Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6346

6347 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن أيوب وهو ابن أبي تميمة السختياني عن نافع عن ابن عمر قال : اتخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم خاتما من ذهب وضع فصه من داخل قال : فبينما هو يخطب ذات يوم قال : إني كنت صنعت خاتما وكنت ألبسه وأجعل فصه من داخل وإني والله لا ألبسه أبدا قال : فنبذ الناس خواتيمهم وبهذا المعنى رواه عبيد الله بن عمر و موسى بن عقبة و الليث بن سعد و أسامة بن زيد عن نافع وكل ذلك مخرج في كتاب مسلم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے اور وہ ابن ابی تمیمہ سختیانی ہیں انہوں نے نافع سے انہوں نے ایک ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی تھی۔ اور اس کا نگ اندر کی طرف کر رکھا تھا۔ فرمایا کہ آپ ایک دن خطبہ اور وعظ فرما رہے تھے اچانک فرمایا کہ میں نے سونے کی انگوٹھی بنوائی تھی اور میں اسے پہنتا تھا اور میں اس کا نگ اندر کی طرف کرتا تھا۔ اور بے شک میں اللہ کی قسم اس کو ہمیشہ کے لئے نہیں پہنوں گا۔ کہتے ہیں کہ اس کے بعد لوگوں نے اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ اور اسی معنی کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے عبیداللہ بن عمر نے اور موسیٰ بن عقبہ نے اور لیث بن سعد نے اور اسامہ بن زید نے نافع سے۔ اور یہ ساری روایتیں مسلم میں نقل ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أيوب وهو ابن أبي تميمة السختياني ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6346

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6347

6348 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يلبس خاتما ذهب ثم قام رسول الله صلى الله عليه و سلم فنبذه وقال : لا ألبسه أبدا فنبذ الناس خواتيمهم رواه البخاري في الصحيح عن القعنبي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابی اسحاق نے ان کو ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعد دارمی نے ان کو قعنبی نے ان میں جو اس نے مالک پر پڑھی۔ اس نے عبداللہ بن دینار سے اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کی انگوٹھی پہنتے تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ کھڑے ہوئے اور اس کو پھینک دیا اورفرمایا کہ میں اس کو ہمیشہ کے لئے نہیں پہنوں گا لہٰذا لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں قعنبی سے۔

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6347

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما ورد في خاتم الحديد والشبة · حديث 6348

6349 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا جعفر بن محمد بن شاكر ثنا عفان ثنا همام ثنا محمد بن عجلان عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه نهى عن خاتم الذهب وعن خاتم الحديد

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمر ورزاز نے ان کو جعفر بن محمد بن شاکر نے ان کو عفان نے ان کو ہمام نے ان کو محمد بن عجلان نے ان کو عمر بن شعیب نے اپنے والد سے اس نے ان کے دادا سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے منع فرمایا تھا لوہے کی انگوٹھی سے۔

خاتم الذهب وعن خاتم الحديد ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه نهى ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what was mentioned in the ring of iron and alum · Hadith 6348

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما ورد في خاتم الحديد والشبة · حديث 6349

6350 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا الحسن بن علي و محمد بن عبد العزيز بن أبي زومة المعني أن زيد بن الحباب أخبرهم عن عبد الله بن مسلم أبي طيبة السلمي المروزي عن عبد الله بن بريدة عن أبيه : أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم وعليه خاتم من شبة فقال : ما لي أجد منك ريح الأصنام فطرحه ثم جاء وعليه خاتم من حديد فقال : مات لي أرى عليك حلية أهل النار فطرحه فقال : يا رسول الله من أي شيء اتخذه قال : اتخذه من ورق ولا تتمه مثقالا ولم يقل محمد : عبد الله بن مسلم ولم يقل الحسن : السلمي المروزي

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو حسن بن علی نے اور محمد بن عبدالعزیز بن ابو زومہ المعنی نے کہ زید بن حباب نے ان کو خبر دی ہے عبداللہ بن مسلم سے اس نے ابو طیبہ سلمی مروزی سے اس نے عبداللہ بن بریدہ سے اس نے اپنے والد سے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس کے ہاتھ میں پیتل کی انگوٹھی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے میں تجھ سے بتوں کی بو پا رہا ہوں۔ اس نے اسے پھینک دیا۔ اس کے بعد پھر آیا تو اس کے ہاتھ میں لوہے کی انگوٹھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے میں تیرے اوپر اہل جہنم کا زیور دیکھ رہا ہوں۔اس نے اسے بھی پھینک دیا اس کے بعد اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر میں کس چیز کی بنواؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاندی کی بنوا اور ایک مثقال سے کم رکھنا۔ اور محمد نے یہ نہیں کہا، عبداللہ بن مسلم اور نہیں کہا حسن نے السلمی المروزی۔

الحسن بن علي و محمد بن عبد العزيز بن أبي زومة المعني ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what was mentioned in the ring of iron and alum · Hadith 6349

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما ورد في خاتم الحديد والشبة · حديث 6350

6351 - وروى عن عبد الله بن عمرو مرفوعا : في كراهية التختم بالحديد وقوله حين اتخذه هذا أخبث وأخبث وليس بالقوي قال الشيخ : ويشبه أن يكون هذا النهي نهي كراهية وتنزيه فكره الخاتم من الشبة وقال : أجد منك ريح الأصنام ولأن الأصنام كانت تتخذ من الشبه وكره الخاتم من الحديد من أجل ريحه وقال : أرى عليك حلية أهل النار أنه زي بعض الكفار الذين هم أهل النار والله أعلم فقد روينا في الحديث الثابت عن سهل بن سعد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال للذي أراد أن يزوجه : التمس ولو خاتما من حديد

اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے لوہے کی انگوٹھی بنوانے کے بارے میں۔ اور روایت میں آپ کا یہ قول ، جب اسے بنوایا تھایا لیا تھا تو کہا کہ اور اخبث ہے اور اخبث ہے۔ یہ قوی نہیں ہے۔ اور شیخ نے فرمایا کہ مناسب یہ ہے کہ یہ نہی مکروہ ہونے کی ہو یعنی مکروہ تنز یہی ہو (تحریمی نہ ہو) اور انگوٹھی کو ناپسند کیا ہو پیتل کی وجہ سے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا کہ میں تم سے بتوں کی بو محسوس کر رہا ہوں ، اس لئے فرمایاتھا کہ پیتل سے بت تیار کئے جاتے تھے۔ اور لوہے کی انکوٹی کو ناپسند کیا تھا اس کی نا گوار بو کی وجہ سے۔ اور حضور کا یہ کہنا کہ میں تیرے اوپر اہل جہنم کا زیور دیکھ رہاہوں اس لئے فرمایا کہ بعض کافروں کی عادت وصورت میں سے ہے جو اہل نار ہیں واللہ اعلم۔ اور تحقیق ہم نے روایت کیا ہے اس حدیث میں جو ثابت ہے سہل بن سعد سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے کہا تھا جس کی حضور شادی کرانا چاہتے تھے۔ الشمس ولو خاتماً من حدید ڈھونڈھ تلاش کر کوئی شئی اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔ (یہ دلیل ہے کہ اگر مکروہ تحریمی ہوتا تو یہ نہ فرماتے۔)

وَرُوِيَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what was mentioned in the ring of iron and alum · Hadith 6350

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما ورد في خاتم الحديد والشبة · حديث 6351

6352 - أخبرنا أبو علي الروذباري ثنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا ابن المثنى و زياد بن يحيى و الحسن بن علي ثنا سهل بن حماد أبو عتاب ثنا أبو مكين نوح بن ربيعة حدثني إياس بن الحارث بن المعيقيب و جده من قبل أمه أبو ذباب عن جده قال : كان خاتم النبي صلى الله عليه و سلم من حديد ملوي عليه فضة قال : فربما كان في يده وقال : وكان المعيقيب على خاتم النبي صلى الله عليه و سلم ورواه محمد بن بشار عن سهل وقال جده : المعيقيب وقال : فربما كان في يدي وهذا لأن الفضة التي لويت عليه لا يوجد ريح الحديد فيشبه أن ترتفع الكراهية بذلك وروينا عن ابن مسعود أنه رئي وفي يده خاتم من حديد وروينا عن عمر بن الخطاب أنه كرهه

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ابن مثنی نے اور زیاد بن یحییٰ نے اور حسن بن علی نے ان کو سہل بن حماد ابو عتاب نے ان کو ابو مکین نوح بن ربیعہ نے ان کو ایاس بن حارث بن معیقیب نے اور ان کے نانا ابو ذباب نے ان کے دادا سے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی لوہے کی تھی جس پر چاند کا ملمع کیا ہوا تھاوہ کہتے ہیں کہ وہ بسا اوقات ان کے ہاتھ میں ہوتی تھی اور کہا کہ معیقیب رسول اللہ کی انگوٹھی پر نگران مقرر تھا۔ اور اس وروایت کیا ہے محمد بن بشار نے سہل سے اور کہا کہ ان کے دادا معیقیب نے اور کہا کہ بسا اوقات وہ میرے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ اس کی یعنی ملمع کرنے کی وجہ یہ تھی جب لوہے کو چاندی سے ملمع کر دیا جائے تو اس سے لوہے کی بو نہیں آتی۔ لہٰذا مناسب ہے ایسا کرنے سے اس کی کراہت اٹھا دی جائے گی۔ اور ہم نے روایت کی ہے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہ وہ دیکھے گئے اس حال میں کہ ان کے ہاتھ میں لوہے کی انگوٹھی تھی۔ اور ہم نے عمر بن خطاب سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کو ناپسند کیا تھا۔

جَدِّهِ، ← إياس بن الحارث بن المعيقيب و جده من قبل أمه أبو ذباب ← أَبُو مَکِينٍ نُوحُ بْنُ رَبِيعَةَ ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو عَتَّابٍ ← ابن المثنى و زياد بن يحيى و الحسن بن علي ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what was mentioned in the ring of iron and alum · Hadith 6351

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما ورد في خاتم الحديد والشبة · حديث 6352

6353 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن أيوب عن ابن سيرين : أن عمر بن الخطاب رأى علي خاتما من ذهب فأمره أن يلقيه قال زياد : يا أمير المؤمنين إن خاتمي من حديد قال : ذاك انتن وأنتن

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے ان کو ابن سیرین نے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ پر سونے کی انگوٹھی دیکھی اور حکم دیا کہ اسے پھینک دو اور زیاد نے کہا اے امیر المومنین میری انگوٹھی لوہے کی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ تو اور زیادہ بدبو دار ہے زیادہ بدبو دار ہے۔

ابْنِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what was mentioned in the ring of iron and alum · Hadith 6352

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فص الخاتم ونقشه · حديث 6353

6354 - أخبرنا أبو عمرو بن عبد الله الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني الحسن هو ابن سفيان ثنا أمية بن بسطام ثنا المعتمر قال : سمعت حميدا يحدث عن أنس : أن نبي الله صلى الله عليه و سلم كان خاتمه من فضة وكان فصه منه رواه البخاري في الصحيح عن إسحاق عن معتمر بن سليمان

ہمیں خبر دی ابوعمرو محمد بن عبداللہ ادیب نے ان کو ابو بکرا اسماعیلی نے ان کو خبر دی حسن نے کو ابو سفیان نے ان کو امیہ بن بسطام نے ان کو معتمر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حمید سے وہ حدیث بیان کرتے تھے اس سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور نگ بھی چاندی کا تھا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں اسحاق سے اس نے معتمر بن سلیمان سے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدًا، ← الْمُعْتَمِرُ، ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الحسن هو ابن سفيان ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أبو عمرو بن عبد الله الأديب

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the ring lobe and its engraving · Hadith 6353

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فص الخاتم ونقشه · حديث 6354

6355 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق أنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا أيوب بن موسى عن نافع عن ابن عمر قال : اتخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم خاتما من ذهب ثم ألقاه واتخذ خاتما من فضة فصه منه وكان يجعل فصه في باطن كفه ونقش فيه محمد رسول الله ونهى أن ينقش أحد عليه وهو الذي سقط في معيقيب في بئر أريس قال الشيخ : يذكر أكثر أصحاب ابن عيينة في هذا الحديث وكان فصه منه وحفظه الحميدي وهو حجة ثقة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحاق نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے ان کو ایوب بن موسیٰ نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے سونے کی انگوٹھی حاصل کی تھی پھر اس کو ڈال دیا تھا۔ اور چاندی کی حاصل کر لی تھی اس کا نگ بھی اس میں سے تھا اور وہ اس نگ کو اندر ہتھیلی کی طرف کر لیتے تھے اس میں محمد رسول اللہ کندہ کر دیا گیا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا تھا کہ اس طرح کے نقش والی انگوٹھی کوئی نہ بنوائے۔ اور یہ وہی انگوٹھی تھی جو معیقیب سے بیر اریس میں گر گئی تھی۔ شیخ نے فرمایا کہ ان عیینہ کے اکثر اصحاب نے اس حدیث میں ذکر کیا ہے کہ اس انگوٹھی کا نگ بھی اسی سے تھا۔ حمیدی نے کو محفوظ کیا ہے اور وہ راوی ثقہ ہے اور حجت ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the ring lobe and its engraving · Hadith 6354

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فص الخاتم ونقشه · حديث 6355

6356 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن حمشاذ ثنا محمد بن نعيم ثنا قتيبة بن سعيد ثنا ابن وهب أخبرني يونس بن يزيد عن ابن شهاب عن أنس بن مالك قال : كان لرسول الله صلى الله عليه و سلم خاتم من ورق وكان فصه حبشي ورواه مسلم في الصحيح أنا يحيى بن يحيى عن ابن وهب قال الشيخ : وفي هذا الحديث دلالة على أنه كان خاتمان أحدهما فصه حبشيا والآخر فصه منه وفي حديث معيقيب أنه كان له خاتم من حديد ملوي عليه فضه فربما كان في يده وليس في شيء من الأحاديث أنه ظاهر بينهما وكان أبو سليمان الخطابي رحمه الله يكره لبس الخواتيم في اليدين ولبس خاتمين في يد واحدة وزعم أنه مستهجن في حميد العادات ورضي الشمائل وليس من لباس العلية من الناس ولم يستحسن أن يتختم الرجل إلا بخاتم واحد منقوش فليس للحاجة إلى نفسه لا لحسنه وبهجة لونه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ نے ان کو محمد بن نعیم نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی یونس بن یزید نے ان کو ابن شہاب نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی تھی اور اس کا نقش حبشی تھا۔ اور اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں کہ یحییٰ بن ایوب نے ابن وہب سے روایت کی ہے۔ شیخ نے فرمایا کہ اس حدیث میں دلیل ہے کہ دو انگوٹھیاں تھیں ایک کا نگ حبشی تھا اور دوسری کا اسی سے تھا۔ اور معیقیب کی حدیث میں ہے کہ آپ کی ایک انگوٹھی لوہے کی تھی جس پر چاندی کا ملمع کیا ہوا تھا۔ بسا اوقات وہ اس کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ اور احادیث میں ایسی کوئی شئی نہیں ہے جس سے معلوم ہو کہ آپ نے ان دونوں میں ترجیح دی تھی۔ اور سلیمان خطابی رحمہ اللہ دونوں ہاتھوں میں انگوٹھیاں پہننے کومکروہ کہتے تھے اور ایک ہاتھ میں دو انگوٹھیوں کو بھی۔ اور وہ یہ خیال کرتے تھے کہ یہ عیب ہے اچھی عادت میں اور پسندیدہ صفات میں اور اچھے اور اونچےلوگوں کے پہناوے میں سے بھی نہیں ہے۔ اور حسن یہ ہے کہ مرد ایک انگوٹھی پنے جس پر کوئی نقش ہو نہ ہی اپنے نفس کی حاجت کے لئے ہو نہ اس کے حسن کے لئے نہ ہی اس کے نگ کی تازگی ورونق کے لئے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the ring lobe and its engraving · Hadith 6355

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فص الخاتم ونقشه · حديث 6356

6357 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي ثنا عبد الله بن موسى و عمران بن موسى ثنا الصلت بن مسعود وثنا يعقوب بن إبراهيم الزهري ثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تختموا بالعقيق فإنه مبارك

ہمیں خبر دی ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو عبداللہ بن موسیٰ اور عمران بن موسیٰ نے ان کو صلت بن مسعود نے اور یعقوب بن ابراہیم زہری نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقیق کے ساتھ انگوٹھی پہنو بے شک وہ مبارک ہے (یعنی با برکت ہے۔)

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الصلت بن مسعود وثنا يعقوب بن إبراهيم الزهري ← عبد الله بن موسى و عمران بن موسى ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the ring lobe and its engraving · Hadith 6356

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الإصبع التي يجعل فيها الخاتم والتي لا يجعل · حديث 6357

6358 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا عبد الله بن محمد ثنا عمران بن موسى ثنا عبد الوارث ثنا عبد العزيز عن أنس قال : اصطنع النبي صلى الله عليه و سلم خاتما ونقش فيه نقشا وقال : إني اتخذت خاتما فلا ينقش أحد عليه قال : فكأني أنظر إلى بريقه في خنصره رواه البخاري في الصحيح عن أبي معمر عن عبد الوارث

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو عبداللہ بن محمد نے ان کو عمران بن موسیٰ نے ان کو عبدالوارث نے ان کو عبدالعزیز نے ان کو انس نے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی تیار کروائی تھی اور اس میں کندہ کر دیا تھا اور فرمایا تھا کہ میں نے انگوٹھی بنوائی ہے اسی طرح کی کوئی شخص نہ کندہ کروائے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں (ایسے لگتا ہے) جیسے میں انگوٹھی والے نشان کی سفیدی دیکھ رہاہوں آپ کی چھنگلی میں (یعنی سب سے چھوٹی انگلی میں۔) بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں ابو معمر سے اس نے عبدالوارث سے۔

عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبِي مَعْمَرٍ ← فكأني أنظر إلى بريقه في خنصره رواه البخاري في الصحيح ← إني اتخذت خاتما فلا ينقش أحد عليه ← اصطنع النبي صلى الله عليه و سلم خاتما ونقش فيه نقشا ← أَنَسٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Detach the finger that makes the ring and which does not make it · Hadith 6357

chevron_left Previous
1…656667…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood