Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في إكرام الشعر وتدهينه وإصلاحه · حديث 6466

6467 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري ثنا هشام عن الحسن عن عبد الله بن معقل قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الترجل إلا غبا رواه أبو داود عن مسدد عن يحيى القطان عن هاشم بن حسان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو محمد بن عبداللہ انصاری نے ان کو ہشام نے ان کو حسن نے ان کو عبداللہ بن معقل نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزانہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا تھا۔ ہاں کبھی بھی (کرنے کی اجازت دی تھی) اس کو ابو داؤد نے روایت کیا ہے مسدد سے اس نے یحییٰ قطان سے اس نے ہشام بن حسان سے۔

هاشم بن حسان ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدٌ ← الترجل إلا غبا رواه أبو داود ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ← الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in honoring hair and greasing it and fix it · Hadith 6466

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في إكرام الشعر وتدهينه وإصلاحه · حديث 6467

6468 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا الحسن بن علي ثنا يزيد أنا الجريري عن عبد الله بن بريدة : أن رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم رحل إلى فضالة بن عبيد وهو بمصر فقدم عليه فقال : إني لم آتك زائرا ولكني سمعت أنا وأنت حديثا من رسول الله صلى الله عليه و سلم رجوت أن يكون عندك منه علم قال : وما هو قال : كذا وكذا قال : فما لي أراك شعثا وأنت أمير الأرض قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان ينهانا عن كثير من الإرفاه قال : فما لي لا أرى عليك حذاء قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يأمرنا أن نحتفي أحيانا قال أبو سليمان : معنى الإرفاه الاستكثار من الزينة وأصله من الرفه وهو أن ترد الإبل الماء كل يوم فإذا وردت يوما ولم ترد يوما فذلك الغب ومنه أحدث الرفاهية وهي الخفض والدعة فكره الإفراط في التنعم وأمر بالقصد

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو حسن بن علی نے ان کو یزید نے ان کو جریری نے کو عبداللہ بن بریدہ نے کہ ایک آدمی صحابہ کرام میں سے فضالہ بن عبید کے پاس گئے وہ مصر میں تھے اور جا کر کہا کہ میں آپ سے ملنے کے لئے نہیں آیا ہوں بلکہ میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ نے اور میں نے رسول اللہ سے ایک حدیث سنی تھی شاید تیرے پاس اس کا علم ہو مجھے امید ہے کہ آپ کے پاس اس کا علم ہو گا۔ اس نے پوچھا کہ وہ کیا ہے۔ اس نے بتایا کہ ایسے ایسے بات تھی اور دوسرے یہ کہا کہ کیا ہوا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور غبار آلود ہیں حالانکہ آپ اس سرز مین کے امیرو سربراہ ہیں۔حضرت فضالہ نے جواب دیا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اوقات ہم لوگوں کو منع کرتے تھے اس بات سے کہ ہم زیادہ تن رسانی کریں۔ اور اس نے پوچھا کیا بات ہے میں آپ کو بغیر جوتوں کے دیکھ رہاہوں انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کو فرماتے تھے کہ کبھی بھی ہم لوگ ننگے پیر بھی چلا کریں۔ ابو سلیمان نے فرمایا کہ ارفاہ کا مطلب ہے زیادہ زینت اختیار کرنا اس کی اصل رفہ ہے اور رفہ اونٹ کے ہر روز پانی کے گھاٹ پر آنے کو کہتے ہیں۔ اور جب وہ روزانہ نہ آئے بلکہ کبھی کبھی آئے ایک دن آئے ایک دن نہ آئے تو اس کو غب کہتے ہیں۔اور اسی سے یہ محاور بنا ہے احدث الرفاھیۃ،فلاں نے آسودہ حالی اور راحت و تن آسانی پیدا کر لی ہے۔ اس سے مراد خوش حالی اور تن آسانی اور راحت و آرام سے رہنا مراد ہے۔ لہٰذا آپ نے راحت وتن آسانی کو پسند نہیں کیا بلکہ اس میں اعتدال اور میانہ روی کو پسند کیا اور اسی کا حکم دیا ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ: ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in honoring hair and greasing it and fix it · Hadith 6467

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في إكرام الشعر وتدهينه وإصلاحه · حديث 6468

6469 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا سليمان بن حرب ثنا حماد بن سلمة عن سعيد الجريري عن عبد الله بن بريدة : أن رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم كان أميرا وكان يمشي حافيا ولا يدهن إلا أحيانا فقيل له : أنت أمير المؤمنين تمشي حافيا ولا تدهن فقال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهانا عن كثير من الإرفاه وهو الإدهان كل يوم ويأمرنا أن نحتفي أحيانا قال الشيخ : ورواه في الاحتفاء زهير بن حرب عن ابن علية عن الجريري عن عبد الله بن بريدة أن رجلا سمع من رسول الله صلى الله عليه و سلم حديثا وقد سمعه معه رجل يقال له : عبيد فأتاه فقال : إن النبي صلى الله عليه و سلم كان يأمرنا بالاحتفاء

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمدمقری نے ان کوحسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو سعید جریری نے ان کو عبداللہ بن بریدہ نے ایک آدمی اصحاب رسول میں امیر تھا یعنی حکمران تھا اور وہ ننگے پاؤں چلتا تھا۔ تیل بالوں میں روزانہ نہیں بلکہ کبھی کبھی لگاتا تھا۔ اس سے کہا گیا کہ آپ تو امیر المؤمنین ہیں اور آپ ننگے پیر چلتے ہیں اور تیل بھی کبھی کبھی لگاتے ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کو زیادہ زیب زینت اور آسائش اختیار کرنے سے منع فرماتے تھے یعنی ہر روز تیل لگانے سے اور ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم کبھی کبھی ننگے پاؤں چلا کریں۔ شیخ نے فرمایا کہ اس کو روایت کیا ہے ننگے پاؤں چلنے کے بارے میں زہیر بن حرب نے ابن علیہ سے اس نے جریری سے، اس نے عبداللہ بن بریدہ سے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنی۔اس کے ساتھ ایک اور آدمی بھی تھا۔ جسے عبید کہا جاتا تھا۔ وہ ان کے پاس آیا اور کہا کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ننگے پاؤں چلنے کا بھی فرماتے تھے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in honoring hair and greasing it and fix it · Hadith 6468

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في إكرام الشعر وتدهينه وإصلاحه · حديث 6469

6470 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا ابن نفيل ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن عبد الله بن أبي أمامة عن عبد الله بن كعب بن مالك عن أبي أمامة قال : ذكر أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما عنده الدنيا : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا تسمعون إن البذاذة من الإيمان إن البذاذة من الإيمان يعني التقحل قال أبو سليمان : البذاذة سوء الهيئة والتجوز في الثياب ونحوها قال الحليمي : وإنما هو والله أعلم أن لا تبعده البذاذة عن الجماعات فلا يمتنع إذا سائت حاله عن الجمعة والجماعات ولا عن مجالس العلم لأجل رثاثة كسوته وسوء هيئة لباسه ولكنه يصبر على ما هو فيه ويحمد الله عليه ولا يستشعر منه خجلا ولا حياء فذاك إن شاء الله هو الإيمان دون الرثاثة بعينها والله أعلم

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ابن فضیل نے ان کو محمد بن سلمہ نے ان کو محمد بن اسحاق نے ان کو عبداللہ بن ابو امامہ نے ان کو عبداللہ بن کعب بن مالک نے ان کو ابو امامہ نے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن اصحاب رسول نے آپ کے سامنے دنیا کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم سنتے نہیں کہ عاجزی کی وجہ سے غربت کی شکل بنانا ایمان میں سے ہے۔ (مراد ہے سوکھ سوکھ جانا ، چمڑے کا ہڈی سے لگ جانا)۔ ابو سلیمان نے فرمایا کہ بذاذہ سے مراد بری شکل صورت اور کپڑوں میں چشم پوشی کرنا۔ اور اس کی مثل شیخ حلیمی فرماتے ہیں سوا اس کے نہیں کہ وہ ’’واللہ اعلم‘‘ (ایسا بھی نہ ہو جائے) کہ اس کی بذادہ اور میلا کچیلا ہونا اس کو مسلمان جماعتوں سے (یعنی باجماعت نمازوں سے) بھی دور کر دے۔اتنا برا حال بھی نہ بنا لے جو اس کو جمعہ کی حاضری سے اور اجتماعات کی حاضری اور مجالس علم میں شرکت سے منع ہو جائے۔ اپنے میلے کپڑوں اور بری صورت اور برے لباس کی وجہ سے بلکہ صبر کرے اسی حالت پر جس حالت میں بھی ہو اور اسی حالت پر اللہ کا شکر کرے اور حیاء اور شرمندگی کا خوف نہ کرے تو انشاء اللہ یہی ایمان ہو گا بعینہ میلا کچیلا پن نہیں ہو گا۔ واللہ اعلم۔ (سادگی کے دائرے میں رہے گندا نہ رہے گندگی اللہ کو پسند نہیں ہے۔ )(مترجم)

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← ابْنُ نُفَيْلٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in honoring hair and greasing it and fix it · Hadith 6469

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في إكرام الشعر وتدهينه وإصلاحه · حديث 6470

6471 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو قتيبة سالم بن الفضل الآدمي بمكة ثنا خلف بن عمرو العكبري ثنا محمد بن عبد الحميد المروزي ثنا الوليد بن عتبة قال : رأيت داود الطائي وقال له رجل : ألا تسرح لحيتك قال : إني عنه مشغول

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حفظ نے ان کو ابو قتیبہ سالم بن فضل آدمی نے مکہ مکرمہ میں ان کو خلف بن عمرو عکبری نے ان کو محمد بن عبدالحمید مروزی نے ان کو ولید بن عتبہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے داؤد طائی کو دیکھا جب کہ اس کو ایک آدمی نے کہا تھا کیا آپ داڑھی کو کنگھی نہیں کرتے ؟اس نے جواب دیا کہ میں اس سے مصروف ہوں یعنی مجھے کنگھی کرنے کی فرصت نہیں ہے۔

إني عنه مشغول ← رأيت داود الطائي وقال له رجل ألا تسرح لحيتك ← الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ← محمد بن عبد الحميد المروزي ← خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ ← أبو قتيبة سالم بن الفضل الآدمي بمكة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in honoring hair and greasing it and fix it · Hadith 6470

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تطويل الجمة · حديث 6471

6472 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا محمد بن كثير أنا شعبة عن أبي إسحاق عن البراء : ذكر النبي صلى الله عليه و سلم فقال : كان مربوعا بعيد ما بين المنكبين كان شعره يبلغ شحمة أذنيه لقد رأيته في حلة حمراء ما رأيت شيئا أحسن منه أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقبری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو اسحاق نے ان کو براء نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو فرمایا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم خوبصورت صحت مند تھے چوڑے کندھوں اور سینے والے تھے۔ آپ کے بال آپ کے کانوں کی لو تک پہنچے ہوئے تھے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سرخ چادریں پہنے ہوئے دیکھا تھا میں نے آپ سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز نہیں دیکھی تھی۔ بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے شعبہ کی روایت سے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on lengthening the body · Hadith 6471

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تطويل الجمة · حديث 6472

6473 - أخبرناه أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك و أبو الحسن المقرئ ثنا محمد بن أحمد بن أبي العوام الرياحي ثنا أبو الجواب ثنا عمار بن رزيق عن أبي إسحاق عن شمر بن عطية عن خزيم بن فاتك قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم المرء أنت لولا خلتان فيك فقلت : ما هما يا رسول الله يكفيني واحدة قال إرخاؤك سعرك وإلباسك إزارك

ہمیں اس کی خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو عمرو بن سماک نے اور ابو الحسن مقری نے ان کو محمد بن احمد بن ابی العوام ریاحی نے ان کو ابو الجواب نے ان کو عمار بن زریق نے ان کو ابو اسحاق نے ان کو شمر بن عطیہ نے ان کو خریم بن فاتک نے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اچھے آدمی ہو اگر یہ بات نہ ہوتی کہ دو صفتیں ہیں تیرے اندر۔ میں نے پوچھا کہ وہ کون سی ہیں؟ یا رسول اللہ! ایک صفت میں مجھے کافی ہوتی (دو عیب کیوں ہیں) آپ نے فرمایا: تیرے بال زیادہ لمبے ہیں اور تم تہبند بھی لٹکاتے ہو۔

خزيم بن فاتك ← شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← أَبُو الْجَوَّابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِ الرِّيَاحِيُّ، ← أبو عمرو بن السماك و أبو الحسن المقرئ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on lengthening the body · Hadith 6472

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تطويل الجمة · حديث 6473

6474 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا تمام محمد بن غالب ثنا أبو حذيفة ثنا سفيان بن عاصم بن كليب عن أبيه عن وائل بن حجر الحضرمي قال : أتيت النبي صلى الله عليه و سلم ولي شعر فلما جئت قال : ذباذب قال : فذهبت فأخذت من شعري فلما جئته قال : لم أخذت من شعرك قلت : سمعتك تقول : ذباذب فظننت قال : ما عنيتك وهذا أحسن قال الشيخ : كذا في روايتنا عن ذباذب ويقال : تذبذب الشيء إذا اضطرب وقيل إنما قال : ذباذب أي هذا شؤم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو تمتا م محمد بن غالب نے ان کو ابو حذیفہ نے ان کو سفیان نے عاصم بن کلیب سے اس نے اپنے والد سے اس نے وائل بن حجر حضرمی سے وہ کہتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے لمبے بال رکھے ہوئے تھے جب میں آیا تو آپ نے فرمایا: زباذب۔ پھندے لٹکانے والا یا پھندنے لہرانے والا۔ وائل کہتے ہیں کہ میں چلا گیا اور میں نے اپنے بال چھوٹے کروا لیئے جب دوبارہ میں سامنے آیا تو آپ نے فرمایا کہ بال کیوں چھوٹے کرا لئے؟ میں نے کہا کہ میں نے سنا تھا آپ نے یہ لفظ فرمایا تھا ذباذب۔ میں نے خیال کیا کہ آپ کو یہ پسند نہیں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری مراد آپ سے نہیں تھی بہرحال یہ سب سے خوبصورت ہیں۔ شیخ نے فرمایا کہ ہماری روایت میں بھی اسی طرح ہے عن ذباذب ، اور محاورے کے طور پر یوں کہا جاتا ہے تذبذب الشئی فلاں چیز نے حرکت کی ہے جب حرکت کرے۔ اور کہا گیا ہے کہ سوائے اس کے نہیں کہ کیا تھاذ باذب یعنی یہ شوم اور بدشگون ہے یا نجس ہے۔

ذباذب أي هذا شؤم ← ذباذب ويقال تذبذب الشيء إذا اضطرب وقيل إنما ← الشيخ كذا في روايتنا ← ما عنيتك وهذا أحسن ← لم أخذت من شعرك قلت سمعتك تقول ذباذب فظننت ← فذهبت فأخذت من شعري فلما جئته ← ذباذب ← أتيت النبي صلى الله عليه و سلم ولي شعر فلما جئت ← وائل بن حجر الحضرمي ← أَبِيهِ ← سفيان بن عاصم بن كليب ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← تمام محمد بن غالب ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on lengthening the body · Hadith 6473

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تطويل الجمة · حديث 6474

6475 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا أبو عقبة الأزرق ثنا سفيان عن عاصم بن كليب عن أبيه عن وائل بن حجر قال : أتيت النبي صلى الله عليه و سلم وشعري طويل فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ذباذب فأخذت من شعري فقال : لم أعبك وهذا أحسن

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو ابو عقبہ ازرق نے ان کو سفیان نے ان کو عاصم بن کلیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو وائل بن حجر نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جب کہ میرے بال لمبے لمبے تھے حضور نے فرمایا: ذباذب بال لٹکانے والا ہے۔ چنانچہ میں نے اپنے بال چھوٹے کر لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا میں نے تجھے عیب دور نہیں کہا تھا البتہ یہ سب سے اچھے ہیں۔

لم أعبك وهذا أحسن ← النبي صلى الله عليه و سلم ذباذب فأخذت من شعري ← أتيت النبي صلى الله عليه و سلم وشعري طويل ← وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عُقْبَةَ الْأَزْرَقُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on lengthening the body · Hadith 6474

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فرق الشعر · حديث 6475

6476 - حدثنا أبو محمد عبيد الله بن محمد بن محمد بن مهدي القشيري أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنا بشر بن موسى ثنا الحسن يعني الأشيب عن إبراهيم بن سعد وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن محمد بن سلمة العنزي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا أحمد بن يونس ثنا إبراهيم بن سعد عن ابن شهاب عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس قال : كان أهل الكتاب يسدلون أشعارهم وكان المشركون يفرقون رؤوسهم وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يحب موافقة أهل الكتاب فيما لم يؤمر فيه فسدل رسول الله صلى الله عليه و سلم ناصيته ثم فرق بعد ذلك رواه البخاري في الصحيح عن أحمد بن يونس ورواه مسلم عن منصور بن أبي مزاحم و الورقاني عن إبراهيم

ہمیں حدیث بیان کی ابو محمد عبیدالله بن محمد بن محمد بن مہدی قشیری نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحاق فقیہ نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو حسن نے یعنی اشیب نے ان کو ابراہیم بن سعد نے اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن محمد بن سلمہ عنزی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو ابراہیم بن سعد نے ان کو ابن شہاب نے ان کو عبیداللہ بن عبداللہ نے انہوں نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے سر کے بالوں کو لٹکاتے تھے اور مشرک لوگ اپنے سروں کے بیچ میں مانگھ نکالتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کی موافقت کرنے کو پسند کرتے تھے ان امور میں جن میں آپ کو مستقل حکم نہیں ملا تھا۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے پیشانی کے بال لٹکائے اس کے بعد پھر آپ نے مانگھ نکال لی۔ بخاری نے اس کو روایت کیا صحیح میں احمد بن یونس سے۔ اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے۔ منصور بن ابو مزاحم سے اور ورقانی نے ابراہیم سے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أحمد بن محمد بن سلمة العنزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← الحسن يعني الأشيب ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أبو محمد عبيد الله بن محمد بن محمد بن مهدي القشيري

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of hair partitions · Hadith 6475

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فرق الشعر · حديث 6476

6477 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أحمد بن بكر ثنا أبو داود ثنا يحيى بن خلف ثنا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق حدثني محمد بن جعفر بن الزبير عن عروة عن عائشة قالت : كنت إذا أردت أن أفرق رأس رسول الله صلى الله عليه و سلم صدعت الفرق من نافوخه وأرسل ناصيته ابن عينيه 6477 - مكرر ـ وأخبرنا أبو الحسن بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا تمتام ثنا عبد العزيز بن أبي سلمة العمري و عمر بن عبد الوهاب الرياحي ثنا إبراهيم بن سعيد عن محمد بن إسحاق عن يحيى بن عباد بن عبد الله عن أبيه عن عائشة قالت : كنت أصدع فرق رسول الله صلى الله عليه و سلم من فوق نافوخه وأسدله له إذا دهنت ناصيته

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو محمد بن بکر نے ان کو ابو داؤد نے ان کو حدیث بیان کی یحییٰ بن خلف نے ان کو عبدالاعلی نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن جعفر بن زبیر نے ان کو عروہ نے ان کو عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرماتی ہیں کہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں مانگھ نکالنا چاہتی تھی تو آپ کے سر کی کھوپڑی کے اوپر سے چوٹی سے مانگھ چیرنی تھی اور پیشانی کے بالوں کو آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان چھوڑتی تھی۔ مکر رہے۔ ہمیں خبر دی ابو الحسن بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے ان کو عبدالعزیز بن ابو سلمہ عمری نے اور عمر بن عبدالوھاب ریاحی نے ان کو ابراہیم بن سعید نے ان کو محمد بن اسحاق نے ان کو یحییٰ بن عباس بن عبداللہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ نے فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بالوں کی مانگھ آپ کی چوٹی سے نکالتی تھی اور جب آپ کی پیشانی کے بال تیل آلود ہوتے تو بالوں کو لٹکا لیتی تھی۔

كنت إذا أردت ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أحمد بن بكر ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of hair partitions · Hadith 6476

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فرق الشعر · حديث 6477

6478 - قال : وأنا أحمد بن عبيد ثنا أحمد بن الهيثم الشعراني ثنا العمري عبد العزيز بن أبي سلمة بن عبيد الله بن عبد الله بن عمر الخطاب إملاء : فذكره بإسناده غير أنه قال : من قرن يافوخه

فرمایا کہ ہمیں خبر دی احمد بن عبید نے ان کو احمد بن ہیثم شعرانی نے کو عمری نے کو عبدالعزیز بن ابو سلمہ بن عبیداللہ بن عبدالله بن عمر بن خطاب نے بطور املاء کے انہوں نے اسی حدیث کو ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ۔سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ آپ کی کھوپڑی کے کنارے سے۔

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of hair partitions · Hadith 6477

chevron_left Previous
1…75767778
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood