Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول إذا لبس ثوبا · حديث 6286

6287 - أخبرناه أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله الخرقي أنا أحمد بن سلمان الفقيه ثنا عبد الله بن أبي الدنيا ثنا علي بن الجعد ثنا ياسين الزيات عن عبيد الله بن زحر أظنه عن علي بن يزيد عن القاسم بن عبد الرحمن عن أبي أمامة : أن عمر بن الخطاب دعا بقميص له فلبسه فلما بلغ ترقوته قال : الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي ثم مد يديه فنظر إلى كل شيء يزيد على بدنه فقطعه ثم أنشأ يحدث قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من لبس ثوبا ـ أحسبه قال ـ جديدا فقال : حين بلغ ترقوته مثل ذلك عمد إلى ثوبه الخلق فكساه مسكينا لم يزل في جوار الله وفي ذمة الله وفي كنف الله حيا وميتا حيا وميتا حيا وميتا وما بقي من الثوب سلك قال ياسين قلت لعبيد الله : من أي الثوبين قال : لا أدري قال الشيخ : إسناد هذا الحديث غير قوي

اور ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو القاسم عبدالرحمٰن بن عبیداللہ خرقی نے ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو عبداللہ بن ابو الدنیا نے ان کو علی بن جعد نے ان کو یاسین زیات نے ان کو عبید بن زحر نے میں اس کو گمان کرتا ہوں۔ علی بن یزید سے اس نے قاسم بن عبدالرحمٰن سے اس نے ابو امامہ سے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے قمیص منگوائی اور اس کو پہن لیا جب وہ ان کی ہنسلیوں تک پہنچی تو انہوں نے یہ دعا کی۔ الحمد اللہ الذی کسانی ما اواری بہ عورتی واتجمل بہ فی حیاتی اس کے بعد اپنے ہاتھ لے کر لئے اور ہر چیز کی طرف دیکھا اور اپنے بدن پر زیادہ جو چیز تھی اس کو درست کیا اس کے بعد حدیث بیان کرنا شروع کی فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا وہ فرما رہے تھے۔ جو شخص کپڑا اپنے (میرا خیال ہے کہ یوں کہا تھا) نیا کپڑا۔ پھر وہ یہ پڑھے جب اس کی ہنسلیوں تک پہنچے (اسی مذکورہ دعا کی مثل) اس کے بعد اپنے پرانے کپڑے کی طرف متوجہ ہو اور وہ کسی مسکین کو پہنا دے وہ ہمیشہ اللہ کے جوار اور ہمسائیگی میں رہے گا اور اللہ کی پناہ میں رہے گا اللہ کی رحمت کے سائے میں رہے گا۔ زندگی میں بھی موت کے بعد بھی۔ زندہ بھی مردہ بھی زندہ بھی مردہ بھی۔ کہا یاسین نے کہ میں نے کہا عبیداللہ سے کون سے دو کپٹروں میں سے کہا تھا ؟ فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں ہے۔ شیخ نے کہا کہ اس حدیث کی اسناد غیر قوی ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← عبيد الله بن زحر أظنه ← يَاسِينَ الزَّيَّاتِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله الخرقي

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what he says if he wears a garment · Hadith 6286

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول إذا لبس ثوبا · حديث 6287

6288 - أخبرنا أبو بكر الفارسي أنا أبو إسحاق الأصبهاني ثنا أبو أحمد بن فارس ثنا محمد بن إسماعيل حدثني عمرو بن علي ثنا أبو قتيبة ثنا أبو العلاء الخفاف عن حصين بن مالك سمع ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم يقول : من كسا سائلا ثوبا كان في حفظ الله عز و جل ما كان عليه قطعة

ہمیں خبر دی ابو بکر فارسی نے ان کو ابو اسحٰق اصفہانی نے ان کو ابو احمد بن فارس نے ان کو محمد بن اسماعیل نے ان کو عمرو بن علی نے ان کو ابو قتیبہ نے ان کو ابو العلاء خفاف نے ان کوحسین بن مالک نے اس نے سنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرما رہے تھے۔ کہ جو شخص کسی سائل کو کپڑا پہنا دے وہ اللہ کی حفاظت میں ہو گا۔ جب تک وہ کپڑے کا ٹکڑا اس پر رہے گا۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← حصين بن مالك ← أَبُو الْعَلَاءِ الْخِفَافُ، ← أَبُو قُتَيْبَةَ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what he says if he wears a garment · Hadith 6287

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول إذا لبس ثوبا · حديث 6288

6289 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق أنا أبو مسلم ثنا أبو الوليد ثنا إسحاق بن سعيد ثنا أبي حدثتني أم خالد بنت خالد قالت : أتي النبي صلى الله عليه و سلم بثياب فيه خميصة سوداء صغيرة فقال : هل ترون أكسو هذه فسكت القوم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ائتوني بأم خالد قالت : فأتي بي فألبسنيها بيده وقال : أبلي وأخلقي يقولهما مرتين وجعل ينظر إلى علم في الخميصة أصفر وأحمر ويقول : يا أم خالد هذا سنا والسنا بلسان الحبشة الحسن رواه البخاري في الصحيح عن أبي الوليد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق نے ان کو ابو مسلم نے ان کو ابو الولید نے ان کو اسحٰق بن سعید نے ان کو ان کے والد نے ان کو حدیث بیان کی اُم خالد بنت خالد نے کہتی ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کے کپڑے آئے ان میں چھوٹی کالی چادر تھی حضور نے پوچھا کہ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو کہ میں یہ کسے پہننے کے لئے دوں لوگ خاموش ہو گئے۔ حضور نے فرمایا کہ اُم خالد کو میرے پاس لاؤ۔ مجھے لایا گیا اور آپ نے وہ مجھے پہنا دی اپنے ہاتھ سے۔ اور فرمانے لگے پہنئے اور پرانا کیجئے اس کو دو مرتبہ اس کو کہا۔ اور چادر میں جو پیلے اور لال نقش تھے ان کود یکھتے رہ گئے اور فرمانے لگے اے اُم خالد یہ سنا ہے اور حبشے کی لغت میں سنا کا مطلب ہے خوبصورت ہے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے ابو الولید سے۔

أَبِي، حَدَّثَتْنِي أُمُّ خَالِدِ بِنْتُ خَالِدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو مُسْلِمٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what he says if he wears a garment · Hadith 6288

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول إذا لبس ثوبا · حديث 6289

6290 - ورواه ابن المبارك عن خالد بن سعيد عن أبيه عن أم خالد بنت خالد بن سعيد قالت : أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم مع أبي وعلي قميص أصفر قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سنه سنه ـ قال عبد الله : وهي بالحبشة حسنة ـ قالت : فذهبت ألعب بخاتم النبوة فزبرني أبي قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : دعها ثم قال رسول الله : أبلي وأخلقي ثم أبلي وأخلقي ثم أبلي وأخلقي قال عبد الله فبقيت حتى ذكر أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عمرو بن أبي جعفر أنا الحسن بن سفيان ثنا حبان بن موسى أنا عبد الله فذكره رواه البخاري في الصحيح عن حبان

اس کو روایت کیا ہے ابن مبارک نے ان کو خالد بن سعید نے ان کو ان کے والد نے ان کو اُم خالد بنت خالد بن سعید نے وہ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اپنے والد کے ساتھ اور مجھ پر پیلے رنگ کی قمیص تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنہ سنہ۔ عبداللہ نے کہا کہ حبشی زبان میں اس کا مطلب خوبصورت ہے کہتی ہیں کہ میں نے جا کر مہر نبوت کے ساتھ کھیلنا شروع کیا تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا رسول اللہ نے ان کو فرمایا کہ چھوڑیئے اسے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا پہلے اسے اور پرانا کیجئے اسے پھر پہنئے اور پرانا کیجئے اسے بار بار پہنئے اور خوب پرانا کیجئے۔ ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے ابو عمرو بن ابو جعفر نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو حبان بن موسیٰ نے ان کو عبداللہ نے انہوں نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں حبان ہے۔

أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← أَبِيهِ ← خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← وَرَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what he says if he wears a garment · Hadith 6289

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الفرش والوسائد · حديث 6290

6291 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال ثنا أحمد بن منصور المروزي ثنا النضر بن شميل أنا هشام بن عروة ح أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله بن يعقوب ثنا محمد بن نعيم و محمد بن شاذان ثنا علي بن حجر ثنا علي بن مسهر عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : إنما كان فراش رسول الله صلى الله عليه و سلم الذي ينام عليه أدما حشوه ليف لفظ حديث علي وفي رواية النضر : قالت : كان فراش رسول الله صلى الله عليه و سلم من أدم حشوه ليف رواه البخاري في الصحيح عن أحمد بن أبي رجاء عن النضر ورواه مسلم عن علي بن حجر

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے ان کو احمد بن منصور مروزی نے ان کو نضر بن شمیل نے ان کو ہشام بن عروہ ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن نعیم نے اور محمد بن شاذان نے ان کو علی بن حجر نے ان کو علی بن مسہر نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کوسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ کہتی ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ستر (یا گدا) جس پر آپ آرام فرماتے تھے چمڑے کا تھا اس کے اندر کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ بخاری نے اس کو صحیح میں روایت کیا ہے ان کو احمد بن ابو رجاء نے ان کو نضر نے اور مسلم نے اس روایت کیا ہے علی بن حجر سے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← محمد بن نعيم و محمد بن شاذان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← أَحْمَدَ بْنَ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيَّ ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of mattresses and pillows · Hadith 6290

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الفرش والوسائد · حديث 6291

6292 - حدثنا أبو أحمد العلوي أنا عبد الله بن محمد بن الحسن بن الشرقي ثنا محمد بن يحيى الذهلي ثنا عبد الرحمن بن مهدي ثنا زائدة بن قدامة عن سماك بن حرب عن عكرمة عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلي علي الخمرة

ہمیں حدیث بیان کی ابو الحسن علوی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن حسن بن شرقی نے ان کو محمد بن یحییٰ ذھلی نے ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کو زائدہ بن قدامہ نے ان کو سماک بن حرب نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ نماز پڑھتے تھے کھجور کے پتوں کے مصلے یا چٹائی پر۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ← أبو أحمد العلوي

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of mattresses and pillows · Hadith 6291

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الفرش والوسائد · حديث 6292

6293 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا يعلى بن عبيد ثنا الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال : حدثني أبو سعيد قال : دخلت على النبي صلى الله عليه و سلم وهو يصلي على حصير

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمدصفار نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو اعمش نے ان کو ابو سفیان نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ابو سعید نے وہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور وہ چٹائی پر نماز پڑھا رہے تھے۔

دخلت على النبي صلى الله عليه و سلم وهو يصلي على حصير ← أَبُو سَعِيدٍ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of mattresses and pillows · Hadith 6292

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الفرش والوسائد · حديث 6293

6294 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم ثنا أحمد بن سلمة ثنا محمد بن بشار ثنا عبد الرحمن بن مهدي ثنا سفيان عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : هل لكم أنماط قلت : أنى يكون لنا أنماط قال : أما إنها ستكون لكم أنماط قال : وأنا أقول لامرأتي أخري عنا أنماطك فتقول : ألم يقل النبي صلى الله عليه و سلم إنها ستكون لكم أنماط فأدعها أخرجاه من حديث عبد الرحمن بن مهدي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو محمد بن بشار نے ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کو سفیان نے ان کو محمد بن منکد رنے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے بچھونے اور گدے ہیں؟ میں نے کہا کہ کہاں سے ہوں گے گدے اور بچھونے ہمارے پاس؟ آپ نے فرمایا کہ آگاہ رہو عنقریب تمہارے پاس بچھونے اور گدے بھی ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ اب میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ یہ اپنے بچھونے گدے ہٹا لو ہم سے۔ وہ کہتی ہے کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ عنقریب تمہارے پاس گدے اور بچھونے ہوں گے۔ تو میں اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہوں۔ اس کو بخاری ومسلم نے نقل کیا ہے عبدالرحمٰن بن مہدی کی حدیث سے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of mattresses and pillows · Hadith 6293

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الفرش والوسائد · حديث 6294

6295 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا عباس بن عبد الله الترفقي ثنا أبو عبد الرحمن المقري ثنا حيوة حدثني أبو هانئ أنه سمع أبا عبد الرحمن الحبلي عن جابر بن عبد الله الأنصاري : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : فراش للرجل وفراش لامرأته للضيف والرابع للشيطان

ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یحییٰ بن عبدالجبار سکری نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عباس بن عبداللہ ترقفی نے کو ابو عبدالرحمٰن مقری نے ان کو حیوۃ نے ان کو ابو ھائی نے کہ انہوں نے سنا ابو عبدالرحمٰن حبلی سے اس نے عامر بن عبداللہ انصاری سے کہ انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے تھے ایک بہتر آدمی کے لئے دوسرا اس کی عورت کے لئے تیسرا مہمان کے لئے اور چوتھا شیطان کے لئے ہو گا (یعنی چوتھے کی ضرورت نہیں ہے۔)

فراش للرجل وفراش لامرأته للضيف والرابع للشيطان ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ ← أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ← أَبُو هَانِئٍ أَنَّهُ ← حَيْوَةُ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← عباس بن عبد الله الترفقي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of mattresses and pillows · Hadith 6294

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الفرش والوسائد · حديث 6295

6296 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن نصر ثنا يحيى بن يحيى أنا عبد الله بن وهب عن أبي هانئ أنه سمع أبا عبد الرحمن الحبلي يحدث عن جابر بن عبد الله أنه قال : كنت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر فقال : تقدم الآن على أهلك فتجدهم قد ستروا كذا وكذا حتى ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم الفرش فقال : فراش للرجل وفراش لامرأته والثالث للضيف والرابع للشيطان رواه مسلم عن أبي الطاهر عن ابن وهب مختصرا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان وابو عبداللہ محمد بن یقوب نے ان کو محمد بن نصر نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو ابو ہانی نے کہ انہوں نے سنا ابو عبدالرحمٰن حبلی سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں جابر بن عبداللہ سے کہ انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا آپ نے فرمایا: تم ابھی اور اس وقت اپنے گھر میں جاؤ تم ان کو پاؤ گے تحقیق انہوں نے فلاں فلاں چیز چھپا رکھی ہے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بستر یا گدے کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ ایک بچھونا آدمی کے لئے دوسرا اس کی بیوی کے لئے تیسر امہمان کے لئے ،اور چوتھا شیطان کے لئے ہو گا۔ (یعنی اس کی ضرورت نہیں ہے۔) اس کو مسلم نے روایت کیا ابو طاہر سے اس نے ابن وہب سے مختصراً۔

ابن وهب مختصرا ← أَبِي الطَّاهِرِ ← فراش للرجل وفراش لامرأته والثالث للضيف والرابع للشيطان رواه مسلم ← رسول الله صلى الله عليه و سلم الفرش ← تقدم الآن على أهلك فتجدهم قد ستروا كذا وكذا حتى ← كنت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ ← أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ← أَبِي هَانِئٍ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of mattresses and pillows · Hadith 6295

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الفرش والوسائد · حديث 6296

6297 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا إسحاق بن منصور السلولي ثنا إسرائيل عن سماك عن جابر بن سمرة قال : جيء بماعز إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو متكئ على وسادة على يساره قال أبو الفضل العباس

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو اسحٰق بن منصور سلولی نے ان کو اسرائیل نے ان کو سماک نے ان کو جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بکرا لایا گیا حالانکہ آپ اس وقت تکیے کے ساتھ سہارا لگائے بیٹھے تھے اپنے بائیں پہلو پر۔ کہا ابو الفضل عباس نے۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of mattresses and pillows · Hadith 6296

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الفرش والوسائد · حديث 6297

6298 - حدثت به يحيى بن معين فجعل يعجب منه وقال : ما سمعت قط على يساره إلا في حديث إسحاق قال يحيى : ثنا وكيع بن الجراح عن إسرائيل عن سماك عن جابر بن سمرة أن النبي صلى الله عليه و سلم أتي بماعز ولم يقل على يساره

میں نے اس کے بارے میں حدیث بیان کی یحییٰ بن معین سے دو اس سے تعجب کرنے لگے۔ اور کہا کہ میں نے کبھی نہیں سنا۔ اپنے بائیں پہلو کی بات مگر حدیث اسحٰق میں۔ اور کہائی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے وکیع بن جراح نے ان کو اسرائیل نے ان کو سماک نے ان کو جابر بن سمرہ نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بکرا لایا گیا لیکن اس نے یہ نہیں کہا علیٰ یسارہ بائیں پہلو پر۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← يَحْيَى ← قط على يساره إلا في حديث إسحاق ← به يحيى بن معين فجعل يعجب منه وقال ما

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of mattresses and pillows · Hadith 6297

chevron_left Previous
1…606162…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood