Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6334

6335 - وأخبرنا أبو القاسم علي بن محمد بن علي الايادي أنا أحمد بن يوسف بن خلاد ثنا عبيد بن عبد الواحد بن شريك ثنا سعيد بن الحكم بن أبي مريم : فذكره بإسناده مثله ورواه مسلم في الصحيح عن ابن عسكر عن ابن أبي مريم ولا بأس بذلك للنساء لما روينا في حديث علي وغيره في إباحة الحرير والذهب للنساء

ہمیں خبر دی ابو القاسم علی بن محمد بن علی ایادی نے ان کو احمد بن یونس بن خلاد نے ان کو عبید بن عبد الواحد بن شریک نے ان کو سعید بن حکم بن ابو مریم نے۔ پھر اس نے اسی حدیث کو ذکر کیا ہے اس کی اسناد کے ساتھ مذکورہ کی مثل۔اور اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابن عسکر سے اس نے ابن ابی مریم سے۔ اور اس کے ساتھ کوئی حرج نہیں ہے عورتوں کے لئے۔ بوجہ اس کے جو ہم نے روایت کیا ہے۔ حدیث علی وغیرہ سے۔ عورتوں کے لئے ریشم اور سونے کے جواز کے بارے میں۔

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6334

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6335

6336 - وروينا عن عائشة أنها قالت : قدمت على النبي صلى الله عليه و سلم حلة من عند النجاشي أهداها له فيها خاتم من ذهب فيه فص حبشي قالت : فأخذه رسول الله صلى الله عليه و سلم بعود معرضا عنه أو ببعض أصابعه ثم دعا أمامة بنت العاص ابنة ابنته فقال : تحلي هذا يا بنية وقد ذكرنا إسناده في السنن وأما التختم بالفضة فإنه جائز

اور ہم نے روایت کی ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے نجاشی کی طرف سے آنے والا حلہ پیش کیا۔ اس میں سونے کی انگوٹھی بھی تھی اس میں حبشی نگ تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیرتے ہوئے یعنی بادل ناخواستہ لکڑی کے ساتھ اس کو لیا یا اپنی بعض انگلیوں کے ساتھ لیا۔ اس کے بعد آپ نے (اپنی نواسی) سیدہ امامہ بنت ابو العاص جو آپ کی بیٹی زینب کی بیٹی تھی کو بلایا۔ اور فرمایا کہ اس انگوٹھی کو پہن لیجئے اسے بیٹی ہم نے اس کی اسناد کو سنن میں ذکر کیا ہے۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← وَرُوِّينَا

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6335

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6336

6337 - لما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم ثنا شعبة عن قتادة عن أنس بن مالك قال : لما أراد رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يكتب إلى الروم قيل إنهم لن يقرأوا كتابك إذا لم يكن مختوما فاتخذ خاتما من فضة ونقشه محمد رسول الله قال أنس : فكأنما أنظر إلى بياضه في يده رواه البخاري في الصحيح عن آدم وأخرجه مسلم من وجه آخر عن شعبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسن نے ان کو آدم نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل روم کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا کہ وہ آپ کا خط نہیں پڑھے گا جب وہ مہر لگا ہوا نہیں ہو گا۔لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی مہر بنوائی اس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، کندہ کیا ہوا تھا۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ ایسے لگتا ہے جیسے میں اس انگوٹھی کے نشان کا بیان اور سفیدی آج بھی دیکھ رہا ہوں۔ اس کو بخاری نے صحیح میں روایت کیا آدم سے۔ اور مسلم نے اس کو نقل کیا دوسرے طریق سے شعبہ سے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← لَمَّا

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6336

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6337

6338 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا مسدد ح وأخبرني أبو النضر الفقيه أنا أبو بكر بن رجاء ثنا أبو الربيع الزهراني قالا : ثنا حماد بن زيد عن عبد العزيز بن صهيب عن أنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم اتخذ خاتما من فضة ونقش محمد رسول الله وقال : إني اتخذت خاتما من فضة ونقشت فيه محمد رسول الله فلا ينقش أحد على نقشه رواه البخاري في الصحيح عن مسدد ورواه مسلم عن أبي الربيع الزهراني

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابو لنضر فقیہ نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو مسدد نے ’’ح‘‘ اور مجھے خبر دی ابو نصر فقیہ نے ان کو ابوعمر رحاء نے ان کو ابو ربیع زہرانی نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حماد بن زید نے ان کو عبدالعزیز بن صہیب نے ان کو انس نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی تھی اور اس میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ کندہ کروایا تھا اور فرمایا کہ میں نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں محمد رسول اللہ۔ کندہ کروایا ہے۔ لہٰذا کوئی شخص یہ چیز نقش نہ کروائے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں مسدد ہے۔ اور مسلم نے ابو الربیع زہرانی سے۔

أَنَسٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أبو بكر بن رجاء ← وأخبرني أبو النضر الفقيه ← مُسَدَّدٌ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6337

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6338

6339 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور الرمادي ثنا عبد الرزاق ثنا معمر عن ثابت عن أنس بن مالك : أن النبي صلى الله عليه و سلم صنع خاتما من ورق فنقش فيه محمد رسول الله وقال : لا تنقشوا عليه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن صفار نے ان کو احمد بن منصور رمادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ثابت نے ان کو انس بن مالک نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی مہر تیار کروائی تھی اوراس میں محمد رسول اللہ نقش کروایا تھا۔ اور فرمایا تم لوگ اس نام پر نقش نہ کروایا کرو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6338

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6339

6340 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عبيد بن شريك و ابن ملحان قالا : ثنا يحيى ثنا الليث ثنا يونس عن ابن شهاب قال : حدثني أنس بن مالك : أنه رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم في يده خاتم من ورق يوما واحدا ثم إن الناس اصطنعوا الخواتيم من ورق ولبسوها فطرح رسول الله صلى الله عليه و سلم خاتمه فطرحوا الناس خواتيهم رواه البخاري في الصحيح عن يحيى بن كثير قال البخاري : تابعه إبراهيم بن سعد و شعيب بن أبي حمزة و زياد بن سعد عن الزهري وأخرجه مسلم من حديث إبراهيم و زياد في الصحيح ويشبه أن يكون ذكر الورق في هذا الحديث وهما سبق إليه لسان الزهري فحملوه عنه على الوهم

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو ابن ملحان نے۔ دونوں نے کہا کہ ان کو یحییٰ نے ان کو لیث نے ان کو یونس نے ان کو ابن شہاب نے اس نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی ہے انس بن مالک نے کہ انہوں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھی تھی صرف ایک دن اس کے بعد لوگوں نے چاندی کی مہریں بنوائیں اور ان کو پہننا شروع کر دیا۔ لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی چھوڑ دی تو لوگوں نے بھی چھوڑ دیں۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں یحییٰ بن بکیر سے۔ بخاری نے کہا ہے کہ متابع بیان کی اس کی ابراہیم بن سعد اور شعیب بن ابی حمزہ نے اور زیاد بن سعد نے زہری سے۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے حدیث ابراہیم سے اور زیاد سے صحیح میں۔ اور مناسب یہ ہے کہ اس حدیث میں چاندی کا ذکر وہم ہو۔ زہری کی زبان نے اس کی طرف سبقت کی ہے دیگر راویوں نے اس کو وہاں سے وہم کی بنا پر اٹھا لیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى ← عبيد بن شريك و ابن ملحان ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6339

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6340

6341 - فقد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الحسن علي بن محمد بن سختويه ثنا أبو المثنى و يوسف بن يعقوب القاضي ثنا محمد بن المنهال أنا يزيد بن زريع ثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أراد أن يكتب إلى بعض الأعاجم قال : فقيل إنهم لا يقبلون كتابا إلا بخاتم قال : فاتخذ خاتما من فضة نقشه محمد رسول الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحس علی بن محمد بن سختویہ نے ان کو ابو اعمش اور یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو محمد بن منہال نے ان کو یزید بن زرایع نے ان کو سعید بن ابو عرویہ نے ان کو قتادہ نے ان کو انس نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض عجمیوں کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا کہتے ہیں کہ ان سے کہا گیا کہ وہ لوگ مہر کے بغیر خط قبول نہیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ اس لئے آپ نے چاندی کی مہر بنوائی۔ اس کا نقش، محمد رسول اللہ تھا۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← أبو المثنى و يوسف بن يعقوب القاضي ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← فَقَدْ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6340

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6341

6342 - و أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا وهب بن بقية عن خالد عن سعيد عن قتادة عن أنس بمعنى حديث يزيد زاد : فكان في يده حتى قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم وفي يد أبي بكر حتى قبض وفي يد عمر حتى قبض وفي يد عثمان فبينما هو عند بئر أريس إذا سقط في البئر فأمر بها فنزحت فلم يقدر عليه أخرجه البخاري مختصرا من حديث يزيد بن زريع

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے کو ابو داؤد نے ان کو وہب بن بقیہ نے ان کو خالد نے ان کو سعید نے ان کو قتادہ نے ان کو انس نے حدیث یزید کے مفہوم کے ساتھ۔ اس نے یہ اضافہ کیا ہے۔ وہ انگوٹھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ رہی یہاں تک کے انتقال ہو گیا۔ اور پھر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ ان کا بھی انتقال ہو گیا اور پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ رہی یہاں تک کہ آپ کا بھی انتقال ہو گیا۔ اور پھر وہ حضرت عثمان کے ہاتھ میں تھی ایک بار وہ اریس کے کنویں کے پاس بیٹھے تھے تو اچانک وہ کنویں میں گر گئی۔ انہوں نے اس کو تلاش کرنے کے لئے اس کا پورا پانی نکلوا دیا مگر وہ باوجود تلاش بسیار کے مل نہ سکی۔ بخاری نے اس کو نقل کیا ہے مختصراً یزید بن زریع کی حدیث سے۔

قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6341

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6342

6343 - وأخرج هذه الزيادة عن أحمد بن محمد بن عبد الله الأنصاري عن أبيه عن ثمامة عن أنس بن مالك وروينا عن عبد الله بن عمر : عن النبي صلى الله عليه و سلم

یہ زیارت کا اضافہ مروی ہے احمد بن محمد بن عبداللہ انصاری سے ان کو ان کے والد نے اس نے ثمامہ سے اس نے انس بن مالک سے اور ہم نے روایت کی ہے عبداللہ بن عمر سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أنس بن مالك وروينا ← ثُمَامَةَ ← أَبِيهِ ← أحمد بن محمد بن عبد الله الأنصاري ← وأخرج هذه الزيادة

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6342

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6343

6344 - ما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم ثنا أحمد بن سلمة ثنا محمد بن بشار ثنا يحيى ثنا عبيد الله أخبرني نافع عن ابن عمر : أن النبي صلى الله عليه و سلم اتخذ خاتما من ذهب وجعل فصه مما يلي كفه فاتخذ الناس فرمى به واتخذ خاتما من روق أخرجاه في الصحيح من حديث يحيى القطان

ہمیں جس کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کواحمد بن سلمہ نے ان کو محمد بن بشار نے ان کو یحییٰ نے ان کو عبیداللہ نے ان کو خبر دی نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی اور اس کا رنگ ہتھیلی کی طرف کیا۔لوگوں نے بھی انگوٹھیاں لے لیں لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پھینک دیا۔ اس کے بعد چاندی کی بنوا لی۔ بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے یحییٰ قطان کی حدیث سے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مَا

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6343

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6344

6345 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله بن يعقوب ثنا جعفر بن محمد ثنا يحيى بن يحيى ثنا عبد الله بن نمير عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر قال : اتخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم خاتما من ورق في يده ثم كان في يد أبي بكر من بعده ثم كان في يد عمر ثم كان في يد عثمان حتى وقع في بئر أريس رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى ورواه البخاري عن محمد بن سلام عن ابن نمير ولم يقل منه ورواه البخاري عن يوسف بن موسى عن أبي أسامة عن عبيد الله وقال : حتى وقع من عثمان الفضة في بئر أريس قال الشيخ : فهذا أو ما قبله يدل على أن النبي صلى الله عليه و سلم لم يطرح الخاتم الذي اتخذه من ورق وإنما طرح الخاتم الذي أخذه من ذهب وهو بين في رواية نافع وغيره عن ابن عمر

اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ بن یعقوب نے ان کو جعفر بن محمد نے ان کو یحییٰ بہن یحییٰ نے ان کو عبداللہ بن نمیر نے ان کو عبیداللہ نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی تھی اور وہ ان کے ہاتھ میں رہتی تھی حضور کے بعد وہ ابو بکر کے ہاتھ میں رہتی تھی اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہتی تھی اس کے بعد عثمان کے ہاتھ میں رہتی تھی حتٰی کہ پیئر اریس میں گر گئی تھی۔ مسلم نے اس کو صحیح میں نقل کیا یحییٰ بن یحییٰ سے اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے محمد بن سلام سے اس نے ابن نمیر ہے۔ اور اس نہیں کہا اس سے اور اس کو بخاری نے روایت کیا ہے یوسف بن موسیٰ سے اس نے ابو اسامہ سے اس نے عبیداللہ سے اور اس نے کہا کہ حتٰی کہ حضرت عثمان سے وہ چاندی بیراریس میں گر گئی۔ شیخ نے فرمایا کہ یہ حد یث اور اس سے پہلے والی احادیث دلالت کرتی ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس انگوٹھی کونہیں پھینکا تھا جس کو انہوں نے چاندی سے بنوایا تھا بلکہ اس انگوٹھی کو اتار پھینکا تھا جس کو انہوں نے سونے کا بنوایا تھا یہ بات واضح ہے نافع وغیرہ کی روایت سے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6344

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6345

6346 - و أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب القاضي ثنا علي بن عبد الله ثنا سفيان بن عيينة عن أيوب بن موسى عن نافع عن ابن عمر قال : اتخذ النبي صلى الله عليه و سلم خاتما من ذهب ثم ألقاه فاتخذ خاتما من ورق ونقش فيه محمد رسول الله وقال : لا ينقش أحد على خاتمي هذا وكان إذا لبسه جعل فصه في بطن كفه قال : فهذا الذي سقط من معيقيب في بئر أريس قال سفيان : هذه الكلمة لم يجيء بها غير أيوب بن موسى قيل لسفيان سقط من معيقيب قال : نعم أخرجه مسلم في الصحيح عن جماعة عن سفيان قال الشيخ : وخالف أيوب بن موسى أيضا غيره في قوله خاتم الورق فجعل فصه في بطن كفه فسائر الرواة إنما ذكروه في خاتم الذهب الذي طرحه

اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو علی بن عبداللہ نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو ایوب بن موسیٰ نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی لی تھی اس کے بعد اس کو رکھ دیا تھا اور چاندی کی انگوٹھی بنوائی تھی اور اس میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ کروایا تھا اورفرمایا تھا کہ میری اس مہر کی طرح کوئی شخص مہر نہ بنوائے جب اس کو پہنتے تھے تو اس کے نگ کو ہتھیلی کی اندر کی طرف کرتے تھے۔ راوی نے کہا کہ یہی مہر تھی جو معیقیب سے بیئر اریس میں گر گئی تھی سفیان نے کہا کہ اس کلمے کوکوئی نہیں لایا سوائے ایوب بن موسیٰ کے۔ سفیان سے کہا گیا کیا وہ معیقیب سے کر گئی تھی انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں جماعت سے اس نے سفیان سے۔ شیخ نے فرمایا کہ مخالفت کی ہے ایوب بن موسیٰ نے بھی دوسروں کی اس بات میں کہ چاندی کی انگوٹھی کا نگ اپنی ہتھیلی کے اندر کی طرف کرتے تھے۔ اور تمام راویوں نے اس بات کو ذکر کیا ہے سونے کی انگوٹھی کے متعلق جس کو آپ نے اتار پھینکا تھا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ ← و،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6345

chevron_left Previous
1…646566…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood