Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في العمائم · حديث 6250

6251 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد الحسن بن محمد بن سختويه ثنا أبو يحيى بن أبي ميسرة المكي ثنا يحيى بن محمد الكاري ثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا اعتم سدل عمامته بين كتفيه قال عبد الله : ورأيت القاسم و سالم يفعلان ذلك قال نافع رأيت عبد الله يسدل عمامته من خلف تابعه أبو مصعب عن الدراوردي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد حسن بن محمد بن سختویہ نے ان کو ابو یحییٰ بن ابو مسرہ مکی نے ان کو یحییٰ بن محمد کاری نے ان کو عبدالعزیز بن محمد دراوردی نے ان کو عبیداللہ بن عمر نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عمامہ باندھتے تھے تو عمامے کے طرے یا سرے کو دونوں کندھوں کے مابین لٹکاتے تھے۔ عبداللہ نے کہا کہ میں نے قاسم اور سالم کو دیکھا کہ وہ بھی یہی عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والا کرتے تھے۔ حضرت نافع نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر کو دیکھا کہ وہ بھی یہی عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والا کرتے تھے۔ حضرت نافع نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر کو دیکھا کہ وہ بھی اپنے عمامے کو پیچھے لٹکاتے تھے۔ ابو مصعب نے دراوردی سے اس سے متابع حدیث بیان کی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَارِيَّ، ← أبو يحيى بن أبي ميسرة المكي ← أبو محمد الحسن بن محمد بن سختويه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate turbans · Hadith 6250

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في العمائم · حديث 6251

6252 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا المعمر بن الحسن بن علي حدثني أبو كامل ثنا أبو معشر البراء ثنا خالد الحذاء حدثني أبو عبد السلام قال : سألت ابن عمر كيف كان النبي صلى الله عليه و سلم يعتم قال : كان يدير العمامة على رأسه ويغرزها من ورائه ويرسل لها ذؤابة بين كتفيه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو معمر بن حسن بن علی نے ان کو ابو کامل نے ان کو ابو معشر براء نے ان کو خالد حذاء نے ان کو ابو عبد السلام نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حضور عمامہ کیسے باندھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ عمامے کو سر کے اوپر بل دینے کے لئے گھماتے جاتے تھے اور پیچھے کی طرف اس کے سرے کو بل کے اندر دیتے تھے۔ اور اس کے اوپر کے سروں کو دونوں کندھوں کے درمیان لٹکا لیتے تھے۔

سألت ابن عمر كيف كان النبي صلى الله عليه و سلم يعتم ← أَبُو عَبْدِ السَّلَامِ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ ← أَبُو کَامِلٍ ← المعمر بن الحسن بن علي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate turbans · Hadith 6251

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في العمائم · حديث 6252

6253 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا محمد بن إسماعيل مولى بني هاشم ثنا عثمان بن عثمان الغطفاني ثنا سليمان بن خربوذ ثنا شيخ من أهل المدينة قال : سمعت عبد الرحمن بن عوف يقول : عممني رسول الله صلى الله عليه و سلم فسدلها بين يدي ومن خلفي

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو محمد بن اسماعیل مولیٰ بنی ہاشم نے ان کو عثمان بن عثمان غطفانی نے ان کو سلیمان بن خربوذ نے ان کو مدینے کے ایک شیخ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبدالرحمٰن بن عوف سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عمامہ بندھوایا تھا اور اس کا سرا لٹکایا تھا آگے بھی اور میرے پیچھے بھی۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ خَرَّبُوذَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُثْمَانَ الْغَطَفَانِيُّ ← محمد بن إسماعيل مولى بني هاشم ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate turbans · Hadith 6252

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في العمائم · حديث 6253

6254 - وأخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن و أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو العباس الأصم ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني عثمان بن عطاء الخراساني عن أبيه عن رجلا أتى ابن عمر وهو في مسجد منى فسأله : عن إرخاء طرف العمامة فقال له عبد الله : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث سرية وأمر عليها عبد الرحمن بن عوف وعقد لواء فذكر الحديث إلى أن قال : وعلى عبد الرحمن بن عوف عمامة من كرابيس مصبوغة بسواد فدعاه رسول الله صلى الله عليه و سلم فحل عمامته ثم عممه بيده وأفضل عمامته موضع أربع أصابع أو نحو ذلك فقال : هكذا فاعتم فإنه أحسن وأجمل

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن نے اور ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی عثمان بن عطا خراسانی نے ان کو ان کے والد نے کہ ایک آدمی آیا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس وہ منٰی کی مسجد میں لیٹے ہوئے تھے اس نے ان سے عمامے کے کناروں اور سروں کو لٹکانے کے بارے میں دریافت کیا۔ حضرت عبداللہ نے ان کو جواب دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جہادی وفد بھیجا تھا اور ان پر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کو امیر بنایا تھا اور جھنڈ اباندھ کر دیا تھا اور۔ پھر اس نے حدیث کو ذکر کیا یہاں تک کہ کہا کہ اس وقت عبدالرحمٰن بن عوف کے سر پر سوتی کپڑے کا عمامہ تھا جس کو کالے رنگ سے رنگا گیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور بلا کر اس کا عمامہ تار دیا، پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے عبدالرحمٰن و عمامہ بندھوایا تھا اور اس کے عمامے سے چار انگشت کے برابر بڑھا دیا تھا یعنی سرے کو یا اس کے قریب قریب اور فرمایا اسی طرح عمامہ باندھا جاتا ہے بے شک یہ بہت اچھا بھی ہے اور خوبصورت بھی۔

إرخاء طرف العمامة فقال له عبد الله ← رجلا أتى ابن عمر وهو في مسجد منى فسأله ← أَبِيهِ ← عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← وأخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate turbans · Hadith 6253

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في العمائم · حديث 6254

6255 - أخبرنا أبو بكر و أبو زكريا ثنا أبو العباس ثنا بحر ثنا ابن وهب ثنا إسماعيل بن عياش عن محمد بن يوسف عن السائب بن يزيد قال : أرأيت عمر بن الخطاب يوم عيد معتما قد أرخى عمامته من خلفه وقال إسماعيل وحدثني محمد بن يوسف عن أبي رزين قال : شهدت علي بن أبي طالب يوم عيد معتما قد أرخى عمامته من خلفه والناس مثل ذلك قال إسماعيل : وحدثني عمر بن يحيى قال : رأيت واثلة بن الأسقع معتما قد أرخى عمامته من خلفه ذراعا

ہمیں خبر دی ابو بکر اور ابو بکر زکریا نے ان کو ابو العباس نے ان کو بحر نے ان کو ابن وہب نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو محمد بن یوسف نے ان کو سائب بن یزید نے وہ کہتے ہیں کہ کیا آپ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عید کے دن پگڑی باندھے ہوئے دیکھا تھا۔ تحقیق انہوں نے اس کے سرے کو اپنے پیچھے کی طرف لٹکایا ہوا تھا۔ اور کہا اسماعیل نے اور مجھے حدیث بیان کی ہے محمد بن یوسف نے ابو رزین سے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس عید کے دن حاضر ہوا وہ پگڑی باندھے ہوئے تھے انہوں نے عمامے کو پیچھے کی طرف لٹکایا ہوا تھا۔اور لوگوں نے بھی اسی طرح کیا ہوا تھا۔ اور کہا اسماعیل نے۔ مجھے حدیث بیان کی ہے عمر بن یحییٰ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا حضرت واثلہ بن اسقع کو پگڑی باندھے ہوئے تھے اور اس کے سرے کو ایک ہاتھ کے برابر اپنے پیچھے کی طرف لٹکایا ہوا تھا۔

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بَحْرٌ ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أبو بكر و أبو زكريا

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate turbans · Hadith 6254

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في العمائم · حديث 6255

6256 - أخبرنا أبو بكر و أبو زكريا ثنا أبو العباس ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني سفيان الثوري عن أبي وائل قال : رأيت عبد الله بن عمر معتما قد أرخى عمامته من قبل ظهره 6256 - مكرر ـ قال : وأخبرني عبد الله بن عمر عن نافع : أن ابن عمر كان إذا تعمم أرخى عمامته بين كتفيه

ہمیں خبر دی ابو بکر اور ابو زکریا نے ان کو ابو العباس نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی ہے سفیان ثوری نے ان کو ابو وائل نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کودیکھا پگڑی باندھے ہوئے تھے انہوں نے عمامہ پیٹھ کی طرف لٹکایا ہوا تھا۔ (یعنی سرایا طرہ) مکر رہے۔ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو نافع نے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ جب عمامہ باندھتے تھے تو اپنے عمامے کے سرے کو دونوں کندھوں کے درمیان لٹکاتے تھے۔

نَافِعٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← رأيت عبد الله بن عمر معتما قد أرخى عمامته من قبل ظهره مكرر ← أَبِي وَائِلٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أبو بكر و أبو زكريا

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate turbans · Hadith 6255

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في العمائم · حديث 6256

6257 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر أحمد بن الحسن ثنا أبو العباس الأصم ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني عبد الله بن عمر عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة أنها قالت : رأيت رجلا يوم الخندق على صورة دحية بن خليفة الكلبي على دابة يناجي رسول الله صلى الله عليه و سلم وعليه عمامة قد أسدلها خلفه فسألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عنه قال : كان ذلك جبريل عليه السلام أمرني أن أخرج إلى بني قريظة وقد قيل عن عبد الله بن عمر عن أخيه عن القاسم وقيل غير ذلك

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحاق نے اور ابو بکر احمد بن حسن نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو جیری عبداللہ بن عمر نے ان کو عبدالرحمٰن بن قاسم نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو جنگ خندق کے دن دیکھا جو دحیہ بن خلیفہ کلبی کی شکل وصورت پر تھا اور سواری پر سوار تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سرگوشی کر رہا تھا اس سوار کے سر پر عمامہ تھا اور اس کے سرے کو اس نے پیچھے کی طرف لٹکایا ہوا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھاتو آپ نے فرمایا: یہ جبرائیل علیہ السلام تھے مجھے انہوں نے آ کر حکم دیا کہ میں بنو قریظہ کی طرف نکلوں اور کہا گیا ہے کہ مروی ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے اپنے بھائی سے اس نے قاسم سے اور علاوہ اس کے بھی کہا گیا ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate turbans · Hadith 6256

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في العمائم · حديث 6257

6258 - أخبرنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا قتيبة بن سعيد ثنا محمد بن ربيعة ثنا أبو الحسن العسقلاني عن أبي جعفر بن محمد بن علي بن ركانة عن أبيه : أن ركانة صارع النبي صلى الله عليه و سلم فصرعه النبي صلى الله عليه و سلم قال ركانة : وسمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : فرق الله ما بيننا وبين المشركين العمائم على القلانس

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے اور ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کوقتیبہ بن سعید نے ان کو محمد بن ربیعہ نے ان کو ابو الحسن عسقلانی نے ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن رگانہ نے ان کوان کے والد نے کبہ رکانہ (نامی پہلوان) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کشتی لڑ کر گرانے اور چیت کرنے کی کوشش کی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو گرا کر چت کر دیا۔ رکانہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے۔ ہمارے درمیان اور مشرکین کے درمیان فرق جو ہے وہ ٹوپیوں پر عمامے باندھنے کا ہے۔

أَبِيهِ ← أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُکَانَةَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate turbans · Hadith 6257

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في العمائم · حديث 6258

6259 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا سعيد بن عثمان الأهواوزي ثنا يزيد بن الحرش ثنا عبد الله بن خراش عن العوام بن حوشب عن إبراهيم التيمي عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يلبس قلنسوة بيضاء تفرد به ابن خراش هذا وهو ضعيف

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو سعید بن عثمان اہوازی نے ان کو یزید بن حرش نے ان کو عبداللہ بن حراش نے عوام بن حوشب سے اس نے ابراہیم تیمی سے اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفید ٹوپی پہنا کرتے تھے۔ ابن خراش اس روایت میں منفر د ہے اور وہ ضعیف بھی ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ خِرَاشٍ ← يزيد بن الحرش ← سعيد بن عثمان الأهواوزي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate turbans · Hadith 6258

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في العمائم · حديث 6259

6260 - أخبرنا أبو سعيد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي ثنا محمد بن أحمد بن حرب ثنا إسماعيل بن سعيد ثنا إسماعيل بن عمر أبو المنذر ثنا يونس بن أبي إسحاق قال : حدثني ابن عيسى عن عبيد الله بن أبي حميد عن أبي المليح عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اعتموا تزدادوا حلما والعمائم تيجان العرب قال أبو أحمد : لم يحدث به إلا إسماعيل بن عمر عن يونس

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو محمد بن احمد بن حرب نے ان کو اسماعیل بن سعید سے اس نے اسماعیل بن عمر سے ان کو ابو المنذر نے ان کو یونس بن ابی اسحاق نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے۔ ابن عیسیٰ نے ان کو عبیداللہ بن ابو حمید نے ان کو ابو الملیح نے ان کوان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمامے باندھو بڑھ جاؤ گے باعتبار حوصلے کے اور عمامے عربوں کے تاج ہیں ۔ابو احمد نے کہا یہ حد یث اسماعیل بن عمر نے یونس سے بیان کی ہے اس کے علاوہ کسی نے نہیں کی۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ← ابْنُ عِيسَی ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ أَبُو الْمُنْذِرِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ ← محمد بن أحمد بن حرب ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate turbans · Hadith 6259

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في العمائم · حديث 6260

6261 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان ثنا أحمد بن يوسف ثنا محمد بن يوسف ثنا سفيان عن ثور عن خالد بن معدان قال : أتي النبي صلى الله عليه و سلم بثياب من الصدقة فقسمها بين أصحابه فقال : اعتموا خالفوا على الأمم قبلكم هذا منقطع

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے۔ ان کو ابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو محمد بن یوسف نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو خالد بن معدان نے (وہ کہتے ہیں) کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کے کپڑے آئے آپ نے ان کو اپنے اصحاب کے درمیان تقسیم کر دیا اور فرمایا کہ عمامے باندھو اور اپنے سے پہلی امتوں کی مخالفت کرو۔ یہ روایت منقطع ہے۔

خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate turbans · Hadith 6260

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في العمائم · حديث 6261

6262 - وأخبرنا أبو سعيد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ أنا عبد العزيز بن سليمان ثنا يعقوب بن كعب ثنا عيسى بن يونس عن الأحوص بن حكيم عن خالد بن معدان عن عبادة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عليكم بالعمائم فإنها سيما الملائكة وأرخوا لها خلف ظهوركم

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو عبدالعزیز بن سلیمان نے ان کو یعقوب بن کعب نے ان کو عیسیٰ بن یونس نے ان کو احوص بن حکیم نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو عبادہ نے (وہ کہتے) ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ عماموں کو لازم پکڑو بے شک وہ فرشتوں کی علامت ہے۔ اور لٹکاؤ ان کو اپنی پشت کے پیچھے۔

عبادة ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← يَعْقُوبُ بْنُ کَعْبٍ ← عبد العزيز بن سليمان ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate turbans · Hadith 6261

chevron_left Previous
1…575859…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood