Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في اليد التي يجعل فيها الخاتم · حديث 6370

6371 - وأخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا هشام بن علي ثنا محمد بن كثير ثنا حماد عن ثابت عن أنس قال : سئل هل كان لرسول الله صلى الله عليه و سلم خاتم قال : نعم أخر رسول الله صلى الله عليه و سلم العشاء ذات ليلة وقد كان يذهب شطر الليل أو عند شطر الليل ثم جاء فقال إن الناس قد صلوا وناموا وإنكم لن تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة قال أنس كأني أنظر إلى وبيض خاتمه من فضة وأشار بيده اليسرى ووصف قال الشيخ : وهذا أصح من رواية الزهري عن أنس : أنه طرح ما اتخذه من ورق وذلك غلط بالإجماع فيشبه أن يكون ذكر اليمين في الذي اتخذه من ذهب وهو الذي طرحه كما روينا من حديث ابن عمر

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ہشام بن علی نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو حماد نے ان کو ثابت نے انس سے کہ انہوں نے فرمایا کہ ان سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی تھی ؟انہوں نے کہا جی ہاں تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز دوسرے پڑھائی۔ رات آدھی گزر گئی یا آدھی کے قریب اس کے بعد آپ تشریف لائے اور فرمایا بے شک لوگ سو گئے ہیں اور تم لوگ ہمیشہ نماز میں تھے جب تک نماز کی انتظار کرتے رہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا گویا میں آپ کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں اور انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا اور وضاحت کی۔ شیخ فرماتے ہیں کہ یہ زیادہ صحیح ہے زہری کی روایت سے انس سے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انگوٹھی پھینک دی تھی جو چاندی کی بنوائی تھی۔ اور یہ بات بالاجماع غلط ہے۔ اور درست اور مناسب یہ ہے کہ دائیں طرف کا ذکر اس کے بارے میں ہو جو انہوں نے سونے کی بنوائی تھی اور اسی کو پھینک بھی دیا تھا۔ جیسے ہم ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ذکر کر چکے ہیں۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the hand in which he makes the ring · Hadith 6370

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في اليد التي يجعل فيها الخاتم · حديث 6371

6372 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ أنا إسحاق بن إبراهيم بن يونس بمصر ثنا أبو معمر صالح بن حرب ثنا عيسى بن شعيب ثنا قرة بن خالد ثنا قتادة عن أنس بن مالك قال : اتخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم خاتما من فضة و كتب عليه محمد رسول الله صلى الله عليه و سلم و جعله في إصبعه اليسرى و في هذا تأكيد لرواية حماد عن ثابت عن أنس و الذي يؤكده أيضا ما :

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو علی حسین بن علی حافظ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم بن یونس نے مصر میں ان کو ابو معمر صالح بن حرب نے ان کو عیسیٰ بن شعیب نے ان کو قرہ بن خالد نے ان کو قتادہ نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی تھی اور پر محمد رسول اللہ لکھوا دیا تھا اور اس کو بائیں ہاتھ کی انگلی میں پہنا تھا۔ اس میں تاکید ہے حماد کی روایت کے لئے ثابت سے اس نے انس رضی اللہ عنہ ہے۔ اور جواس کی تاکید کرتی ہے وہ یہ بھی ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← عِيسَى بْنُ شُعَيْبٍ ← أَبُو مَعْمَرٍ صَالِحُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُونُسَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the hand in which he makes the ring · Hadith 6371

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في اليد التي يجعل فيها الخاتم · حديث 6372

6373 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي من أصل سماعه أنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ أنا أبو عبد الرحمن النسائي أحمد بن شعيب بن بحر بمصر ثنا الحسين بن عيسى البسطامي ثنا سالم بن قتيبة ثنا شعبة عن قتادة عن أنس قال : كأني أنظر إلى بياض خاتم النبي صلى الله عليه و سلم في إصبعه اليسرى

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے اپنے اصل سماع سے ان کو خبر دی ابو علی حسین بن علی حافظ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن نسائی احمد بن شعیب بن بحر نے مصر میں ان کو حسین بن عیسیٰ بسطامی نے ان کو سالم بن قتیبہ نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو انس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک ان کی بائیں انگلی میں۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← سَالِمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ بَحْرٍ، بِمِصْرَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أبو عبد الرحمن السلمي من أصل سماعه

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the hand in which he makes the ring · Hadith 6372

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في اليد التي يجعل فيها الخاتم · حديث 6373

6374 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الربيع بن سليمان ثنا ابن وهب ثنا سليمان يعني ابن بلال عن شريك بن أبي نمر عن إبراهيم بن عبد الله بن حنين عن أبيه عن علي بن أبي طالب قال شريك : وحدثني أبو سلمة : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يلبس خاتمه في يمينه : قال الشيخ : رواه أبو داود في كتاب السنن عن أحمد بن صالح عن ابن وهب وقال : عن علي عن النبي صلى الله عليه و سلم ثم قال : قال شريك : وأخبرني أبو سلمة بن عبد الرحمن أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يتختم في يمينه

ہمیں خبر دی ابو عبیداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو ابن وہب نے ان کو سلیمان نے یعنی ابن بلال نے ان کو شریک بن نمر کو ابراہیم بن عبداللہ بن حسین نے ان کو ان کے والد نے ان کو علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے کہ کہا شریک نے مجھے حدیث بیان کی ہے ابو سلمہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ شیخ نے فرمایا کہ اس کو ابو داؤد نے روایت کیا ہے کتاب السنن میں احمد بن صالح سے اس نے ابن وہب سے اور کہا کہ روایت ہے حضرت علی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بعد فرمایا کہ کہا ہے شریک نے۔ کہ مجھ کو خبر دی ہے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی پہنتے تھے دائیں ہاتھ میں۔

شَرِيكٌ: وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ ← شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ← سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the hand in which he makes the ring · Hadith 6373

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في اليد التي يجعل فيها الخاتم · حديث 6374

6375 - أخبرناه أبو علي أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا أحمد بن صالح : فذكرهما وحديث أبي سلمة منقطع وأما رواية ابن حنين عن علي فإن أراد هذا الحديث فهي موصولة من تلك الجهة لكني أخشى أن يكون أراد حديث النهي عن تختم الذهب ولبس القسي والمعصفر والقراءة في الركوع فسقط متنه

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو علی نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو احمد بن صالح نے۔ اس نے دونوں کا ذکر کیا۔ اور حدیث ابو سلمہ منقطع سے بہرحال رہی روایت ابن حنین کی علی ہے۔ اگر اس نے اس حدیث کو مراد لیا ہے تو یہ موصول ہے اس جہت سے، لیکن میں ڈرتا ہوں اس بات سے کہ ارادہ کیا ہو حدیث نہی کو یعنی سونے کی انگوٹھی سے اور قسی کپڑا پہنتے سے اور زرد رنگ کے کپڑے سے اور رکوع میں قرأت سے مگر اس کا متن ساقط ہو گیا ہو۔

أما رواية ابن حنين ← حديث أبي سلمة منقطع ← أحمد بن صالح فذكرهما ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the hand in which he makes the ring · Hadith 6374

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في اليد التي يجعل فيها الخاتم · حديث 6375

6376 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا عبد الله بن سعيد ثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق قال : رأيت على الصلت بن عبد الله بن نوفل بن عبد المطلب خاتما في خنصره اليمنى فقلت : ما هذا فقال : رأيت ابن عباس يلبس خاتمه هكذا وجعل فصه على ظهرها ولا يخال ابن عباس إلا قد كان يذكر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يلبس خاتمه كذلك

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو عبداللہ بن سعید نے ان کو یونس بن بکیر نے ان کو محمد بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے صلت بن عبداللہ بن نوفل بن عبد المطلب کی دائیں چھنگلی میں انگوٹھی دیکھی تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو دیکھا تھا کہ وہ اپنی انگوٹھی اسی طرح پہنتے تھے۔ اور اس نے اس کا نگ کو ہاتھ کی پیٹھ کی طرف کر لیا تھا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ ذکر کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگوٹھی ایسے ہی پہنتے تھے۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the hand in which he makes the ring · Hadith 6375

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في اليد التي يجعل فيها الخاتم · حديث 6376

6377 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر بن درستويه ثنا يعقوب بن سفيان ثنا سعيد بن أبي مريم و أبو الأسود و أبو زيد و يزيد بن خالد بن يزيد بن عبد الله بن موهب أنا المفضل بن فضالة حدثني عياش بن عباس عن أبي الحصين بن شفي سمعه يقول : خرجت أنا و أبو عامر المعافري لنصلي بايلياء وكان قاصهم رجلا من الأزد يقال له : أبو ريحانة من الصحابة قال أبو الحصين فسبقني صاحبي إلى المسجد ثم أدركته فجلست إلى ناحيته فسألني : هل أدركت قصص أبي ريحانة فقلت له : لا فقال : سمعته يقول : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن عشرة الوشر والوشم والنتف وعن مكامعة الرجل الرجل بغير شعار ومكامعة المرأة المرأة بغير شعار وأن يجعل الرجل أسفل ثيابه حريرا مثل الأعاجم ويجعل على منكبيه حريرا مثل الأعاجم وعن النهبى وركوب النمور ولبوس الخاتم إلا لذي سلطان قال الحليمي رحمه الله : ولعل النهي يعني عن أن يجعل أسفل ثيابه أو على منكبيه حريرا إذا أكثر الحرير وصار المقصود من ذلك الثوب ما فيه من الحرير وأما جلد النمر فإنما حرمه لشعره فإن شعر الميتة نجس والدباغ إنما يكون للجلد فلا يظهر غيره وأما الخاتم لغير ذي سلطان فيحتمل أن يكون المراد به ذا السلطان ومن في معناه لأن السلطان يحتاج إلى الخاتم ليختم به كتبه ويختم به على أموال العامة والطيبة التي يعدها إلى الذي يستعدي عليهم فكل من كانت بينه وبين الناس معاملات يحتاج لأجلها إلى المكاتبة وعنده من ماله أو من مال غيره ما يحتاج إلى الختم عليه للمبالغة في حفظه فهو في معنى السلطان وله إمساك الخاتم فأما من لا يمسك الخاتم إلا للتحلي به دون غرض آخر يكون له فهذا الحديث أوجب أن يكون من الفضل الذي يدخله معنى الخيلاء فينهى عنه والله أعلم قال الشيخ : ويحتمل أن يكون النهي عن لبوس الخاتم إلا لذي سلطان تنزينها وقد ذكر الحليمي معناه قال الحليمي رحمه الله : ولا ينبغي لأحد أن يحلي لجام فرسه بذهب ولا فضة وذل مخالف لمن يتختم بالفضة أو يحلي سيفه أو منطقته بفضة فيجوز أنه إنما جعل له من حلية الفضة في سيفه ومنطقته ما قل وما يدخل في حد السرف ونفس مجاوزة ذلك إلى حلية الدابة سرف لأن الراحلة حاملته فلا تكون حليتها حلية له وهو يحمل مصحفه وسيفه ومنطقته فكانت حليتها حلية له كالخاتم وقد ذكرنا ما ورد في معناه في كتاب السنن

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر بن درستویہ نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو محمد بن سعید بن ابی مریم نے اور ابو الاسود نے اور ابو زید نے اور یزید بن خالد بن یزید بن عبداللہ بن موہب نے ان کو مفضل بن فضالہ نے ان کو عیاش بن عباس نے ان کو ابو الحصین ہثیم بن شفی نے اس نے سنا وہ کہتے تھے کہ میں اور ابو عامر معافری نکلے ایلیا میں نماز پڑھنے کے لئے۔ قبیلہ ازد کا ایک آدمی تھا جوان کو قصے سناتا تھا اس کا نام ابو ریحانہ تھا۔ وہ تھا صحابہ میں سے۔ ابو حصین کہتے ہیں کہ میرا ساتھی مجھ سے پہلے مسجد بیت المقدس میں پہنچ گیا اور میں نے بھی ان کو جا کر پا لیا اور میں بھی جا کر اس کے کونے کی طرف بیٹھ گیا۔ اس نے مجھ سے پو چھا کہ کیا تم نے ابو ریحانہ کے قصے سنے ہیں میں نے کہا کہ نہیں تو۔ اس نے کہا کہ میں نے اس سے سنا تھاوہ کہہ ر ہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس چیزوں سے منع فرمایا تھا۔ دانتوں کے ساتھ کاٹنے سے، جسم کو گود کر نیل بھرنے سے، بال اکھیڑنے سے، بغیر جسم پر کپڑے کے دو مردوں کا ننگے ایک ہی کپڑے میں سونا، اسی طرح جسم پر کپڑے بغیر ننگے جسم دو عورتوں کا ایک کپڑے میں سونا ، اور عجمیوں کی طرح آدمی کا نچلے جسم پر ریشم پہننا (جیسے ریشمی لنگی لاچہ وغیرہ خالص ریشم سے اگر ہو۔) اور جمیوں کی طرح اپنے کندھوں وغیرہ پر ریشم پہننا اور غارت گری ولوٹ مار کرنے سے اورشیر وغیر ہ درندوں پر سوار ہونے سے اور انگوٹحی پہننے سے مگر صاحب اقتدار صاحب حکومت کے لئے۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ شاید نیچے کے جسم پر اور کندھوں پر ریشم پہننے سے مراد یہ ہو کہ جب ریشم زیادہ ہو جائے اور اس کپڑے سے مقصود بھی ریشم پہننا ہی بن جائے۔ (تو ظاہر ہے منوع ہو گا۔) (اور درندوں پر سواری کا سوچناممنوع ہو گا جان کو خطرے میں ڈالنے کے ڈر سے) اور شیر وغیرہ کی کھال پر بیٹھنا اس لئے ممنوع ہو گا کہ اس کو حرام بتایا اس کے بالوں کی وجہ سے اس لئے کہ مردار کے بال نجس ہوتے ہیں۔ باقی رہا دباغت کرنا اور چمڑے کو رنگنا۔ تو وہ صرف چمڑے کے لئے حکم ہے اس کا رنگنا کسی اور شئی کو پاک نہیں کرے گا اور انگوٹھی کا عدم جواز غیر صاحب حکومت وصاحب اقتدار کے علاوہ کے لئے ہے ممکن ہے کہ اس سے مراد صاحب اقتدار بھی ہو اور وہ بھی مراد ہو جو صاحب اقتدار کے معنی میں ہے کیونکہ صاحب اقتدار کو انگوٹھی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اس کے ساتھ وہ خطوط پر مہر لگائے اور اس کے ساتھ عام مالوں پر مہر لگائے۔ دغا فریب سے بچانے کے لئے اور اس سامان پر جس کی گھڑی اور بنڈل تیار کیا گیا ہے۔ جن کے لئے تیار کیا گیا ہو۔ بہر حال ہر وہ شخص جس کے لوگوں کے ساتھ معاملات ہوں اس کو انگوٹھی والی مہر کی ضرورت ہو گی خط و کتابت کے لئے اور اپنے مال اور دوسروں کے مال کی حفاظت کرنے کے لئے۔ تو ایسا آدمی بھی ذی سامان وذی اقتدار کے حکم میں ہو گا۔ اس کے لئے انگوٹھی کے ساتھ مہر لگانا ضروری ہو گا۔ بہر حال جو شخص انگوٹھی کے ساتھ مہر لگا کر بند نہ کرے بلکہ انگوٹھی زینت اور خوبصورتی کے لئے پہنے کسی دوسری غرض کے سوا۔ تو پھر یہ حدیث واجب کرتی ہے کہ و واس میں داخل ہو جن میں تکبر اور غرور شامل ہوتا ہے لہٰذا ایسے آدمی کے لئے ممنوع ہو گا انگوٹھی پہننا۔ شیخ نے فرمایا کہ انگوٹھی پہننے کی ممانعت غیر صاحب اقتدار کے لئے مکروہ وممنوع تنز یہی ہو۔ اور تحقیق ذکر کیا ہے حلیمی نے اس کا معنی۔ اور حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ کسی آدمی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے گھوڑے کی لگام کو سونے یا چاندی کے ساتھ مزین کرے۔ اور اپنے مخالف کو جس نے چاندی کی انگوٹھی پہن رکھی ہے اس کو ذلیل کرے۔ یا اپنی تلوار کو مزین کرے یا اپنے کمر بندہ غیرہ کومزین کرے چاندی کے ساتھ ہاں البتہ قلیل مقدار میں جائز ہو گا یہ سب کچھ جو اسراف کے دائرے میں نہ آئے اور اس سے تجاوز کرے سواری کو آراستہ کرنا سونے چاندی کے ساتھ یہ اسراف ہے۔ اس لئے کہ سواری پر وہ سوار ہوتا ہے وہ اسکو اٹھاتی ہے لہٰذا اس کا زیور مالک کا زیور شمار نہ ہو گا ہاں اگر وہ اپنے قرآن پر اور اپنے تلوار پر اور اپنے کمر پٹے پر سونا چاندی لگوائے تو وہ ز یور اسی آدمی کا پہننا شمار ہو گا انگوٹھی کی طرح تحقیق ہم نے ذکر کر دیا ہے ان روایات کو جو کتاب السنن میں اس کے مفہوم میں وارد ہوئی ہے۔

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the hand in which he makes the ring · Hadith 6376

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحريم الأكل والشرب من آنية الذهب والفضة على الرجال والنساء لعموم الخبر · حديث 6377

6378 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا شعبة ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق ثنا إسماعيل بن إسحاق ثنا حفص بن عمر ثنا شعبة عن الحكم عن ابن أبي ليلى قال : كان حذيفة بالمدائن فأتاه دهقان بقدح من فضة فرماه به وقال : إني لم أرمه إلا إني قد نهيته فلم ينته إن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهانا عن لبس الحرير والديباج والشرب في آنية الذهب والفضة وقال : هي لهم في الدنيا وهي لكم في الآخرة لفظ حديث حفص رواه البخاري في الصحيح عن حفص بن عمر وأخرجه مسلم من وجه آخر عن شعبة

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق نے ان کو اسماعیل بن اسحٰق نے ان کو حفص بن عمر نے ان کو شعبہ نے ان کو حکم نے ان کو ابن ابی لیلیٰ نے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ مدائن میں تھے انہوں نے کسی سے پانی پینے کے لئے مانگا تو ایک کسان ان کے لئے چاندی کے کٹورے میں پانی لے آیا حذیفہ نے پانی سمیت اس کو پھینک دیا اورفرمایا کہ میں نے اس کو ایسے نہیں پھینکا بلکہ ہمیں منع کیا گیا ہے اس سے۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو منع فرما دیا تھا حریر اوردیباج سے اور سونے چاندی کی برتنوں میں پینے سے اور فرمایا کہ یہ چیزیں کافروں کے لئے دنیا میں ہیں اور تمہارے لئے آخرت میں ہیں۔ حفص کی حدیث کے الفاظ میں اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں حفص بن عمر سے اور اس کو مسلم نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے۔

كان حذيفة بالمدائن فأتاه دهقان بقدح من فضة فرماه به ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on the prohibition of eating and drinking of vessels of gold and silver for men and women, for the general meaning of the news · Hadith 6377

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحريم الأكل والشرب من آنية الذهب والفضة على الرجال والنساء لعموم الخبر · حديث 6378

6379 - ورويناه من حديث مجاهد عن ابن أبي ليلى عن حذيفة أنه قال في هذا الحديث : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهانا أن نشرب في آنية الذهب والفضة وأن نأكل فيها وعن لبس الحرير والديباج وأن نجلس عليه وقال : هو لهم في الدنيا ولكم في الآخرة

اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے حدیث مجاہد سے اس نے ابن ابو لیلیٰ سے اس نے حذیفہ سے کہ انہوں نے کہا اس حدیث میں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو منع کیا تھا اس بات سے کہ ہم سونے چاندی کے برتنوں میں کھائیں اور پئیں اور حریر اور دیباج پہننے سے اور اس بیٹھنے سے۔اور فرمایا تھا کہ یہ چیزیں کافروں کے لئے دنیا میں ہیں اور تمہارے لئے آخرت میں ہیں۔

فِيَ هَذَا الْحَدِيثِ ← حُذَيْفَةَ أَنَّهُ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← ورويناه من حديث مجاهد

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on the prohibition of eating and drinking of vessels of gold and silver for men and women, for the general meaning of the news · Hadith 6378

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحريم الأكل والشرب من آنية الذهب والفضة على الرجال والنساء لعموم الخبر · حديث 6379

6380 - أخبرناه أبو عمرو الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أنا القاسم بن زكريا أنا الحسن بن عبد العزيز الجروي ثنا الجرجاني قالا : ثنا وهيب بن جرير بن حازم ثنا أبي قال : سمعت ابن أبي نجيح يحدث عن مجاهد : فذكره أخرجه البخاري في الصحيح

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عمرو ادیب نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو قاسم بن زکریا نے ان کو حسن بن عبدالعزیز جروی نے ان کو جرجانی نے دونوں نے کہا کہ ان کو وہب بن حریر بن حازم نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن ابو نجیح سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں مجاہد سے پھر اس کو ذکر کیا۔ بخاری نے کی تخریج کی ہے صحیح میں۔

مجاهد فذكره أخرجه البخاري في الصحيح ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← أَبِي ← وهيب بن جرير بن حازم ← الْجُرْجَانِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِيُّ ← الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّا ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on the prohibition of eating and drinking of vessels of gold and silver for men and women, for the general meaning of the news · Hadith 6379

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحريم الأكل والشرب من آنية الذهب والفضة على الرجال والنساء لعموم الخبر · حديث 6380

6381 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن أحمد بن عبدوس أنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن نافع مولى عبد الله بن عمر عن زيد بن عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق عن أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه و سلم : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الذي يشرب في آنية الذهب والفضة إنما يجرجر في بطنه نار جهنم رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى عن مالك

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ان کو ابو الحسن احمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھی مالک پر اس نے نافع سے اس نے زید بن عبداللہ بن عمر سے اس نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابو بکر صدیق سے اس نے اُم سلمہ زوجہ رسول سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک وہ آدمی جو سونے چاندی کے برتنوں میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں یحییٰ بن یحییٰ سے اس نے مالک سے۔

أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ← زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو الحسن أحمد بن عبدوس ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on the prohibition of eating and drinking of vessels of gold and silver for men and women, for the general meaning of the news · Hadith 6380

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحريم الأكل والشرب من آنية الذهب والفضة على الرجال والنساء لعموم الخبر · حديث 6381

6382 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا الفضل بن يعقوب يقول : دخل أبو النصر على محمد عبد الرزاق وهو يشرب الماء في كوز من فضة فقال : أيها الأمير كأني بنار جهنم وهو ذا يجرجر في بطنك فقال : لماذا أيها الشيخ فحدثه بالحديث الوارد بها فقال محمد : عاهدت الله ألا أشرب في فضة أبدا قال الشيخ : فروينا في المضبب بالفضة إذا كان كثيرا عن ابن عمر مرفوعا : من شرب في إناء ذهب أو فضة أو إناء فيه شيء من ذلك فإنما يجرجر في بطنه نار جهنم فروينا فيه عن عائشة و أنس بن مالك ودلك في كتاب الطهارة من كتاب السنن مذكور

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے ابو الفضل بن یعقوب سے وہ کہتے ہیں کہ ابو نصر آئے محمد بن عبد الرزاق کے پاس حالانکہ وہ چنادی کے گلاس میں پانی پی رہے تھے اے امیر گویا کہ میں جہنم کی آگ دیکھ رہا ہوں وہ تیرے پیٹ میں حرکت کر رہی ہے۔ اس نے پوچھا کہ ایسا کیوں ہوا اے شیخ!؟ انہوں نے اس کو دو حدیثیں بیان کی جو اس بارے میں آئی ہے۔ محمد بن عبدالرزاق نے کہا میں نے اللہ سے عہد کر لیا ہے کہ میں چاندی کے برتن میں کبھی بھی نہیں پیئوں گا۔ شیخ نے فرمایا کہ ہم نے روایت کی ہے اس برتن کے بارے میں جو چاندی کے ساتھ پالش کیا گیا ہے جب زیادہ ہو۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے، کہ جس نے سونے یا چاندی کے برتن میں کھایا پیا یا اس برتن میں جس میں سونا چاندی ہو۔ اس کے پیٹ میں آگ جلتی ہے اور ہم نے اس بارے میں روایت کی ہے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور یہ کتاب السنن مذکور کی کتاب الطہارۃ میں ہے۔

أبا الفضل بن يعقوب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on the prohibition of eating and drinking of vessels of gold and silver for men and women, for the general meaning of the news · Hadith 6381

chevron_left Previous
1…676869…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood