Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في ألوان الثياب · حديث 6322

6323 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا مسدد أنا عيسى بن يونس ثنا هشام بن الغاز عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : هبطنا مع النبي صلى الله عليه و سلم من ثنية فالتفت إلي وعلي ريطة مضرجة بالعصفر فقال : ما هذه الريطة عليك ؟ فعرفت ما كره فأتيت أهلي وهو يسجرون تنوارا لهم فقذفتها فيه ثم أتيته من الغد فقال : يا عبد الله ما فعلت الريطة فأخبرته قال : ألا كسوتها بعض أهلك فإنه لا بأس بها للنساء

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو مسدد نے ان کو عیسیٰ بن یونس نے ان کو ہشام بن غاز نے ان کو عمرو بن شعیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گھاٹی سے اترے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا حالانکہ میں نے دوشالہ یا پگڑی پہن رکھی تھی جو زرد رنگ کے ساتھ رنگی ہوئی تھی آپ نے فرمایا کہ یہ کسی پگڑی ہے یا دوپٹہ ہے تیرے اوپر ؟ میں سمجھ گیا کہ کیا چیز ناپسند کی ہے۔ میں اپنے گھر میں آیا تو گھر والوں نے تندور گرم کیا ہوا تھا میں نے اس کو تندور میں ڈال دیا۔ پھر میں صبح میں آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے پوچھا کہ وہ پگڑی یا وہ کپڑا کہاں ہے؟ اس کا تم نے کیا کیا اے عبداللہ ؟ میں نے آپ کو بتادیا کہ میں نے کل اس کو تندور میں ڈال کر جلا دیا تھا۔ آپ نے فرمایا اس کو تم نے اپنے گھر والوں کو کیوں نہ استعمال کرا دیا بے شک اس کو استعمال کرنے میں عورتوں کے لئے کوئی حرج نہیں ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← هِشَامِ بْنِ الْغَازِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of clothing colors · Hadith 6322

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في ألوان الثياب · حديث 6323

6324 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي أنا أبو عمرو بن مطر ثنا إبراهيم بن علي ثنا يحيى بن يحيى أنا حماد بن زيد عن مسلم العدوي عن أنس قال : دخل رجل على رسول الله صلى الله عليه و سلم وعليه أثر صفرة فكره ذلك له وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم قل ما يواجه أحدا بشيء يكرهه في وجهه فلما قام الرجل قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو أمرتم هذا أن يترك هذه الصفرة

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ اور ابو بکر محمد بن ابراہیم فارسی نے ان کو ابوعمر بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو حماد بن زید نے ان کو مسلم عدوی نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس پر پیلے رنگ کا کوئی نشان تھا حضور نے اس کو اس کے لئے ناپسند فرمایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپ بہت ہی کم کسی شئی کے ساتھ کسی ایسے آدمی کی طرف سامنا کرتے تھے جس چیز کوناپسند کرتے اس کے سامنے۔۔ جب وہ آدمی چلا گیا تو آپ نے فرمایا: اگر تم لوگ اس کو کہہ دیتے کہ اس پہلے رنگ کو وہ چھوڑ دے (تو اچھا ہوتا)۔

أَنَسٍ، ← مسلم العدوي ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of clothing colors · Hadith 6323

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في ألوان الثياب · حديث 6324

6325 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن محمد و محمد بن رجاء ثنا أبو الربيع ثنا حماد بن زيد عن عبد العزيز بن صهيب عن أنس بن مالك قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن التزعفر للرجال قال : وثنا يحيى بن محمد بن يحيى ثنا مسدد ثنا عبد الوارث عن عبد العزيز بن صهيب عن أنس بن مالك قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يتزعفر الرجل رواه مسلم في الصحيح عن أبي الربيع ورواه البخاري عن مسدد وأما الذي أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا إسحاق بن منصور السلولي ح

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن محمد بن محمد بن یحییٰ نے اورمحمد بن رجاء نے ان کو ابو الربیع نے ان کو حماد بن زید نے ان کو عبدالعزیز بن صہیب نے ان کوانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا مردوں کے لئے زعفرانی رنگ کے ساتھ رنگنے سے۔ فرمایا: ہمیں حدیث بیان کی یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نے ان کو مسدد نے ان کو عبد الوارث نے ان کو عبدالعزیز بن صہیب نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا اس بات سے کہ مرد زعفرانی رنگ کے ساتھ کپڑا رنگ کر پہنے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو ربیع سے۔ اور اس کو بخاری نے روایت کیا ہے مسدد سے۔ بہر حال وہ حدیث جس کی ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو بوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو اسحٰق بن منصور سلولی نے ’’ح“۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← التزعفر للرجال ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يحيى بن محمد و محمد بن رجاء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of clothing colors · Hadith 6324

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في ألوان الثياب · حديث 6325

6326 - وأخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا محمد بن حزابة ثنا إسحاق بن منصور أنا إسرائيل عن أبي يحيى الفتات عن مجاهد عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : مر على النبي صلى الله عليه و سلم رجل وعليه ثوبان أحمران فسلم على النبي صلى الله عليه و سلم فلم يرد النبي صلى الله عليه و سلم لفظ حديث الثوري وروى أبو داود في كتابه حديثين آخرين في كراهية الحمرة فيحتمل أنه إنما كرهها إذا صبغ بها الثوب بعد ما ينسج فأما ما صبغ غزله ثم نسج فغير داخل في الكراهية فقد روينا في الحديث الثابت عن البراء بن عازب أنه قال : رأيت النبي صلى الله عليه و سلم في حلة حمراء قال أبو سليمان : والحلل هي برود اليمن حمر وصفر وخضر وما بين ذلك من الألوان وهي لا تصبغ بعد النسج ولكن يصبغ الغزل ثم يتخذ منه الحلل وهي العصب وسمي عصبا لأن غزله يعصب ثم يصبغ ثم ينسج

اور ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو محمد بن خزابہ نے ان کو اسحٰق بن منصور نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابو یحییٰ قتات نے اس نے مجاہد سے اس نے عبداللہ بن عمرو بن العاص سے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک آدمی گزرا اور اس پر دو سرخ رنگ کے کپڑے تھے اس نے حضور کو سلام کیا تو آپ نے اس کو سلام کا جواب نہیں دیا۔ یہ ثوری کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ اور ابو داؤد نے اپنی کتاب میں دوسری دو حدیثیں روایت کی ہیں حمرۃ اور سرخ رنگ کے مکروہ (ناپسند) ہونے کے بارے میں احتمال ہے کہ آپ نے اس کو اس وقت مکروہ اور ناپسند کیا ہو جب بننے کے بعد کو رنگا گیا ہو۔ بہر حال وہ کپڑا جس کا سوت رنگا گیا ہو بننے سے پہلے وہ کراہیت میں داخل نہیں ہے۔ تحقیق ہم نے روایت کیا ہے اس حدیث میں جو حضرت براء بن عازب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ پوشاک میں اور حلے میں دیکھا تھا۔ ابو سلیمان نے فرمایا کہ حلے یہ یمنی چادریں ہوتی تھیں سرخ بھی اور زرد بھی اور سبز بھی اور اس کے بین بین بھی دیگر رنگوں میں وہ بننے کے بعد نہیں رنگی جاتی تھیں بلکہ بننے سے پہلے ہی سوت کو رنگا جاتا تھا اس کے بعد ان کے حلے بنائے جاتے تھے اور وہی عصیب ہوتے تھے اور یہ عصب کہلاتے تھے کیونکہ ان کا سوت پکا کیا جاتا تھا پھر رنگا جاتا تھا اس کے بعد بنا جاتا تھا۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← مُجَاهِدٍ ← أبي يحيى الفتات ← اِسْرَائِیْلُ ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ حُزَابَةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of clothing colors · Hadith 6325

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في ألوان الثياب · حديث 6326

6327 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا عبد الله بن محمد بن مسلم ثنا يوسف بن سعيد ثنا حجاج عن ابن جريج قال : أخبرني أبو بكر الهذلي عن الحسن عن رافع بن يزيد الثقفي : عن النبي صلى الله عليه و سلم أن الشيطان يحب الحمرة فإياكم والحمرة وكل ثوب ذي شهرة

ہمیں خبر دی ابو سعید مالینی نے ان کو ابوالد بن عدی حافظ نے ان کو عبداللہ بن بن مسلم نے ان کو یوسف بن سعید نے ان کو حجان نے ان کوابن جریج نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے ابو بکر ہذلی نے ان کو حسن نے ان کو رافع بن یزید ثقفی نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شیطان حمرۃ اور سرخی کو پسند کرتا ہے بچاؤ تم اپنے آپ کو حمرۃ وسرخی سے اور ہر ایسے کپڑے سے جو شہرت کا حامل ہو۔ (یعنی جس سے کپڑے کی اور پہنے والے کی شہرت ہو۔)

رَافِعِ بْنِ يَزِيدَ الثَّقَفِيِّ، ← الْحَسَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حجاج، ← يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of clothing colors · Hadith 6326

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في ألوان الثياب · حديث 6327

6328 - وبهذا الإسناد قال : أخبرني أبو بكر الهذلي عن قتادة قال : خرجنا مع أنس بن مالك إلى أرض يقول لها : الزاوية فقال حنظلة السدوسي ما أحسن هذه الخضرة فقال أنس : كنا نتحدث أن أحب الألوان إلى النبي صلى الله عليه و سلم الخضرة

اور اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے انہوں نے فرمایا۔ مجھے خبر دی ہے ابو بکر ہذلی نے قتادہ سے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت انس کے ساتھ اس زمین کی طرف گئے جسے زاویہ کہتے تھے۔ پس حنظلہ سدوسی نے کہا کہ یہ ہریالی کتنی اچھی ہے اور خوبصورت ہے۔ حضرت انس نے فرمایا: ہم لوگ آپس میں باتیں کرتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ پسندیدہ رنگ ہرا رنگ ہوتا تھا۔

حنظلة السدوسي ما أحسن هذه الخضرة ← لها الزاوية ← خرجنا مع أنس بن مالك إلى أرض ← قَتَادَةَ ← أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، ← وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of clothing colors · Hadith 6327

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6328

6329 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا محمد بن بكر ثنا أبو داود ثنا موسى بن إسماعيل و محمد بن عبد الله الخزاعي المعني قالا : ثنا أبو الأشهب عن عبد الرحمن بن طرفة : أن جده عرفجة بن أسعد قطع أنفه يوم الكلاب فاتخذ أنفا من ورق فأنتن عليه فأمره النبي صلى الله عليه و سلم فاتخذ أنفا من ذهب ورواه أبو داود الطيالسي و يزيد بن هارون و أبو عاصم عن أبي الأشهب عن عبد الرحمن بن عرفجة ورواه ابن علية عن أبي الأشهب عن عبد الرحمن عن أبيه أن عرفجة وروينا عن أنس بن مالك أنه شد أسنانه بذهب وعن الحسن البصري و موسى بن طلحة و إسماعيل بن زيد بن ثابت كذلك وروينا عن إبراهيم أنه لم ير به بأسا وأما التختم بالذهب فلا يجوز ذلك للرجال لما :

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو محمد بن بکر نے ان کو ابو داؤد نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے اور محمد بن عبداللہ خزاعی نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو الاشہب نے ان کو عبدالرحمٰن بن طرفہ نے یہ کہ ان کے دادا عرفہ بن اسعد کی الکلاب والے دن ناک کٹ گئی تھی ، اس نے چاندی کی ناک لگوا لی تو اس میں بدبو ہو گئی تھی لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دی یا اجازت دی اس نے سونے کی ناک لگوائی۔ اس کو روایت کیا ہے ابو داؤد طیالسی نے اور یزید بن ہارون نے اور ابو عاصم نے ان کو ابو الاشہب نے ان کو عبدالرحمٰن بن عرفہ نے۔ اور اس کو روایت کیا ہے ابن علیہ نے ان کو ابو الاشہب نے ان کو عبدالرحمٰن نے ان کو ان کے والد نے یہ کہ عرفحہ۔ اور ہم نے روایت کی ہے انس بن مالک سے کہ انہوں نے باندھ دیا تھا اپنے دانتوں کو سونے کی تار کے ساتھ اور حسن بصری سے مروی ہے اور موسیٰ بن طلحہ اور اسماعیل بن زید بن ثابت سے اسی طرح اور ہم نے روایت کی ہے ابراہیم سے کہ انہوں نے اس بارے میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ اور بہرحال سونے کی انگوٹھی پہنما یہ ناجائز ہے مردوں کے لئے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← موسى بن إسماعيل و محمد بن عبد الله الخزاعي المعني ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6328

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6329

6330 - روينا عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه أنه قال : نهاني رسول الله صلى الله عليه و سلم عن التختم بالذهب

روایت کی ہم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا سونے کی انگوٹھی پہننے سے۔

التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ. ← نهاني رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ ← رُوِّينَا،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6329

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6330

6331 - وحدثنا أبو الحسن العلوي أنا أبو الأحرز محمد بن عمر بن جميل الأزدي ثنا عبد الله بن روح ثنا عثمان بن عمر البصري ثنا داود بن قيس عن إبراهيم بن عبد الله عن أبيه عن ابن عباس عن علي بن أبي طالب قال : نهاني حبي صلى الله عليه و سلم أن أقرأ راكعا أو ساجدا وعن خاتم الذهب وعن لبس القسية أو معصفرة مقدمة أخرجه مسلم في الصحيح من حديث العقدي عن داود

اور ہمیں حدیث بیان کی ابو الحسن علوی نے ان کو ابو الاحرز محمد بن عمر بن جمیل از دی نے۔ ان کو عبداللہ بن روح نے ان کو عثمان بن عمر بصری نے ان کو داؤد بن قیس نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو علی بن ابی طالب نے وہ کہتے ہیں کہ میرے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ منع فرمایا تھا رکوع اورسجدے میں قرأت کرنے سے۔ اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے اور مصری ریشمی کپڑے پہننے سے اور زرد رنگ سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں حدیث عقدی سے اس نے داؤد سے۔

دَاوُدُ، ← لبس القسية أو معصفرة مقدمة أخرجه مسلم في الصحيح من حديث العقدي ← خَاتَمِ الذَّهَبِ» ← نهاني حبي صلى الله عليه و سلم أن أقرأ راكعا أو ساجدا ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← عثمان بن عمر البصري، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ ← أَبُو الْأَحْرَزِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْأَزْدِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6330

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6331

6332 - وأخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا أحمد بن الوليد الفحام ثنا حجاج بن محمد ثنا شعبة عن قتادة عن النضر بن أنس عن بشير بن نهيك عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن خاتم الذهب أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمرو رزاز نے ان کو احمد بن ولید فحام نے ان کو حجاج بن محمد نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو نضر بن انس نے ان کو بشیر بن نہیک نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا سونے کی انگوٹھی پہننے۔ بخاری ومسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں حدیث شعبہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6331

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6332

6333 - أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا عبد الله بن محمد بن الحسن بن الشرقي ثنا عبد الرحمن بن بشر بن الحكم ثنا عبد الرحمن بن مهدي أبو سعيد ثنا يحيى عن ابن عجلان عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رأي في يد رجل من أصحابه خاتما من ذهب فأعرض عنه فذهب فألقاه ثم جاء وقد اتخذ من فضة فسكت عنه

ہمیں خبر دی ابو الحسن علوی نے ان کو عبدالملک بن محمد بن حسن بن شرقی نے ان کو عبدالرحمٰن بن بشر بن حکم نے کو عبدالرحمٰن بن مہدی ابو سعید نے ان کو یحییٰ نے ان کو ابن عجلان نے ان کو عمرو بن شعیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی صحابی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تھی تو آپ نے اس سے منہ پھیر لیا تھا اس نے اسے اتار کر پھینک دیا۔ اس کے بعد جب وہ آیا تواس نے چاندی کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی لہٰذا آپ اس سے خاموش ہو گئے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى ← عبد الرحمن بن مهدي أبو سعيد ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6332

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في تحلي الرجال أما الذهب فلا يجوز لهم التحلي به إلا في القليل الذي تدعو الحاجة إليه · حديث 6333

6334 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق أنا عبيد بن عبد الواحد ح قال : وثنا محمد بن صالح ثنا الفضيل بن محمد قال : أنا ابن أبي مريم ثنا محمد بن جعفر بن أبي كثير أخبرني إبراهيم بن عقبة عن كريب مولى ابن عباس عن عبد الله بن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رأى خاتما من ذهب في يد رجل فنزعه فطرحه وقال : يعمد أحدكم إلى جمرة من نار فيجعلها في يده فقيل للرجل : بعد ما ذهب رسول الله صلى الله عليه و سلم خذ خاتمك انتفع به فقال : والله لا آخذه أبدا وقد طرحه رسول الله صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسٰحق نے ان کو عبیداللہ بن عبدالواحد نے’’ح‘‘ اس نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن صالح نے ان کو فضیل بن محمد نے۔اس نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابن ابی مریم نے ان کو محمد بن جعفر بن ابی کثیر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے ابراہیم بن عقبہ نے ان کوکریب مولیٰ ابن عباس نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو کو چھین کر پھینک دیا اور فرمایا کہ ایک انسان تم میں سے قصد کرتا ہے آگ کے انگارے کا اٹھا کے اس کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔سنو جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چلے گئے تو لوگوں نے اس آدمی سے کہا کہ اپنی انگوٹھی اٹھا لے اور اس سے فائدہ اٹھا اس آدمی نے کہ اللہ کی قسم میں اس کو کبھی بھی نہیں لوں گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پھینک دیا ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← کُرَیْبٍ مَوْلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي کَثِيرٍ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← الفضيل بن محمد ← وثنا محمد بن صالح ← عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter on the adornment of men. As for gold, it is not permissible for them to wear it except for a little that is needed · Hadith 6333

chevron_left Previous
1…636465…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood