شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10118
10118 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حشاذ العدل نا أحمد بن محمد بن سالم حدثني إبراهيم بن الجنيد حدثني الحسن بن الصباح بن محمد الواسطي قال : بلغني عن عاصم أبي عبد الرحمن الجرجاني إن لله عبادا رفعاء إلا أن بعضهم أرفع من بعض ذهبت أعزي رجلا و قد قتل ابنك في سبيل الله عز و جل قال : فقال لي يا أبا عبد الرحمن أنت تظن أني أبكي لقتله إنما أبكي كيف رضاه عن الله حين أخذته السيوف
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ عدل نے ان کو احمد بن محمد بن سالم ان کو ابراہیم بن جنید نے ان کو حسن بن صباح بن محمد واسطی نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے عاصم بن عبدالرحمٰن جرجانی سے بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ بلند مرتبہ بندے ہیں جو کہ بعض بعض سے زیادہ بلند مقام پر فائز ہیں میں ایک آدمی کے پاس تعزیت کرنے کے لئے گیا تھا اس لئے کہ اُس کا ترک بینا قتل ہو گیا تھا۔ وہ مجھے دیکھ کر رونے لگا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں آپ کا بیٹا تو جہاد فی سبیل اللہ میں مارا گیا ہے کہتے ہیں کہ اس نے مجھے کہا اے ابو عبدالرحمٰن تم یہ خیال کر رہے ہو کہ میں اس کے قتل ہو جانے کی وجہ سے رو رہا ہوں۔ (یہ بات نہیں ہے ) بلکہ میں تو اس لئے رو رہا ہوں کہ اس کی رضا بالقضا کیسے رہی ہو گی اللہ تعالیٰ کے ساتھ جب اس کو تلواروں نے گھیر لیا تھا۔
عاصم أبي عبد الرحمن الجرجاني ← بلغني ← الحسن بن الصباح بن محمد الواسطي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْجُنَيْدِ، ← أحمد بن محمد بن سالم ← علي بن حشاذ العدل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10118
