شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محنة الجراد و الصبر عليها · حديث 10130
10130 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التاريخ نا أبو بكر محمد بن أحمد بن يحيى نا علي بن محمد الوراق نا أحمد بن الأحجم نا محمد بن عثمان القيسي نا حفص بن عبد الرحمن عن المسعودي عن عون بن عبد الله عن نافع عن ابن عمر قال : وقعت جرادة بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم فاحتملها فإذا مكتوب في جناحها بالعبرانية لا يغني حنيني و لا يشبع آكلي نحن جند الله الأكبر لنا تسعة و تسعون بيضا و لو تمت لنا المائة لأكلنا الدنيا بما فيها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم اللهم أهلك الجراد اقتل كبارها و أمت صغارها و أفسد بيضها و سد أفواهها عن مزارع المسلمين و عن معايشهم إنك سميع الدعاء فجاءه جبريل عليه السلام فقال إنه قد استجيب لك في بعض قال الشيخ : محمد بن عثمان القيسي هذا مجهول و هذا حديث منكر و الله أعلم
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے تاریخ میں ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن یحییٰ نے ان کو علی بن محمد وراق نے ان کو احمد بن احجم نے ان کو محمد بن عثمان قیسی نے ان کو حفص بن عبدالرحمٰن نے ان کو مسعودی نے ان کو عون بن عبداللہ نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے کہ ایک نڈی آ کر حضور کے سامنے گری حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اس کو اٹھا لیا اچانک دیکھا تو اس کے ایک پر کے اوپر عبرانی زبان میں لکھا ہوا تھا۔ نہیں فائدہ اٹھائے ( مجھے رولانے والا ) اور نہیں شکم سیر ہو گا مجھے کھانے والا ہم اللہ کا بہت بڑا لشکر ہیں ہمارے ننانوے انڈے ہوتے ہیں اگر پورے سو ہوتے تو ہم دنیا ومافیہا سمیت سب چیز کو کھا جائیں۔ لہٰذا حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اے اللہ ٹڈی دل کو بلاک کر دے۔ اللہ اس کے بڑے نڈیوں کو قتل کر دے اور ان کی چھوٹیوں کو مار دے۔ اور ان کے انڈے خراب کر دے اور ان کے منہ بند کر دے مسلمانوں کے کھیتوں سے اور ان کی روزیوں سے بے شک تو ہی دعاؤں کو سننے والا ہے لہٰذا احضور کے پاس جبرائیل آئے اور آکر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا بعض میں قبول کرلی ہے۔ شیخ نے فرمایا کہ اس کا راوی محمد بن عثمان قیسی مجہول راوی ہے اور یہ حدیث منکر ہے واللہ اعلم۔
ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الْمَسْعُودِيِّ ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← محمد بن عثمان القيسي ← أَحْمَدُ بْنُ الْأَحْجَمِ، ← علي بن محمد الوراق ← أبو بكر محمد بن أحمد بن يحيى، ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ
Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on the plight of locusts and patience with them · Hadith 10130
