Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10118

10118 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حشاذ العدل نا أحمد بن محمد بن سالم حدثني إبراهيم بن الجنيد حدثني الحسن بن الصباح بن محمد الواسطي قال : بلغني عن عاصم أبي عبد الرحمن الجرجاني إن لله عبادا رفعاء إلا أن بعضهم أرفع من بعض ذهبت أعزي رجلا و قد قتل ابنك في سبيل الله عز و جل قال : فقال لي يا أبا عبد الرحمن أنت تظن أني أبكي لقتله إنما أبكي كيف رضاه عن الله حين أخذته السيوف

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ عدل نے ان کو احمد بن محمد بن سالم ان کو ابراہیم بن جنید نے ان کو حسن بن صباح بن محمد واسطی نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے عاصم بن عبدالرحمٰن جرجانی سے بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ بلند مرتبہ بندے ہیں جو کہ بعض بعض سے زیادہ بلند مقام پر فائز ہیں میں ایک آدمی کے پاس تعزیت کرنے کے لئے گیا تھا اس لئے کہ اُس کا ترک بینا قتل ہو گیا تھا۔ وہ مجھے دیکھ کر رونے لگا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں آپ کا بیٹا تو جہاد فی سبیل اللہ میں مارا گیا ہے کہتے ہیں کہ اس نے مجھے کہا اے ابو عبدالرحمٰن تم یہ خیال کر رہے ہو کہ میں اس کے قتل ہو جانے کی وجہ سے رو رہا ہوں۔ (یہ بات نہیں ہے ) بلکہ میں تو اس لئے رو رہا ہوں کہ اس کی رضا بالقضا کیسے رہی ہو گی اللہ تعالیٰ کے ساتھ جب اس کو تلواروں نے گھیر لیا تھا۔

عاصم أبي عبد الرحمن الجرجاني ← بلغني ← الحسن بن الصباح بن محمد الواسطي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْجُنَيْدِ، ← أحمد بن محمد بن سالم ← علي بن حشاذ العدل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10118

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10119

10119 - حدثنا أبو سعد عبد الملك بن محمد بن إبراهيم الزاهد رحمه الله نا أبو الحسن علي بن عبد الله الصوفي بمكة نا أبو بكر محمد بن الحسين نا جعفر بن أحمد بن عاصم نا أحمد بن أبي الحواري نا إبراهيم بن نوح الموصلي قال : رجع فتح الموصلي إلى أهله بعد العتمة و كان صائما فقال عشوني فقال : ما عندنا من شيء نعشيك قال : فما لكم جلوسا في الظلمة ؟ قالوا : ما عندنا زيت نسرح به فجلس يبكي من الفرح فقال يا إلهي مثلي يترك بلا عشاء و لا سراج بأي يد كانت مني إليك فما زال يبكي إلى الصبح

ہمیں حدیث بیان کی ابو سعید عبدالملک بن محمد بن ابراہیم زاہد نے ان کو ابو الحسن علی بن عبداللہ صوفی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو بکر محمد بن حسین نے ان کو جعفر بن احمد بن عاصم نے ان کو احمد بن ابو الحواری نے ان کو ابراہیم بن نوح موصلی نے وہ کہتے ہیں کہ فتح موصلی عشاء کی نماز پڑھ کر اپنے گھر واپس لوٹا جب کہ وہ دن بھر روزے سے تھا فرمایا کہ مجھے عشاء کا یعنی رات کا کھانا دے دو گھر والوں نے کہا کہ ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے جو آپ کو کھانے کو دیں۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگ اندھیرے میں کیوں بیٹھے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس تیل ہی نہیں ہے جس کے ساتھ چراغ جلائیں۔ چنانچہ ابراہیم موصلی خوشی سے رونے بیٹھ گئے۔ بولے یا الہٰی میرے جیسا نکما بندہ یونہی چھوڑ دیا گیا ہے بغیر رات کے کھانے کے اور بغیر چراغ کے تو یہ میری طرف سے تیرے لئے کون سے احسان کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ہمیشہ روتے رہے روتے روتے صبح ہو گئی۔

ما عندنا زيت نسرح به فجلس يبكي من الفرح ← فما لكم جلوسا في الظلمة ← ما عندنا من شيء نعشيك ← عشوني ← رجع فتح الموصلي إلى أهله بعد العتمة و كان صائما ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ نُوحٍ الْمَوْصِلِيُّ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← جعفر بن أحمد بن عاصم ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصُّوفِيُّ بِمَكَّةَ، ← أبو سعد عبد الملك بن محمد بن إبراهيم الزاهد

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10119

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10120

10120 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن المقري قالا نا أبو العباس هو الأصم نا الخضر بن أبان نا سيا ر نا جعفر قال : سمعت ثابت البناني يقول : كان لنا جار إذا أمسى و ليس عندهم شيء أمسى فرحا و إذا أمسى و عندهم شيء أمسى مغموما فقالت له امرأته يا فلان خالفت الناس قال : فإني إذا أمسيت و ليس عندي شيء أمسيت فرحا إذ كان لنا بآل محمد صلى الله عليه و سلم إسوة و إذا كان عندنا شيء أصبحت مغموما إذا لم يكن لنا بآل محمد صلى الله عليه و سلم إسوة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو محمد بن مقری نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت ثابت بنانی سے سنا تھا فرماتے تھے کہ ہم لوگوں کا ایک پڑوسی تھا جب وہ شام کرتا اور ان کے گھر میں کچھ بھی نہیں ہوتا تھا تو وہ شام کو بڑا خوش خوش ہوتا تھا۔ اور جس دن شام کرتا اور ان کے گھر میں کوئی چیز موجود ہوتی وہ مغموم ہوتا تھا چنانچہ اس کی بیوی نے اس سے کہا: اے اللہ کے بندے آپ لوگوں سے مختلف ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ جب شام کو ہمارے ہاں کچھ نہیں ہوتا میں خوش اس لئے ہوتا ہوں کہ اس وقت ہماری زندگی آل محمدصلیٰ اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق ہوتی اور جب ہمارے کچھ ہوتا ہے میں مغموم ہوتا ہوں اس لئے کہ پھر ہماری زندگی آل محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق نہیں ہوتی۔

ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← جَعْفَرٌ، ← سيا ر ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن المقري

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10120

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10121

10121 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن حمدان أنا الحسن بن سفيان نا محمد بن عبد الله بن عمار نا المعافي عن اليمان بن المغيرة نا أبو الأبيض المدني عن حذيفة أنه قال : إن أقر أيامي لعيني يوم أرجع إلى أهلي و هم يشكون إلي الحاجة و الذي نفس حذيفة بيده سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله ليتعاهد عبده المؤمن بالبلاء كما يتعاهد الوالد ولده بخبر و إن أقر أيامي لعيني يوم أدخل على أهلي فيشكون إلي الحاجة

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بن حمدان نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو محمد بن عبداللہ بن عمار نے ان کو معافی نے ان کو ایمان بن مغیرہ نے ان کو ابو الابیض مدنی نے ان کو حذیفہ نے کہ انہوں نے کہا کہ میں ان ایام میں اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہوں جس دن میں اپنے گھر واپس لوٹتا ہوں اور میرے آگے شکایت کرتے ہیں ( کہ گھر میں کھانے کو نہیں ہے ) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں حذیفہ کی جان ہے۔ میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ فرماتے تھے۔ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو وعدہ دیتا ہے جیسے کوئی والد اپنے بیٹے سے وعدہ کرتا ہے کسی بھی بات کا ۔ بے شک میرے لئے میری آنکھوں کی سب سے زیادہ ٹھنڈک کے ایام ہوتے ہیں جس دن میں اپنے گھر والوں کے پاس آؤں اور وہ میرے آگے اپنی کسی نہ کسی حاجت کی شکایت کریں۔

حُذَيْفَةَ أَنَّهُ ← أَبُو الْأَبْيَضِ الْمَدَنِيُّ، ← الْيَمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ← الْمُعَافَي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَانَ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10121

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10122

10122 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق قال : سمعت أبا الفتح البغدادي يقول : سمعت عبد الوهاب بن علي المصري : يقول أغارت الروم على جواميس لبشير الطبراني فأتاه عبيد الرعاة فأخبروه فقال : أنتم أحرار أنصار كانت قيمتهم ألف دينار فقال له ابنه أفقرتنا فقال يا بني الله عز و جل أراد أن يختبرني فأردت أن أشكره و أزيده

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحاق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو الفتح بغدادی سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا عبدالوہاب بن علی مصری سے وہ کہتے ہیں کہ رومی بشیر طبرانی کی بھینسیں لوٹ کر لے گئے تھے چنانچہ نوکر چرواہے ان کے پاس آئے اور آکر ان کو اس واقعہ کی خبر دی۔ تو انہوں نے فرمایا کہ تم لوگ آزادی و انصار ہو ( یعنی میں نے آپ لوگوں کو آزاد کر دیا ہے ) جب کہ بھینسوں کی قیمت اس وقت ایک ہزار دینار تھی۔ چنانچہ ان کے بیٹے نے ان سے کہا کہ آپ نے اے ابا جان ہم لوگوں کو فقیر اور محتاج کر دیا ہے انہوں نے کہا اے بیٹے بے شک اللہ عزوجل نے مجھے آزمانے کا ارادہ کر لیا ہے لہٰذا میں نے بھی چاہا کہ میں اس کا شکر ادا کروں اور اس سے زیادہ حاصل کروں۔

له ابنه أفقرتنا ← أنتم أحرار أنصار كانت قيمتهم ألف دينار ← أغارت الروم على جواميس لبشير الطبراني فأتاه عبيد الرعاة فأخبروه ← عبد الوهاب بن علي المصري ← أبا الفتح البغدادي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10122

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10123

10123 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو إسحاق بن رجاء الشيرازي نا أبو الحسين الغازي قال : سمعت أبا حفص عمر بن علي يقول : كان هجير بن يحيى بن القطان إذا سكت ثم تكلم قال : نحيى و نموت و إليه المصير قلت : ليحيى في مرضه الذي مات فيه يعافيك الله إن شاء الله قال : أحبه إلي أحبه إلى الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو اسحٰق بن رجاء شیرازی نے ان کو ابو الحسین غازی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو حفض عمر بن علی سے وہ کہتے ہیں کہ ہجر بن یحییٰ قطان جب بات کے دوران خاموش ہوتے پھر بات کرتے تو یہ کہتے تھے:نحیٰی ونموت والیہ المصیر کہ ہم زندہ ہوتے ہیں اور مرتے ہیں اور اسی کی طرف ہے رجوع کرنا۔میں نے کہا حضرت یحییٰ قطان سے ان کے اس مرض میں جس میں ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ انشاء اللہ آپ کو اللہ تعالیٰ عافیت عطا فرمائیں گے انہوں نے کہا کہ جو چیز میرے لئے اللہ کو زیادہ پسند ہے مجھے بھی وہ زیادہ پسند ہے۔

كان هجير بن يحيى بن القطان إذا سكت ثم تكلم ← أَبَا حَفْصٍ عُمَرَ بْنَ عَلِيٍّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ الْغَازِيُّ ← أبو إسحاق بن رجاء الشيرازي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10123

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10124

10124 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حمشاد نا أحمد بن محمد بن سالم حدثني إبراهيم بن الجنيد قال : قال محمد بن الحسين نا داود بن المحبر عن الخليل بن مرة عن فرات بن سلمان قال : قال : كعب من رضي بقضاء الله و صبر على البلاء كتب من خالصي عباد الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ نے ان کو احمد بن محمد بن سالم نے ان کو حدیث بیان کی ابراہیم بن جنید نے وہ کہتے ہیں کہ محمد بن حسین نے کہا کہ ان کو خبر دی داؤد بن نصیر نے ان کو خلیل بن مرہ نے فرات بن سلیمان سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت کعب نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کی قضاء اور فیصلے پر راضی ہو جائے اور بلاء اور آزمائش پر صبر کرے وہ مخلص بندوں میں سے لکھ دیا جاتا ہے۔

من خالصي عباد الله عز و جل ← كعب من رضي بقضاء الله و صبر على البلاء ← فرات بن سلمان ← الخليل بن مرة ← دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْجُنَيْدِ، ← أحمد بن محمد بن سالم ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَادٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10124

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10125

10125 - قال محمد بن الحسين و حدثني محمد بن زياد قال : سمعت أفلح الأسود العابد الشامي يقول : الرضا عن الله ينتظم الصبر انتظاما

محمد بن حسین نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی ہے محمد بن حسین نے اور مجھے حدیث بیان کی ہے محمد بن زیاد نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا اصلح اسود شامی عابد سے وہ کہتے تھے اللہ تعالیٰ سے راضی رہنا صبر کو قائم کرتا ہے۔

الله ينتظم الصبر انتظاما ← «الرِّضَا ← أفلح الأسود العابد الشامي ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← محمد بن الحسين و

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10125

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10126

10126 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد الصفار نا المعمري نا شيبان بن فروخ نا سويد بن إبراهيم أبو حاتم حدثني عباس عن الحارث بن يزيد عن علي بن رباح عن جنادة بن أبي أمية عن عبادة بن الصامت قال : بينا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ جاءه رجل فقال يا رسول الله أي الأعمال أفضل ؟ قال : الإيمان بالله و تصديق به و جهاد في سبيل الله و حج مبرور فلما ولى الرجل قال : و أهون عليك من ذلك إطعام الطعام و لين الكلام و السماحة و حسن الخلق فلما ولى الرجل قال : أهون عليك من ذلك أن لا تتهم الله في شيء قضاه عليك

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو معمری نے ان کو شیبان بن فروخ نے ان کو سوید بن ابراہیم ابو حاتم نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی عباس نے ان کو حارث بن یزید نے ان کو علی بن رباح نے ان کو جنادہ بن ابو امیہ نے ان کو حضرت عبادہ بن صامت نے وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے اچانک آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ کون ساعمل افضل ہے آپ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ ایمان لانا اور اس کے ساتھ تصدیق کرنا اور جہاد فی سبیل اللہ اور حج مقبول ۔ جب وہ آدمی واپس لوٹنے لگا تو آپ نے فرمایا کہ تیرے لئے اس سے آسان ترین اعمال ہیں کھانا کھلانا، نرمی سے بات کرنا، سخاوت کرنا، حسن خلق سے پیش آنا ۔ جب وہ آدمی واپس لوٹنے لگا تو آپ نے فرمایا کہ تیرے لئے اس سے آسان تر عمل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کسی قضا میں جو تیرے خلاف ہو اللہ تعالیٰ کو الزام اور تہمت نہ دینا۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، ← عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَبَّاسٍ ← سُوَيْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو حَاتِمٍ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← الْمَعْمَرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10126

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محنة الجراد و الصبر عليها · حديث 10127

10127 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا بن بن عبيد عن أبي زهير النميري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تقتلوا الجراد فإنه من جند الله الأعظم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابو زبیر نمیری نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ ٹڈی کو نہ مارا کرو بے شک وہ اللہ کے بڑے لشکر میں سے ہے۔

أبي زهير النميرى ← بن بن عبيد ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on the plight of locusts and patience with them · Hadith 10127

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محنة الجراد و الصبر عليها · حديث 10128

10128 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس هو الأصم نا سعد بن محمد قاضي بيروت نا عبد الوهاب بن نجدة الحفطي : فذكره بإسناد مثله قال : الشيخ و هذا إن صح فإنما أراد به و الله أعلم إذا لم يتعرض لإفساد المزارع فإذا تعرض له جاز دفعه بما يقع به الدفع من القتال و القتل أو أراد به تعذر مقاومته بالقتال و القتل و قد ورد في الترغيب في قتله حديث بإسناد ضعيف و أما الحديث الذي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو سعد بن محمد قاضی بیروت نے ان کو عبد الوہاب بن نجدہ حفطی نے اس نے اس کو ذکر کیا ہے اسناد کے ساتھ مذکور کی مثل اور شیخ نے کہا کہ یہ روایت اگر صحیح ہے تو واللہ اعلم اس سے آپ کی مراد یہ ہو گی کہ وہ جب کھیتوں کی تباہی نہ کرے اور جب وہ ان کو تباہ کرے تو اس کو بھگانا اور ہٹانا جائز ہے۔ بھگانے کی جو بھی صورت ممکن ہو سکے اس سے مقابلہ کرنا ہو یا اس کو مار ڈالنا ہو ۔ یا حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی مراد (اس جملے سے ) یہ ہے کہ (چونکہ اللہ کا بہت بڑا لشکر ہے ) اس لئے اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہے خواہ مقابلہ کرنے کی صورت میں ہو یا مار ڈالنے کی صورت میں۔تحقیق ٹڈی کو مارنے کی ترغیب کی بابت ایک حدیث ضعیف اسناد کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔ بہرحال مندرجہ ذیل حدیث۔

عبد الوهاب بن نجدة الحفطي فذكره بإسناد مثله ← سعد بن محمد قاضي بيروت ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on the plight of locusts and patience with them · Hadith 10128

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محنة الجراد و الصبر عليها · حديث 10129

10129 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني عبد الله بن أحمد الشيباني نا أبو بكر محمد بن أحمد بن قريش الكاتب نا أحمد بن حفص حدثني عمر بن سعد بن وردان القشيري نا الفضيل بن عياض عن مغيرة عن إبراهيم عن عبد الله قال : وقعت جرادة بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا : ألا تقتلها يا رسول الله ؟ فقال عليه السلام : من قتل جرادة فكأنما قتل عذريا قال الشيخ أحمد فهذا مرسل ضعيف لجهالة بعض رواته و انقطاع ما بين إبراهيم و ابن مسعود و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن احمد شیبانی نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن قریش کاتب نے ان کو احمد بن حفص نے ان کو حدیث بیان کی عمر بن سعد بن وردان قشیری نے ان کو فضیل بن عیاض نے مغیرہ سے اس نے ابراہیم سے اس نے عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے آگے ایک بڑی آکر گری لوگوں نے کہا یا رسول اللہ کیا آپ اس کو مار نہیں ڈالتے ؟ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک ٹڈی کو قتل کیا گویا کہ اس نے کسی معذور کمزور کو مارا۔ شیخ احمد نے فرمایا کہ یہ مرسل ہے بعض راویوں کے مجہول ہونے کی وجہ اور ابراہیم اور حضرت ابن مسعود کے درمیان سلسلہ سند منقطع ہونے کی وجہ سے۔

أَلاَ تَقْتُلُهَا ← وقعت جرادة بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدُ اللَّهِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← عمر بن سعد بن وردان القشيري ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرَيْشٍ الْكَاتِبُ ← عبد الله بن أحمد الشيباني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on the plight of locusts and patience with them · Hadith 10129

chevron_left Previous
1…111213…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood