Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الانتعال · حديث 6274

6275 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي ثنا القعنبي عن مالك عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يمشي أحدكم في نعل واحدة لينعلهما جميعا أو ليخلعهما جميعا رواه البخاري في الصحيح عن القعنبي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن سلمان فقیہ نے ان کو اسماعیل بن اسحاق قاضی نے ان کو قعنبی نے ان کو مالک نے ان کو ابو الزناد نے ان کو اعرج نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی ایک تم میں سے ایک پیر کی جوتی پہن کر نہ چلے یا تو دونوں پیروں میں جوتی پہن لے یا دونوں کی اتار دے۔ بخاری نے اس کو صحیح میں نقل کیا ہے قعنبی سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the transition · Hadith 6274

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الانتعال · حديث 6275

6276 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن محمد بن زياد قال : سمعت أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا انتعل أحدكم فليبدأ باليمين وإذا خلع فليبدأ باليسرى وليخلعهما أو لينتعلهما جميعا أخرجه مسلم في الصحيح من وجه آخر عن محمد بن زياد

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو محمد بن زیاد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایک جوتے پہننے لگے تو دائیں پیر سے ابتداء کرے اور جب اتارنے لگے تو پہلے بائیں پیر کا اتارے اور یا تو دونوں پیروں میں پہنے یا دونوں کے اتار دے۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں دوسرے طریق سے محمد بن زیاد سے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the transition · Hadith 6275

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الانتعال · حديث 6276

6277 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن يعقوب الشيباني ثنا يحيى بن محمد بن يحيى ثنا أحمد بن يونس ثنا زهير ثنا أبو الزبير عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أو سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إذا انقطع شسع أحدكم أو من انقطع شسع نعله فلا يمشي في نعل واحدة حتى يصلح شسعه ولا يمشي في خف واحد ولا يأكل بشماله ولا يحتبي بالثوب الواحد ولا يلتحف الصماء رواه مسلم في الصحيح عن أحمد بن يونس وغيره قال الشيخ : ويحتمل أن يكون نهيه صلى الله عليه و سلم عن المشي في نعل واحدة أو خف واحد لما في ذلك من القبح والشهرة ولسداد الأبصار إلى من يرى ذلك منه وكل لباس صار صاحبه به شهرة في القبح فحكمه أن يتقي ويجتنب لأنه في معنى المثلة والله أعلم وأما نهيه عن الانتعال قائما فيحتمل أن يكون المراد به أن لا يزل قدمه خلال اللبس فيسقط

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن یعقوب شیبانی نے ان کو یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو زبیر نے ان کو ابو الزبیر نے ان کو جابر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا یوں کہا کہ میں نے سنا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے جب تمہارے کسی ایک کا تسمہ ٹوٹ جائے۔ یا یوں کہا تھا: جس شخص کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے وہ ایک پیر کی جوتی پہنے ہوئے نہ چلے یہاں تک کہ وہ اپنے تسمے کو درست کر لے، اور اسی طرح ایک موزہ پہن کر بھی نہ چلے اور بائیں ہاتھ کے ساتھ بھی نہ کھائے ، اور انتہاء نہ کرے یعنی ایک کپڑا لپیٹ کر گھٹنوں کو اور پیٹھ کو اسی کے سہارے نہ بیٹھے (کیونکہ صرف ایک کپڑے سے ستر کھلنے اور ننگا ہونے کا احتمال ہے) اور اپنے پورے جسم کو اسی طرح نہ لپیٹے کہ ہاتھ پاؤں سب شئی بند ہو جائے۔اس کو مسلم نے روایت کیا ہے احمد بن یونس سے۔ شیخ نے فرمایا کہ احتمال ہے ایک جوتے یا ایک موزے کو پہن کر چلنے سے نہی اس لئے ہو کہ یہ عیب ہو گا اور بری شہرت ہو گی اور ہر ایسا لباس جس کو پہن کر اس کی عیب میں شہرت ہو یعنی بری شہرت ہو، اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اس سے اجتناب اور پرہیز کیا جائے کیونکہ وہ مثلے کے حکم میں ہے (جیسے کسی کے آنکھ ناک کان وغیرہ کاٹ کر اس کا حلیہ بگاڑ دیا جائے) واللہ اعلم۔ اور کھڑے ہو کر جوتے پہنے سے نہی کے بارے میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ شاید اس کا پیر پھسل جائے پہننے کے دوران اور وہ گر جائے۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← محمد بن يعقوب الشيباني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the transition · Hadith 6276

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الانتعال · حديث 6277

6278 - وقد أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن يحيى بن أبي كثير قال : إنما كره أن ينتعل الرجل قائما من أجل العنت قال الحليمي : العنت الضرر قال : ووجه الابتداء بالشمال عند الخلع أن اللبس كرامة لأن للبدن وقاية فلما كانت اليمين أكرم من اليسرى بدئ بها في اللبس وأخرت في الخلع لتكون الكرامة لها أدوم وحظها منها أكثر قال الشيخ

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے وہ کہتے ہیں کہ سوا اس کے نہیں کہ اس بات کو غیر درست مانا ہے کہ کوئی آدمی کھڑے ہو کر جوتے پہنے، یہ بوجہ مشقت کے ہے اور عنت کے۔

إنما كره ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← وقد

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the transition · Hadith 6277

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الانتعال · حديث 6278

6279 - وروينا في الحديث الثابت عن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يعجبه التيمن ما استطاع في وضوئه إذا توضأ وفي ترجله إذا ترجل وفي انتعاله إذا انتعل

اور ہم نے اس حدیث میں روایت کی ہے جو ثابت ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ فرماتی ہیں کہ حضور صلیاللہ علیہ وسلم کو دائیں طرف سے ہر عمل شروع کرنا اچھا لگتا تھا جس قدر ممکن ہو سکے۔ وضو میں جب آپ وضو کرتے تھے اور کنگھی کرنے میں۔ جب آپ کنگھی کرتے تھے۔ جوتے پہننے میں جب آپ جوتے پہنتے تھے۔

عَائِشَةَ ← وَرُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the transition · Hadith 6278

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الانتعال · حديث 6279

6280 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا سليمان بن حرب ثنا شعبة عن أشعث بن سليم عن أبيه عن مسروق عن عائشة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يحب التيمن في شأنه كله طهوره وترجله وتنعله رواه البخاري في الصحيح عن سليمان بن حرب وأخرجه مسلم من وجه آخر عن شعبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور مجھے خبر دی ہے ابو الحسن سعد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو شعبہ نے ان کو اشعث بن سلیم نے ان کو ان کے والد نے ان کو مسروق نے ان کو عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہرحال میں دائیں طرف سے ہر کام شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے ہر حال میں خواہ آپ کا وضو کا معاملہ ہوا آپ کا کنگھی کرنا ہو یا آپ کا جوتے پہننا۔اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں سلیمان بن حرب سے اور اس کو مسلم نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے شعبہ سے۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِيهِ ← أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the transition · Hadith 6279

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الانتعال · حديث 6280

6281 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا محمد بن الهيثم القاضي ثنا عبد الغفار بن داود ثنا زهير عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا لبستم وإذا توضأتم فابدؤوا بميامنكم وروينا عن ابن عمر أنه قال : وأما النعال السبتية فإني رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يلبس النعال التي ليس فيها شعر ويتوضأ فيها فأنا أحب أن ألبسها

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمرو رزاز نے ان کو محمد بن ہیثم قاضی نے ان کو عبد الغفار بن داؤد نے ان کو زہیر نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوگ لباس پہنو اور جس وقت تم وضو کرو تو تم اپنی دائیں طرف سے ابتدا کیا کرو اور ہم نے روایت کی ہے ابن عمر سے کہ انہوں نے فرمایا کہ بہر حال رنگے ہوئے چمڑے کی جوتی (کا حکم یہ ہے) کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ جوتی پہنتے دیکھا ہے جس میں بال نہیں تھے اور اسی میں آپ وضو بھی کرتے تھے۔اور میں اسی کو پہننا پسند کرتا ہوں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← زُهَيْرٍ ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the transition · Hadith 6280

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الانتعال · حديث 6281

6282 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم ثنا شعبة أخبرني أبو مسلمة سعيد بن يزيد البخاري قال : سألت أنس بن مالك : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي في نعليه قال : نعم رواه البخاري في الصحيح عن آدم وأخرجه مسلم من وجه آخر عن أبي سلمة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو مسلمہ سعید بن یزید نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک سے پوچھا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتوں سمیت نماز پڑھتے تھے؟ انس نے فرمایا کہ جی ہاں پڑھتے تھے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں آدم سے اور اس کو مسلم نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے ابو سلمہ سے۔

أبو مسلمة سعيد بن يزيد البخاري ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the transition · Hadith 6281

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الانتعال · حديث 6282

6283 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا قتيبة بن سعيد ثنا صفوان بن عيسى ثنا عبد الله بن هارون عن زياد بن سعد عن أبي نهيك عن ابن عباس قال : من السنة إذا جلس الرجل أن يخلع نعليه فيضعهما بجنيه

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو صفوان بن عیسیٰ نے ان کو عبداللہ بن ہارون نے ان کو زیاد بن سعد نے ان کو ابو نہیک نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ سنت میں سے ہے کہ آدمی جب بیٹھے تو جوتے اتار دے اور ان کو اپنے پہلو میں رکھ لے۔

من السنة إذا جلس الرجل أن يخلع نعليه فيضعهما بجنيه ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي نَهِيکٍ ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ هَارُونَ، ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of the transition · Hadith 6282

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول إذا لبس ثوبا · حديث 6283

6284 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو بكر بن سلمان الفقيه إملاء قال : قرئ على يحيى بن جعفر وأنا أسمع أنا عبد الوهاب الجريري ح وأخبرنا أبو علي الحسين بن محمد الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا عمرو بن عون أنا ابن المبارك عن الجريري عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا استجد ثوبا سماه باسمه إما قميصا أو عمامة ثم يقول : اللهم لك الحمد أنت كسوتنيه أسألك من خيره وخير ما صنع له وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له قال أبو نضرة : وكان أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم إذا لبس أحدهم ثوبا جديدا قيل تبلى ويخلف الله وفي رواية ابن بشران قال أبو نضرة وكان أصحاب النبي إذا رأوا على أحدهم ثوبا قال : يبلى ويخلف الله وقال في الحديث : قميصا أو إزارا أو عمامة يقول : والباقي سواء

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو بکر احمد بن سلمان فقیہ نے بطور املاء کے وہ کہتے ہیں یحییٰ بن جعفر کے سامنے پڑھتی گئی تھی اور میں سن رہا تھا ہمیں خبر دی عبدالوہاب جریری نے ”ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابو علی الحسین بن محمد روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کوعمر بن عون نے ان کو ابن مبارک نے ان کو جریری نے ان کو ابو نضرہ نے ان کو ابو سعید نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا کپڑا لیتے تو اس کا کوئی نام رکھتے تھے یا قمیص یا عمامہ۔ پھرجب پہنتے تھے تو یوں دعا کرتے تھے۔ اللھم لک الحمد، اے اللہ تیرا شکر ہے۔ انت کسو تنبیہ تو نے ہی یہ مجھے پہنایا ہے۔ اسئلک من خیرہ، میں تجھ سے اس کی خیرو بھلائی مانگتا ہوں۔ وخیر ماصنع لہ اور اس کی بھلائی جس کے لئے بنایا گیا ہے۔ واعوذبک من شرہ، اور میں تجھ سے اس کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں۔ وشرما صنع لہ ، اور اس کی برائی سے جس کے لئے یہ بنا ہے۔ ابو نضرہ کہتے ہیں کہ اصحاب رسول جب نیا کپڑا پہنتے تھے تو کہا جاتا اللہ اس کو پہنوائے رکھے اور پرانا کروائے۔ اور ابن بشر کی ایک روایت میں ہے۔ ابو نضرہ نے کہا کہ اصحاب رسول جب کسی ایک پر نیا کپڑا دیکھتے تھے تو یوں کہتے تھے۔ اللہ اس کو پرانا کرائے اور اس کی جگہ دوسرا عطا فرمائے۔ اور کہا ہے کہ حدیث میں قمیص ،ازا اور عمامہ کہتے تھے اور باقی برابر ہے۔

أَبُو بَكْرِ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what he says if he wears a garment · Hadith 6283

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول إذا لبس ثوبا · حديث 6284

6285 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن حمدان ثنا عبد الصمد بن الفضل البلخي ثنا عبد الله بن يزيد المقبري وأخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا نصير بن الفرج ثنا عبد الله بن يزيد ثنا سعيد بن أبي أيوب عن أبي مرحوم عن سهل بن معاذ بن أنس عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أكل طعاما ثم قال الحمد لله الذي أطعمني هذا الطعام ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه ومن لبس ثوبا فقال : الحمد لله الذي كساني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو بکر بن محمد بن حمدان نے ان کو عبد الصمد بن فضل بلخی نے ان کو عبداللہ بن یزید مقبری نے ان کو خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن درسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو نصیر بن فرج نے ان کو عبداللہ بن یزید نے ان کو سعید بن ابو ایوب نے ان کو ان کے والد مرحوم نے سہل بن معاذ بن انس سے اس نے اپنے والد سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص کھانا کھا لے اس کے بعد یوں دعا کرے۔ الحمدللہ الذی اطعمنی ورزقنیہ من غیر حول منی ولاقوۃ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھ کو کھلایا یہ کھانا اور مجھے اس کا رزق دیا میری اس کو حاصل کرنے کی طاقت وقدرت کے بغیر۔ تو اس کے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اور جو کپڑا پہنے اور یوں دعا کرے۔ الحمدللہ الذی کسانی ھذا ورزقنیہ من غیر حول ولا قوۃ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھ کو یہ پہنایا اور میری طاقت و قدرت کے بقیہ مجھ کواس کا رزق دیا۔ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، ← أَبِي مَرْحُومٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← نُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← عبد الله بن يزيد المقبري وأخبرنا أبو علي الروذباري ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ← أبو بكر محمد بن حمدان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what he says if he wears a garment · Hadith 6284

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يقول إذا لبس ثوبا · حديث 6285

6286 - أخبرنا أبو حامد أحمد بن أبي خلف الصوفي المهرجاني بها أنا أبو بكر محمد بن يزداد بن مسعود ثنا محمد بن أيوب ثنا عبد الله بن الجراح ثنا عبد الله بن المبارك عن يحيى بن أيوب عن عبيد الله بن زحر عن علي بن يزيد عن القاسم عن أبي أمامة قال : دعا عمر رضي الله عنه بقميص له فلبسه فلما بلغ تراقيه قال : الحمد لله الذي كساني ما أتجمل به في حياتي وأواري به عورتي ثم قال : هل تدرون ممن أحدث ذاك رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم دعا بثيابه فلبسها فلما بلغ تراقيه قال : الحمد لله الذي كساني ما أتجمل به في حياتي وأواري به عورتي ثم قال : ما من مسلم يلبس ثوبا جديدا فيقول مثل ما قلت ثم يعمد إلى شيء من ثيابه فيكسوه أخا له مسلما لا يكسوه إلا الله كان في حرز الله وفي ضمان الله وفي جوار الله ما بقي منه سلك واحد حيا وميتا حيا وميتا حيا وميتا ورواه غيره عن عبيد الله وقال : كسا ثوبه الخلق مسكينا

ہمیں خبر دی ہے ابو حامد احمد بن ابو خلف صوفی مہرجانی نے مہرجان میں ان کو ابو بکر محمد بن یزداد بن مسعود نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو عبداللہ بن جراح نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو عبیداللہ بن زحر نے ان کو علی بن یزید نے ان کو قاسم نے ان کو ابو امامہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی قمیص نکلوائی اور اسے پہنا جب وہ گلے کی ہنسلیوں تک ہوئی تو دعا پڑھی۔ الحمدللہ الذی کسانی ما اتجمل بہ فی حیاتی واواری بہ عورتی اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسی چیز پہنائی جس کے ساتھ میں اپنی زندگی میں خوبصورتی اختیار کرتا ہوں اور اس کے ساتھ میں اپنا ستر چھپاتا ہوں۔ اس کے بعد پوچھنے لگے کہ کیاتم لوگ جانتے ہو کہ میں کس سے حدیث بیان کر رہا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ نے اپنی قمیص منگوائی تھی اور اس کو پہنا تھا جب وہ آپ کے گلے میں پہنچی تھی تو آپ نے یہی دعا پڑھی تھی۔ اور اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جو مسلمان بھی نیا کپڑا پہنے اور اس کے بعد یہی دعا پڑھے جو میں نے پڑھی ہے۔اس کے بعد کسی اور کپڑے کی طرف متوجہ ہو اور اس کو اپنے کسی مسلمان بھائی کو پہنائے اور وہ اس کو اللہ واسطے پہنائے اور وہ اس کو محص اللہ کی حفاظت میں اور اللہ کی امان میں اور اللہ کے جوار اور اس کی معیت میں ہو گا جب تک اس کپڑے کی ایک دھجی بھی باقی رہے گی۔زندیہ یا مردہ (ہر حال میں۔) اس کو دیگر نے روایت کیا ہے عبیداللہ سے اور کہا ہے کہ پہنائے کسی مسکین کو اپنا پرانا کپڑا۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ بْنِ مَسْعُودٍ ← أبو حامد أحمد بن أبي خلف الصوفي المهرجاني بها

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what he says if he wears a garment · Hadith 6285

chevron_left Previous
1…596061…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood