Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9986

9986 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا عبد الله بن عثمان أنا عبد الله بن المبارك أنا سفيان عن أبيه عن بكر بن ماغر قال : كان في وجه ربيع بن خيثم شيء قال : فكان فمه يسيل فرأى في وجهه المساءة فقال : يا بكر ما يسرني أن هذا الذي بي باغنى على الله و قال : أخبرنا أيضا سفيان قال : قيل للربيع بن خيثم و كان أصابه فالج لقد تداويت فقال : لقد هممت ثم ذكرت عادا و ثمود و أصحاب الرس و قرونا بين ذلك كثيرا كانت فيهم أوجاع و كانت لهم أطباء فما بقي المداوي و لا المداوى إلا و قد فني

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو عبداللہ بن عثمان نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو سفیان نے ان کو ان کے والد نے ان کو بکر بن ماغر نے وہ کہتے ہیں کہ ربیع بن خثیم کے چہرے پر فالج کی تکلیف تھی جس کی وجہ سے ان کے منہ سے رال بہتی رہتی تھی۔ انہوں نے اپنے چہرے کی قباحت دیکھی تو فرمایا کہ مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ یہ تکلیف جو میرے ساتھ ہے اللہ پر مشکل ہو یا اس نے بلا وجہ دی ہو۔ اور کہتے ہیں کہ ہمیں یہی خبر سفیان نے دی ہے وہ کہتے ہیں کہ ربیع بن خیثم کو جب فالج ہو گیا تھا ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے علاج کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے علاج کا ارادہ کیا تھا پھر میں نے قوم عاد اور شمود کو یاد کیا اور اصحاب زمین کو اور ان کے درمیان بہت سی بستیوں کو کہ ان میں بڑے بڑے دکھ درد موجود تھے بڑے بڑے روگ تھے اور ان میں بڑے بڑے طبیب بھی تھے مگر ان کے لئے نہ کوئی علاج بچا تھا نہ ہی کوئی علاج کرنے والا باقی رہا تھا اب کچھ فنا ہو گیا تھا۔

قيل للربيع بن خيثم و كان أصابه فالج لقد تداويت ← أيضا سفيان ← يا بكر ما يسرني أن هذا الذي بي باغنى على الله و ← فكان فمه يسيل فرأى في وجهه المساءة ← كان في وجه ربيع بن خيثم شيء ← بكر بن ماغر ← أَبِيهِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9986

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9987

9987 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا حميد أحمد بن إبراهيم الحنظلي يقول : سمعت محمد بن العباس السليطي يقول : سمعت محمد بن أسلم ينشد : ـ ( إن الطبيب و دوائه لا يسطيع دفاع مقدور أتى ) ( ما للطبيب يموت بالداء الذي قد كان يبرىء مثله فيما مضى ) ( هلك المداوى و المداوي و الذي جلب الدواء و باعه و من اشترى )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو حمید احمد بن ابراہیم حنظلی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن عباس سلیطی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن اسلم سے وہ شعر پڑھتے تھے۔ جن کا مفہوم یہ ہے۔ بے شک طبیب اپنی دوا اور اپنے علاج سمیت تقدیر دفاع کی اور بچنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ جب آجاتی ہے کیا حالت ہوتی ہے طبیب کی کہ وہ خود اسی بیماری کے ساتھ مر جاتا ہے ماضی میں جس کا وہ خود علاج کر کے اس کے مریض کو تندرست کر چکا ہوتا ہے کہ دوا بھی اور معالج دوا رہنے والا بھی اور دوا لا کر دینے والا بھی اور اس کو بیچنے والا اور خریدنے والا بھی اس کے لئے ہلاک ہو چکا ہوتا ہے۔

محمد بن العباس السليطي ← أبا حميد أحمد بن إبراهيم الحنظلي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9987

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9988

9988 - أخبرنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي أنا أبو إسحاق الأصبهاني نا أبو أحمد بن فارس نا محمد بن إسماعيل البخاري قال : قال يوسف الصفار : سمع يحيى الأموي سمع الأعمش سمع حيان بن أبحر يقول : دع الدواء ما احتمل جسمك الداء

ہمیں خبر دی ابو بکر محمد بن ابراہیم فارسی نے ان کو ابو اسحٰق اصفہانی نے ان کو ابو احمد بن فارس نے ان کو محمد بن اسماعیل بخاری نے وہ کہتے ہیں کہ یوسف صفار نے کہا کہ اس نے یحییٰ اموی سے سنا تھا اس نے اعمش سے سنا تھا اس نے حیان بن ابحر سے سنادہ کہتے تھے۔ جب تک جسم تکلیف کو برداشت کر سکتا ہو علاج نہ کرو۔

دع الدواء ما احتمل جسمك الداء ← حيان بن أبحر ← الْاَعْمَشِ ← يحيى الأموي ← يُوسُفُ الصَّفَّارُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9988

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9989

9989 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان أنا ابن أبي الدنيا قال : حديث عن إسحاق بن موسى الخطمي نا محمد بن زائدة أبو هشام الكوفي عن رقبة قال : قيل لإبراهيم التيمي و هو في الديماس : لو دعوت الله عز و جل أن يفرج عنك قال : إني لأستحي أن أدعو الله أن يفرج عني مما لي فيه أجر

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابن ابو الدنیا نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی گئی ہے اسحاق بن موسیٰ خطمی سے اس نے محمد بن زائدہ ابو ہشام کوفی ہے۔ اس نے رقبہ سے وہ کہتے ہیں کہ ابراہیم تیمی سے کہا گیا تھا وہ دیماس میں تھے کہ آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ آپ کو اس تکلیف سے خلاصی اور چھٹکارا دے دے کہنے لگے مجھے اللہ تعالیٰ سے حیا آتی ہے کہ میں اس سے یہ دعا مانگوں کہ میری اس تکلیف کو دور کر دے جس میں میرے لئے اجر و ثواب ہے۔

رَقَبَةَ، ← محمد بن زائدة أبو هشام الكوفي ← إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْخَطْمِيُّ، ← حَدِيثٍ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9989

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9990

9990 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو و أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا عبد الله بن محمد بن هانىء أنا مرحوم بن عبد العزيز حدثني حبيب أبو محمد الهزاني قال : عادني الحسن في مرض لي فقال : يا حبيب إن لم تؤجر إلا فيما تحب قل أجرنا و إن الله كريم يبتلي العبد و هو كاره و يعطيه عليه الأجر العظيم

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو عبداللہ بن محمد ہانی نے ان کو مرحوم بن عبدالعزیز نے ان کو حدیث بیان کی حبیب ابو محمد ہزانی نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے میری ایک بیماری کے ایام میں میری بیمار پرسی کی اور کہا کہ اے حبیب اگر آپ کو بیمار ہو جانے کی صورت میں اجر نہ ملتا تو ہمارا اجر بھی کم ہو جاتا (یعنی عیادت کے ثواب سے ہم بھی محروم رہتے ) لیے شک اللہ تعالیٰ کریم ہے بندے کو تکلیف میں مبتلا کرتا ہے حالانکہ وہ اس کو ناپسند کر رہا ہوتا ہے پھر وہ اسی پر اس کو اجر عظیم عطا کرتا ہے۔

عادني الحسن في مرض لي ← حبيب أبو محمد الهزاني ← مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← عبد الله بن محمد بن هانىء ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أبو سعيد بن أبي عمرو و

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9990

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9991

9991 - قال : و حدثنا أبو بكر حدثني علي بن أشكاب العامري نا يزيد بن هارون نا مبارك عن الحسن أنه ذكر الوجه فقال : أما و الله ما يسر أيام المسلم أيام قورب له فيها من أجله و ذكر فيها ما نسي من معاده و كفر بها عنه خطاياه

فرماتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے علی بن الشکاب عامری نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو مبارک نے ان کو حسن نے کہ انہوں نے وجہ و مقصد کا ذکر کیا تو فرمایا خبردار اللہ کی قسم کہ مسلمان کے وہ ایام جو اس کے لئے خوشی کا باعث ہو سکتے ہیں وہ ایام ہیں جن میں اس کے لئے اللہ کے قرب کا سامان ہو اور ان میں وہ اس چیز کو یاد کر لے جو کچھ وہ اپنی آخرت کے سلسلے میں بھول چکا تھا اور ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ ہو سکے۔

الْوَجْهَ ← الْحَسَنِ أَنَّهُ ← مُبَارَكٌ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَلِيُّ بْنُ أَشْكَابٍ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9991

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9992

9992 - قال : و حدثنا أبو بكر حدثني سعيد بن ساسوية حدثني عمي حاتم بن بشر قال : مرض جدي عطاء الخراساني فدخل عليه محمد بن واسع يعوده قال : سمعت الحسن يقول : إن العبد ليبتلى في ماله فيصبر فلا يبلغ بذلك الدرجات العلى و يبتلى في بدنه فيصبر فيبلغ بذلك الدرجات العلى قال : و كان عطاء قد أصابته مرضات

کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر نے ان کو حدیث بیان کی سعید بن ساسویہ نے ان کو ان کے چچا حاتم بن بشر نے وہ کہتے ہیں کہ میرے چچا عطا خراسانی بیمار ہو گئے تھے پس ان پر محمد بن واسع داخل ہوئے بیمار پرسی کرنے کے لئے تو فرمایا میں نے سنا ہے حسن سے وہ کہتے ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ بندے کو اس کے مال میں آزماتا ہے پس وہ صبر کرتا ہے مگر وہ اس کے ذریعے بلند درجات تک نہیں پہنچتا پھر اس کو اس کے جسم میں آزمایا جاتا ہے اور وہ صبر کرتا ہے لہٰذا وہ اس کے ذریعے بلند مقامات تک پہنچ جاتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضرت عطا ء ایسے تھے کہ ان کو کئی امراض پہنچ چکے تھے۔

الْحَسَنِ، ← مَرِضَ جَدِّي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ فَدَخَلَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ يَعُودُهُ ← عَمِّي حَاتِمُ بْنُ بِشْرٍ ← سَعِيدُ بْنُ سَاسَوَيْهِ ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9992

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9993

9993 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت محمد بن عبد الله يقول : سمعت إبراهيم بن المولد يقول : دخلت على إبراهيم المقري و قد رفسته بغلته فكسرت رجله فقال : لولا مصائب الدنيا قدمنا على الله مفاليس

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابراہیم بن مولا سے وہ کہتے ہیں کہ میں داخل ہوا ابراہیم مقری پر کیونکہ ان کو ان کے خچر نے لات ماری تھی جس سے ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔ لہٰذا انہوں نے فرمایا کہ اگر دنیا کے مصائب نہ ہوتے تو ہم لوگ اللہ تعالیٰ پر دلیر اور جری ہو جاتے ۔ انتہائی جری ہوتا۔

لولا مصائب الدنيا قدمنا على الله مفاليس ← دخلت على إبراهيم المقري و قد رفسته بغلته فكسرت رجله ← إبراهيم بن المولد ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9993

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9994

9994 - أخبرنا أبو سعد الماليني نا أبو محمد بن أبي الحسن المصري حدثني أبو العباس المعافري قال : سمعت نصر مولى جعين يقول : سمعت ذا النون يقول : ما ضرك ما عزك إذا أعقبك ما سرك لقد عزك ما سرك إذا أعقبك ما ضرك

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو محمد بن ابو الحسن مصری نے ان کو ابو العباس معافری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنانصر مولیٰ جعین سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ذوالنون مصری سے وہ کہتے ہیں کہ نہیں نقصان دیتی تجھے کو وہ چیز جو تجھے عزت دے جب جزا اور بدلہ دے تجھے کو اس جیز کا جو چیز تمہیں خوش کر دے البتہ تحقیق عزت دے گی تجھ کو وہ چیز جو خوش کرے تجھ کو جب وہ تجھے جزا اور بدلہ اس چیز کا دے جو تمہیں بری لگے یا نقصان پہنچائے۔

ذَا النُّونِ، ← نصر مولى جعين ← أبو العباس المعافري ← أبو محمد بن أبي الحسن المصري ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9994

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9995

9995 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان نا جعفر بن محمد بن الحسين نا الحسين بن منصور قال : سمعت علي بن عثام يقول : يقال على من صبر على ما يكره رأى ما يحب

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکرمحمد بن داؤد بن سلیمان نے ان کو جعفر بن محمد بن حسین نے ان کو حسین بن منصور نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی بن عثام سے وہ کہتے ہیں کہ اس شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے جو ناپسندیدہ اور تکلیف دہ امور پر صبر کرتا ہے وہ ان امور کو اور چیزوں کو بھی ضرور دیکھتا ہے جن کو وہ پسند کرتا ہے۔

يقال على من صبر على ما يكره رأى ما يحب ← عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9995

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9996

9996 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت سعيد بن أحمد يقول : سمعت جعفر الخلدي يقول : سمعت الجنيد يقول : الصبر مفتاح كل خير

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سعید بن احمد سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا جعفر خدری سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا جنید بغدادی سے وہ کہتے ہیں کہ صبر ہر خیر کی چابی ہے۔

الصبر مفتاح كل خير ← الجنيد ← جَعْفَرٌ الْخَلَدِيُّ ← سعيد بن أحمد ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9996

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9997

9997 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن أحمد الصيدلاني نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن علي بن عفان نا أبو أسامة عن محمد بن عمرو قال : سمعت عمر بن عبد العزيز يخطب على منبر رسول الله صلى الله عليه و سلم يذكر الصبر و ما جعل الله فيه من الفضل ثم قال : ما أعطى الله عز و جل عبدا شيئا في الدنيا ثم أخذه منه فأعقبه بما أخذ منه الصبر إلا كان ما أعطاه خيرا مما أخذ منه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن احمد صیدلانی نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو محمد بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عمر بن عبدالعزیز سے وہ منبر رسول پر خطبہ دے رہے تھے ۔ صبر کاذکر کر رہے تھے اور ان انعامات کا جو اللہ نے اس میں فضیلت رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو دنیا میں جو چیز عطا کرتے ہیں پھر وہ چیز اس سے واپس لے لیتے ہیں تو اس کے پیچھے وہ صبر کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس سے کہیں بہتر عطا کرتے ہیں جو اس سے لیا گیا تھا۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن أحمد الصيدلاني

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9997

chevron_left Previous
1234…47
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood