شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في زينة البيوت · حديث 6310
6311 - حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني إملاء أنا أبو سعيد أحمد بن زياد يعني ابن الأعرابي أنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن القاسم بن محمد عن عائشة قالت : دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد استترت بقرام فيه تماثيل فلما رآه تلون وجهه وهتكه بيده وقال : أشد الناس يوم القيامة عذابا الذين يشبهون بخلق الله رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة وغيره عن سفيان
ہمیں حدیث بیان کی ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے بطور املاء کے ان کو ابو سعید احمد بن زیاد نے یعنی ابن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو زہری نے ان کو قاسم بن محمد نے ان کو عائشہ نے وہ فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے حالانکہ میں ایک باریک چادر کا پردہ دروازے پر لٹکا چکی تھی اس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس کو دیکھا تو ان کا چہرہ قصے سے بدل گیا آپ نے اس کو اپنے ہاتھ سے توڑ دیا اور فرمایا کہ بے شک قیامت کے دن سخت ترین عذاب میں ہوں گے وہ لوگ جو اللہ کی تخلیق کی شبیہیں بناتے ہیں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا صحیح میں ابو بکر بن ابو شبیہ سے اس نے سفیان سے۔
عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أبو سعيد أحمد بن زياد يعني ابن الأعرابي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ
Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on home decorations · Hadith 6310
