Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الفرش والوسائد · حديث 6298

6299 - و أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا أحمد بن حنبل ثنا وكيع قال : و أنا عبد الله بن الجراح عن وكيع عن إسرائيل عن سماك عن جابر بن سمرة قال : دخلت على النبي صلى الله عليه و سلم في بيته فرأيته متكئا إلى وسادة زاد ابن الجراح على يساره قال أبو داود : قال إسحاق بن منصور عن إسرائيل أيضا على يساره قال الشيخ : ورواه أيضا حسين بن حفص عن إسرائيل عن سماك عن جابر بن سمرة قال : رأيت النبي صلى الله عليه و سلم متكئا على يساره

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو احمد بن حنبل نے ان کو وکیع نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو عبداللہ بن جراح نے ان کو وکیع نے ان کو اسرائیل نے ان کو سماک نے ان کو جابر بن سمرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ان کے گھر میں میں نے دیکھا آپ سرہانے یا تکیے کے ساتھ سہارا لگا بیٹھے تھے۔ ابن جراح نے یہ اضافہ کیا کہ علیٰ یسارہ۔اپنے بائیں طرف۔ ابو داؤد نے کہا کہ اسحاق بن منصور نے کہا ہے اسرائیل سے بھی علیٰ یسارہ بائیں طرف (والی بات) مروی ہے۔ شیخ نے فرمایا: اور اس کو بھی روایت کیا حسین بن حفص نے ان کو اسرائیل نے ان کو سماک نے ان کو جابر بن سمرہ نے وہ کہتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا لگائے ہوئے دیکھا اپنی بائیں طرف۔

وَكِيعٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of mattresses and pillows · Hadith 6298

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الفرش والوسائد · حديث 6299

6300 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي قال : هذا الحديث يعرف ثنا إسحاق بن منصور عن إسرائيل : زاد في متنه على يساره حتى وجدناه من حديث حسين بن حفص عن إسرائيل ثنا محمد بن إبراهيم الأصبهاني بدمشق ثنا أسيد بن عاصم ثنا حسين بن حفص فذكره

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے وہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث معروف ہے ہمیں حدیث بیان کی اسحٰق بن منصور نے ان کو اسرائیل نے اس نے بھی حدیث کے متن میں۔ بائیں طرف سہارا لگانے کی بات کا اضافہ کیا ہے یہاں تک کہ ہم نے اس کو پا لیا ہے حسین بن حفص کی اسرائیل سے روایت میں۔ ہمیں حدیث بیان کی محمد بن ابراہیم اصفہانی نے دمشق میں ان کو اسید بن عاصم نے ان کو حسین بن حفص نے پھر اس نے اسی اضافے کو ذکر کیا ہے۔

أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of mattresses and pillows · Hadith 6299

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الفرش والوسائد · حديث 6300

6301 - ورواه أيضا عبد الرزاق عن إسرائيل وقال : على يساره وهو فيما كتب إلى أبي نعيم الإسفرائيني أنا أبو عوانة ثنا إسحاق الدبري قال : قرأنا على عبد الرزاق فذكره

اور اس کو عبدالرزاق نے روایت کیا ہے۔ اسرائیل سے اور اس نے بھی کہا ہے کہ بائیں جانب سہارے لگائے ہوئے تھے۔اور وہ ان میں ہے جنہوں نے لکھا تھا ابو نعیم اسفرائنی کی طرف۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابو عوانہ نے ان کو اسحٰق دبری نے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے پڑھا عبدالرزاق پر اس نے بھی اس اضافے کو ذکر کیا۔

قرأنا على عبد الرزاق فذكره ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← إلى أبي نعيم الإسفرائيني ← إسرائيل وقال على يساره وهو فيما ← ورواه أيضا عبد الرزاق

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of mattresses and pillows · Hadith 6300

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الفرش والوسائد · حديث 6301

6302 - وكتب إلي أبو نعيم أنا أبو عوانة هلال بن العلاء ثنا حسين بن عياش ثنا زهير بن معاوية عن سماك بن حرب حدثني جابر بن سمرة قال : أتى ماعز بن مالك الأسلمي رجل فقير في إزار ما عليه رداء وأنا أنظر إليه ورسول الله صلى الله عليه و سلم على وسادة على يساره وهذا غريب من حديث زهير

اور میری طرف لکھا ابو نعیم نے ان کو خبر دی ابو عوانہ ہلال بن علاء نے ان کو حسین بن عیاش نے ان کو زہیر بن معاویہ نے ان کو سماک بن حرب نے ان کو جابر بن سمرہ نے وہ کہتے ہیں ماعز بن اسلمی کے پاس ایک فقیر آیا صرف ایک تہبند میں اس کے اوپر اوڑھنے کی کوئی چیز نہیں تھی۔ میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بائیں طرف تکیے پر سہارا لگائے ہوئے تھے۔ یہ غریب ہے حدیث زہیر سے۔

أتى ماعز بن مالك الأسلمي رجل فقير في إزار ما عليه رداء ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← حُسَيْنُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أبو عوانة هلال بن العلاء ← إلي أبو نعيم

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of mattresses and pillows · Hadith 6301

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الفرش والوسائد · حديث 6302

6303 - أخبرنا أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف النيسابوري ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبيد الله بن المنادي ثنا أبو أسامة عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دخل على قوم فطرحوا له وسادة فلم يجلس عليها ولم يجلس عليها أحد

ہمیں خبر دی ابو عبدالله اسحاق بن محمد بن یوسف نیسا پوری نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبیداللہ بن منادی نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے پاس گئے انہوں نے آپ کے لئے بیٹھے کا گدا ڈالاگر آپ اس پر نہ بیٹھے اور دوسرا بھی اس پر کوئی نہ بیٹھا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف النيسابوري

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of mattresses and pillows · Hadith 6302

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الفرش والوسائد · حديث 6303

6304 - وأخبرنا أبو الحسين بن بشران أبو جعفر الرزاز ثنا حنبل بن إسحاق ثنا حجاج بن منهال ثنا حماد عن خالد الحذاء أن أبا المليح قال لأبي قلابة : دخلت أنا وأبوك عن ابن عمرو فحدثنا : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دخل عليه فألقى له وسادة من أدم حشوها فلم يقعد عليها فبقيت بيني وبينه

ہمیں خبر دی ابو حسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو حنبل بن اسحاق نے ان کو حجاج بن منہال نے ان کو حماد نے ان کو خالد حذا ء نے کہ ابو الملیح نے کہا ابو قلابہ سے کہ میں اور تیرے والد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تھے انہوں نے ہمیں حد یث بیان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے تھے انہوں نے ان کے لئے بیٹھنے کا گدا بچھایا تھا جو چمڑے کا تھا جس کے اندر کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ مگر حضورصلی اللہ علیہ وسلم اس پر نہیں بیٹھے تھے وہ میرے اور ان کے درمیان رکھا۔

ابن عمرو فحدثنا ← وأبوك ← لأبي قلابة دخلت ← خالد الحذاء أن أبا المليح ← حَمَّادٌ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← وأخبرنا أبو الحسين بن بشران أبو جعفر الرزاز

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of mattresses and pillows · Hadith 6303

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الفرش والوسائد · حديث 6304

6305 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو السماك ثنا حنبل بن إسحاق ثنا عارم ثنا حماد بن زيد ثنا سعيد بن الحجاج عن أبي قلابة قال : إذا دخلت على قوم فألقوا لك وسادة فاجلس حيث ألقيت فإنهم أعلم حيث ألقوا لك قال الشيخ : وهذا لا يخالف الحديث فإنما عنى موضع الوسادة أو قريبا منه كيلا يجلس موضعا يقع بصره على عورة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو عمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحٰق نے ان کو عارم نے ان کو حماد بن زید نے ان کوسعید بن حجاج نے ان کو ابو قلابہ نے وہ کہتے ہیں کہ جب تم کسی قوم کے پاس جاؤ اور وہ تیرے لئے بیٹھے کا گدا بچھائیں تو وہ جہاں بچھائیں وہیں بیٹھ جاؤ وہ بہتر جانتے ہیں جہاں انہوں نے تیرے لئے بچھایا ہے۔ شیخ نے کہا کہ یہ بات حدیث کے مخالف نہیں ہے۔سوا اس کے نہیں کہ اس اس نے مراد لی ہے گدے کی جگہ یا اس سے قریب تاکہ ایسی جگہ نہ بیٹھے جہاں اس کی نظر کسی ممنوعہ جگہ نہ پڑے۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← سعيد بن الحجاج ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَارِمٌ، ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أبو عمرو السماك، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of mattresses and pillows · Hadith 6304

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الفرش والوسائد · حديث 6305

6306 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم ثنا أبو سعيد محمد بن شاذان قال : سمعت محمد بن علي بن الحسن بن شقيق يقول بنيسابور منصرفه من الحج قال : دخلت على أحمد بن حنبل فطرح لي مرفقة فجلست عليها ثم حدثته بحديث فقلت سمعت أبي يقول : ثنا خارجة بن مصعب عن يزيد النحوي قال : دخلت على ابن سيرين بيته وهو جالس في الأرض فألقى لي وسادة فقال : إني رضيت لنفسي ما رضيت لنفسك قال : إني لا أرضى لك في بيتي ما أرضاه لنفسي فاجلس حيث تجلس كيلا مقابل باب أو شيء يكره أن تستقبله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل محمد بن ابراہیم نے ان کو ابو سعید محمد بن شاذان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن علی بن حسن بن شقیق سے وہ کہتے تھے نیسا پور میں حج سے ان کی واپسی کے موقع پر کہتے ہیں کہ میں احمد بن حنبل کے پاس گیا انہوں نے میرے لئے نرم گدا ڈالا میں اس پر بیٹھا اس کے بعد میں نے ان کو حدیث بیان کی میں نے کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہمیں حدیث بیان کی خارجہ بن مصعب نے یزید نحوی سے وہ کہتے ہیں کہ میں داخل ہوا ابن سیرین کے پاس ان کے گھر میں اور وہ نیچے زمین پر بیٹھے تھے انہوں نے میرے لئے گدا ڈالا تو میں نے کہا کہ میں اپنے نفس کے لئے وہی پسند کرتا ہوں جو آپ نے اپنے لئے پسند کیا ہے (یعنی نیچے بیٹھنا) انہوں نے فرمایا کہ میں آپ کے لئے اپنے گھر میں وہ پسند نہیں کروں گا جو اپنے لئے کیا ہے (یعنی نیچے نہیں بٹھاؤں گا) اور میں وہاں بیٹھوں گا جہاں آپ بیٹھیں گے۔ دروازے کے سامنے یا جس چیز کے مقابل بیٹھنا آپ پسند نہیں کریں گے۔

مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← أَبُو سَعِيدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of mattresses and pillows · Hadith 6305

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الفرش والوسائد · حديث 6306

6307 - وأما الذي أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم الشيباني بالكوفة ثنا إبراهيم بن إسحاق القاضي ثنا يعلى بن عبيد و جعفر بن عون عن بسام الصيرفي عن أبي جعفر قال : دخل على علي رضي الله عنه رجلان فطرح لهما وسادة فجلس أحدهما على وسادة وجلس الآخر على الأرض فقال للذي جلس على الأرض : قم فاجلس على الوسادة فإنه لا يأبى الكرامة إلا حمار قال الشيخ : فهذا منقطع وإن صح ذلك فهو محمول صاحبه على أنه إنما لم يجلس عليها رغبة عن قبول ما أكرمه به أو رغبة عن الجلوس مع صاحبه فتنبه لذلك علي فأنكره عليه وأما النبي صلى الله عليه و سلم فإنه كان أولى بالمؤمنين من أنفسهم فكان له أن يجلس حيث شاء والله أعلم

بہرحال وہ جو ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم شیبانی نے کوفے میں ان کو ابراہیم بن اسحٰق قاضی نے ان کو یعلیٰ بن عبید اور جعفر بن عون نے ان کو امام صیرفی نے ان کو ابو جعفر نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے دو آدمی تھے دونوں کے لئے ایک تکیہ یا گدا ڈالا گیا چنانچہ ایک آدمی گدے پر دوسرا نیچے بیٹھ گیا۔لہٰذا حضرت نے اس سے کہا جو زمین پر بیٹھا تھا اب اٹھیے اور گدے پر بیٹھ جائیے بے شک عزت لینے سے انکار گدھا ہی کرتا ہے۔ شیخ نے فرمایا۔ یہ روایت منقطع ہے۔ اور اگر یہ بات صحیح ہو تو یہ محمول ہو گی اس بات پر کہ جو صاحب نیچے زمین پر بیٹھے تھے وہ اس عزت کو ٹھکرانے اور قبول نہ کرنے کے لئے بیٹھے ہوں گے جو ان کو عزت دی جا رہی تھی۔ یا اپنے ساتھی کے ساتھ بیٹھنے سے گریز کرنے کے لئے انہوں نے ان کو اس بات پر متنبہ کیا ہو گا۔ بہر حال جہاں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے بیٹھنے کی بات ہے تو وہ تو مومنوں کے اپنے نفسوں سے زیادہ بہترین اولیٰ ہیں ان کی مرضی ہے جہاں چاہیں وہ بیٹھیں۔

أَبِي جَعْفَرٍ، ← بَسَّامٌ الصَّيْرَفِيُّ، ← يعلى بن عبيد و جعفر بن عون ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← وَأَمَّا الَّذِي

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of mattresses and pillows · Hadith 6306

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في زينة البيوت · حديث 6307

6308 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور الرمادي ثنا عبد الرزاق ح وأخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الآدمي بمكة ثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري أنا عبد الرزاق أنا معمر ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس اليساري ثنا أبو الموجه أنا عبدان أنا عبد الله أنا معمر عن الزهري ثنا عبيد الله بن عبد الله بن عتبة أنه سمع ابن عباس يقول : سمعت أبا طلحة يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة تماثيل حديثهم سواء رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن راهويه و عبد الله بن حميد عن عبد الرزاق وأخرجه البخاري عن محمد بن مقاتل عن عبد الله بن المبارك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور رمادی نے ان کو عبدالرزاق نے اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن علی آدمی نے مکہ مکرمہ میں ان کو اسحٰق بن ابراہیم دبری نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ’’ح‘‘۔ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس سیاری نے ان کو ابو الموجہ نے ان کو خبر دی عبدان نے ان کو عبداللہ نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ان کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے کہ اس نے سنا ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو طلحہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے ہیں رحمت کے فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جس گھر میں کتا ہو یا شبیہ ہو یا مورتی ہو۔ حدیث ان کی برابر ہے۔ مسلم نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں اسحاق بن راہویہ سے اور عبداللہ بن حمید سے اس نے عبدالرزاق سے اور بخاری نے اس کونقل کیا ہے۔ محمد بن مقاتل سے اس نے عبداللہ بن مبارک سے۔

عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدَانُ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أبو العباس اليساري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْآدَمِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on home decorations · Hadith 6307

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في زينة البيوت · حديث 6308

6309 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني مالك بن أنس عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن رافع بن إسحاق عن أبي سعيد الخدري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تدخل الملائكة بيتا فيه تصاوير أو تماثيل

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی مالک بن انس نے ان کو اسحٰق بن عبداللہ بن ابو طلحہ نے ان کو رافع بن اسحٰق نے ان کو ابو سعید خدری نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات والے فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں تصویریں ہوں یا مورتیاں ہوں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← رافع بن إسحاق ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مالک بن أنس ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on home decorations · Hadith 6308

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في زينة البيوت · حديث 6309

6310 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن عيسى ثنا مسدد يعني ابن قطن ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا جرير عن سهيل بن أبي صالح عن سعيد بن يسار أبي الحباب مولى بني النجار عن زيد بن خالد الجهني عن أبي طلحة الأنصاري قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا تماثيل قال : فأتيت عائشة رضي الله عنها فقلت لها : إن هذا يخبرني أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الملائكة لا تدخل بيتا فيه كلب ولا تماثيل فهل سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم ذكر ذلك فقالت : لا و لكن سأحدثكم ما رأيته فعل رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج في غزاته غطاء فسترته على الباب فلما قدم فرأى النمط عرفت الكراهية في وجهه فجذبه حتى هتكه أو قطعه وقال : إن الله لم يأمرنا أن نكسو الحجارة بالطين قال : فقطعنا منه وسادتين وحشوتهما ليف فلم يعب علي رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم عن جرير

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن یحییٰ نے ان کو مسدد نے یعنی ابن قطن نے ان کو عثمان بن ابی شیبہ نے ان کو جریر نے ان کو سہیل بن ابی صالح نے ان کو سعید بن یسار نے ان کو ابو الحباب مولیٰ بنی نجار نے ان کو زید بن خالد جہنی نے ان کو ابو طلحہ انصاری نے اس نے کہا کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا۔ رحمت والے فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا مورتیاں ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور میں نے ان سے کہا یہ مجھے خبر دے رہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے فرمایا کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا مورتیاں ہوں۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر سنا تھا۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ نہیں لیکن عنقریب میں تمہیں وہ بیان کرتی ہوں جو میں نے ان کو کرتے دیکھا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا وہ غزدوں میں گئے ہوئے تھے میں نے ایک پردہ لیا اور اس کو دروازے پر لٹکا دیا جب آپ آئے تو انہوں نے دیکھا کہ پردہ لٹکا ہوا ہے میں نے ان کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے آپ نے اس کو کھینچ کر توڑ دیا یا کہا کہ اس کو پھاڑ دیا۔ اور فرمایا کہ اللہ نے ہمیں یہ حکم نہیں دیا کہ ہم پتھروں اور مٹی کو کپڑے پہنائیں۔ فرمایا کہ ہم نے اس سے دو تکیے بن الئے ان کے اندر کھجور کی چھال بھر دی آپ نے اس بات پر مجھ پر اعتراض نہیں کیا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا صحیح میں اسحٰق بن ابراہیم سے اس نے جریر سے۔

فأتيت عائشة فقلت لها إن هذا يخبرني ← لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَةُ بَيْتًا فِيهِ کَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ مَوْلَی بَنِي النَّجَّارِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مسدد يعني ابن قطن ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on home decorations · Hadith 6309

chevron_left Previous
1…616263…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood