Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10154

10154 - قال الشيخ و قد روينا في موضع آخر من حديث موسى بن عبيدة الربذي عن مصعب بن محمد بن شرحبيل عن أبي سلمة عن عائشة : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال في مرض موته أيها الناس أيما عبد من أمتي أصيب بمصيبة من بعدي فليتعز بمصيبته التي يصاب بها من بعدي فإن أحدا من أمتي لن يصاب بمصيبة بعدي أشد من مصيبته بي

شیخ نے فرمایا تحقیق ہم نے دوسرے مقام پر روایت کیا ہے موسیٰ بن عبیدہ ربذی کی حدیث سے اس نے مصعب بن محمد بن شرحبیل سے اس نے ابو سلمہ سے اس نے سیدہ عائشہ سے اس نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے کہ انہوں نے اپنی مرض موت میں (وہ بیماری جس میں حضرت کا انتقال ہوا) فرمایا تھا۔ اے لوگو جونسا بندہ میری امت میں سے کسی مصیبت کے ساتھ مبتلا ہو جائے میرے بعد اس کو چاہئے کہ وہ صبر حاصل کرے اپنی مصیبت میں میرے ساتھ اس مصیبت سے جس کے ساتھ وہ میرے بعد مصیبت میں مبتلا کیا جائے بے شک کوئی ایک بھی (ایسا نہیں ہے ) میری امت میں سے ہرگز نہیں کسی مصیبت میں ڈالا جائے گا میرے بعد جو زیادہ شدید ہو اس کی مصیبت سے جو میرے ساتھ ہے یعنی میری وفات سے جو اس کو صدمہ ہے۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10154

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10155

10155 - و سمعت أبا القاسم المفسر ينشد في هذا المعنى : قول الشاعر : ( اصبر لكل مصيبة و تجلد و اعلم بأن المرء غير مخلد ) ( و إذا ذكرت مصيبة تشجو بها فاذكر مصابك بالنبي محمد )

اور میں نے سنا بو القاسم مفسر سے وہ شعر پڑ رہے تھے اسی مفہوم میں۔ ( قول شاعر ) ہر مصیبت کے لئے صبر کیجئے اور اپنے آپ کو مضبوط کر لیجئے اور یقین کیجئے کہ انسان ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے جب آپ کسی ایسی مصیبت کو یاد کریں جو آپ کو غمگین کر رہی ہے تو آپ اس مصیبت کو یاد کیجئے جو آپ کو پہنچی ہے نبی محمدصلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (یعنی حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی جدائی اور وفات سے۔)

و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10155

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10156

10156 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو جعفر محمد بن صالح بن هانيء نا السري بن خزيمة نا عمر بن حفص بن ابن غياث نا أبي نا الأعمش عن عبد الله بن مرى عن مسروق عن عبد الله يعني ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس منا من ضرب الخدود و شق الجيوب و دعا بدعوى الجاهلية رواه البخاري في الصحيح عن عمر بن حفص و أخرجه مسلم من وجه آخر عن الأعمش

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابو جعفر محمد بن صالح بن ھانی نے ان کو سری بن خزیمہ نے ان کو عمر بن حفص بن غیاث نے ان کو ان کے والد نے ان کو اعمش نے ان کو عبداللہ بن مرہ نے ان کو مسروق نے عبداللہ سے یعنی ابن مسعود سے وہ کہتے ہیں۔ کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو غم سے منہ پیٹے گریباں چاک کرے اور جاہلیت والی پکاریں پکارے۔ بخاری نے اس کو صحیح میں روایت کیا عمر بن حفص سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا دوسرے طریق سے اعمش سے۔

عبد الله -يعني ابن مسعود- ← مَسْرُوقٍ ← عبد الله بن مرى ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عمر بن حفص بن ابن غياث ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أبو جعفر محمد بن صالح بن هانىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10156

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10157

10157 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشيباني نا محمد بن عبد الوهاب العبدي أنا جعفر بن عون أنا أبو عميس قال : سمعت أبا صخرة يذكر عن عبد الرحمن بن يزيد و أبو بردة بن أبي موسى قال : أغمي على أبي موسى فأقبلت امرأته تصيح برنة قالا ثم أفاق فقال : ألم تعلمي و كان يحدثها رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إني بريء ممن حلق و سلق و خرق رواه مسلم في الصحيح عن عبد بن حميد عن جعفر بن عون

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبد الله محمد بن یعقوب شیبانی نے ان کو محمد بن عبد الوہاب عبدی نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو ابو عمیس نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو صخرہ سے وہ ذکر کرتے تھے عبدالرحمٰن بن یزید سے اور ابو بردہ بن ابو موسیٰ سے وہ کہتے ہیں کہ ابو موسیٰ بے ہوش ہو گئے تھے چنانچہ اس کی بیوئی زور زور سے حقیقی روتی ہوئی آئی۔ چنانچہ دونوں نے کہا۔ پھر وہ ہوش میں آ گئے۔ تو انہوں نے فرمایا اللہ کی بندی کیا آپ نہیں جانتی۔ پھر وہ ان کورسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنانے لگے کہ آپ نے فرمایا ہے بے شک میں بری ہوں لاتعلق ہوں اس شخص سے جس نے صدمے میں سر وغیرہ کے بال مونڈے۔ رخسار پیٹے ( یا زبان درازی کی ) اور کپڑے پھاڑے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں۔ عبداللہ بن حمید سے اس نے جعفر بن عون سے۔

جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ← إني بريء ممن حلق و سلق و خرق رواه مسلم في الصحيح ← ألم تعلمي و كان يحدثها رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ثُمَّ أَفَاقَ ← أُغْمِي على أبي موسى فأقبلت امرأته تَصِيحُ برنةٍ ← عبد الرحمن بن يزيد و أبو بردة بن أبي موسى ← أَبَا صَخْرَةَ يَذْکُرُ ← أَبُو عُمَيْسٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10157

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10158

10158 - وروينا عن امرأة من المبايعات أنها قالت : كان فيما أخذ علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن لا نخمش وجها و لا ندعو ويلا و لا نشق جيبا و لا ننشر شعرا

اور ہم نے روایت کی ہے ایک عورت سے ان میں سے جو حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کرنے والیاں تھیں وہ کہتی ہیں کہ جن چیزوں پر رسول اللہ نے ہم سے بیعت لی تھی ان میں سے یہ باتیں بھی تھیں کہ ہم نہ تو چہرہ نوچیں گی۔ اور نہ ہی ویل کریں گی ورنہ ہی گریباں پھاڑیں گی اور نہ ہی بال نوچیں گی۔

امرأة من المبايعات أنها ← وَرُوِّينَا

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10158

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10159

10159 - و روينا في حديث أبي مالك الأشعري : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن النائحة إذا لم تتب قبل موتها تقام يوم القيامة عليها سربال من قطران و درع من جرب

اور ہم نے روایت کی ہے ابو مالک شعری کی حدیث میں یہ کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک نوحہ کرنے والی (بین کرنے والی) عورت جب تک اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرلے قیامت کے دن اس حالت میں اٹھائی جائے گی اس پر ڈامر کی قمیص ہو گی اور جرب اور کھجلی والا لباس د وپٹہ ہو گا۔

و روينا في حديث أبي مالك الأشعري

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10159

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10160

10160 - و عن أبي سعيد الخدري قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم النائحة و المستمعة

حضرت ابو سعید سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعنت فرمائی تھی نوحۃ کرنے والی عورت پر اور نوحہ سننے والی پر۔

لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم النائحة و المستمعة ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10160

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10161

10161 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن فيما قرأت عليه من أصله نا أبو العباس الأصم نا محمد بن إسحاق نا معاوية بن عمرو عن أبي إسحاق هو الفزاري عن عطاء بن السائب عن عكرمة عن ابن عباس قال : جاء النبي صلى الله عليه و سلم إلى بعض بناته و هي في السوق فأخذها فوضعها في حجرة حتى قبضت فدمعت عيناه فبكت أم أيمن فقيل لها : أتبكين عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : ألا أبكي و رسول الله صلى الله عليه و سلم يبكي قال : إني لم أبك و لكن هذه رحمة إن المؤمن تخرج نفسه من بين جنبيه و هو يحمد الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن نے ان میں جو میں نے ان کے سامنے پڑھی ان کی اصل کتاب سے ان کو خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحاق نے ان کو معاویہ بن عمرو نے ان کو ابو اسحاق فزاری نے عطا بن سائب سے حضرت عکرمہ سے اس نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹیوں میں سے کسی ایک کے پاس تشریف لے گئے تھے جب کہ وہ نزع کی حالت میں تھی آپ نے اسے لے پکڑ کر اپنی گود میں رکھ لیا یہاں تک اس کا انتقال ہو گیا۔ چنانچہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ لہٰذا بی بی اُم ایمن دیکھ کر رو پڑی اس سے کسی نے کیا کیا تم رسول اللہ کے سامنے رو رہی ہو۔ وہ کہنے لگی کیا میں نہ روں جب کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم خود بھی رو رہے ہیں۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں رو نہیں رہا ہوں۔ بلکہ یہ شفقت و رحمت ہے ۔ بے شک مؤمن کی جب روح نکلتی ہے اس کے دو پہلوؤں کے بیچ سے تو وہ اللہ کی حمد کر رہا ہوتا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أبى اسحاق هو الفزارى ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← عَلَيْهِ مِنْ أَصْلِهِ ← أبو بكر أحمد بن الحسن فيما

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10161

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10162

10162 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو أحمد محمد بن محمد الحافظ أنا أبو العباس محمد بن إسحاق الثقفي نا الحسن بن عبد العزيز الجروي نا يحيى بن حسان نا قريش بن حيان عن ثابت البناني عن أنس بن مالك قال : دخلت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم على أبي سيف القين و كان ظئرا لإبراهيم فأخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم إبراهيم فقبله و شمه ثم دخلنا عليه بعد ذلك و إبراهيم يجود بنفسه فجعلت عينا رسول الله صلى الله عليه و سلم تذرفان فقال له عبد الرحمن بن عوف : و أنت يا رسول الله قال : يا ابن عوف إنها رحمة ثم أتبعها و الله بأخرى فقال : إن العين تدمع و القلب يحزن و لا نقول إلا ما يرضي ربنا و إنا بفراقك يا إبراهيم لمحزونون رواه البخاري في الصحيح عن الحسن بن عبد العزيز الجروي و أخرجه مسلم من وجه آخر عن ثابت

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو احمد محمد بن محمد حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن اسحٰق ثقفی نے ان کو حسن بن عبدالعزیز جزوی نے ان کو یحییٰ بن حسان نے ان کو قریش بن حیان نے ان کو ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک سے کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو سیف لوہار کے پاس داخل ہوا، وہ حضرت ابراہیم بن رسول کا دایہ تھا۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم کو پکڑ کر پیار کیا بوسہ دیا اور اس کی خوشبو سونگھی۔ بعد میں ہم لوگ اس کے پاس گئے جب کہ ابراہیم کا انتقال ہو چکا تھا۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے عرض کی یا رسول اللہ کیا آپ بھی رو رہے ہیں۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن عون یہ شفقت ورحمت ہے۔ اس کے بعد دوسرا جملہ۔ یہ فرمایا کہ آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور دل مغموم ہے مگر ہم صرف وہی بات کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو۔ اور ہم اسے ابراہیم تیرے فراق میں غمگین ہیں۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں حسن بن عبدالعزیز جروی سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے دوسرے طریق سے ثابت سے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← قُرَيْشِ بْنِ حَيَّانَ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِيُّ ← أبو العباس محمد بن إسحاق الثقفي، ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10162

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10163

10163 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار نا يونس بن بكير عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن عطاء عن جابر عن عبد الرحمن بن عوف قال : أخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم بيدي فانطلق بي إلى النخل فوجد فيه إبراهيم ابن رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخذه رسول الله صلى الله عليه و سلم فوضعه في حجره فذرفت عيناه ثم قال : يا بني ما أملك لك من الله شيئا فقلت له : يا رسول الله تبكي أو لم تنه عن البكاء قال : إنما نهيت عن النوح عن صوتين أحمقين فاجرين صوت عند نعمة لعب و لهو و مزامير شيطان و صوت عند مصيبة خمش وجوه و شق جيوب و رنة شيطان و هذا رحمة و من لا يرحم لا يرحم يا إبراهيم لولا أنه أمر حق و وعد صدق و إنها سبيل مأتية لا بد منها حتى يلحق آخرنا أولنا لحزنا عليك حزنا هو أشد من هذا و إنا بك لمحزونون تبكي العين و يحزن القلب و لا نقول ما يسخط الرب عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو یونس بن بکیر نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ نے ان کو عطاء نے جابر سے اس نے عبدالرحمٰن بن عوف سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ سے پکڑا اور مجھے مقام نخلہ کی طرف لے گئے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے وہاں پر اپنے بیٹے ابراہیم کو پایا چنانچہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اس کو اٹھا لیا اور اپنی گود میں بٹھایا حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ پھر فرمانے کے اے بیٹے میں تیرے لئے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں دوں میں نے آپ سے عرض کی یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم آپ بھی روتے ہیں کیا آپ کو رونے سے منع نہیں کر دیا گیا ؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے نوحہ وبین کرنے سے منع کیا گیا ہے اور وہ احمق وبے ہودہ آوازوں سے جو گناہ کی آوازیں ہیں۔ ایک آواز تو ہے سرتار کھیل تماشے کی اور شیطان کے گانے بجانے کی آواز اور دوسری آواز ہوتی ہے مصیبت کے وقت چہر ہ نوچنے۔ گریبان چاک کرنے اور شیطان کے رونے کی۔ اور (یہ جو تم دیکھ رہے ہو) یہ رحمت و شفقت ہے۔ جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔ (اور ابراہیم کی وفات پر آپ نے فرمایا) اے ابراہیم اگر یہ بات نہ ہو۔ یہ امر (موت) برحق ہے اور سچا وعدہ ہے اور بے شک یہ ایسا راستہ ہے جس کو اختیار کرنا لازمی ہے یہاں تک کہ ہمارا آخری ہمارے اول کے ساتھ لاحق ہو جاتا ہے (اگر یہ حقیقت نہ ہوتی تو) ہم تیرے اوپر شدید حزن و غم مناتے جو کہ اس سے بھی زیادہ شدید ہوتا اور ہم بے شک تیرے بارے میں سخت مغموم ہیں آنکھ رو رہی ہے اور دل میں غم ہے مگر ہم کوئی ایسی بات منہ سے نہیں نکالیں گے جس سے رب تعالیٰ ناراض ہو جائے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10163

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10164

10164 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا إسماعيل بن إسحاق نا حجاج بن منهال و عارم بن الفضل قالا : نا أبو عوانة عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن عطاء عن جابر بن عبد الله قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى النخل و معه عبد الرحمن بن عوف فإذا ابنه يجود بنفسه قال : فوضعه رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجره ففاضت عيناه قال فقال عبد الرحمن أتبكي يا رسول الله و أنت تنهي عن البكاء قال : إني لم أنه عن البكاء إنما نهيت عن صوتين أحمقين فاجرين صوت عند لهو و لعب و مزامير شيطان و صوت عند مصيبة خمش وجوه و شق جيوب و رنة شيطان و هذا مني رحمة من لا يرحم لا يرحم يا إبراهيم لولا أنه أمر حق و وعد صادق و إنه سبيل مأتية و إن آخرتنا ستحلق أولانا لحزنت عليك حزنا هو أشد من هذا و إنا بك يا إبراهيم لمحزونون تبكي العين و يحزن القلب و لا نقول ما يسخط الرب

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن اسحاق نے ان کو حجاج بن منہال نے اور عازم بن فضل نے ان دونوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابو عوانہ نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ نے ان کو عطاء نے انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم مقام نخلہ کی طرف تشریف لے گئے اور ان کے ساتھ عبدالرحمٰن بن عوف تھے ۔ وہاں پر حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم رب کو اپنی روح دے رہے تھے فوت ہو رہے تھے ۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں لے لیا۔ لہٰذا حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے کہتے ہیں عبدالرحمٰن نے پوچھا یا رسول اللہ آپ رو رہے ہیں حالانکہ آپ تو رونے سے منع فرماتے ہیں۔ فرمایا کہ مجھے رونے سے منع نہیں کیا گیا۔ مجھے منع کیا گیا ہے دو بیہودہ اور حماقت کی آوازوں سے دونوں گناہ گاروں کی آوازیں ہیں۔ ایک آواز تو ہوتی ہے کھیل تماشے کے وقت اور شیطان کے سرور اور گانوں کی اور دوسری آواز ہوتی ہے مصیبت کے وقت چہروں کو نوچنا گریبان پاک کرنا شیطانی بین کرنا۔ (اور یہ جو تم دیکھ رہے ہو) یہ شفقت ورحمت ہے میری طرف سے۔ جو تم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا ابراہیم اگر یہ بات نہ ہوتی کہ موت امر حق ہے اور سچا وعدہ ہے اور ایسا راستہ ہے جس پر سب کو آنا ہے اور اسی طرح ہمارا آخر اول سے ملتا ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں اے ابراہیم تم پر اس سے بھی شدید غم کرتا بے شک ہم اسے ابراہیم تیرے فراق سے بڑے غم زدہ ہیں دل روتا ہے اور آنکھ آنسوں بہاتی ہے مگر ہم کوئی ایسا قول نہیں کرتے جس سے رب ناراض ہو جائے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى ← أَبُو عَوَانَةَ، ← حجاج بن منهال و عارم بن الفضل ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10164

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10165

10165 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا محمد بن إسماعيل نا عمرو بن سوار نا ابن وهب قال الحاكم و أخبرنا أبو محمد بن زياد نا محمد بن إسحاق نا يونس بن عبد الأعلى و عيسى بن إبراهيم قالا : نا ابن وهب أخبرني عمرو بن الحارث عن سعيد بن الحارث الأنصاري عن عبد الله بن عمر قال : اشتكى سعد بن عبادة شكوى له فأتاه رسول الله صلى الله عليه و سلم يعوده مع عبد الرحمن بن عوف و سعد بن أبي وقاص و عبد الله بن مسعود فلما دخل عليه وجده في غشية أو قد مات قالوا : لا يا رسول الله فبكى رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما رأى القوم بكاءه بكوا فقال : ألا تسمعون أن الله لا يعذب بدمع العين و لا بحزن القلب و يعذب بهذا و أشار إلى لسانه أو يرحم رواه مسلم في الصحيح عن يونس و رواه البخاري عن أصبغ عن ابن وهب

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبدالله حمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسماعیل نے ان کو عمرو بن سوار نے ان کو ابن وہب نے وہ کہتے ہیں کہ حاکم نے کہا۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن زیاد نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو یونس بن عبدالاعلیٰ اور عیسیٰ بن ابراہیم نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابن وہب نے ان کو خبر دی عمرو بن حارث نے سعید بن حارث انصاری سے اس نے عبداللہ بن عمر سے انہوں نے فرمایا: حضرت سعد بن عبادہ بیمار ہو گئے تھے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم ان کی مزاج پرسی کے لئے تشریف لے گئے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابو وقاص اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم آپ کے ساتھ تھے جب آپ اس کے پاس داخل ہوئے تو آپ نے اس کو حالت خشی میں پایا کیا ان کا انتقال ہو چکا ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ لہٰذا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم رو پڑے۔ لوگوں نے جب حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو روتے دیکھا تو سب رو پڑے۔لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو پر عذاب نہیں دیں گے اور نہ ہی دل کے حزن و غم پر اور اس کے ساتھ مذاب دیں گے ( آپ نے یہ کہہ کر اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا ) یا رحم کردیں گے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں یونس سے اور اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔ اصبغ سے اس نے ابن وہب سے۔

ابْنُ وَهْبٍ، ← عَمْرُو بْنُ سَوَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10165

chevron_left Previous
1…141516…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood