Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في زينة البيوت · حديث 6310

6311 - حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني إملاء أنا أبو سعيد أحمد بن زياد يعني ابن الأعرابي أنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن القاسم بن محمد عن عائشة قالت : دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد استترت بقرام فيه تماثيل فلما رآه تلون وجهه وهتكه بيده وقال : أشد الناس يوم القيامة عذابا الذين يشبهون بخلق الله رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة وغيره عن سفيان

ہمیں حدیث بیان کی ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے بطور املاء کے ان کو ابو سعید احمد بن زیاد نے یعنی ابن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو زہری نے ان کو قاسم بن محمد نے ان کو عائشہ نے وہ فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے حالانکہ میں ایک باریک چادر کا پردہ دروازے پر لٹکا چکی تھی اس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس کو دیکھا تو ان کا چہرہ قصے سے بدل گیا آپ نے اس کو اپنے ہاتھ سے توڑ دیا اور فرمایا کہ بے شک قیامت کے دن سخت ترین عذاب میں ہوں گے وہ لوگ جو اللہ کی تخلیق کی شبیہیں بناتے ہیں۔ اس کو مسلم نے روایت کیا صحیح میں ابو بکر بن ابو شبیہ سے اس نے سفیان سے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أبو سعيد أحمد بن زياد يعني ابن الأعرابي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on home decorations · Hadith 6310

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في زينة البيوت · حديث 6311

6312 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الوليد ثنا الحسن بن سفيان أنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا سفيان عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه أنه سمع عائشة تقول : دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد سترت سهوة لي بقرام فيه تماثيل فلما رآه هتكه وتلون وجهه وقال : يا عائشة : أشد الناس عذابا يوم القيامة الذي يضاهون بخلق الله قالت عائشة : فقطعناه فجعلنا منه وسادتين رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة ورواه البخاري عن علي عن سفيان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کوخبر دی ابو الولید نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو ابو بکر بن ابی شیبہ نے ان کو سفیان نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے اس نے ان کے والد سے کہ انہوں نے سنا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے حالانکہ میں پردہ لگا چکی تھی اپنے گھر کے صحن کو ایک پردے (کپڑے) کے ساتھ جس میں تصویریں تھیں جب آپ نے اس کو دیکھا تو اس کو توڑ دیا اور غصے سے آپ کا چہرہ بدل گیا اور فرمایا: اے عائشہ ! بے شک قیامت میں سخت ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے وہ لوگ جو اللہ کی تخلیق کے مشابہ بناتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں لہٰذا ہم نے اسے کاٹ کر دو تکیے بنا لئے۔ اس کومسلم نے روایت کیا ابو بکر بن ابی شیبہ سے اور بخاری نے علی سے اس نے سفیان سے۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on home decorations · Hadith 6311

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في زينة البيوت · حديث 6312

6313 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب بن عطاء أنا عوف ح و أخبرنا أبو عبد الله أخبرني أبو محمد بن زياد العدل ثنا عبد الله بن محمد بن شيرويه ثنا أحمد بن عبدة ثنا يزيد بن زريع أنا عوف بن أبي جميلة ثنا سعيد بن أبي الحسن قال : كنت عند ابن عباس فأتاه رجل فقال : إنما معيشتي من صنعة يدي وإني أصنع هذه التصاوير قال : لا أحدثك إلا ما سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم فإني سمعته يقول : من صور صورة فإن الله يعذبه حتى بنفخ فيها الروح وليس بنافخ فيها أبدا فربا له الرجل ربوة شديدة واصفر وجهه فقال : ويحك فإن أبيت ألا تصنع فعليك بهذا الشجر وكل شئ ليس فيه الروح رواه البخاري عن عبد الله بن عبد الوهاب عن يزيد بن زريع وأخرجه مسلم من وجه آخر عن سعيد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے ان کو عوف نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ نے ان کو خبر دی ابو محمد بن زیاد عدل نے ان کو عبداللہ بن محمد بن شیرویہ نے ان کو احمد بن عبدہ نے ان کو یزید بن زریع نے ان کو عوف بن ابی جمیلہ نے ان سعید بن ابی حسن نے وہ کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا میری گزر اوقات میرے ہاتھ کا ہنر ہے میں یہ تصویریں یا مورتیاں بناتا ہوں۔ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نہیں حدیث بیان کروں گا تجھ کو مگر وہی جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی فرماتے تھے جو شخص کوئی تصویر بنائے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ اس کو یہ عذاب دے گا کہ وہ اس میں روح بھی پھونک دے مگر وہ روح نہیں ڈال سکے گا کبھی بھی۔ لہٰذا اس آدمی کی سانس پھول گئی سخت طریقے سے اور اس کا چہرہ پیلا ہو گیا (خوف کے مارے) پس آپ نے فرمایا: ہلاک ہو جائے اگر تو نہیں چھوڑ سکتا تو پھر لازم کر لے اس درخت کی تصویر کو اور ہر اس شئی کی تصویر جس میں روح نہ ہو بخاری نے اس کو روایت کیا ہے عبداللہ بن عبدالوہاب سے اس نے یزید بن زریع سے۔ اور اس کو مسلم نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے سعید سے۔

سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ← عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← و، ← عَوْفٌ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on home decorations · Hadith 6312

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في زينة البيوت · حديث 6313

6314 - أخبرنا أبو علي الحسين بن محمد الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا أبو صالح محبوب بن موسى أنا أبو إسحاق الفزاري عن يونس بن أبي إسحاق عن مجاهد قال : ثنا أبو هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتاني جبريل عليه السلام فقال لي : أتيتك البارحة فلم يمنعني أن أكون دخلت إلا أنه كان على الباب تماثيل وكان في البيت قرام ستر فيه تماثيل وكان في البيت كلب فمر رأس التمثال الذي في باب البيت يقطع فيصير كهيئة الشجرة ومر بالستر فليقطع فتجعل منه وسادتين منبوذتين توطآن ومر بالكلب فليخرج ففعل رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا الكلب لحسن أو حسين رضي الله عنهما كان تحت نضد فأمر به فأخرج قال الشيخ : وقد روينا في السنن عاليا وفي كتاب المعرفة من حديث معمر عن أبي إسحاق عاليا وذكرنا فيما سائر ما ورد في هذا الباب أو أكثرها

ہمیں خبر دی ابو علی حسین بن محمد روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ابو صالح محبوب بن موسیٰ نے ان کو ابو اسحاق فزاری نے ان کو یونس بن ابو اسحٰق نے ان کو مجاہد نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ میں گذشتہ رات کو بھی آیا تھا تیرے پاس مگر اندر داخل ہونے سے جو چیز مانع ہوئی وہ یہ تھی کہ دروازے پر ہی تصویریں تھیں اور گھر میں پردے کا کپڑا لٹکا تھا جس میں تصویریں تھیں اور گھر میں کتا تھا۔ اس گھر میں جو تصاویر ہیں ان کے سر کو کاٹنے کا حکم دیجئے جو گھر کے دروازے پر لٹکا ہوا ہے لہٰذاوہ درخت کی صورت پر ہو جائیں گی۔ اور پردے کے بارے میں حکم دیجئے کہ اس کو کاٹ دیا جائے اور دو تکیے بنا لئے جائیں جو نیچے پڑے رہیں ان کے اوپر بیٹھا جائے اور کتے کے بارے میں حکم دیجئے کہ اس کو نکال دیا جائے۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ اچانک وہ کتا حسین رضی اللہ عنہ کا تھا یا حسین رضی اللہ عنہ کا تھا سامان اور اسباب کے نیچے پڑا تھا حکم دیا تو اسے نکال دیا گیا۔ شیخ نے فرمایا کہ ہم نے کتاب السنن میں روایت کی ہے سند عالی کے ساتھ اور کتاب المعرفہ میں حدیث معمر سے اس نے ابو اسحٰق سے سند عالی کے ساتھ۔ ہم نے ان دونوں کتابوں میں وہ ساری احادیث ذکر کر دی ہیں جو اس بارے میں آئی ہیں یا زیادہ تر ذکر کردہ ہیں۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← مُجَاهِدٍ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on home decorations · Hadith 6313

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في زينة البيوت · حديث 6314

6315 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا موسى بن إسماعيل ثنا ابان ثنا يحيى ثنا عمران بن حطان عن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان لا يترك في بيته شيئا فيه تصليب إلا قضبه أخرجه البخاري من حديث هشام عن يحيى بن أبي كثير وقال : ثوبا فيه تصليب إلا قضبه

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو ابان نے ان کو یحییٰ نے ان کو عمران بن حطان نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑ تے تھے جس میں صلیب بنی ہوئی ہو مگر اس کو کاٹ دیتے تھے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے حدیث ہشام سے اس نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے کہا کہ کوئی کپڑا نہیں چھوڑتے تھے جس میں صلیب کا نشان ہو مگر اس کو کاٹ دیتے تھے۔

عَائِشَةَ ← عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ ← يَحْيَى ← أَبَانُ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on home decorations · Hadith 6314

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في زينة البيوت · حديث 6315

6316 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني ابن أبي ذئب عن عبد الرحمن بن مهران عن عمير مولى ابن عباس عن أسامة بن زيد أنه قال : دخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم الكعبة فرأى فيها صورا فأمرني أن آتيه بماء فكنت آتيه بماء في الدلو فجعل يبل الثوب ثم يضرب به الصور ويقول : قاتل الله قوما يصورون ما لا يخلقون

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابی اسحٰق نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابو ذئب نے عبدالرحمٰن بن مہران نے اس نے عمر مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس نے اسامہ بن زید سے کہ انہوں نے کہا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کعبے میں داخل ہوا انہوں نے اس میں تصویریں دیکھیں مجھے حکم دیا کہ پانی لے کر آؤ میں لے کر آیا ڈول میں آپ کپڑا تر کرتے اور اس کو تصویروں پر پھیرتے جاتے اور یہ کہتے۔ قاتل اللہ قوماً یصورون مالا یخلقون اللہ برباد کرے ان لوگوں کو جو شبہیں بناتے ہیں ان کی جن کو وہ پیدا نہیں کر سکتے۔

أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ، ← عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on home decorations · Hadith 6315

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في زينة البيوت · حديث 6316

6317 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا الأسفاطي و محمد بن هارون الأزدي فرقهما ثنا أبو الوليد ثنا عبد العزيز بن مسلم عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يخرج عنق من النار يوم القيامة له عينان يبصر بهما وأذنان يسمع بهما ولسان ينطق به يقول : إني وكلت بثلاثة من ادعى مع الله إلها آخر وبكل جبار عنيد وبالمصورين

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسفاطی نے اور محمد بن ہارون از دی نے ان کو حدیث بیان کی ابو الولید نے ان کو عبدالعزیز بن مسلم نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ نے فرمایا: قیامت سے دن آگ میں سے ایک گردن اوپر نکلے گی اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن کے ساتھ وہ دیکھے گی اور دو کان ہوں گے جن کے ساتھ وہ سن سکے گی اور زبان ہو گی جس کے ساتھ وہ بولے گی۔ اور وہ کہے گی کہ میں تین طرح کے لوگوں کے اوپر مقرر کی گئی ہوں۔ جو شخص اللہ کے ساتھ ہی دوسرے اللہ کا دعوی کرتا ہے۔ اور ہر سرکش بغض رکھنے والے پر اور صورتیں بنانے والوں پر۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الأسفاطي و محمد بن هارون الأزدي فرقهما ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on home decorations · Hadith 6316

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في ألوان الثياب · حديث 6317

6318 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أحمد بن كامل القاضي ثنا محمد بن سعد الصوفي و عبد الله بن روح المدائني ثنا أبو بدر شجاع بن الوليد ثنا عبد الله بن عثمان عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : البسوا من ثيابكم البياض وكفنوا فيها موتاكم وإن خير أكحالكم الإثمد فإنه يجلو البصر وينبت الشعر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن کامل قاضی نے ان کو محمد بن سعید صوفی نے ان کو عبداللہ بن روح مدائنی نے ان ابو بدر شجاع بن ولید نے ان کو عبداللہ بن عثمان نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کوابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتے تھے:تم لوگ اپنے سفید کپڑے پہنا کرو اور سفید ہی کپڑوں میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو بے شک تمہارا بہترین سرمہ اثمد ہے بے شک وہ بینائی کو تیز کرتا ہے اور بالوں کو اگاتا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ← محمد بن سعد الصوفي و عبد الله بن روح المدائني ← أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of clothing colors · Hadith 6317

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في ألوان الثياب · حديث 6318

6319 - أخبرنا أبو محمد الحسن بن علي المؤمل ثنا أبو عثمان البصري ثنا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون ثنا المسعودي عن حبيب بن أبي ثابت و الحكم عن ميمون بن أبي شبيب ح وأخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا يحيى بن أبي بكير ثنا حمزة الزيات عن حبيب بن أبي ثابت عن ميمون بن أبي شبيب عن سمرة بن جندب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : البسوا هذه الثياب البيض فإنها أطيب وأطهر وكفنوا فيها موتاكم

ہمیں خبر دی ابو محمد حسن بن علی مومل نے ان کو ابو عثمان بصری نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو مسعودی نے ان کو حبیب بن ابی ثابت نے اور حکم نے ان کو میمون بن ابو شیبیب نے ’’ح‘‘ ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکرمحمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو یحییٰ بن ابی بکیر نے ان کو حمزہ زیات نے ان کو حبیب بن ابی ثابت نے ان کو میمون بن ابی شبیب نے ان کو سمرہ بن جندب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید کپڑے پہنو بے شک وہ صاف ستھرے اور پاکیزہ ہوتے ہیں اور ان میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ← حبيب بن أبي ثابت و الحكم ← الْمَسْعُودِيِّ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← أبو محمد الحسن بن علي المؤمل

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of clothing colors · Hadith 6318

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في ألوان الثياب · حديث 6319

6320 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا أحمد بن الوليد الفحام ثنا روح بن عبادة ثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن الحسن بن عمران بن حصين : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا أركب الأرجوان ولا ألبس المعصفر ولا ألبس القميص المكفف بالحرير قال وأومأ الحسن إلى جيب قميصه قال الشيخ : الأرجوان هي المياثر الحمر وقد تتخذ من ديباج وحرير فإن كانت من ديباج وحرير لم تحل للرجال وإن كانت من غيرهما فكأنه كره الحمرة إذا صبغ بها الثوب بعد النسج وكره المعصفر أيضا لذلك ولم يلبس القميص المكفف بالحرير وهو ما اتخذ جيبه من حرير وكان لذيله وأكمامه كفاف منه وذلك يزيد قدر أربع أصابع التي وردت الرخصة فيها في غير الحرب وقد مضى في جبته المكففة أنه كان يلبسها في الحرب والله أعلم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمرو رزاز نے ان کو احمد بن ولید فحام نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو سعید بن ابوعربہ نے ان کو قتادہ نے ان کو حسن بن عمران بن حسین نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں سوار ہوتا ارغوان پر (ایک بہت سرخ ریشمی کپڑا جو گھوڑے کی زین پر لگا ہوتا تھا۔) اور میں نہیں پہنتا پیلے رنگ کے ساتھ رنگا ہوا کپڑا اور میں نہیں پہنتا وہ قمیص جس کو ریشم کے کف لگے ہوں۔ یا گلے کی پیٹیاں ریشمی ہوں۔کہتے ہیں کہ حسن بن عمران نے اشارہ کیا اپنی قیص کے گلے وگربیان کی جانب۔ شیخ نے فرمایا کہ ارغوان سے مراد گھوڑے کی زین کا سرخ نمدہ ہے کبھی وہ پایا جاتا ہے دیباج اور حریر سے (موٹے اور پتلے ریشم سے) اگر وہ دیباج اور حریر سے بنا ہو تو مردوں کے لئے بیٹھنا حلال نہیں ہے۔ اگر ان دونوں کے علاوہ ہو تو گویا کہ آپ نے حمرۃ دسرخی کو ناپسند کیا تھا جب سننے کے بعد کپڑے کو اس رنگ کے ساتھ رنگا گیا ہو۔ اور اسی طرح پیلے رنگ سے رنگا ہوا بھی مکروہ اور ناپسند فرمایا۔ اسی لئے اس قمیص کونہیں پہنا جو ریشم کی پٹی کے ساتھ گلا وغیرہ کف وغیرہ بنایا گیا ہو۔ یا دامن کی وغیرہ پیپن اور پٹیاں ریشم کی ہوں اور یہ چار انگشت کی مقدار سے زیادہ ہو جس مقدار کی رخصت آئی ہے غیر حالت جنگ میں۔ حالانکہ تحقیق یہ روایت پہلے گزر چکی ہے کہ آپ کا ایسا جبہ تھا جس کو گلے وغیرہ پر ریشمی پٹیاں لگی ہوئی تھیں اور آپ اس کو حالت جنگ میں پہنتے تھے۔ واللہ اعلم۔

الحسن بن عمران بن حصين ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of clothing colors · Hadith 6319

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في ألوان الثياب · حديث 6320

6321 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك قال : وثنا محمد بن نصر ثنا يحيى بن يحيى قال : قرأت على مالك عن نافع عن إبراهيم بن عبد الله بن حنين عن أبيه عن علي بن أبي طالب أنه قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن لبس القسي والمعصفر وعن تختم الذهب وعن القراءة في الركوع ورواه مسلم عن يحيى بن يحيى القسي ثياب يؤتى بها من مصر فيها حرير ويقال إنها منسوبة إلى بلاد يقال لها : القس مفتوحة القاف مشددة السين ويقال إنها : القزية أبدلوا الزاي سينا قال أبو سليمان الخطابي رحمه الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے کو خبر دی ابو نصر فقیہ نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھا مالک کے سامنے، اور ان کو محمد بن نصر نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پڑھاما لک پر اس نے نافع سے اس نے ابراہیم بن عبداللہ بن حنین سے اس نے اپنے والد سے اس نے علی بن ابو طالب سے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصری کپڑے قسی کو پہنے سے منع فرمایا تھا۔ اور زرد رنگ سے رنگے ہوئے سے اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے۔ اور رکوع کی حالت میں قرأت کرنے سے۔ اور اس کو مسلم نے روایت کیا ہے یحییٰ بن یحییٰ سے قسی وہ کپڑا ہوتا تھا جو مصر سے منگوایا جاتا تھا اس میں ریشم ہوتا تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ کپڑا منسوب تھا شہروں کی طرف جنہیں مس کہا جاتا تھا (اس کا تلفظ اس طرح پر ہے کہ قاف پر زبر ہے اور سین پر تشدید ہے) اس لیے قسی کہلاتا تھا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ قسی در اصل قزی تھا زاء کو سین کے ساتھ لوگوں نے بدل لیا یہ منسوب ہو گا قز کی طرف جس کا معنیٰ ہے ریشمی کپڑا یا اس کا بنایا ہوا اصلی ریشم۔ ابو سلیمان خطابی نے بھی یہی فرمایا ہے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ ← نَافِعٍ ← على مالك، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of clothing colors · Hadith 6320

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في ألوان الثياب · حديث 6321

6322 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الوليد الفقيه أنا الحسن بن سفيان ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا وكيع عن علي بن المبارك عن يحيى بن أبي كثير عن محمد بن إبراهيم عن خالد بن معدان عن جبير بن نفير الحضرمي عن عبد الله بن عمرو قال : رآني النبي صلى الله عليه و سلم وعلي ثوب معصفر فقال : ألقها فإنها ثياب الكفار رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو الولید فقیہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو ابو بکر بن ابی شیبہ نے ان کو وکیع نے ان کو علی بن مبارک نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو محمد بن ابراہیم نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو جبیر بن تفیر خضرمی نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور میں نے زرد رنگ کا کپڑا پہن رکھا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو پھینک دو یہ کافروں کا لباس ہے (یا کافروں کے کپڑے ہیں)۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو بکر بن ابی شیبہ سے۔

أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ← ألقها فإنها ثياب الكفار رواه مسلم في الصحيح ← رآني النبي صلى الله عليه و سلم وعلي ثوب معصفر ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of clothing colors · Hadith 6321

chevron_left Previous
1…626364…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood