Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن كان متوسعا ثوبا حسنا ليرى أثر نعمة الله عليه · حديث 6202

6203 - وحدثنا أبو الحسن العلوي إملاء أنا أبو بكر محمد بن الحسين بن الخليل القطان : فذكره بإسناده ونحوه وفي الإسناد ضعف

ہمیں حدیث بیان کی ابو الحسن علوی نے بطور املا ء کے ان کو ابو بکرمحمد بن حسین بن خلیل قطان نے اس نے اسے ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ اور اس اسناد میں ضعف ہے۔

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate the one who was well dressed to see the effect of God’s blessing on him · Hadith 6202

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن كان متوسعا ثوبا حسنا ليرى أثر نعمة الله عليه · حديث 6203

6204 - أخبرنا أبو الحسين بن محمد الروذباري أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا جعفر بن عون بن جعفر بن عمرو بن حريث أنا هشام بن سعد عن قيس بن بشر الثعلبي قال : كان أبي جليسا لأبي الدرداء بدمشق قال : فكان بدمشق رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم يقال له ابن الحنظلية الأنصاري وكان رجلا متوحدا لا يكاد يجالس الناس إنما هو الصلاة فإذا انصرف فإنما هو تسبيح وتكبير وتهليل حتى يأتي أهله قال : فمر بنا يوما ونحن عند أبي الدرداء فسلم فقال أبو الدرداء : كلمة تنفعنا ولا تضرك قال : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم سرية فلما قدمت جاء رجل منهم فجلس في المجلس الذي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لرجل إلى جنبه : لو رأيتنا حين لقيتا العدو وجمل رجل فقال : خذها وأنا الغلام الغفاري قال : ما أراه إلا قد أبطل أجره فقال رجل إلى جنبه : ما أرى بهذا بأسا فتنازعوا في ذلك واختلفوا حتى سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : سبحان الله وما على هذا الرجل أن يؤجر ويحمد قال : فلقد رأيت أبا الدرداء سر بذلك قلت : فبرك على ركبتيه يقول : سمعته يقول : هذا نعم : نعم ثم مر بنا يوما آخر فقال أبو الدرداء كلمة تنفعنا ولا تضرك فقال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المنفق على الخيل في سبيل الله كباسط يده بالصدقة لا يقبضها قال : نعم مر بنا يوما آخر فقال أبو الدرداء كلمة تنفعنا ولا تضرك فقال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم الرجل خريم يعني ابن فاتك لولا طول جمته وإسباله إزاره فبلغ ذلك خريما فعجل فأخذ الشفر فقطع جمته إلى فوق أذنيه ورفع ثيابه إلى أنصاف ساقيه قال : فأخبرني أبي قال : دخلت على معاوية وهو على السرير وإلى جنبه شيخ جمته إلى فوق أذنبه وثيابه إلى أنصاف ساقيه فقلت : من هذا قالوا : خريم قال : ثم مر بنا يوما آخر فقال له أبو الدرداء : كلمة تنفعنا ولا تضرك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنكم قادمون على إخوانكم فأصلحوا نعالكم أو قال : رحالكم وأحسنوا لباسكم حتى تكونوا كأنكم شامة في الناس فإن الله عز و جل لا يحب الفحش ولا التفحش

ہمیں خبر دی ابو علی حسین بن محمد روذباری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو جعفر بن عون بن جعفر بن عمرو بن حریث نے ان کو ہشام بن سعد نے ان کو قیس بن بشر ثعلبی نے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد دمشق میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے اور دمشق میں ایک صحابی رسول رہے تھے جسے ابن الحنظلیہ انصاری کہا جاتا تھا۔ اور وہ زبردست توحیدی آدمی تھے۔لوگوں کے پاس نہیں بیٹھتا تھا بس وہ شخص مجسم نماز تھا جب نماز سے ہٹتا تو وہ تسبیح تکبیر تہلیل کرتا تھا یہاں تک کہ وہ گھر میں آ جاتا۔ کہتے ہیں کہ وہ ایک دن ہمارے پاس سے گزرے اور ہم ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ اس نے سلام کیا تو حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا۔ آپ ہمیں ایسا کلمہ بتائیے جو ہمیں فائدہ دے اور آپ کو کوئی نقصان نہ دے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے لئے ایک جماعت کو روانہ کیا تھا۔ جب وہ لوگ واپس آئے تو ان میں سے ایک آدمی اس مجلس میں آ کر بیٹھا جہاں رسول اللہ رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے۔ اس نے اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی سے کہا۔ کاش کہ آپ ہم لوگوں کود یکھتے جب ہم دشمن سے ٹکرائے تھے اس نے کہا کہ اس کو یاد رکھئے۔ اور ہمیں خبر دی ایک غفاری لڑکے نے کہا کہ میں تو سمجھتا ہوں کہ اس نے یہ کہ کر اپنا اجر ضائع کر دیا ہے اس آدمی نے کہا جو اس کے پہلو میں تھا۔ میں اس بارے میں حرج نہیں سمجھتا۔ انہوں نے اس بارے میں باہم اختلاف کیا یہاں تک کہ رسول اللہ نے سن لیا اور فرمایا سبحان اللہ کوئی حرج نہیں ہے اس آدمی پر کہ اجر بھی دیا جائے اور تعریف بھی کیا جائے راوی کہتا ہے کہ میں نے ابو درداء کو دیکھا کہ وہ اس سے خوش ہوئے۔ میں نے کہا وہ دو زانوں بیٹھ گئے۔ کہتے ہیں کہ میں نے سنا وہ کہتے رہے تھے کہ آپ نے سنا تھا کہ آپ یہی فرما رہے تھے اس نے کہا کہ جی ہاں۔ اس کے بعد وہ صحابی دوسرے دن گزرے ہمارے پاس تو پھر ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا کوئی ایسا کلمہ بتائیے جو ہمیں فائدہ دے اور آپ کو نقصان نہ دے اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔اللہ کی راہ میں گھوڑے پر خرچ کرنے والا اس آدمی کی طرح ہے جو صدقہ دینے کے لئے ہاتھ بڑھائے تو صدقہ کرتا ہی رہے ہاتھ کو واپس پیچھے نہ کرے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر دوسرے دن وہ ہمارے پاس سے گزرے تو پھر ابو درداء نے وہی جملہ کہا کہ کوئی ایسا کلمہ بتائیے جو ہمیں فائدہ دے اور آپ کو نقصان نہ پہنچائے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ خریم اچھا آدمی ہے یعنی ابن فاتک اگر اس کے بال زیادہ لمبے نہ ہوتے اور چادر نہ لٹکائے یہ خبر حریم تک پہنچی گئی تو اس نے جلدی سے چھری اٹھائی اور اس نے اپنے بال کا نواں کے اوپر تک کاٹ دیئے اور اپنی چادر نصف پنڈلی تک اونچی کر لی۔ راوی کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے خبر دی کہ وہ صحابی کہتے ہیں کہ میں حضرت معاویہ کے پاس گیا اور وہ تخت پر یا چارپائی پر بیٹھے تھے اور ان کے پہلو میں ایک شیخ بیٹھے تھے جن کی زلفیں کانوں کے اوپر تک تھیں اور کپڑے نصف پنڈلی تک تھے میں نے پو چھا کہ یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ خریم ہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر ایک دن وہی صحابی ہم لوگوں کے پاس سے گزرے تو حضرت ابو درداء نے یہی فرمایا: کوئی ایسا کلمہ فرمائیے جو ہم لوگوں کو فائدہ دے اور آپ کو نقصان نہ دے۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا بے شک تم لوگ اپنے بھائیوں کے پاس جا رہے ہو اپنے جوتے درست کر لو یا یوں فرمایا تھا ک تم لوگ اپنے گھروں کی طرف جا رہے ہو اپنے لباس اچھے کر لو حتٰی کہ تم ایسے ہو جاؤ جیسے تم نمایاں ہو لوگوں میں۔ بے شک اللہ تعالیٰ نہیں پسند کرتا برائی کے حد سے گزر جانے کو اور نہ ہی زبردستی برا بننے کو۔

قيس بن بشر الثعلبي ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← جعفر بن عون بن جعفر بن عمرو بن حريث ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو الحسين بن محمد الروذباري

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate the one who was well dressed to see the effect of God’s blessing on him · Hadith 6203

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن كان متوسعا ثوبا حسنا ليرى أثر نعمة الله عليه · حديث 6204

6205 - وأخبرنا أبو علي الروذباري أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا أبو صالح حدثني الليث حدثني هشام بن سعد عن رجل صدق من أهل قنسرين يقال له : قيس بن بشر أنه قال : كان أبي من جلساء أبي الدرداء فحدثني أنه كان هنالك رجل من الأنصار من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم متعبد معتزل لا يكاد يفرغ من العبادة يقال له : ابن الحنظلية فذكر الحديث بمعناه وقال : إنكم قادمون على إخوانكم فأصلحوا لباسكم ورحالكم حتى تكونوا كأنكم شامة في الناس إن الله لا يحب الفحش ولا التفحش

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو ابو صالح نے ان کو لیث نے ان کو ہشام بن سعد نے ایک بے آدمی سچے جو اہل قنسرین میں سے تھے۔ جنہیں قیس بن بشر کہتے تھے کہ اس نے کہا میرے والد حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہم نشینوں میں سے تھے انہوں نے مجھے حدیث بیان کی کہ وہاں پر انصاری میں سے ایک آدمی صحابی رسول تھا جو انتہائی عبادت گزار تھا الگ تھک رہتا تھا عبادت سے اس کو کبھی فرصت نہیں ہوتی تھی اسے ابن الحنظلیہ کہا جاتا تھا۔ والد نے حد بیث ذکر کی مذکورہ حدیث کے مفہوم میں۔ اور کہا کہ تم لوگ اپنے بھائیوں کے پاس جا رہے ہو لہٰذا تم لوگ اپنے لباس درست کر لو اور اپنے سامان درست کر لو حتٰی کہ تم لوگوں میں نمایاں نظر آؤ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نہیں پسند کرتا برائی کو نہ برا بننے کو (گندگی گونہ گندا بننے کو۔)

رجل صدق من أهل قنسرين يقال له قيس بن بشر ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate the one who was well dressed to see the effect of God’s blessing on him · Hadith 6204

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن كان متوسعا ثوبا حسنا ليرى أثر نعمة الله عليه · حديث 6205

6206 - وروينا عن عبد الله بن عمر عن أبيه : أنه كان ينهى عن أن يصبغ العصب بالبول وأنه كانت الحلة تستنسج لأصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم تبلغ الحلة ألف درهم وأكثر

ہم سے روایت کی ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس نے اپنے والد سے کہ وہ منع کرتے تھے سوت کو پیشاب کے ساتھ رنگنے سے (قدیم دور میں پیشاب کے ساتھ رنگ ملا کر کرتے تھے تو خیال کیا جاتا تھا کہ وہ پکا ہوتا ہے اسی سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے منع فرما دیا اور انہوں نے یہ بات بتائی کہ بسا اوقات اصحاب رسول کے لئے چادر بُنی جاتی تھی جو ایک ایک چادر ہزار ہزار درہم تک یا اس سے زیادہ تک پہنچ جاتی تھی۔

أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← وَرُوِّينَا

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate the one who was well dressed to see the effect of God’s blessing on him · Hadith 6205

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن كان متوسعا ثوبا حسنا ليرى أثر نعمة الله عليه · حديث 6206

6207 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و يحيى بن إبراهيم ثنا أبو العباس الأصم ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني يونس بن يزيد عن نافع عن عبد الله : فذكره والحلة التي كانوا يلبسونها ثوبان إزار ورداء ولم يكن من قز

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور یحییٰ بن ابراہیم نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی یونس بن یزید نے ان کو نافع نے ان کو عبداللہ نے پھر انہوں نے مذکورہ حدیث ذکر کی حلہ تیار کیا جاتا تھا مراد وہ ہے جسے لوگ پہنتے تھے وہ دو کپڑے ہوتے تھے ایک تہبند کے لئے چادر ہوتی تھی دوسری او پر اوڑھنے کی چادر مگر وہ ریشم کے کپڑے کے پیدا کر دو قدرتی ریشم کی نہیں ہوتی تھیں۔

نَافِعٍ ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و يحيى بن إبراهيم

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate the one who was well dressed to see the effect of God’s blessing on him · Hadith 6206

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن كان متوسعا ثوبا حسنا ليرى أثر نعمة الله عليه · حديث 6207

6208 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائقي ثنا عثمان بن سعيد ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم : كست عبد الله بن الزبير مطرف خز كانت عائشة تلبسه قال القعنبي : رأيت علي مالك قلنسوة خز خضراء

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے مالک کے سامنے پڑھی۔ اس نے ہشام بن عروہ سے اس نے اپنے والد سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے کہ انہوں نے عبداللہ بن زبیر کو چوکھونٹی کی چادر بنائی تھی جو ریشم اور اون سے بنی ہوئی تھی (جس کے چاروں طرف باڈر ہوتا تھا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کو پہناتی تھیں واضح رہے کہ یہ سیدہ کے بھانجے ہوتے تھے قعنبی نے کہا کہ میں نے مالک کے سر پر ٹوپی دیکھی جو سبز ریشم کی تھی۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِقِيُّ، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate the one who was well dressed to see the effect of God’s blessing on him · Hadith 6207

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن كان متوسعا ثوبا حسنا ليرى أثر نعمة الله عليه · حديث 6208

6209 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني بمكة ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق أنا معمر عن محمد بن زياد قال : رأيت على أبي هريرة كساء خز أغبر كساه إياه مروان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ حمد بن علی بن عبدالحمید صنعانی نے مکہ مکرمہ میں ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو محمد بن زیاد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے اوپر ریشمی چادر دیکھی جس پر غبار لگا ہوا تھا یہ ان کو مروان نے پہنائی تھی۔

رأيت على أبي هريرة كساء خز أغبر كساه إياه مروان ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني بمكة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate the one who was well dressed to see the effect of God’s blessing on him · Hadith 6208

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن كان متوسعا ثوبا حسنا ليرى أثر نعمة الله عليه · حديث 6209

6210 - وبإسناده عن معمر عن عبد الكريم الجزري قال : رأيت على أنس بن مالك جبة خز وكساء خز وأنا أطوف مع سعيد بن جبير بالبيت فقال سعيد : لو أدركوه السلف لا وجعوه

اور اپنی اسناد کے ساتھ روایت ہے معمر سے اس نے عبدالکریم جزری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک پر ریشم کا جبہ دیکھا اور ریشمی چادر بھی۔ اور میں حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ سعید نے فرمایا: اگر سلف اور پہلے حضرات اس کو پا لیتے تو اس کو سزا دیتے۔

سعيد لو أدركوه السلف لا وجعوه ← أطوف مع سعيد بن جبير بالبيت ← رأيت على أنس بن مالك جبة خز وكساء خز ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← وَبِإِسْنَادِهِ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate the one who was well dressed to see the effect of God’s blessing on him · Hadith 6209

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن كان متوسعا ثوبا حسنا ليرى أثر نعمة الله عليه · حديث 6210

6211 - وبإسناده عن معمر عن أيوب عن نافع قال : كان ابن عمر يرى بنيه يلبسون الخز فلا يعيب عليهم

معمر سے روایت ہے ان کی اسناد کے ساتھ ایوب سے اس نے نافع سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو دیکھتے تھے کہ وہ ریشم پہنتے ہیں مگر وہ ان کو عیب نہیں کہتے تھے۔ یا ان کو برا نہیں کہتے تھے۔

كان ابن عمر يرى بنيه يلبسون الخز فلا يعيب عليهم ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← وَبِإِسْنَادِهِ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate the one who was well dressed to see the effect of God’s blessing on him · Hadith 6210

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن كان متوسعا ثوبا حسنا ليرى أثر نعمة الله عليه · حديث 6211

6212 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن علي الصنعاني ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن عبد الله بن عمر قال : أخبرني وهب بن كيسان قال : رأيت ستة من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم يلبسون الخز سعد بن أبي وقاص و ابن عمر و جابر بن عبد الله و أبو سعيد و أبو هريرة و أنس

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن علی صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو عبداللہ بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے وہب بن کیسان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اصحاب رسول میں سے چھ افراد کو دیکھا جو ریشم پہنتے تھے۔ 1:حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ۔ 2:حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ۔ 3:حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ۔ 4:حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ۔ 5 :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ۔ 6: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ۔ نوٹ۔۔۔۔۔واضح رہے کہ جس ریشم کی یہ بات ہو رہی ہے یہ خزہے حریری نہیں ہے یہ خالص ریشم نہیں ہوتا بلکہ ریشم اور اون ملا کر بنایا جاتا ہے کذافی المنجد۔ (مترجم)

وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate the one who was well dressed to see the effect of God’s blessing on him · Hadith 6211

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن كان متوسعا ثوبا حسنا ليرى أثر نعمة الله عليه · حديث 6212

6213 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن علي بن الفضل بن محمد بن عقيل ثنا أبو إسحاق إبراهيم بن هاشم البغوي ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء حدثني جويرية بن أسماء عن نافع : أن ابن عمر كان ربما لبس المطرف الخز خمسمائة ردهم وقال عبد الرحمن السراج حدثني غلاب أنه دخل على أنس بن مالك وقد خرج من الحمام عليه جبة خز وكانت تقوم قياما قال : فغضب نافع وقال : أحدث عن ابن عمر وتحدث عن أنس فقال له الضحاك بن عثمان : إنه لم يقل بأسا إنما يثبت قولك ويصدقه فقال : أحدث عن ابن عمر وتحدث عن أنس

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن علی بن فضل بن محمد بن عقیل نے ان کو ابو اسحٰق ابراہیم بن ہاشم بغوی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن اسماء نے ان کو جویریہ اسماء نے ان کو نافع نے یہ کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ بسا اوقات خز کے ریشم سے بنی ہوئی چادر پہنتے تھے جس کے چاروں طرف باڈر ہوتا تھا جس کی قیمت پانچ سو درہم ہوتی تھی ۔اور عبدالرحمٰن سراج نے کہا کہ مجھے غلاب نے بتایا کہ وہ انس بن مالک کے پاس گئے جب کہ وہ اسی وقت (غسل کر کے) تمام سے باہر آئے تھے انہوں نے ریشمی جبہ پہن رکھا تھا۔ وہ جب کھڑا رہتا تھا۔ (غلاب) کہتے ہیں کہ حضرت نافع ناراض ہوئے اور کہا کہ میں بات بیان کرتا ہوں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور تم بیان کرتے ہو انس سے۔ ضحاک بن عثمان نے اس سے کہا کہ اس نے غلط نہیں کہا۔ یقیناً وہ آپ کی بات کو پکا کرتا ہے۔ اور اس کی تصدیق کرتا ہے۔ اس نے کہا ہے میں بیان کرتا ہوں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور بیان کرتے ہو حضرت انس سے۔

نَافِعٍ ← جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← أبو إسحاق إبراهيم بن هاشم البغوي ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِىُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate the one who was well dressed to see the effect of God’s blessing on him · Hadith 6212

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن كان متوسعا ثوبا حسنا ليرى أثر نعمة الله عليه · حديث 6213

6214 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا محمد بن غالب بن حرب ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا الربيع ثنا محمد بن زياد قال : رأيت على أبي هريرة مطرف خز له علم وفي علمه رقعة من حرير أخضر

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو محمد بن غالب بن حرب نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو ربیع نے ان کو محمد بن زیاد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پر ریشمی باڈر دار چادر دیکھی اس کی بکھیریں اور دھاریاں تھیں اور اس کی دھاریوں میں سبز ریشم کی ٹکڑیاں تھیں۔

مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← الرَّبِيعِ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate the one who was well dressed to see the effect of God’s blessing on him · Hadith 6213

chevron_left Previous
1…535455…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood