Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5626

5627 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن الطرائقي و أبو محمد الكعبي ثنا إسماعيل بن قتيبة ثنا يزيد بن صالح ثنا بكير بن معروف عن مقاتل بن حيان قال : بلغنا والله أعلم في قوله : { يا أيها الذين آمنوا أوفوا بالعقود } يقول أوفوا بالعقود يعني العهد الذي كان عهد إليهم في القرآن فيما أمرهم من طاعته أن يعلموا بها ونهيه الذي نهاهم عنه وبالعهد الذي بينهم وبين المشركين وفيما يكون من العهود بين الناس وقوله : { أحلت لكم بهيمة الأنعام } يعني الإبل والبقرة والشاة إلا ما يتلى عليكم يعني ما حرم عليكم في هذه الآية الميتة والدم ولحم الخنزير وما أهل لغير الله به كان هذا حراما منذ خلق الله السموات والأرض والمنخنقة إذا أوثقت الشاة أو غيرها فاختنقت قتلها خناقها والموقوذة كانت الشاة أو غيرها من الأنعام تضرب بالخشب حتى توقذ فتقتل لآلهتهم والمتردية الشاة أو غيرها تردى في بئر أو من جبل فتموت والنطيحة الشاة أو غيرها من ذات القرون فتنطح إحداهما الأخرى فتموت فكان أهل الجاهلية يأكلون هذا كله فحرم الله تبارك و تعالى عليهم في الإسلام فما كان من شيء هذا يدرك ذكاته فذكي فهو حلال بعد أن تطرف أو تتحرك قوله : { وما ذبح على النصب } فهي الحجارة كانوا يذبحون عليها لآلهتهم { وما أهل لغير الله به } ما ذبح لألهتهم { وأن تستقسموا بالأزلام } وهي القداح كان أهل الجاهلية يستقسمون بها في أمورهم فجمع الله تبارك وتعالى هذا كله فحرمه فقال : { ذلكم فسق } يقول : ركوب شئ من هذا معصية للرب تبارك وتعالى وهكذا فيما روينا عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس في تفسير قوله : { إلا ما ذكيتم } غير أنه قال : في موضع آخر من الكتاب إلا ما ذكيتم يقول : ما ذكيتم من هؤلاء وبه روح فكلوه فهو ذبيح قال الشيخ أحمد رضي الله عنه : ثم إن الله عز و جل استثنى من الذين حرم عليهم الميتة المضطر فقال : { فمن اضطر في مخمصة غير متجانف لإثم فإن الله غفور رحيم } وقال في آية أخرى : { فمن اضطر غير باغ ولا عاد فلا إثم عليه } وروينا عن مجاهد أنه قال : { غير باغ ولا عاد } يقول : غير قاطع السبيل ولا مفارق الأئمة ولا خارج في معصية الله عز و جل وروينا في الخبر أنه استثنى منم الميتة والدم قال : أحلت لنا ميتتان ودمان فأما الميتتان فالحوت والجراد وأما الدمان فالكبد والطحال الفصل الثاني ـ في ذم كثرة الأكل قال الحليمي رحمه الله : وكل طعام حلال فلا ينبغي لأحد أن يأكل منه ما يثقل بدنه فيحوجه إلى النوم ويمنعه من العبادة وليأكل بقدر ما يسكن جوعه وليكن غرضه من الأكل أن يشتغل بالعبادة ويقوي عليها وذكر الحديث الذي ؟

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن طرائقی نے اور ابو محمد کعبی نے ان کو اسماعیل بن قتیبہ نے ان کو یزید بن صالح نے ان کو بکیر بن معروف نے اور کو مقاتل بن حیان نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر پہنچی ہے (واللہ اعلم) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں: یا ایھاالذین اٰمنوا اوفوا بالعقود اے ایمان والو! عقد یعنی عہد پورے کرو۔ فرماتے ہیں کہ عہد پورے کرو یعنی وہ عہد جو اللہ نے قرآن میں ان کی طرف کیا تھا ان چیزوں کے بارے میں جن کا ان کو حکم دیا تھا اپنی اطاعت کرنے کا یہ کہ اس کو جانیں اور اس کی نہی کو جس کے بارے میں ان کو منع کیا تھا اور وہ عہد جو مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان ہے اور اس عہد کے بارے میں جو لوگوں کے درمیان ہیں۔ اور یہ ارشاد باری :احلت لکم بھیمۃ الانعام الخ حلال کر دیئے گئے ہیں تمہارے واسطے چو پائے مویشی۔ اس سے مراد ہیں اونٹ ،اونٹنی گائے، بیل، بکری۔ الا مایتلی علیکم چوپائے جانور تمہارے لئے حلال کئے گئے ہیں۔ مگر وہ جانور جن کی حرمت تمہارے اوپر پڑھی گئی۔یعنی وہ جانور جو تمہارے اوپر حرام کئے گئے ہیں اس آیت میں (وہ یہ ہیں) (۱) مرا ہوا جانور۔ (۲) خون۔ (۳) سور کا گوشت۔ (۴) وہ جانور جس کے اوپر اللہ کے سواکسی کا نام پکارا جائے۔ یہ جانور حرام تھے جب سے اللہ نے آسمان وزمین پیدا کئے تھے۔ اور گلا گھونٹ کر مری ہوئی مثلاً جب آپ بکری کو باندھ دیں یا کسی اور جانور کو اور کسی طرح اس کا گلا گھٹ جائے اور اس کے قتل کا اور مرنے کا سبب اس کا گلا گھٹنا ہو (وہ حرام ہے۔) یا چوٹ سے اور دھک سے مری ہوئی مثلاً بکری یا کوئی اور جانور جس کو لکڑی وغیرہ سے چوٹ ماری یا چوٹ لگی یہاں تک کہ وہ قتل کر دی گئی ان کے معبودوں کے لئے (وہ بھی حرام ہے) اوراوپر سے گر کر مری ہوئی بکری یا کوئی جانور جو کنویں میں گر آیا پہاڑ کے اوپر سے یا مکان وغیرہ کے اوپر سے گر کر مرگئی (وہ بھی حرام ہے) یا سینگ مار کر مری ہوئی بکری یا کوئی اور جانو رسینگ والے جانوروں میں سے جو دوسرے کو سینک مارے اور وہ مر جائے (وہ بھی حرام ہے۔) اہل جاہلیت ان سب جانوروں کو کھا جاتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر اسلام میں ان کو حرام قرار دے دیا ہاں مگر یہ کہ ان مذکورہ جانوروں میں سے کوئی ایسا ہو کہ ایسی حالت میں مرنے سے قبل ذبح کرنے کی مہلت مل جائے اور اس کو تکبیر پڑھ کر ذبح کر لیا جائے تو وہ حلال ہے اس کے بعد کہ تڑپ رہا ہو یا حرکت کر رہا ہو۔ اور وہ جانور جس کو کوئی درندہ کھائے اور وہ مر جائے (وہ بھی حرام ہے) ہاں مگر جو زندہ بچ جائے اور تم اس کو ذبح کر لو (وہ حلال ہے)۔ وما ذبح علی النصب اور وہ جانور جو ذبح ہوا کسی تھان کسی بت یا کسی آستان کی یا کسی بھی مکان کی تعظیم کے لئے (بیت اللہ کے علاوہ) وہ بھی حرام ہے۔ یہ اس پتھر کی مثل کہ جس پر وہ لوگ اپنے معبودوں کے لئے ذبح کرتے تھے۔ وما اھل لغیر اللہ بہ اور جس جانور پر نام پکارا جاے اللہ کے سوا کسی اور کا۔ (یعنی جوان کے الہوں معبودوں کے لئے ذبح کیا جائے۔ وان تستقسموا بالازلام اور یہ کہ تم تقسیم کرو جوئے کے تیروں سے۔ یہ تیر تھے اہل جاہلیت ان کے ذریعے قسمت معلوم کرتے تھے اپنے معاملات کے اندر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو جمع کر دیا یہ سب کے سب حرام ہیں۔ ذلکم فسق یہ گناہ کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان چیزوں میں سے کسی ایک کا ارتکاب کرنا رب کی نافرمانی ہے۔ اور اسی طرح ہے اس روایت میں جو ہم نے روایت کی ہے علی بن ابی طلحہ سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے الاماذکیتم کی تفسیر میں۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا ہے کتاب کے ایک اور مقام پر کہ الاماذکیتم یعنی فرماتے ہیں کہ ان مذکور میں سے جو تم ذبح کر لو حالانکہ اس میں روح ہو پس اس کو کھاؤ وہ ذبیحہ ہے۔ حالت اضطرار کا حکم : شیخ احمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کے بعد بے شک اللہ عزوجل نے مستثنٰی کیا ہے ان لوگوں میں سے جن پر حرام کیا ہے مردار چیز کو، مجبور کو، اور فرمایا : فمن اضطرفی مخمضۃ غیر متجانف لاثم فان اللہ غفور رحیم پھر جو کوئی لا چار ہو جائے بھوک میں تین گناہ پر نہ مائل ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور دوسری آیت میں ارشاد فرمایا: فمن اضطر غیر باغ ولاعاد فلا اثم علیہ بھر جو کوئی بے اختیار ہو جائے تو نافرمانی کرے اور نہ زیادتی تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے۔ اور ہم نے حضرت مجاہد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: غیر باغ ولاعاد سے مراد ہے کہ دو ڈاکہ ڈالنے والا نہ ہو۔ اور ائمہ کی مخالفت کرنے والا نہ ہو اور اللہ کی نافرمانی میں اور گناہ میں نکلنے والا نہ ہو۔ اور ہم نے روایت کی ہے حدیث میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خون میں سے دو چیزوں کو مستثنیٰ کیا ہے الگ کیا ہے۔ پس فرمایا کہ ہمارے لئے مری ہوئی چیزیں حلال کر دی گئی ہیں اور دو خون حلال کر دیئے گئے ہیں۔ بہرحال دوسری ہوئی چیزیں یہ ہیں (۱) مچھلی (۲) ٹڈی۔ بہرحال دو خون یہ میں: (۱) جگر (کلیجی ) (۲) طحال (تلی) فصل ثانی۔۔۔۔۔کھانا زیادہ کھانے کی برائی شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہر کھانا جو حال ہے کسی انسان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اسے اتنا زیادہ کھائے جس سے اس کا وزن بڑھ جائے بدن بھاری ہو جائے۔ جو اس کو نیند کی طرف مجبور کر دے اور اس کو عبادت سے روک دے بلکہ انسان کو چاہئے کہ وہ اتنا کھائے جو اس کی بھوک کو روک دے بلکہ اس کی غرض کھانے سے یہ ہو کہ وہ عبادت کے ساتھ مشغول ہو اور عبادت پر قوت و طاقت رکھے اور انہوں نے اس بارے میں حدیث ذکر فرمائی ہے۔

أوفوا بالعقود يعني العهد الذي كان عهد إليهم في القرآن فيما أمرهم من طاعته ← بلغنا والله أعلم في قوله ← مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ← بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ ← يَزِيدَ بْنِ صَالِحٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← أبو الحسن الطرائقي و أبو محمد الكعبي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5626

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5627

5628 - أخبرنا أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الله بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور الرمادي ثنا عبد الرزاق ثنا معمر عن أيوب عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المؤمن يأكل في معي واحد وإن الكافر يأكل في سبعة أمعاء رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن رافع و عبد بن حميد عن عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ابو الحسین علی بن محمد بن عبداللہ بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور ر مادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور بے شک کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ اس کومسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن رافع سے اور عبد بن حمید سے اس نے عبدالرزاق سے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الله بن بشران

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5627

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5628

5629 - و أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أبو الأزهر ثنا عبد الصمد ثنا شعبة ثنا واقد بن محمد عن نافع قال : كان ابن عمر لا يأكل حتى يؤتى بمسكين فيأكل معه فأدخلت عليه يوما رجلا فأكل أكلا كثيرا فقال لي ابن عمر : يا نافع لا تدخل علي هذا فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الكافر يأكل في سبعة أمعاء رواه البخاري في الصحيح عن بندار عن عبد الصمد بن عبد الوارث وأخرجه مسلم من حديث غندر عن شعبة

اور ہمیں خبر دی ابو الحسن محمد بن حسین علوی نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو ابو الازہر نے ان کو عبد الصمد نے ان کو شعبہ نے ان کو واقد بن محمد نے ان کو نافع نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک کہ کوئی مسکین بلا کر نہ لایا جاتا جب ولی مسکین آ جاتا تو و واس کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے تھے۔ نافع کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے ایک آدمی کو ان کے پاس داخل کیا اس نے کھانا زیادہ کھایا۔ لہٰذا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا۔ اے نافع ! اس کو میرے پاس آئندہ مت لے کر آنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھافرماتے تھے کہ کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں بندار سے انہوں نے عبدالصمد بن عبدالوارث ہے۔ اور مسلم نے کو نقل کیا ہے حدیث غندر سے اس نے شعبہ سے۔

نَافِعٍ ← واقد بن محمد ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5628

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5629

5630 - حدثنا أبو الحسن العلوي أنا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد آباذي ثنا أبو جعفر محمد بن عبيد الله المنادي ثنا وهب بن جرير وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا أبو مسلم ثنا سليمان بن حرب ثنا شعبة عن عدي بن ثابت عن أبي حازم عن أبي هريرة : أن رجلا كان يأكل أكلا كثيرا فأسلم فكان يأكل بعد ذلك أكلا قليلا فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فقال : الكافر يأكل في سبعة أمعاء والمسلم في معي واحد لفظ حديث سليمان

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمر ورزاز نے ان کو جعفر بن محمد بن شاکر نے ان کو عفان نے ان کو شعبہ نے ان کو عدی بن ثابت نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو حازم سے دو حدیث بیان کرتے تھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کےپاس آیا اور وہ بہت زیادہ کھانا کھاتا تھا پھر مسلمان ہو گیا اس کے بعد وہ کم کھانا کھاتا تھا پھر باقی حدیث کو ذکر کیا اسی کی مثل سوائے اس کے کہ اس ان اور ان زیادہ کیا اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں سلیمان ابن حرب سے۔

أَبِي حَازِمٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمُنَادِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدْ أَبَاذِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5629

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5630

5631 - و أخبرنا أبو الحسن بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا جعفر بن محمد بن شاكر ثنا عفان ثنا شعبة أنا عدي بن ثابت قال : سمعت أبا حازم يحدث عن أبي هريرة قال : أتى رجل النبي صلى الله عليه و سلم وكان يأكل أكلا كثيرا فأسلم ثم أكل أكلا قليلا فذكر باقي الحديث مثله غير أنه زاد إن وأن رواه البخاري في الصحيح عن سليمان بن حرب

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمر ورزاز نے ان کو جعفر بن محمد بن شاکر نے ان کو عفان نے ان کو شعبہ نے ان کو عدی بن ثابت نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو حازم سے دو حدیث بیان کرتے تھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کےپاس آیا اور وہ بہت زیادہ کھانا کھاتا تھا پھر مسلمان ہو گیا اس کے بعد وہ کم کھانا کھاتا تھا پھر باقی حدیث کو ذکر کیا اسی کی مثل سوائے اس کے کہ اس ان اور ان زیادہ کیا اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں سلیمان ابن حرب سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبَا حَازِمٍ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أبو الحسن بن بشران ← و،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5630

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5631

5632 - وأخبرنا أبو زكريا يحيى بن إبراهيم بن محمد بن يحيى أنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان أبي سعيد ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه حدثنا الحارث بن أبي أسامة ثنا إسحاق بن عيسى الطباع عن مالك عن سهيل عن أبيه عن الفقيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ضاف ضيف وهو كافر فأمر له رسول الله صلى الله عليه و سلم بشاة حلبت فشرب ثم أخرى فشرب حتى شرب حلاب سبع شياه ثم أصبح فأسلم فأمر له رسول الله صلى الله عليه و سلم بشاة فشرب حلابها ثم أمر بأخرى فلم يستتمها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المؤمن يشرب في معي واحد والكافر يأكل في سبعة أمعاء وفي رواية القعنبي بشاة فحلبت فشرب حلابها ثم أمر له بأخرى فلم يستتمها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المسلم يشرب في معي واحد والكافر يشرب في سبعة أمعاء رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن رافع عن إسحاق بن عيسى قال الشيخ : وقد أشار أبو عبيد في معنى الحديث إلى هذه الرواية المفسرة فلم أر الحليمي رضيه فكأن الحليمي لم يحفظ هذه الرواية ثم قال في آخر كلامه وإن كان إنما قاله حين وصف له رجل بعينه فمعناه إذا أن الذي يليق بالكافر أن يكثر أكله وبالمؤمن أن يذر أكله لأن الكافر لا يقصد إلا تسكين المجاعة وقضاء الشهوة والمؤمن يدع البعض لأنه حرام ويدع البعض إيثارا به على نفسه ويدع التخلي لئلا يثقل فتنقطع العبادة ويدع بعض البعض لفرط ما فيه من النعمة ضيفة ألا يستطيع القيام بشكره ويدع البعض رياضة لنفسه وقمعا لشهوته حتى لا يستقصى عليه ويدع البعض لئلا يعتاده فإن لم يجده في وقت اشتد ذلك أو وجد من ذلك في نفسه والكافر ليس به إلا ملء بطنه لأن هذه الوجوه كلها إنما تبعث عن النظر من قبلها الإيمان والتقوى فهو لا يترك لأجلهما شيئا وإنما أمامه شهوته دون ما عداها والمعي في هذا الحديث المعدة ومعناه أنه يأكل الكافر أكل من له سبعة أمعاء والمؤمن لخفة أكله يأكل أكل من ليس له إلا معي واحد والله أعلم وقرأت في كتاب الغريبين قال : قال أبو عبيد : نرى ذلك بتسمية المؤمن عند طعامه فيكون فيه البركة والكافر لا يفعل ذلك وقيل إنه خاص لرجل قال : غيره وفيه وجه أحسن من ذلك كله وهو أنه مثل ضربه النبي صلى الله عليه و سلم للمؤمن وزهد في الدنيا والكافر وحرصه عليها ولهذا قيل الرغب شؤم لأنه يحمل صاحبه على اقتحام النار وليس معناه كثرة الأكل دون اتساع الرغبة في الدنيا وذكر أبو سليمان هذه الوجوه اللفظ مختلف والمعي واحد ثم قال : وقد قيل إن الناس في الأكل على طبقات فطائفة يأكلون كلما وجدوا مطعوما عن حاجة إليه وعن غير حاجة وهذا فعل أهل الجهل والغفلة الذين شاكلت طباعهم طباع البهائم وطائفة يأكلون إذا جاعوا فإذا ارتفع الجوع أمسكوا وهذه عادة المقتصدين من الناس والمتماسكين منهم في الشمائل والأخلاق وطائفة يتجوعون و يرتاضون الجوع قمعا لشهوات النفوس فلا يأكلون إلا عند الضرورة ولا يزيدون منه على ما يكسر غرب الجوع وهذا من عادة الأبرار وشمائل الصالحين الأخيار

اور ہمیں خبر دی ابو زکریا یحییٰ بن ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں جو وہ پڑھتے تھے مالک پر۔ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو النضر فقیہ نے ان کو حارث بن ابو اسامہ نے ان کو اسحٰق بن ابو عیسیٰ طباع نے ان کو مالک نے ان کو سہیل نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی مہمان ہوا مگر وہ کافر تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے ایک بکری کا دودھ نکال کر پلانے کا حکم فرمایا وہ پی گیا۔ اس کے بعد دوسری بکری دوہنے اور پلانے کا حکم فرمایا وہ بھی پی گیا یہاں تک کہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا جب صبح ہوئی تو وہ مسلمان ہو گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے ایک بکری دودھ کر پلانے کا حکم فرمایا اس نے پی لیا اس کے بعد دوسری بکری کا دودھ پلانے کا حکم دیا تو اس نے پورا نہیں پیا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے اور قعنبی کی ایک روایت میں ہے ایک بکری کا دودھ نکال کر لایا گیا اس نے اس کا دودھ پی لیا اس کے بعد دوسری بکری کا دودھ پورا نہیں پی سکا لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک مسلمان ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے محمد بن رافع سے اس نے اسحٰق بن عیسیٰ سے۔ شیخ نے فرمایا کہ تحقیق اشارہ کیا ہے ابو عبید نے حدیث کے معنی میں اس واضح روایت کی طرف میں نے نہیں دیکھا کہ حلیمی نے اس کو پسند کیا ہو۔ گویا کہ شیخ حلیمی نے اس روایت کو محفوظ نہیں کیا اس کے بعد اس نے آخر کلام میں کہا کہ اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ حدیث میں جو بات کہی ہے وہ ایک خاص اور متعین شخص کی صفت بیان کی تھی تاہم اس کا معنی وہ ہے جو کافر کی حالت کے مطابق ہے کہ وہ کثرت کے ساتھ کھاتا ہے اور مؤمن کی حالت سے جو مطابقت رکھتا ہے وہ زیادہ کھانا ترک کر دیتا ہے۔ کیونکہ کافر کا مقصد صرف اور صرف بھوک کی تسکین اور شہوت پیٹ کی تکمیل ہوتا ہے۔اور مؤمن کچھ چھوڑتا ہے کیونکہ حرام ہے اور کچھ چھوڑتا ہے ایثار کے لئے اپنے نفس پر اور چھوڑ دیتا ہے تخلی کے لئے تاکہ بوجھل نہ ہو ورنہ عبادت رہ جائے گی اور کچھ کو چھوڑ دیتا ہے بوجہ اس زیادتی کے جو نعمت میں ہے کہ بطور ضیافت کے واسطے شکر کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اور کچھ چھوڑ دیتا ہے اپنے نفس کی ریاضت کے لئے اس شہوت کا قلع قمع کرنے کے لئے حتٰی کہ اس پر غلبہ نہ ہو سکے اور کچھ چھوڑ دے گا تاکہ اس کی عادت نہ ہو جائے۔ اگر وہ اس کو ایک وقت میں نہ پائے گا تو اس پر مشکل گزرے گی یا اپنے نفس میں وہ اس سے کوئی پر پیشانی پائے گا اور کافر کے ساتھ ان مذکورہ باتوں میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہو گی کیونکہ یہ تمام وجوہ ابھرتے ہیں اس نظریئے سے جس سے پہلے ایمان ہو تقویٰ ہو چنانچہ کافر ان کی وجہ سے کسی شئی کو نہیں چھوڑ سکتا اس کے سامنے تو محض اس کی خواہش نفس ہی ہوتی ہے ماسوا سب کچھ کے۔اور ایک آنت سے مراد اس حدیث میں معدہ ہے۔ مراد یہ ہے کہ کافر ایسے کھاتا ہے جیسے وہ آدمی کھائے جس کے سات معدے ہوں اور مؤمن اپنے پہلے کھانے کی وجہ ایسے کھاتا ہے جیسے وہ شخص جس کی صرف ایک ہی آ نت ہو۔ تحقیق میں نے کتاب الغریبین میں پڑھاوہ کہتے ہیں کہ کہا ابو عبید نے ہمارا نظریہ یہ ہے کہ مذکورہ ہات یعنی ایک آنت والی یا کم کھانے والی اس لئے ہے کہ مؤمن کھاتے وقت اللہ کے نام کے ساتھ یعنی بسم اللہ پڑھ کر کھاتا ہے لہٰذا کھانے میں برکت ہو جاتی ہے۔ اور کافر بسم اللہ پڑھ کر نہیں کھاتا۔ اور یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ یہ بات نام ہے آدمی کے ساتھ۔ ابو عبید کے علاوہ نے کہا ہے کہ اس میں ایک اور وجہ ہے جوان سب سے زیادہ احسن ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ ایک مثال ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤمن کے لئے اور اس کے دنیا سے لاتعلق ہونے کے بارے میں دی ہے اور کافر کے بارے میں اور اس کی دنیا کی حرص کے بارے میں دی ہے۔ اور اسی لئے کہا گیا ہے کہ دنیا کا حریص منحوس ہے اس لئے کہ اپنے ساتھی کو آگ میں گھسنے پر ابھارتا ہے اور زیادہ کھانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دنیا میں زیادہ رغبت کے نہ ہونے کے باوجود زیادہ کھاتا ہے۔ اور ذکر کیا ہے ابو سلیمان نے جس کے لفظ مختلف ہیں اور معنی واحد ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ تحقیق یہ کہا گیا ہے کہ کھانے کے حوالے سے لوگوں کے مختلف طبقات ہیں۔ ایک طبقہ تو وہ ہے کہ جب بھی کھانے کی چیز مل جائے خواہ کھانے کی ضرورت ہو یا نہ ہو وہ ہر وقت کھاتے ہیں یہ اہل جہالت واہل غفلت کا شیوہ ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کی طبائع جانوروں کی جیسی ہیں۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو اس وقت کھاتے میں جب بھوک لگتی ہے جب بھوک رفع ہو جاتی ہے وہ کھانے سے رک جاتے ہیں۔ یہ عادت میانہ روی کرنے والوں کی ہے لوگوں میں سے اور ان لوگوں کی ہے جو شمائل و اخلاق میں ایک دوسرے سے تمسک کرتے ہیں۔ تیسر اطبقہ وہ ہے جو زبردستی بھوکے رہتے ہیں اور بھوکا رہنے کو پسند کرتے ہیں نفسوں کی خواہشات کا قلع قمع کرنے کے لئے لہٰذا وہ لوگ صرف ضرورت کے وقت ہی کھاتے میں ضرورت سے زیادہ بالکل نہیں کھاتے بس اتنا کھاتے ہیں جس سے بھوک کی تیزی اور زور ٹوٹ جائے اور یہ بات نیک لوگوں کی عادات میں سے ہے اور ایک اور پرہیزگار لوگوں کی سیرت میں سے ہے۔

الفقيه ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← القعنبي فيما قرأ على مالك وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ← عثمان أبي سعيد ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← وأخبرنا أبو زكريا يحيى بن إبراهيم بن محمد بن يحيى

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5631

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5632

5633 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الربيع بن سليمان ثنا ابن وهب ثنا مالك عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : طعام الاثنين كافي الثلاثة وطعام الثلاثة كافي الأربعة أخرجاه في الصحيح من حديث مالك ورواه أبو الزبير عن جابر قال : قال رسول الله : طعام الواحد يكفي الاثنين وطعام الاثنين يكفي الأربعة وطعام الأربعة يكفي الثمانية

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو ابن وہب نے ان کو مالک نے ان کو ابو الزناد نے ان کو اعرج نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کو کفایت کرتا ہے اور تین کا کھانا چار کو کافی رہتا ہے۔ بخاری ومسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث مالک سے اور اس کو روایت کیا ہے ابو الزبیر نے جابر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک بندے کا کھانے دو کے لئے کافی ہوتا ہے اور دو کا کھانا چار کو کافی ہوتا ہے اور چار کا کھانا آٹھ کے لئے کافی ہوتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5632

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5633

5634 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو الحسن عبد الملك بن عبد الحميد الميموني ثنا روح بن عبادة ثنا ابن جريج أخبرني أبو الزبير أنه سمع جابر بن عبد الله يقول : فذكره رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم وغيره عن روح

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو الحسن عبدالملک بن عبدالحمید میمونی نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو ابن جریج نے ان کو خبر دی ابو زبیر نے انہوں نے سنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں ، پھر اس نے مذکورہ احدیث کو ذکر کیا ہے۔ مسلم نے کو روایت کیا ہے صحیح میں اسحاق بن ابراہیم وغیرہ سے اس نے روح سے۔ کو کافی ہے اور دو کا کھانا چار کو پورا ہو جاتا ہے اور چار کا کھانا آٹھ کو پورا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کہا ابو الازہر نے ان کو عبدالرزاق نے۔

رَوْحٌ، ← إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ، ← فَذَكَرَهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أبو الحسن عبد الملك بن عبد الحميد الميموني ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5633

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5634

5635 - وأخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا أبو حامد البزاز ثنا أبو الأزهر ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن أيوب عن محمد بن سيرين عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : طعام الواحد يكفي الاثنين وطعام الاثنين يكفي الأربعة وطعام الأربعة يكفي الثمانية كذا قال أبو الأزهر عن عبد الرزاق وقد

Not Found

ابْنِ عُمَرَ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أبو حامد البزاز ← وأخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5634

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5635

5636 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور الرمادي ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن أيوب عن نافع مرسل : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : فذكر مثله

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور رمادی نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے ان کو نافع نے یہ روایت نافع سے مرسل ہے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس نے آگے مذکورہ بالا حدیث کو ذکر کیا ہے۔

نافع مرسل ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5635

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5636

5637 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا محمد بن سعيد بن غالب ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم بن الأسود عن عائشة قالت : ما شبع رسول الله صلى الله عليه و سلم ثلاثة أيام تباعا حتى مضى لسبيله

ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو محمد بن سعید بن غالب نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو ابراہیم نے ان کو سود نے ان کو سیدہ عائشہ رضی للہ عنہ نے فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن مسلسل پیٹ بھر کر کبھی کھانا نہیں کھایا یہاں تک کہ آپ اپنے راستے پر چلے گئے۔

عَائِشَةَ ← إِبْرَاهِيم بن الْأَسْوَدِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5636

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5637

5638 - وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الوليد ثنا الحسن بن سفيان ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا معاوية : فذكره بإسناده غير أنه قال : منذ قدم المدينة ثلاثة أيام تباعا خبز بر حتى مضى لسبيله رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة وغيره وأخرجه البخاري من وجه آخر وروينا من وجه آخر عن عائشة أنها قالت : ما شبع آل محمد صلى الله عليه و سلم من خبز البر ثلاثا حتى مضى لسبيله

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو الولید نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو ابو بکر بن ابو شیبہ نے ان کو معاویہ نے اس نے حدیث کو ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ سوا اس کے کہ اس نے کہا جب سے مدینے میں آئے تین دن مسلسل گندم کی روٹی نہیں کھائی۔ یہاں تک کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو بکر بن شیبہ وغیرہ سے۔ اور بخاری نے اس کو نقل کیا ہے دوسرے طریق سے۔ اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے دوسرے طریق سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے کہا نہیں پیٹ بھر کھانا کھایا آل محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے گندم کی روٹی سے تین دن یہاں تک کہ آپ اپنے راستے پر چلے گئے (یعنی وصال فرمآ گئے۔)

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5637

chevron_left Previous
1…567…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood