شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في ألوان الثياب · حديث 6322
6323 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا مسدد أنا عيسى بن يونس ثنا هشام بن الغاز عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : هبطنا مع النبي صلى الله عليه و سلم من ثنية فالتفت إلي وعلي ريطة مضرجة بالعصفر فقال : ما هذه الريطة عليك ؟ فعرفت ما كره فأتيت أهلي وهو يسجرون تنوارا لهم فقذفتها فيه ثم أتيته من الغد فقال : يا عبد الله ما فعلت الريطة فأخبرته قال : ألا كسوتها بعض أهلك فإنه لا بأس بها للنساء
ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو مسدد نے ان کو عیسیٰ بن یونس نے ان کو ہشام بن غاز نے ان کو عمرو بن شعیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گھاٹی سے اترے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا حالانکہ میں نے دوشالہ یا پگڑی پہن رکھی تھی جو زرد رنگ کے ساتھ رنگی ہوئی تھی آپ نے فرمایا کہ یہ کسی پگڑی ہے یا دوپٹہ ہے تیرے اوپر ؟ میں سمجھ گیا کہ کیا چیز ناپسند کی ہے۔ میں اپنے گھر میں آیا تو گھر والوں نے تندور گرم کیا ہوا تھا میں نے اس کو تندور میں ڈال دیا۔ پھر میں صبح میں آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے پوچھا کہ وہ پگڑی یا وہ کپڑا کہاں ہے؟ اس کا تم نے کیا کیا اے عبداللہ ؟ میں نے آپ کو بتادیا کہ میں نے کل اس کو تندور میں ڈال کر جلا دیا تھا۔ آپ نے فرمایا اس کو تم نے اپنے گھر والوں کو کیوں نہ استعمال کرا دیا بے شک اس کو استعمال کرنے میں عورتوں کے لئے کوئی حرج نہیں ہے۔
جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← هِشَامِ بْنِ الْغَازِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ
Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of clothing colors · Hadith 6322
