Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10106

10106 - أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت محمد بن أحمد بن إبراهيم يقول : سمعت أبا محمد الحريري يقول : سمعت الجنيد يقول : في الأمراض و الأوجاع خصال أربع تطهير و تكفير و تذكير و تقييد تطهير عن الكبائر و تكفير للصغائر و تذكير للرب و تقييد عن المعاصي

ابو عبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن احمد بن ابراہیم سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابو محمد حریر سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا جنید سے وہ فرماتے تھے کہ امراض میں اور درد والم میں چار خوبیاں ہوتی ہیں۔ تطہیر، تکفیر، تذکیر، تنقید، تطہیر تو ہوتی ہے کبیرہ گناہوں سے اور کفارہ بنا ہوتا ہے صغیر گناہوں سے۔ تذکیرہ یاد دہانی ہوتی ہے رب کی، تقیید ورکاوٹ ہوتا ہے معاصی سے اور گناہوں سے۔

الجنيد ← أَبَا مُحَمَّدٍ الْحَرِيرِيَّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10106

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10107

10107 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري نا الحسن بن محمد بن إسحاق أخبرني خالي يعني أبو عوانة نا عبد الله بن محمد بن عبيد حدثني علي بن أبي مريم عن محمد بن الحسين حدثني حكيم بن جعفر حدثني قرة النجات قال : قلت لعابد في بيت المقدس أوصني قال : عليك بالصبر و التصبر و الإصطبار قلت : ما الصبر و ما التصبر و ما الإصطبار ؟ قال : أما الصبر فالتسليم و الرضا بنزول المصائب و البلوى و توطين النفس عليها قبل حلولها و أما التصبر فتجرع مرارتها عند نزولها و مجاهدة النفس على هدوئها و سكونها و أما الإصطبار فاستقبال ما ينزل من المصائب و البلوى بالطلاقة و البشر و انتظار ما لم ينزل منها بالإعتبار و التفكير فإذا كان العبد كذلك كان مصطبرا لم يبال ما تقدم من ذلك

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو خبر دی میرے ماموں یعنی ابو عوانہ نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عبید نے ان کو حدیث بیان کی ہے علی بن ابو مریم نے ان کو محمد بن حسین نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن جعفر نے ان کو قرة النجات نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے بیت المقدس کے ایک عبادت گزار سے عرض کی کہ آپ مجھے کوئی وصیت فرما ئیں۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ صبر کو اور تصیر کو اور اصطبار کو لازم پکڑ لیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ صبر کیا ہے؟ اور تصبر کیا ہے؟ اور اصطبار کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ صبر تو ہے تسلیم ورضا فضائل کے اترنے پر اور تکلیفوں کے آنے پر اور نفس کو ان پر مطمئن رکھنا ان کے حلول سے قبل بہرحال تعمیر یہ ہے کہ مصائب کے نزول کے وقت ان کی کڑواہٹ کو گھونٹ گھونٹ کر کے پینا (یعنی مصائب کے کڑوے گھونٹ پی کر ان کو برداشت کرنا) اور نفس کا مجاہدہ کرنا اور مشقت کرنا ان کے پیدا ہونے پر بھی اور ان کے سکون پکڑنے پر بھی۔ اور بہرحال رہا اصطبار وہ ہے مصائب اور تکالیف کا استقبال کرنا ہنستے مسکراتے چہرے کے ساتھ اور ان میں سے ان مصائب کا انتظار کرتا جو تاحال نہیں آئیں ۔ قیاس اور فکر کرنے کے لحاظ سے۔ جب بندہ اس طرح کا ہو جائے تو وہ مصطبر اور اصطبار کرنے والا ہوتا ہے وہ ان مصائب کی پرواہ نہیں کرتا جو ان میں پہلے آچکی ہیں۔

قلت لعابد في بيت المقدس أوصني ← قرة النجات ← حَكِيمُ بْنُ جَعْفَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← عَلِيُّ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← خالي يعني أبو عوانة ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10107

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10108

10108 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : سمعت أبا عثمان الخياط يقول سمعت ذا النون يقول : ثلاثة من أعلام الصبر التباعد عن الخلطاء في الشدة و السكون عليه مع تجرع غصص البليه و إظهار الغنى مع كثرة العيال و جفاء الخلق و هجرانهم له و قوله الخق فيهم باحتمال الضرر في المال و البدن و قال في موضع آخر و إظهار الغنى مع حلول الفقر بساحة المعيشة قال الشيخ و ثلاثة من أعلام التسليم مقابلة القضاء بالرضا و الصبر عند البلاء و الشكر عند الرخاء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابو عثمان خیاط سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ذوالنون مصری سے فرماتے تھے کہ تین چیز صبر کی نشانی ہیں۔ سختی کے وقت اپنے گروہ اور جماعت سے دور رہنا۔ اور سختی پر سکون رکھنا باوجود غصے کے گھونٹ بھرنے کے اور کثرت عیالداری کے باوجود غنی ہونے کا اظہار کرنا مخلوق سے دوری اختیار کرنا اور ان کو چھوڑ دیا اللہ تعالیٰ کے لئے۔ اور ان کے بارے میں حق بات کرنا باوجود جسمانی اور مالی خطرات کے احتمال کے اور دوسری جگہ فرمایا کہ غنی ظاہر کرنا باوجود یہ کہ معیشت کے میدان فقر نے ڈیرے ڈال رکھے ہوں۔ شیخ نے فرمایا کہ تین چیزیں علامات تسلیم میں سے ہیں قضاء کے مقابل رضا۔ مصیبت کے وقت صبر کرنا۔ راحت و آسانی کے وقت شکر کرنا۔

ذَا النُّونِ، ← أبا عثمان الخياط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10108

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10109

10109 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا جعفر بن محمد بن نصير الخلدي حدثني إبراهيم بن نصر المنصوري حدثني إبراهيم بن بشار خادم إبراهيم بن أدهم قال : نظر إبراهيم بن آدم إلى رجل قد أصيب بمال و متاع كثير وقع الحريق في دكانه فاشتد جزعه حتى خولط في عقله فقال له يا عبد الله إن المال مال الله متعك به إن شاء و أخذه منك إن شاء فاصبر لأمره و لا تجزع فإن من تمام شكر الله على العافية الصبر له على المصيبة و من قدم وجد و من آخر فقد و ندم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد بن نصر خلدی نے ان کو حدیث بیان کی ابراہیم بن نصر منصوری نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابراہیم بن بشار خادم ابراہیم بن ادہم نے وہ کہتے ہیں کہ ابراہیم بن اور ہم نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا جس کے مال و متاع میں آفت و مصیبت پڑ گئی تھی اور اس کی دکان جل گئی تھی جس کی وجہ سے اس کا کثیر مال ضائع ہو گیا تھا۔ جس کی وجہ سے اس نے شدید جزع فزع کیا اور اس کی عقل میں فتور واقع ہو گیا۔ ابراہیم نے اس سے کہا اے اللہ کے بندے بے شک یہ مال تو اللہ کا مال تھا اگر وہ چاہے تو آپ کو اس سے فائدہ دے اور اگر چاہے تو آپ کو اس سے فائدہ نہ دے اور اگر چاہے تو آپ سے واپس لے لے لہٰذا آپ اس کے حکم پر صبر کریں اور پریشانی نہ لگائیں ہے شک عافیت پر اللہ کے شکر کی تکمیل اسی طرح ہوتی ہے کہ آپ مصیبت میں اسی کے لئے صبر کریں جو شخص ایسے کرتا ہے وہ پالیتا ہے جو ایسا نہیں کرتا وہ محروم رہتا ہے اور نادم ہوتا ہے۔

إبراهيم بن بشار خادم إبراهيم بن أدهم ← إبراهيم بن نصر المنصوري ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10109

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10110

10110 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا عبد الصمد بن زيد نا بن أبي الحواري نا علي بن المديني قال : قيل لسفيان بن عيينة ما حد الزهد ؟ قال : أن تكون شاكرا في الرضا صابرا في البلاء

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو عبد الصمد بن زید نے ان کو احمد بن ابو الحواری نے ان کو علی بن مدینی نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان بن عینیہ سے پو چھا گیا تھا کہ زہد اور ترک دنیا کی حدو تعریف کیا ہے؟ فرمایا یہ کہ آپ شاکر ہوں رضا میں اور صابر ہوں بلاء میں ( یعنی خیریت ہو تو شکر کریں مصیبت ہو تو صبر کریں۔)

أن تكون شاكرا في الرضا صابرا في البلاء ← قيل لسفيان بن عيينة ما حد الزهد ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← بن أبي الحواري ← عبد الصمد بن زيد ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10110

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10111

10111 - أخبرني أبو سهل بن نصرويه المزني قال : سمعت أبا بكر محمد بن عبد الله بن يزداد الرازي يقول : سمعت أبا عبد الله المعروف بنفطويه ببغداد قال : كان يقال العاقل من كرم صبره عند البلاء و لم يظهر منه ترفع عند الرضا

ہمیں خبر دی ابو سہل بن نصرویہ مزنی نے اس نے سنا ابو بکر محمد بن عبداللہ بن یزد اورازی سے وہ کہتے تھے میں نے سنا ابو عبداللہ المعروف ب نفطریہ سے بغداد میں وہ کہتے ہیں ۔ کہ کہا جاتا ہے کہ عاقل وہ ہے جس کا صبر مصیبت کے وقت بہت اچھا ہو۔ اور خوشی کے وقت اس سے تکبر اور بڑائی اس سے ظاہر نہ ہو۔

أبا عبد الله المعروف بنفطويه ببغداد ← أبا بكر محمد بن عبد الله بن يزداد الرازي ← أبو سهل بن نصرويه المزني

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10111

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10112

10112 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا سعيد بن عثمان قال : سمعت ذا النون يقول : ثلاثة من أعلام التسليم مقابلة القضاء بالرضا و الصبر عند البلاء و الشكر على الرخاء

ہمیں خبر دی ابو الحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو سعید بن عثمان نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ذوالنون مصری سے وہ کہتے ہیں کہ تین چیز تسلیم ورضا کی علامات ہیں۔ رضا با ؛لقضا۔ صبر بوقت بلاء و مصیبت۔ شکر بوقت راحت۔

ذَا النُّونِ، ← سعيد بن عثمان ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10112

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10113

10113 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سئل أبو عبد الله الصبيحي عن أصول الدين فقال : اثنان صدق الافتقار إلى الله عز و جل و حسن الاقتداء برسول الله و فرعه أربعة أشياء الوفاء بالعهود و حفظ الحدود و الرضا بالموجود و الصبر على المفقود

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ ابو عبداللہ صبیحی سے اصول دین کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ اصول دین دو ہیں: اللہ کی بارگاہ میں سچا افتقار اور رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حسن اقداء اور اس کی فروع اور شاخیں چار ہیں ۔ عہدوں کو پورا کرنا۔ حدود کی حفاظت کرنا۔ جو کچھ موجود میسر جو اس پر راضی ہونا۔ اور جو کچھ غیر موجود وغیر میسر ہو اس پر صبر کرنا۔

أصول الدين ← سئل أبو عبد الله الصبيحي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10113

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10114

10114 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني علي بن محمد المروزي نا محمد بن إبراهيم البوشنجي نا عبد المنعم بن إدريس ابن ابنه وهب بن منبه قال : حدثني أبي عن جدي وهب بن منبه قال : قال عبد الله بن عباس : ما من مؤمن تقي يحبس الله عنه الدنيا ثلاثة أيام و هو في ذلك راض عن الله تعالى من غير جزع إلا وجبت له الجنة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی علی بن محمد مروزی نے ان کو محمد بن ابراہیم بوشنجی نےان کو عبد المنعم بن ادریس نے انجیران کو ان کے پوتے وہب بن منبہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے میرے والد نے میرے دادا وہب بن منبہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا جو مومن متقی پرہیزگار ایسا ہے کہ اس سے تین دن تک دنیا روک لی جاتی ہے اور وہ اس میں اللہ سے راضی رہتا ہے بغیر ۔ کسی بے صبری کے تو اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔

جدي وهب بن منبه ← أَبِي ← عبد المنعم بن إدريس ابن ابنه وهب بن منبه ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← علي بن محمد المروزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10114

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10115

10115 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عثمان سعيد بن عثمان السمرقندي العابد المجتهد قال : سمعت أبا عثمان سعيد بن إسماعيل غير مرة يقول : لمن يحضره و يطلب صحبته من الأصحاب : من طلب جواري و لم يوطن نفسه على ثلاثة أشياء فليس له في جواري موضع أولها إلقاء العز و حمل الذل و الثاني سكون قلبه على جوع ثلاثة أيام و لياليهن و الثالث أن لا يغتم و لا يهتم إلا لدينه أو طلب إصلاح دينه فمن راض نفسه على هذه الثلاث الخصال حصل مستقرة في جواري :

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو عثمان سعید بن عثمان سمر قندی عابد مجتہد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عثمان سعید بن عثمان سے متعدد بار وہ ہر اس آدمی سے کہتے تھے جو ان کے پاس آتا تھا اور ان کے اصحاب میں سے جو ان کی صحبت کا طالب ہوتا تھا۔ جو شخص میرے ساتھ رہنا طلب کرتا ہے مگر وہ تین چیزوں پر اپنے نفس کو نہیں ٹھہر سکتا ہے اس کے لئے میرے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ پہلے نمبر پر عزت کو پھینک دینا اور ذات کو اٹھا لیا۔ دوسرے نمبر پر اس کا بھوکے رہنے پر سکون قلب پانا اور تیسرے نمبر پر یہ کہ نہ تو وہ غم کرے نہ ہی فکر کرے مگر محض دین کا غم اور دین کی فکر کرے یا اپنے دین کی اصلاح طلب کرے جو شخص ان تین صفات پر راضی ہو ان کو میرے پڑوس میں ٹھکانا حاصل ہو سکتا ہے۔

أبا عثمان سعيد بن إسماعيل غير مرة ← أبو عثمان سعيد بن عثمان السمرقندي العابد المجتهد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10115

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10116

10116 - أخبرنا أبو محمد السكري أنا أبو بكر الشافعي نا جعفر بن محمد بن الأزهر نا الفضل بن غسان نا يحيى بن معين : أمر ابن زياد لصفوان بن محرز بألفي درهم فسرقت فقال : عسى أن يكون خيرا فقال أهله كيف في هذا خير فبلغ ابن زياد فأمر له بألفين فوجد الأولى التي سرقت فصارت أربعة آلاف درهم

ہمیں خبر دی ابو محمد سکری نے ان کو ابو بکر شافعی نے ان کو جعفر بن محمد ازہر نے ان کو فضل بن محمد غسان نے ان کو یحییٰ بن معین نے کہ ابن زیاد نے صفوان بن محرز کے لئے دو ہزار درہم کا حکم دیا ( جب مل گئے تو وہ چوری بھی ہو گئے ) اس نے کہا کہ ممکن ہے کہ اسی میں خیر ہو۔ ان کے گھر والوں نے کہا کہ اس میں خیر کیسے ہو سکتی ہے چنانچہ اس بات کی خبر ابن زیاد کو پہنچ گئی لہٰذاس نے مزید دو ہزار کا اس کے لئے آڈر کر دیا لہٰذا پہلی رقم جو چوری ہوئی تھی وہ بھی مل گئی اب چار ہزار درہم ہو گئے۔

عسى أن يكون خيرا ← يحيى بن معين أمر ابن زياد لصفوان بن محرز بألفي درهم فسرقت ← الْفَضْلُ بْنُ غَسَّانَ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ← أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10116

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10117

10117 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا محمد بن يعقوب نا أبو عتبة نا ضمرة بن ربيعة عن ابن عطاء عن أبيه قال : المؤمن لا يتم له فرح يوم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن یعقوب نے ان کو ابو عقبہ نے ان کو ضمرہ بن ربیعہ نے ان کو ابن عطاء نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ مومن کے لئے تو ایک دن کی خوشی بھی پوری نہیں ہوئی۔

المؤمن لا يتم له فرح يوم ← أَبِيهِ ← ابْنُ عَطَاءٍ ← ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، ← أَبُو عُتْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10117

chevron_left Previous
1…101112…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood