شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5626
5627 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن الطرائقي و أبو محمد الكعبي ثنا إسماعيل بن قتيبة ثنا يزيد بن صالح ثنا بكير بن معروف عن مقاتل بن حيان قال : بلغنا والله أعلم في قوله : { يا أيها الذين آمنوا أوفوا بالعقود } يقول أوفوا بالعقود يعني العهد الذي كان عهد إليهم في القرآن فيما أمرهم من طاعته أن يعلموا بها ونهيه الذي نهاهم عنه وبالعهد الذي بينهم وبين المشركين وفيما يكون من العهود بين الناس وقوله : { أحلت لكم بهيمة الأنعام } يعني الإبل والبقرة والشاة إلا ما يتلى عليكم يعني ما حرم عليكم في هذه الآية الميتة والدم ولحم الخنزير وما أهل لغير الله به كان هذا حراما منذ خلق الله السموات والأرض والمنخنقة إذا أوثقت الشاة أو غيرها فاختنقت قتلها خناقها والموقوذة كانت الشاة أو غيرها من الأنعام تضرب بالخشب حتى توقذ فتقتل لآلهتهم والمتردية الشاة أو غيرها تردى في بئر أو من جبل فتموت والنطيحة الشاة أو غيرها من ذات القرون فتنطح إحداهما الأخرى فتموت فكان أهل الجاهلية يأكلون هذا كله فحرم الله تبارك و تعالى عليهم في الإسلام فما كان من شيء هذا يدرك ذكاته فذكي فهو حلال بعد أن تطرف أو تتحرك قوله : { وما ذبح على النصب } فهي الحجارة كانوا يذبحون عليها لآلهتهم { وما أهل لغير الله به } ما ذبح لألهتهم { وأن تستقسموا بالأزلام } وهي القداح كان أهل الجاهلية يستقسمون بها في أمورهم فجمع الله تبارك وتعالى هذا كله فحرمه فقال : { ذلكم فسق } يقول : ركوب شئ من هذا معصية للرب تبارك وتعالى وهكذا فيما روينا عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس في تفسير قوله : { إلا ما ذكيتم } غير أنه قال : في موضع آخر من الكتاب إلا ما ذكيتم يقول : ما ذكيتم من هؤلاء وبه روح فكلوه فهو ذبيح قال الشيخ أحمد رضي الله عنه : ثم إن الله عز و جل استثنى من الذين حرم عليهم الميتة المضطر فقال : { فمن اضطر في مخمصة غير متجانف لإثم فإن الله غفور رحيم } وقال في آية أخرى : { فمن اضطر غير باغ ولا عاد فلا إثم عليه } وروينا عن مجاهد أنه قال : { غير باغ ولا عاد } يقول : غير قاطع السبيل ولا مفارق الأئمة ولا خارج في معصية الله عز و جل وروينا في الخبر أنه استثنى منم الميتة والدم قال : أحلت لنا ميتتان ودمان فأما الميتتان فالحوت والجراد وأما الدمان فالكبد والطحال الفصل الثاني ـ في ذم كثرة الأكل قال الحليمي رحمه الله : وكل طعام حلال فلا ينبغي لأحد أن يأكل منه ما يثقل بدنه فيحوجه إلى النوم ويمنعه من العبادة وليأكل بقدر ما يسكن جوعه وليكن غرضه من الأكل أن يشتغل بالعبادة ويقوي عليها وذكر الحديث الذي ؟
اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن طرائقی نے اور ابو محمد کعبی نے ان کو اسماعیل بن قتیبہ نے ان کو یزید بن صالح نے ان کو بکیر بن معروف نے اور کو مقاتل بن حیان نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر پہنچی ہے (واللہ اعلم) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں: یا ایھاالذین اٰمنوا اوفوا بالعقود اے ایمان والو! عقد یعنی عہد پورے کرو۔ فرماتے ہیں کہ عہد پورے کرو یعنی وہ عہد جو اللہ نے قرآن میں ان کی طرف کیا تھا ان چیزوں کے بارے میں جن کا ان کو حکم دیا تھا اپنی اطاعت کرنے کا یہ کہ اس کو جانیں اور اس کی نہی کو جس کے بارے میں ان کو منع کیا تھا اور وہ عہد جو مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان ہے اور اس عہد کے بارے میں جو لوگوں کے درمیان ہیں۔ اور یہ ارشاد باری :احلت لکم بھیمۃ الانعام الخ حلال کر دیئے گئے ہیں تمہارے واسطے چو پائے مویشی۔ اس سے مراد ہیں اونٹ ،اونٹنی گائے، بیل، بکری۔ الا مایتلی علیکم چوپائے جانور تمہارے لئے حلال کئے گئے ہیں۔ مگر وہ جانور جن کی حرمت تمہارے اوپر پڑھی گئی۔یعنی وہ جانور جو تمہارے اوپر حرام کئے گئے ہیں اس آیت میں (وہ یہ ہیں) (۱) مرا ہوا جانور۔ (۲) خون۔ (۳) سور کا گوشت۔ (۴) وہ جانور جس کے اوپر اللہ کے سواکسی کا نام پکارا جائے۔ یہ جانور حرام تھے جب سے اللہ نے آسمان وزمین پیدا کئے تھے۔ اور گلا گھونٹ کر مری ہوئی مثلاً جب آپ بکری کو باندھ دیں یا کسی اور جانور کو اور کسی طرح اس کا گلا گھٹ جائے اور اس کے قتل کا اور مرنے کا سبب اس کا گلا گھٹنا ہو (وہ حرام ہے۔) یا چوٹ سے اور دھک سے مری ہوئی مثلاً بکری یا کوئی اور جانور جس کو لکڑی وغیرہ سے چوٹ ماری یا چوٹ لگی یہاں تک کہ وہ قتل کر دی گئی ان کے معبودوں کے لئے (وہ بھی حرام ہے) اوراوپر سے گر کر مری ہوئی بکری یا کوئی جانور جو کنویں میں گر آیا پہاڑ کے اوپر سے یا مکان وغیرہ کے اوپر سے گر کر مرگئی (وہ بھی حرام ہے) یا سینگ مار کر مری ہوئی بکری یا کوئی اور جانو رسینگ والے جانوروں میں سے جو دوسرے کو سینک مارے اور وہ مر جائے (وہ بھی حرام ہے۔) اہل جاہلیت ان سب جانوروں کو کھا جاتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر اسلام میں ان کو حرام قرار دے دیا ہاں مگر یہ کہ ان مذکورہ جانوروں میں سے کوئی ایسا ہو کہ ایسی حالت میں مرنے سے قبل ذبح کرنے کی مہلت مل جائے اور اس کو تکبیر پڑھ کر ذبح کر لیا جائے تو وہ حلال ہے اس کے بعد کہ تڑپ رہا ہو یا حرکت کر رہا ہو۔ اور وہ جانور جس کو کوئی درندہ کھائے اور وہ مر جائے (وہ بھی حرام ہے) ہاں مگر جو زندہ بچ جائے اور تم اس کو ذبح کر لو (وہ حلال ہے)۔ وما ذبح علی النصب اور وہ جانور جو ذبح ہوا کسی تھان کسی بت یا کسی آستان کی یا کسی بھی مکان کی تعظیم کے لئے (بیت اللہ کے علاوہ) وہ بھی حرام ہے۔ یہ اس پتھر کی مثل کہ جس پر وہ لوگ اپنے معبودوں کے لئے ذبح کرتے تھے۔ وما اھل لغیر اللہ بہ اور جس جانور پر نام پکارا جاے اللہ کے سوا کسی اور کا۔ (یعنی جوان کے الہوں معبودوں کے لئے ذبح کیا جائے۔ وان تستقسموا بالازلام اور یہ کہ تم تقسیم کرو جوئے کے تیروں سے۔ یہ تیر تھے اہل جاہلیت ان کے ذریعے قسمت معلوم کرتے تھے اپنے معاملات کے اندر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو جمع کر دیا یہ سب کے سب حرام ہیں۔ ذلکم فسق یہ گناہ کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان چیزوں میں سے کسی ایک کا ارتکاب کرنا رب کی نافرمانی ہے۔ اور اسی طرح ہے اس روایت میں جو ہم نے روایت کی ہے علی بن ابی طلحہ سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے الاماذکیتم کی تفسیر میں۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا ہے کتاب کے ایک اور مقام پر کہ الاماذکیتم یعنی فرماتے ہیں کہ ان مذکور میں سے جو تم ذبح کر لو حالانکہ اس میں روح ہو پس اس کو کھاؤ وہ ذبیحہ ہے۔ حالت اضطرار کا حکم : شیخ احمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کے بعد بے شک اللہ عزوجل نے مستثنٰی کیا ہے ان لوگوں میں سے جن پر حرام کیا ہے مردار چیز کو، مجبور کو، اور فرمایا : فمن اضطرفی مخمضۃ غیر متجانف لاثم فان اللہ غفور رحیم پھر جو کوئی لا چار ہو جائے بھوک میں تین گناہ پر نہ مائل ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور دوسری آیت میں ارشاد فرمایا: فمن اضطر غیر باغ ولاعاد فلا اثم علیہ بھر جو کوئی بے اختیار ہو جائے تو نافرمانی کرے اور نہ زیادتی تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے۔ اور ہم نے حضرت مجاہد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: غیر باغ ولاعاد سے مراد ہے کہ دو ڈاکہ ڈالنے والا نہ ہو۔ اور ائمہ کی مخالفت کرنے والا نہ ہو اور اللہ کی نافرمانی میں اور گناہ میں نکلنے والا نہ ہو۔ اور ہم نے روایت کی ہے حدیث میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خون میں سے دو چیزوں کو مستثنیٰ کیا ہے الگ کیا ہے۔ پس فرمایا کہ ہمارے لئے مری ہوئی چیزیں حلال کر دی گئی ہیں اور دو خون حلال کر دیئے گئے ہیں۔ بہرحال دوسری ہوئی چیزیں یہ ہیں (۱) مچھلی (۲) ٹڈی۔ بہرحال دو خون یہ میں: (۱) جگر (کلیجی ) (۲) طحال (تلی) فصل ثانی۔۔۔۔۔کھانا زیادہ کھانے کی برائی شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہر کھانا جو حال ہے کسی انسان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اسے اتنا زیادہ کھائے جس سے اس کا وزن بڑھ جائے بدن بھاری ہو جائے۔ جو اس کو نیند کی طرف مجبور کر دے اور اس کو عبادت سے روک دے بلکہ انسان کو چاہئے کہ وہ اتنا کھائے جو اس کی بھوک کو روک دے بلکہ اس کی غرض کھانے سے یہ ہو کہ وہ عبادت کے ساتھ مشغول ہو اور عبادت پر قوت و طاقت رکھے اور انہوں نے اس بارے میں حدیث ذکر فرمائی ہے۔
أوفوا بالعقود يعني العهد الذي كان عهد إليهم في القرآن فيما أمرهم من طاعته ← بلغنا والله أعلم في قوله ← مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ← بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ ← يَزِيدَ بْنِ صَالِحٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← أبو الحسن الطرائقي و أبو محمد الكعبي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،
Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5626
