Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5650

5651 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل عن عبد السلام بن حرب الملائي عن يونس بن عبيد عن الحسن عن عتي عن أبي بن كعب رفعه قال : إن الله عز و جل ضرب الدنيا لمطعم ابن آدم مثلا وضرب مطعم ابن آدم للدنيا مثلا وإن هو ملحه وقزحه ثم يقول الحسن وما رأيتهم يطبخونه بالأفواه والطيب ثم يرمون كما رأيتم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو ابو غسان مالک بن اسماعیل نے ان کو عبد السلام بن حرب ملائی نے ان کو یونس بن عبید نے ان کو حسن نے ان کو عتی نے ان کو ابی بن کعب نے انہوں نے اس کو مرفوع بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ بے شک اللہ عزوجل نے دنیا کو ابن آدم کے کھانے کی مثالی جگہ بنا دیا ہے۔ اور پھر ابن آدم کے کھانے کو دنیا کے لئے عبرت بنایا ہے بے شک وہ اس کو نمک اور مصالحہ سے آراستہ کرتا ہے۔ کہا کہ پھر حسن کہتے ہیں کہ جو کچھ تم دیکھتے ہودہ کھاتے ہیں منہ کے ساتھ پاکیزہ چیز اس کے بعد وہ کیا خارج کرتے ہیں وہ بھی تم جانتے ہو۔

ضَرَبَ مَطْعَمَ ابْنِ آدَمَ لِلدُّنْيَا مَثَلاً, وَإِنَّ هُوَ مِلَّحَهُ وَقَزَّحَهُ, ثُمَّ ← إن الله عز و جل ضرب الدنيا لمطعم ابن آدم مثلا ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، رَفَعَهُ ← عُتَيٍّ1 ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5650

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5651

5652 - وأخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا محمد بن عمرو بن البختري إملاء ثنا أحمد بن محمد أبو العباس المزي ثنا أبو حذيفة ثنا سفيان عن يونس عن الحسن عن عتي عن أبي بن كعب : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن مطعم ابن آدم ضرب مثلا للدنيا مما يخرج من ابن آدم وإن ملحه وقزحه فيعلم إلى ما يصير

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو محمد بن عمرو بن بختری نے بطور املا ء کے ان کو احمد بن محمد ابو العباس مزی نے ان کو ابو حذیفہ نے ان کو سفیان نے ان کو یونس نے ان کو حسن نے ان کو عتی نے ان کو ابی بن کعب نے یہ کہ نبی کریم نے فرمایا : بے شک ابن آدم کا کھانا دنیا کے لئے ضرب المثل ہے اس کا نمک مصالحہ بھی اس کے بعد ابن آدم سے جو کچھ خارج ہوتا ہے وہ بھی باعث عبرت ہے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عُتَيٍّ1 ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← أحمد بن محمد أبو العباس المزي ← محمد بن عمرو بن البختري إملاء ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5651

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5652

5653 - أخبرنا أبو جعفر المستملي أنا أبو علي الرفاء ثنا أبو يحيى زكريا بن داود الخفاف ثنا عبد الله بن الجراح ثنا حماد بن زيد عن علي بن زيد بن جدعان عن الحسن قال : قال الضحاك بن سفيان الكلابي : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا ضحاك ما طعامك قال : قلت : اللحم واللبن قال : ثم يصير إلى ماذا قال قلت : إلى ما علمت قال : فإن الله عز و جل جعل ما يخرج من ابن آدم مثلا للدنيا

ہمیں خبر دی ابو جعفر مستملی نے ان کو ابو علی رفا ء نے ان کو ابو یحییٰ زکریا بن داؤد خقاف نے ان کو عبداللہ بن جراح نے ان کو حماد بن زید نے ان کو علی بن زید بن جدعان نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ ضحاک بن سفیان کلابی نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ضحاک تیرا طعام کیا ہے؟ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ گوشت اور دودھ کہا کہ پھر اس سے کیا بنتا ہے؟ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ وہی جو کچھ آپ جانتے ہیں، فرمایا کہ بے شک اللہ نے دنیا کے لئے مثال اور عبرت بنایا ہے جو کچھ بن آدم سے نکلتا ہے۔

قُلْتُ: إِلَى مَا عَلِمْتَ ← ثُمَّ يَصِيرُ إِلَى مَاذَا؟ ← قُلْتُ: اللَّحْمُ وَاللَّبَنُ ← لي رسول الله صلى الله عليه و سلم يا ضحاك ما طعامك ← الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلابِيُّ ← الْحَسَنِ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ← أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ دَاوُدَ الْخَفَّافُ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرَّفَّاءُ ← أَبُو جَعْفَرٍ الْمُسْتَمْلِي

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5652

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5653

5654 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر محمد بن إسحاق الصغاني أنا ابن أبي مريم ثنا أبو غسان حدثني أبو حازم أنه سأله سهلا : هل رأيتم في زمان النبي صلى الله عليه و سلم نقيا قالوا : لا قال أبو حازم : فقلت كنتم تنخلون الشعير قال : لا ولكنا كنا ننفخه رواه البخاري في الصحيح عن سعيد بن أبي مريم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ اور ابو بکر محمد بن اسحاق صفانی نے ان کو ابن مریم نے ان کو ابو غسان نے ان کو ابو حازم نے کہ انہوں نے سہل سے پوچھا کیا تم نے نبی علیہ السلام کے زمانے میں صاف آٹا دیکھا تھا؟ کہا کہ نہیں دیکھا تھا ابو حازم نے کہا کہ میں نے کہا کہ کیا تم جو کا آٹا چھانتے تھے کہا کہ نہیں لیکن تھے ہم لوگ پھونک ماردیتے تھے اس کو۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں سعید بن ابو مریم سے۔

أَبُو حَازِمٍ ← أبو غسان، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر محمد بن إسحاق الصغاني

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5653

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5654

5655 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني جعفر بن محمد المراغي أنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا قتيبة بن سعيد ثنا يعقوب بن عبد الرحمن الإسكندراني عن أبي حازم قال : سألت سهل بن سعد فقلت : هل أكل رسول الله صلى الله عليه و سلم النقي فقال : ما أكل رسول الله صلى الله عليه و سلم النقي من حين ابتعثه الله عز و جل حتى قبضه قال : قلت : هل كانت لكم على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم مناخل قال : ما رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم منخلا من حين ابتعثه الله إلى حين قبضه قال : قلت : كيف كنتم تأكلون الشعير غير منخول قال : كنا نطحنه وننفخه فيطير ويبقى ما بقي ثريناه فأكلناه رواه البخاري في الصحيح عن قتيبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد مراغی نے ان کو جعفر بن محمد فریابی نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو یعقوب بن عبدالرحمٰن اسکندرانی نے ان کو ابو حازم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا سہل بن سعد سے میں نے کہا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف شدہ آٹا کھایا تھا۔ فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف آٹا نہیں کھایا تھا جب اللہ نے ان کو نبی بنا کر بھیجا تھا حتٰی کہ ان کو وفات دے دی۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کیا رسول اللہ کے زمانے میں تمہارے پاس آٹا چھاننے کی چھننیاں ہوتی تھیں؟ کہا جب سے اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنا کربھیجا آپ نے چھننی دیکھی بھی نہیں تھی حتٰی کہ اللہ نے ان کو قبض کر لیا۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ پھر تم لوگ جو کا آٹا کیسے کھاتے تھے؟ بغیر چھنا ہوا؟ کہا کہ ہم اس کو پیس لیتے تھے اور پھر پھونک مار کر بھی اڑا دیتے تھے جواڑتا وہ اڑ جاتا اور جو باقی رہنا ہوتا وہ باقی رہ جاتا۔ پھر پکا لیتے اور اسے کھا لیتے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا قتیبہ سے۔

أَبِي حَازِمٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ← جعفر بن محمد المراغي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5654

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5655

5656 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا عفان ثنا همام عن قتادة قال : كنا نأتي أنسا وخبازه قائم فيقول : كلوا فما أكل رسول الله صلى الله عليه و سلم رغيفا مرققا ولا شاة سميطا حتى لحق بالله عز و جل رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن سنان وغيره عن همام

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو عفان نے ان کو ہمام نے ان کو قتادہ نے کہ ہم لوگ حضرت انس کے پاس آتے تھے۔ اور ان کا روٹی پکانے والا کھڑا ہوتا تھا۔ فرماتے تھے کہ کھاؤ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا تھا نہ تو باریک آٹے کی روٹی نہ بکری بھونی ہوئی ہوتی تھی حتٰی کہ وہ اللہ کو جا ملے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے محمد بن سنان وغیرہ سے اس نے ہمام سے۔

قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5655

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5656

5657 - وروينا من وجه آخر عن قتادة عن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم ما أكل على مائدة قط ولا أكل خبز رقاق قط ولا اصطنع في سكرجة قال : قيل يا أبا حمزة فعلى أي شئ كانوا يأكلون قال : على السفر و أنس بن مالك أخبر بما بلغه علمه أو على الأغلب 5657 - مكرر ـ وقد روينا عن سعيد بن جبير عن ابن عباس في قصة الضب قال : فأكل رسول الله صلى الله عليه و سلم من الأقط والسمن وترك الضب تقذرا قال ابن عباس فأكل على مائدة رسول الله صلى الله عليه و سلم ولو كان حراما ما أكل على مائدته وفي هذا دلالة على جواز الأكل على المائدة والله أعلم

ہم نے دوسرے طریق سے روایت کیا ہے قتادہ سے اس نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی دستر خوان پر نہیں کھایا اور باریک آٹے کی روٹی بھی نہیں کھائی۔ اور نہ کبھی پلیٹ میں کچھ تیار کیا کہتے ہیں کہ کیا گیا اے ابو حمزہ پھر وہ لوگ کس چیز پر کھایا کرتے تھے۔ بتایا کہ سفر سے اور قند دریاں ہوتی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انس بن مالک نے وہ ہی خبر دی ہے جو ان کو خبر پہنچی ہے یا پھر زیادہ تر پر مبنی ہے۔ کہ زیادہ تر یہی ہوتا تھا۔ مکر رہے۔ تحقیق ہم نے روایت کی ہے سعید بن جبیر سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے گود کے قصے کے بارے میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پنیر اور گھی کھایا تھا اور گوہ کو چھوڑ دیا تھا یہ کراہت کرنے یا ناپاک سمجھنے کی وجہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر کھائی گئی۔ اگر وہ حرام ہوتی تو آپ کے دستر خوان پر نہ کھائی جاتی۔ اور اس روایت میں دلیل ہے دسترخوان پر کھانا کھانے کے جواز کی۔ واللہ اعلم۔ (غالباً یہ واقعہ جانوروں کی حلت وحرمت کے قاعدے کے نزول سے قبل کا ہو گا اور عربوں کی قبائلی روایت کے مطابق ہو گا۔ مترجم)

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← وَرُوِّينَا مِنْ، وَجْهٍ آخَرَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5656

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5657

5658 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عمرو بن أبي جعفر ثنا عبد الله بن شيرويه ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا روح بن عبادة ثنا ابن أبي ذئب عن سعيد المقبري عن أبي هريرة : أنه مر بقوم بين أيديهم شاة مصلية فدعوه فأبى أن يأكل وقال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم من الدنيا ولم يشبع من خبز الشعير رواه البخاري في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمرو بن ابو جعفر نے ان کو عبداللہ بن شیرویہ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو ابن ابو ذئب نے ان کو سعید مقبری نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ وہ ایک قوم کے پاس سے گزرے ان کے سامنے بھونی ہوئی بکری رکھی تھی انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو کھانے کی دعوت دی تو اس نے کھانے سے انکار کر دیا اورفرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہو گئے تھے مگر آپ نے جَو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہیں کھائی تھی۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں اسحاق بن ابراہیم سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5657

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5658

5659 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن السراج ثنا مطين ثنا عبيد القواريري ثنا عبد الوارث بن سعيد عن محمد بن جحادة حدثني حميد الشامي عن سليمان المنبهي عن ثوبان في حديث طويل : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا ثوبان إني لا أريد أن يأكل أهلي طيباتهم في حياتهم الدنيا وقد ذكرنا هذا الحديث بطوله في آخر الجزء الأول من كتاب السنن

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن محمد بن حسن سراج نے ان کو مطین نے ان کو عبیداللہ بن قواریری نے ان کو عبدالوارث بن سعید نے ان کو محمد بن جحادہ نے ان کو محمد بن جحادہ نے ان کو حمید شافی نے ان کو سلیمان منبہی نے ان کو ثوبان نے طویل حدیث میں وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ثوبان میں یہ نہیں چاہتا کہ میرے گھر والے اپنی دنیاوی زندگی میں نفیس کھانے کھا ئیں۔ اور تحقیق ہم نے ذکر کی ہے حدیث اپنی طوالت سمیت کتاب السنن کی جز اول کے آخر میں۔

ثوبان في حديث طويل ← سُلَيْمَانَ الْمُنْبِّهِيِّ ← حميدٍ الشاميِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← عبيد القواريري ← مطين ← أبو الحسن محمد بن السراج ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5658

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5659

5660 - أخبرنا علي بن محمد بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري ثنا ابن أبي مريم الفريابي ح وأخبرنا أبو جعفر المستملي أنا أبو علي الرفاء ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا محمد بن كثير قال : ثنا سفيان عن عبد الملك بن أبي بشير عن عبد الله بن المساور قال : سمعت ابن عباس يخبر ابن الزبير وفي رواية الفريابي عن ابن عباس أنه قال لابن الزبير وهو يتحار : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول ليس المؤمن من يشبع وجاره جائع إلى جنبه

ہمیں خبر دی علی بن محمد بن بشران نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد مصری نے ان کو ابو مریم فریابی نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو جعفر مستملی نے ان کو ابو علی رفاء نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سفیان نے ان کو عبدالملک بن بشیر نے ان کو عبداللہ بن مساور نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن عباس سے وہ خبر دے، ہے تھے ابن زبیر کو اور فریابی کی روایت میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے اور وہ ان سے گفتگو کر رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنافر ماتے تھے وہ شخص مومن نہیں ہے جس کا پیٹ بھرا ہوا ہو اور اس کا پڑوسی برابر میں بھوکا ہو۔

ليس المؤمن من يشبع وجاره جائع إلى جنبه ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← لابن الزبير وهو يتحار ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← ابن عباس يخبر ابن الزبير وفي رواية الفريابي ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُسَاوِرِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الرَّفَّاءُ ← وأخبرنا أبو جعفر المستملي ← ابن أبي مريم الفريابي ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5659

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5660

5661 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار الصوفي ثنا علي بن الجعد أنا أبو إسحاق أظنه قال الشيباني عن يعقوب بن محمد بن طحلاء عن أبي الرجال عن عمرة عن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أراد أن يشتري غلاما فألقى بين يديه تمرا فأكل الغلام فأكثر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن كثرة الأكل شؤم وأمر برده قال أبو أحمد : أبو إسحاق الشيباني هذا هو إبراهيم بن هراسة كناه علي بن الجعد لضعفه ولئلا يعرف وهذا الحديث بهذا الإسناد لا أعلم يرويه غير إبراهيم بن هراسة

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو احمد بن حسن بن عبدالجبار صوفی نے ان کو علی بن جعد نے ان کو ابو اسحٰق نے میرا گمان ہے کہ کہا شیبانی نے یعقوب بن محمد طحلا ء سے اس نے ابو الرجال سے اس نے عمرو سے اس نے سیدہ عائشہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا ایک نام خرید کرنے کا تو اس کے آگے کھجوریں رکھ دیں غلام نے بہت ساری کھا لیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک زیادہ کھانا نحوست ہے پھر آپ نے اس غلام کو واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ کہا ابو احمد نے ابو اسحاق شیبانی یہ وہی ابراہیم بن ہراسہ ہے تم نے اس کی کنیت علی بن جعد کی ہے اس کے ضعف کی وجہ سے تاکہ یہ حدیث اس اسناد کے ساتھ نہ پہنچائی جائے روایت کرتے ہیں اس کو سوائے ابراہیم بن ہراسہ کے۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← أَبِي الرِّجَالِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ← الشَّيْبَانِيِّ ← أبو إسحاق أظنه ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5660

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5661

5662 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الرحمن السلمي و أبو سعيد بن أبي عمرو و أبو صادق العطار ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو يعقوب يوسف بن عبد الله الخوارزمي ببيت المقدس ثنا ابن مقلاص ثنا عبد الله بن المغيرة ثنا سفيان عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : للقلب فرحة عند أكل اللحم وما دام الفرح بأمر إلا أشر وبطر فمرة ومرة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن سلمی اور ابو سعید بن ابی عمرو نے اور ابو صادق عطار نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو یعقوب یوسف بن عبداللہ خوارزمی نے بیت المقدس میں ان کو ابن مقلاص نے ان کو عبداللہ بن مغیرہ نے ان کو سفیان نے ان کو ابو الزناد نے اعرج سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دل کے لئے خوشی ہوتی ہے گوشت کھانے کے وقت نہیں دائم رہتی خوشی کسی امر کی مگر زیادہ برا ہوتا ہے زیادہ تکبر والا۔ پس باری باری ہونا چاہئے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← ابْنُ مِقْلَاصٍ ← أَبُو يَعْقُوبَ يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُوَارِزْمِيُّ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5661

chevron_left Previous
1…789…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood