شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في اليد التي يجعل فيها الخاتم · حديث 6370
6371 - وأخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا هشام بن علي ثنا محمد بن كثير ثنا حماد عن ثابت عن أنس قال : سئل هل كان لرسول الله صلى الله عليه و سلم خاتم قال : نعم أخر رسول الله صلى الله عليه و سلم العشاء ذات ليلة وقد كان يذهب شطر الليل أو عند شطر الليل ثم جاء فقال إن الناس قد صلوا وناموا وإنكم لن تزالوا في صلاة ما انتظرتم الصلاة قال أنس كأني أنظر إلى وبيض خاتمه من فضة وأشار بيده اليسرى ووصف قال الشيخ : وهذا أصح من رواية الزهري عن أنس : أنه طرح ما اتخذه من ورق وذلك غلط بالإجماع فيشبه أن يكون ذكر اليمين في الذي اتخذه من ذهب وهو الذي طرحه كما روينا من حديث ابن عمر
ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ہشام بن علی نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو حماد نے ان کو ثابت نے انس سے کہ انہوں نے فرمایا کہ ان سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی تھی ؟انہوں نے کہا جی ہاں تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز دوسرے پڑھائی۔ رات آدھی گزر گئی یا آدھی کے قریب اس کے بعد آپ تشریف لائے اور فرمایا بے شک لوگ سو گئے ہیں اور تم لوگ ہمیشہ نماز میں تھے جب تک نماز کی انتظار کرتے رہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا گویا میں آپ کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں اور انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ اشارہ کیا اور وضاحت کی۔ شیخ فرماتے ہیں کہ یہ زیادہ صحیح ہے زہری کی روایت سے انس سے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انگوٹھی پھینک دی تھی جو چاندی کی بنوائی تھی۔ اور یہ بات بالاجماع غلط ہے۔ اور درست اور مناسب یہ ہے کہ دائیں طرف کا ذکر اس کے بارے میں ہو جو انہوں نے سونے کی بنوائی تھی اور اسی کو پھینک بھی دیا تھا۔ جیسے ہم ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ذکر کر چکے ہیں۔
أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the hand in which he makes the ring · Hadith 6370
