Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما كان يلبسه رسول الله صلى الله عليه و سلم من الثياب وما كان يختار لبسه ويرغب فيه · حديث 6238

6239 - وروينا عن أبي رمثة قال : انطلقت مع أبي نحو النبي صلى الله عليه و سلم فرأيت عليه بردين أخضرين قال الشيخ : وقد ذكرنا أسانيد هذه الأحاديث في كتاب السنن وغيره

اور ہم نے روایت کیا ابو رمثہ سے اس نے کہا میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا میں نے دیکھا کہ آپ دو ہری چادریں پہنے ہوئے تھے۔ شیخ نے کہا کہ ہم نے ان احادیث کی سندیں کتاب السنن وغیرہ میں ذکر کر دی ہیں۔

أَبِي رِمْثَةَ ← وَرُوِّينَا

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on what the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, used to wear and what he chose to wear and desired · Hadith 6238

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما كان يلبسه رسول الله صلى الله عليه و سلم من الثياب وما كان يختار لبسه ويرغب فيه · حديث 6239

6240 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و عبد الرحمن بن أبي حامد المقري ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا عبد الله بن محمد بن شاكر ثنا يزد بن الحباب ثنا عبد المؤمن بن خالد ثنا عبد الله بن بريدة قال : سمعت أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه و سلم تقول : ما كان شيء أحب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم من القميص وكذلك رواه ابن موسى عن عبد المؤمن

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور عبدالرحمٰن بن ابوحامد مقری نے ان کو ابو العباس بن محمد بن یعقوب نے ان کو عبداللہ بن محمد بن شاکر نے ان کو زید بن حباب نے ان کو عبدالمؤمن بن خالد نے ان کو عبداللہ بن بریدہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اُم سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرماتی تھیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو (لباس میں سے) قمیص سب سے زیادہ پسند تھی اور کوئی شئی نہیں تھی۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے موسیٰ نے عبدالمؤمن سے۔

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on what the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, used to wear and what he chose to wear and desired · Hadith 6239

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما كان يلبسه رسول الله صلى الله عليه و سلم من الثياب وما كان يختار لبسه ويرغب فيه · حديث 6240

6241 - و أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا زياد بن أيوب ثنا أبو تميلة حدثني عبد المؤمن بن خالد عن عبد الله بن بريدة عن أم سلمة قالت : لم يكن ثوب أحب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم من القميص

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو زیاد بن ابو ایوب نے ان کو ابو تمیلہ نے ان کو عبد المؤمن بن خالد نے ان کو عبداللہ بن بریدہ نے ان کو اُم سلمہ نے وہ کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قمیص سے زیادہ پسندیدہ کوئی کپڑا نہیں تھا۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ ← أَبُو تُمَيْلَةَ ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on what the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, used to wear and what he chose to wear and desired · Hadith 6240

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما كان يلبسه رسول الله صلى الله عليه و سلم من الثياب وما كان يختار لبسه ويرغب فيه · حديث 6241

6242 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا النفيلي و أحمد بن يونس ثنا زهير ثنا عروة بن عبد الله قال النفيلي : ابن قشير أبو مهل الجعفي حدثني معاوية بن قرة حدثني أبي قال : أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم في رهط من مزينة فبايعناه وإن قميصه لمطلق الأزرار قال : فبايعناه ثم أدخلت يدي في جيب قميصه فمسست الخاتم قال عمرو : فما رأيت معاوية ولا ابنه إلا مطلقي أزرارهما في شتاء ولا حر ولا يزران أزرارهما أبدا

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو نفیلی اور احمد بن یونس نے ان کو زبیر نے ان کو عروہ بن عبداللہ نے۔ نفیلی نے کہا کہ ابن قشیر ابو مہل جعفی نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے معاویہ بن قرہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں مزینہ کے ایک گروہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ہم نے ان کے ساتھ بیعت کی (میں نے دیکھا کہ آپ کی قمیص کا گربباں کھلا ہوا تھا بٹن کھلے ہوئے تھے۔) کہتے ہیں کہ ہم نے ان سے بیعت کی اس کے بعد میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص کے گلے سے ہاتھ داخل کیا اور مہر نبوت کو چھوا(جو دونوں کندھوں کے درمیان تھی۔)عمرو کہتے ہیں کہ میں نے جب بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یا ان کے بیٹے کو دیکھا تو ان کی قمیص کے گلے کے بٹن کھلے ہوئے تھے سردی میں بھی اور گرمی میں بھی وہ اپنے بٹن کبھی بند نہیں کرتے تھے۔

أَبِي ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← النفيلي ابن قشير أبو مهل الجعفي ← عُرْوَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← زُهَيْرٍ ← النفيلي و أحمد بن يونس ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on what the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, used to wear and what he chose to wear and desired · Hadith 6241

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما كان يلبسه رسول الله صلى الله عليه و سلم من الثياب وما كان يختار لبسه ويرغب فيه · حديث 6242

6243 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا الحسن بن علي بن بشر بن المتوكل ثنا عاصم ثنا أبو خيثمة زهير بن معاوية ثنا عروة بن عبد الله بن قشير عن معاوية بن قرة عن أبيه قال : أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم في رهط من مزينة فبايعناه فرأيته مطلق القميص فأدخلت يدي في جيبه فمسست الخاتم قال : فما رأيت معاوية ولا ابنه في شتاء ولا صيف إلا مطلق قميصهما 6243 - مكرر ـ أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الصغاني ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن أيوب قال : كانت الشهرة فيما مضى في تذييلها فالشهرة اليوم في تقصيرها

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو حسن بن علی بن متوکل نے ان کو عاصم نے ان کو ابو خثیمہ زہیر بن معاویہ نے ان کو عروہ بن عبداللہ بن قشیر نے ان کو معاویہ بن قرہ نے ان کے والد سے وہ کہتے ہیں کہ میں قبیلہ مزینہ کے ایک وفد کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ ہم نے ان کی بیعت کی میں نے دیکھا کہ ان کی قمیص کھلی ہوئی تھی میں نے ہاتھ میں کے گلے سے ڈال کر مہر نبوت کو چھوا میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو اور ان کے بیٹے کو گرمی میں دیکھایا سردی میں ہر حال میں ان کے قمیض کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔ مکر رہے۔ ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن علی صنعانی نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ دور میں شہرت دامن نیچا کرنے میں ہوتی تھی اب دامن چھوٹا کرنے میں ہے۔ (یعنی لوگ لمبی قمیص پہنتے تھے)۔

أَبِيهِ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُشَيْرٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← عَاصِمٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بِشْرِ بْنِ الْمُتَوَكِّلِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on what the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, used to wear and what he chose to wear and desired · Hadith 6242

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما كان يلبسه رسول الله صلى الله عليه و سلم من الثياب وما كان يختار لبسه ويرغب فيه · حديث 6243

6244 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار ثنا زكريا بن دلويه ثنا فتح بن الحجاج ثنا حفص بن عبد الرحمن ثنا عبد الرحمن بن زياد الأفريقي عن الأغر أبي مسلم عن أبي هريرة قال : دخلت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم السوق فقعد إلى البزازين فاشترى سراويل بأربعة دراهم قال : وكان لأهل السوق رجل يزن بينهم الدراهم يقال له فلان الوزان قال : فجيء به يزن ثمن السراويل فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : اتزن وارجع فقال له الوزان هذا القول ما سمعته من أحد من الناس فمن هذا الرجل قال أبو هريرة قلت حسبك من الرهن والجفاء في دينك أن لا تعرف نبيك قال : فقال رسول الله فأخذها ليقبلها يعني يده فجذبها رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال مه إنما يفعل هذا الأعاجم بملوكها وإني لست بملك وإنما أنا رجل منكم قال : ثم جلس فاتزن الدراهم وارجح كما أمره النبي صلى الله عليه و سلم قال : فلما انصرفنا تناولت السراويل من رسول الله صلى الله عليه و سلم لأحملها عنه فمنعني وقال : صاحب الشيء أحق بحمله إلا أن يكون ضعيفا بعجز عنه فيعينه عليه أخوه المسلم قلت يا رسول الله إنك لتلبس السراويل قال : نعم بالليل والنهار وفي السفر والحضر قال الأفريقي فشككت في قوله مع أهله إني أمرت بالتستر فلم أجد ثوبا بأستر من السراويل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان و ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن دینار نے ان کو زکریا بن دلویہ نے ان کو فتح بن حجاج نے ان کو حفص بن عبدالرحمٰن نے ان کو عبدالرحمٰن بن زیاد افریقی نے اغر ابو مسلم سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بازار میں گیاآپ کپڑا فروشوں کے پاس جا کر بیٹھے آپ نے چار دراہم کی شلوار یا (پاجامہ) خرید کیا۔ اور اہل بازار کا ایک آدمی مقرر کیا ہواتھا جو کہ ان کے لئے درا ہم کو تولتا تھا اسے فلاں تولہ (تولنے والا) کہتے تھے اس کو بلایا گیا شلوار کے دراہم کا وزن کرنے کے لئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو لو مگر جھکتا ہوا تولنا۔ اس تولنے والے نے کہا کہ میں نے لوگوں میں سے کسی سے بھی یہ بات نہیں سنی یہ کون آدمی ہے جو یہ کہتا ہے؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا تم ان کو نہیں جانتے تو پھر تیرا دین میں بے کار ہونا اور دین سے اتنی دور ہونا تمہارے لئے کافی ہے۔ کہ تو اپنے نبی کو نہیں پہچانتا۔ اس نے کہا: واقعی یہ رسول اللہ ہیں؟ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا بوسہ دینے کے لئے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بھی لیا اور فرمایا ٹھہر جا ایسا نہ کر یہ کام عجمی کرتے ہیں اپنے بادشاہوں کے ساتھ میں بادشاہ نہیں ہوں میں ایک آدمی ہوں تم میں سے۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر اس نے دراہم کو جھکتا ہوا وزن کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا تھا۔ جب ہم لوگ بازار سے واپس ہے تو میں نے وہ خریدی ہوئی شلوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے لینا چاہی تاکہ میں اسے آپ کی طرف سے اٹھا کر چلوں مگر آپ نے مجھے لینے سے منع فرما دیا اور فرمایا کہ صاحب چیز اس کو اٹھانے کا زیادہ حق رکھتا ہے (یا اپنی چیز کو خود اٹھانے کا اس پر زیادہ حق ہے) ہاں مگر یہ کہ وہ ضعیف ہوا سے اٹھانے سے عاجز ہو تو پھر اس کا مسلمان بھائی اس کی مدد کرے۔میں نے کہا یا رسول اللہ ! بے شک آپ اب البتہ شلوار پہنیں گے؟ فرمایا: جی ہاں رات میں بھی اور دن کو بھی سفر میں بھی اور گھر میں بھی۔ افریقی کہتے ہیں کہ میں نے شک کیا ہے آپ کے قول کے بارے میں یعنی کہ اپنے گھر والوں کے ساتھ۔ بے شک مجھے حکم ملا ہے سُتر اچھی طرح سے ڈھانکنے کا اور میں ایسا کوئی کپڑا نہیں پاتا ہوں جو شلوار ے زیادہ ستر ڈھکتا ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْاَغَرِّ اَبِیْ مُسْلِمٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ الْأَفْرِيقِيِّ، ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← فتح بن الحجاج ← زكريا بن دلويه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on what the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, used to wear and what he chose to wear and desired · Hadith 6243

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما كان يلبسه رسول الله صلى الله عليه و سلم من الثياب وما كان يختار لبسه ويرغب فيه · حديث 6244

6245 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا عبيد الله هو ابن موسى عن الحسن بن صالح عن مسلم عن مجاهد عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم جلس عند الكعبة فضم رجليه ووصفه عبيد الله واحتبى بيده

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو عبیداللہ نے یعنی ابن موسیٰ نے ان کو حسن بن صالح نے ان کو مسلم نے ان کو مجاہد نے ان کو ابو ہریرہ نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے پاس بیٹھے تھے آپ نے اپنی دونوں ٹانگیں سمیٹ کر جسم کے ساتھ لگائی ہوئی تھیں اور عبیداللہ نے اس کی کیفیت یہ بیان کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے احتباء کیا ہوا تھا۔ یعنی ٹانگوں کو ہاتھوں اور باھوں میں لپیٹا ہوا تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُجَاهِدٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مُوسَی ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › A chapter on what the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, used to wear and what he chose to wear and desired · Hadith 6244

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في العمائم · حديث 6245

6246 - أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن دلويه الدقاق ثنا أبو الأزهر أحمد بن الأزهر بن منيع ثنا أرطأة بن حبيب ثنا شريك و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن محمد بن موسى ثنا محمد بن أيوب أنا علي بن حكيم أنا شريك عن عمار الدهني عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله : أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل مكة يوم فتح مكة وعليه عمامة سوداء وفي رواية العلوي دخل النبي صلى الله عليه و سلم يوم فتح مكة ورواه مسلم عن علي بن حكيم الأزدي

ہمیں خبر دی ابو الحسن علوی نے ان کو ابو بکرمحمد بن احمد بن دلویہ دقاق نے ان کو ابو الازہر احمد بن ازہر بن منیع نے ان کو ارطاۃ بن حبیب نے ان کو شریک نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن محمد بن موسیٰ نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو علی بن حکیم نے ان کو شریک نے ان کو عمار دھنی نے ان کو ابو الزبیر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکے میں داخل ہوئے تو اس وقت ان کے سر پر سیاہ پگڑی بندھی ہوئی تھی۔ اور علوی کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے الخ۔ اس کومسلم نے روایت کیا ہے علی بن حکیم ازدی سے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← شَرِيکٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← شَرِيکٌ و ← أرطأة بن حبيب ← أبو الأزهر أحمد بن الأزهر بن منيع ← أبو بكر محمد بن أحمد بن دلوية الدقاق ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate turbans · Hadith 6245

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في العمائم · حديث 6246

6247 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أبو سعيد الحسن بن علي بن بحر البري ثنا أبي ثنا حكام بن سالم الرازي ثنا سعيد بن سائق عن عمار بن أبي معاوية عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله قال : كانت عمامة رسول الله صلى الله عليه و سلم سوداء يوم ثنية الحنظل وذلك يوم الخندق

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو سعید حسن بن علی بن بحر بری نے ان کو ان کے والد نے ان کو حکام بن سالم رازی نے ان کو سعید بن سائق نے ان کو عمار بن ابو معاویہ نے ان کو ابو الزبیر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ ثنیۃ الحنظل والے دن یعنی جنگ خندق والے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمامہ مبارک سیاہ تھا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عمار بن أبي معاوية ← سعيد بن سائق ← حكام بن سالم الرازي ← أَبِي ← أبو سعيد الحسن بن علي بن بحر البري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate turbans · Hadith 6246

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في العمائم · حديث 6247

6248 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا جعفر بن محمد و محمد بن عبد السلام ثنا يحيى بن يحيى أنا وكيع قال : وأخبرنا أبو الفضل بن إبراهيم ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا وكيع عن مساور الوراق قال : وكأني أنظر إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وعليه عمامة سوداء قد أرخى طرفيها بين كتفيه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو جعفر بن محمد اور محمد بن عبدالسلام نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو وکیع نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو وکیع نے ان کومساور وراق نے وہ کہتے ہیں کہ ایسے لگتا ہے جیسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں اور ان کے سر پر سیاہ عمامہ ہے اور آپ نے اس کے دونوں سرے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں۔

مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← وَكِيعٌ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← جعفر بن محمد و محمد بن عبد السلام ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate turbans · Hadith 6247

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في العمائم · حديث 6248

6249 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عمرو بن أبي جعفر أنا الحسن بن سفيان ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا أبو أسامة : فذكره رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر و الحلواني غير أن الحلواني قال : في روايته على المنبر ولم يقله أبو بكر ورواه أبو معمر الهذلي عن أبي أسامة فقال : وعليه عمامة سوداء مرقانية قد أرخى عليه طرفيها بين كتفيه وقال : يوم فتح مكة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو عمرو بن ابو جعفر نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو ابو بکر بن ابو شیبہ نے ان کو ابو اسامہ نے پھر اس نے اسے ذکر کیا ہے۔اس کومسلم نے روایت کیا ہے۔ صحیح میں ابو بکر سے اور حلوانی سے سوائے اس کے کہ حلوانی نے کہا ہے اپنی روایت میں گویا کہ میں آپ کو منبر پر دیکھ رہا ہوں۔اور ابو بکر نے یہ الفاظ نہیں کہے۔ اور اس کو روایت کیا ہے ابو عمر ہذلی نے ان کو ابو اسامہ نے۔انہوں نے بھی کہا کہ ان پر سیاہ عمامہ ڈیزائن دارسرے والا تھا اور آپ نے اس کے دونوں سرے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکائے ہوئے تھے اور اس نے یہ بھی کہا کہ فتح مکہ کے دن۔

يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ← وعليه عمامة سوداء مرقانية قد أرخى عليه طرفيها بين كتفيه ← أَبِي أُسَامَةَ ← في روايته على المنبر ولم يقله أبو بكر ورواه أبو معمر الهذلي ← أبي بكر و الحلواني غير أن الحلواني ← أبو أسامة فذكره رواه مسلم في الصحيح ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate turbans · Hadith 6248

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في العمائم · حديث 6249

6250 - أخبرناه محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ ثنا محمد بن إسحاق الثقفي ثنا أبو معمر الهذلي : فذكره

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے انہیں محمد بن یعقوب حافظ نے انہیں محمد بن اسحاق ثقفی نے انہیں ابو معمر الہذلی نے پھر اس کے مثل ذکر فرمایا۔

أبو معمر الهذلي فذكره ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ← محمد بن يعقوب الحافظ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate turbans · Hadith 6249

chevron_left Previous
1…565758…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood