبد الرحمن السلمي قالوا : نا أبو العباس بن يعقوب نا الخضر بن أبان نا سيار نا جعفر نا ثابت قال : كان عبد الله بن مظفر بن عبد الله بلغ في الدنيا حتى استعمل فمات فخرج مطرف و عليه ثياب من صالح ما كان يلبس فقالوا له : يموت عبد الله و تلبس مثل هذه الثياب قال مطرف أستكين بها و قد وعدني الله عليها ثلاث خصال أحب إلي من الدنيا كلها قال الله عز و جل : { الذين إذا أصابتهم مصيبة قالوا إنا لله و إنا إليه راجعون } إلى قوله { هم المهتدون } فقد استرجعت كما أمرني ربي و كل واحدة من هذه الخصال أحب إلي من الدنيا و ما فيها قال مطرف و ما من شيء أعطي به في الآخرة قدر كوز من ماء إلا وددت أنه أخذ مني في الدنيا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو محمد مقری نے اور ابو عبدالرحمٰن سلمی نے۔ انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ابو العباس بن یعقوب نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے ان کو ثابت نے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مظفر بن عبیداللہ مالدار آدمی تھے انہوں نے مال کو خوب استعمال بھی کیا پھر ان کا انتقال ہو گیا۔ اور حضرت مطرف وہاں پہنچے توانہوں نے بہترین لباس جو پہنتے تھے پہن رکھا تھا۔ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ جناب عبداللہ کا انتقال ہو چکا ہے اور آپ ایسا لباس پہن کر آئے ہیں۔ مطرف نے جواب دیا کہ میں اس کے ساتھ عاجزی وانکساری کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات پر مجھے تین چیزوں کا وعدہ دے رکھا ہے کہ میرے نزدیک ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:الذین اذا اصابتھم مصیۃ قالوا اناللہ وانا الیہ راجعون تا ھم المھتدون لہٰذا اس حکم کے پیش نظر میں نے انا للہ بھی پڑھا ہے جیسے میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے۔ آیت میں مذکور ہر ایک خصلت مجھے دینا و مافیھا سے زیادہ محبوب ہے۔ مطرف نے کہا کہ آخرت میں مجھے جو بھی چیز عطا ہو گی حتٰی کہ ایک لوٹا بھر پانی ہی کیوں نہ ہو مگر میں پسند کرتا ہوں کہ وہ دنیا میں مجھ سے لے لی جائے۔

ثَابِتٍ، ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد المقري و أبو عبد الرحمن السلمي ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10170

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10171

10171 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر الجراحي نا يحيى بن ساسويه نا عبد الكريم السكري نا وهب بن زمعة قال : قال علي بن شقيق سمعت عبد الله بن المبارك يقول : أنا سفيان بن عيينة أن ابنا لأبي جعفر محمد بن علي مرض قال : فخشينا عليه فلما توفي جزع عليه فصار مع الناس فقال له قائل : خشينا عليك فقال : إنا ندعو الله فيما نحب فإذا وقع ما نكره لم يخالف ما نكره لم يخالف الله فيما يحب

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جراحی نے ان کو یحییٰ بن ساسویہ نے ان کو عبدالکریم کے کو وھب ابن زمعہ نے وہ کہتے ہیں کہ علی بن شقیق نے کہا کہ میں نے سنا ہے عبداللہ بن مبارک سے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی سفیان بن عیینہ نے یہ کہ ابو جعفر محمد بن علی بیمار ہو گئے تھے یہاں تک ہمیں ان کے بارے میں خوف آنے لگا (موت کا) جو ان کا انتقال ہو گیا تو اولاد نے اس پر بےصبری کی اور عام لوگوں جیسے ہو گئے۔ کسی نے ان سے کہا۔ ہمیں آپ کے بارے میں ڈر تھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ اللہ تعالیٰ پکارتے ان باتوں میں جو ہمیں پسند ہوتی ہیں پھر جب کوئی ایسی بات واقع ہو جاتی ہے جس کو ہم ناپسند کرتے ہیں۔ تو وہ اس کے خلاف نہیں کرتا جو ہم پسند نہیں کرتے۔ اللہ بھی اس کے خلاف نہیں کرتا جو وہ پسند کرتا ہے۔

له قائل خشينا عليك ← فخشينا عليه فلما توفي جزع عليه فصار مع الناس ← سفيان بن عيينة أن ابنا لأبي جعفر محمد بن علي مرض ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَلِيِّ بْنِ شَقِيقٍ، ← وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ، ← عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، ← أَبُو بَكْرٍ الْجِرَاحِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10171

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10172

10172 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق عن قتادة قال : فرح صاحبا موسى عليه السلام بالغلام حين ولد لهما و جزعا عليه حين مات و لو عاش كان فيه ملكتهما فرضي امرأ قضاه الله فإن خيرة الله للمؤمن فيما يكره أكثر من خيرته فيما يحب

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے وہ کہتے ہیں موسیٰ علیہ السلام کے دو ساتھیوں کے ہاں غلام پیدا ہوا ہے تو وہ بہت خوش ہوئے اور جب وہ فوت ہوا تو بہت بے صبری کی انہوں نے کہ اگر وہ زندہ رہتا تو دونوں اس کے مالک ہوتے۔ پس ایک راضی ہو گیا اللہ کے حکم پر جو اللہ نے اس کے لئے مقدر کیا تھا۔ بے شک تک اللہ تعالیٰ کی پسند مومن کے لئے ان چیزوں میں جو وہ ناپسند کرتا ہے زیادہ ہوتی ہے ان امور میں پسند سے جن کو وہ پسند کرتا ہے۔

قَتَادَةَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10172

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10173

10173 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو و أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني أبو بكر بن أبي النضر نا سعيد بن عامر عن عبد الله بن المبارك : أن عمر بن عبد العزيز عزى على ابنه عبد الملك فقال : إن الموت مرقد كنا وطنا أنفسنا عليه فلما وقع لم نستكره

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبدالله صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو ابو بکر بن ابوا النضر نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے یہ کہ عمر بن عبدالعزیز نے ان کو ان کے بیٹے کے بارے میں عبدالملک نے تعزیت کی تو انہوں نے فرمایا کہ موت ایک نیند اور آرام دینے والی چیز ہے ہم نے اپنے نفوس کو اس کے لئے تیار رکھا تھا۔ لہٰذا جب وہ واقع ہو گئی ہے تو ہم اس کو اجنبی نہیں سمجھا اور اس کو ناپسند نہیں کیا ۔

سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أبو سعيد بن أبي عمرو و

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10173

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10174

10174 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا أحمد بن جميل المروزي أنا عبد الله بن المبارك عن حماد بن سلمة عن ثابت البناني : عن صلة بن أشيم أنه كان يأكل يوما فجاءه رجل فقال له : مات أخوك فقال : هيهات نعي إلي أجلس فكل قال : ما سبقني إليك أحد قال : قال الله عز و جل : { إنك ميت و إنهم ميتون }

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو احمد بن جمیل مروزی نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو صلہ بن اشیم نے کہ وہ ایک مرتبہ بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے۔ چنانچہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آ کر کہا کہ آپ کے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے اس نے کہا۔ بہت دیر سے میرے پاس موت کی خبر آ چکی ہے۔ بیٹھے اور کھانا کھائیے اس شخص نے کہا کہ مجھ سے پہلے تو آپ کی طرف کوئی بھی نہیں آیا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا تھا کہ انک میت وانھم میتون کہ آپ بھی مرنے والے ہیں اور وہ بھی مرنے والے ہیں۔

ما سبقني إليك أحد ← هيهات نعي إلي أجلس فكل ← له مات أخوك ← صلة بن أشيم أنه كان يأكل يوما فجاءه رجل ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أحمد بن جميل المروزي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10174

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10175

10175 - قال : و حدثنا أبو بكر حدثني محمد بن نصر عن الوليد عن عبد الملك بن قريب الأصمعي عن بعض أهل العلم قال : نعي مجزأة بن ثور إلى أخيه شقيق فكأنه لم ير ذاك فيه فقال له : البريد هل نعاه إليك أحد قبلي ؟ قال : نعم أخبرنا الله عز و جل أنا سنموت

کہتے ہیں کہ میں حدیث بیان کی ابو بکر نے ان کو محمد بن نصر نے ولید سے اس نے عبد الملک بن قریب اصمعی سے اس نے بعض اہل علم سے کہ مجزأۃ بن نور نے اپنے بھائی شقیق کے پاس موت کی خبر پہنچائی انہوں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور ایسے ظاہر کیا کہ جیسے ان کو پہلے سے معلوم ہے۔ چنانچہ خبر لانے والے نے ان سے پوچھا کہ کیا مجھ سے پہلے بھی کسی نے آپ کے پاس موت کی خبر پہنچائی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے خبر دے دی تھی کہ بے شک ہم عنقریب مر جائیں گے۔

سنموت ← الله عز و جل ← نَعَمْ ← له البريد هل نعاه إليك أحد قبلي ← نعي مجزأة بن ثور إلى أخيه شقيق فكأنه لم ير ذاك فيه ← بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قَرِيبٍ الْأَصْمَعِيُّ، ← الْوَلِیْدُ ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10175

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10176

10176 - قال : و أخبرني أبو بكر حدثني إسماعيل بن إبراهيم عن ابن عون قال : كان محمد بن سيرين إذا أصابته مصيبة يكون كما كان قبل ذلك يتحدث و يضحك إلا أنه يوم ماتت حفصة جعل يكشر و أنت تعرف في وجهه

کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر نے ان کو حدیث بیان کی اسماعیل بن ابراہیم نے ابن عون سے انہوں نے کہا کہ مجھے محمد بن سرین نے جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی وہ ایسے ہو جاتے تھے جیسے مصیبت کے آنے سے پہلے تھے باتیں کرتے اور ہنستے بولتے ۔ مگر جس دن سیدہ حفصہ کا انتقال ہوا وہ کثرت سے روئے اور ایسے ہو گئے تھے کہ ان کے چہرے سے غم ظاہر ہو رہا تھا۔

ابْنِ عَوْنٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10176

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10177

10177 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو منصور بن سمعان نا عبد الله بن محمد بن مسلم نا أحمد بن إسحاق بمكة نا يزيد بن موهب قال : كتب عمر بن عبد العزيز إلى عون بن عبد الله يعزيه على ابنه أما بعد فإنا من أهل الآخرة سكنا الدنيا أموات أبناء أموات فالعجب من ميت يكتب إلى ميت يعزيه عن ميت و السلام

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حدیث بیان کی ابو منصور بن سبحان نے ان کو عبداللہ بن محمد بن مسلم نے ان کو احمد بن اسحاق نے مکہ مکرمہ میں ان کو یزید بن موہب نے انہوں نے کہا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عون بن عبداللہ کے پاس تعزیت کا خط لکھ ان کے بیٹے کی وفات پر۔اما بعد فانا من اہل الاخرۃ سکنا الدنیا اموات ابنآء اموات فالعجب یکتب الٰی میت یعزیہ عن میت والسلام بہرحال ہم سب اہل آخرت ہیں ہم نے دنیا میں سکونت کر رکھی ہے ہم سب مردے ہیں اور مردوں کی اولاد ہیں تعجب اور حیرانی کی بات ہے کہ ایک مردہ دوسرے مردے کی طرف خط لکھ کر اس کو صبر دلا رہا ہے اور دوسرے مردے کی تعزیت کر رہا ہے۔ والسلام۔

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10177

chevron_left Previous
1…151617…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood