Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6178

6179 - حدثنا أبو سعد عبد الملك بن إبراهيم الأزدي الزاهد أنا أبو علي حامد بن محمد بن عبد الله الهروي أنا علي بن عبد العزيز ثنا مسلم بن إبراهيم الأزدي ثنا حريث بن السائب ثنا الحسن البصري ثنا حمران بن أبان عن عثمان بن عفان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل شيء فضل عن ظل بيت وكسر خبز وثوب يواري عورة ابن آدم فليس لابن آدم فيه حق قال الحسن فقلت لعمران : ما يمنعك أن تأخذ بها وكان يعجبه الجمال فقال : يا أبا سعيد إن الدنيا تقاعد بي

ہمیں حدیث بیان کی عبد الملک بن ابراہیم ازدی زاہد نے ان کو ابو علی حامد بن محمد بن عبداللہ ہروی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو مسلم بن ابراہیم ازدی نے ان کو حریث بن سائب نے ان کو حسن بصری نے ان کو حمران بن ابان نے ان کو عثمان بن عفان نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر شے محض اللہ فضل ہے۔ گھر کا سایہ ہویا روٹی کا ٹکڑا یا کپڑا جو ابن آدم کی شرم گاہ چھپاتا ہے۔ ابن آدم کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔کہا حسن نے کہ میں نے عمران سے کہا تجھے کیا چیز مانع تھی کہ اس کو لے لیتے۔ حالانکہ ان کوخوبصورت بینا اچھا لگتا تھا۔ اس نے کہا اے ابو سعید! بے شک دنیا مجھ کو بیٹھاتی ہے یا میرا حق ادا کر دیا ہے۔

عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← حُمْرَانَ بْنَ اَبَانَ ← الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، ← حُرَيْثٌ بْنِ السَّائِبَ ← مسلم بن إبراهيم الأزدي ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو علي حامد بن محمد بن عبد الله الهروي ← أبو سعد عبد الملك بن إبراهيم الأزدي الزاهد

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6178

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6179

6180 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا أحمد بن محمد بن عيسى البرتي و أبو خالد عبد العزيز بن معاوية ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا حريث ح وأخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا ثنا أحمد بن عاصم بن عنبسة ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن حريث بن السائب عن الحسن عن عاصم بن حمران عن عثمان : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ليس لابن آدم في هذه الخصال بيت يستره وثوب يواري عورته غليظ وجلف من الخبز والماء وفي رواية مسلم كل شيء فضل عن ظل بيت وجلف خبز وثوب يواري عورة ابن آدم فأما كل شيء فضل عن ذا فليس لابن آدم حق ثم قال الحسن لحمران : ما يمنعك من هذا أن تأخذ به وكان رجلا يحب الجمال قال : يا أبا سعيد الدنيا تقاعدت بي

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو احمد بن محمد بن عیسیٰ برنی نے ان کو ابو خالد عبد العزیز بن معاویہ نے اس کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو حریث نے ’’ح‘‘ ۔ اور ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابی الدنیا نے ان کو احمد بن عاصم بن عبسہ نے ان کو عبدالصمد بن عبدالوارث نے ان کو حدیث بیان کی سائب نے ان کو حسن نے ان کو عاصم بن خمران نے ان کو عثمان نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ نے فرمایا کہ ابن آدم کا ان چیزوں میں کوئی ذاتی حق نہیں ہے۔ گھر جواس کو تحفظ دیتا ہے۔ کپڑا جو اس کی شرمگاہ چھپاتا ہے اور روٹی کا روکھا ٹکڑا اور پانی کا گھونٹ (بلکہ محض اللہ کا فضل ہیں یہ چیزیں۔) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ہر شئی فضل ہے۔ گھر کا سایہ روٹی کا ٹکڑا۔ کپڑا جو ابن آدم کی شرم گاہ چھپاتا ہے۔ بہر حال ہر شئی فضل ہے۔ ان مذکورہ چیزوں میں سے ابن آدم کے لئے ان میں کوئی حق نہیں ہے۔ اس کے بعد حسن نے کہا حمران سے آپ کو کیا چیز مانع تھی اس سے کہ تم اس کو لے لیتے اور وہ ایسے آدمی تھے جو جمال اور خوبصورتی کو پسند کرتے تھے۔ فرمایا: اے ابو سعید دنیا نے میرا حق ادا کر دیا ہے۔

عُثْمَانَ، ← عاصم بن حمران ← الْحَسَنِ، ← حُرَيْثٌ بْنِ السَّائِبَ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← أحمد بن عاصم بن عنبسة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← حُرَيْثٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أحمد بن محمد بن عيسى البرتي و أبو خالد عبد العزيز بن معاوية ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6179

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6180

6181 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد حدثني شريح ثنا سعيد بن محمد عن صالح بن حسان عن عروة بن زكريا عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا عائشة إذا أردت اللحوق بي فليكفيك من الزاد كزاد الراكب ولا تستلقي ثوبا حتى ترقعيه وإياك ومجالسة الأغنياء قال الشيخ : تفرد به صالح بن حسان وليس بالقوي ورواه الحسن بن حماد عن إبراهيم بن عيينة عن صالح بن حسان عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة ورواه أبو يحيى الحماني عن صالح عن عروة وقيل عنه عن صالح عن هشام بن عروة قال ابن عدي : ومن قال عن صالح عن عروة أصح 6181 - مكرر ـ أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا سعيد بن منصور و آدم و إبراهيم بن العلاء أنا إسماعيل بن عياش عن عقيل بن مدرك عن لقمان بن عامر عن عتبة بن عبد السلمي قال : استكسيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فكساني جبتين فلقد رأيتني البسهما وأنا أكسى أصحابي

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کوحسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد نے ان کو حدیث بیان کی ہے شریح نے ان کو سعید بن محمد نے ان کو صالح بن حسان نے ان کو عروہ بن زبیر نے ان کو عائشہ نے وہ کہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! جب تم میرے ساتھ ملنا چاہو تو تجھے کافی ہے سفر خرچ مثل سفر خرچ سوار کے اور نہ پرانا سمجھنا کپڑے کو جب تک اس کو پیوند نا لگا لو اور بچانا اپنے آپ کو دولت مندوں کی ہم نشینی سے۔ کہا شیخ نے۔اس روایت میں صالح بن حسان منفرد ہے اور وہ قوی نہیں ہے۔ اور اس کو روایت کیا ہے حسن بن حماد نے ابراہیم بن عیینہ سے اس نے صالح بن حسان سے اس نے ہشام بن عروہ سے اس نے اپنے والد سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ اور اس کو روایت کیا ہے ابو یحییٰ حمانی نے ان کو صالح نے ان کو عروہ نے اس نے صالح سے اس نے ہشام بن عروہ سے ابن عدی نے کہا کہ جس نے کہا حسن صالح عن عروۃ یہ زیادہ صحیح ہے۔ مکر رہے۔ ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو سعید بن منصور نے اور آدم نے اور ابراہیم بن علاء نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو عقیل بن مدرک نے ان کو لقمان بن عامر نے ان کو عتبہ بن عبدالسلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے کپڑے پہنانے کی درخواست کی۔ انہوں نے مجھے دو جبے پہنائے۔البتہ تحقیق میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں ان دونوں کو پہن رہا تھا۔ اور میں اپنے دوستوں کو پہناتا ہوں۔

عَائِشَةَ ← عروة بن زكريا ← صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ، ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6180

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6181

6182 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرئفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا القنعبي فيما قرأ على مالك عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة أنه قال : قال أنس بن مالك : رأيت عمر بن الخطاب وهو يومئذ أمير المؤمنين وقد رفع بين كتفيه برقاع ثلاث لبد بعضهما فوق بعض في قميصه

ہمیں خبر دی ابو زکر بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں سے جو اس نے مالک کے سامنے پڑھی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب کو دیکھا اور ان دنوں امیر المؤمنین تھے انہوں نے اپنے دونوں کندھوں کے درمیانی جگہ کو تین پیوند کے ٹکڑوں سے اونچا کیا ہوا تھا جو ایک دوسرے پر تہہ بنے ہوئے تھے ان کی قمیص پر۔

اِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ، اَنَّہٗ ← القنعبي فيما قرأ على مالك ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو الحسن الطريفي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6181

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6182

6183 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الفضل بن خميرويه أنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا سفيان ثنا جعفر بن محمد عن أبيه : أن عليا كان يلبس القميص ثم يمد الكم حتى إذا بلغ الأصابع قطع ما فضل ويقول : لا فضل للكمين على اليد

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الفضل بن خمیرویہ نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو سفیان نے ان کو جعفر بن محمد نے ان کو ان کے والد نے یہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ قمیص پہنتے تھے۔ اس کے بعد آستین کو لمبا کرتے تھے یہاں تک کہ جب انگلیوں تک پہنچتی تو کاٹ دیتے جو فاضل ہوتی تھی اور کہتے تھے کہ آستیوں کو ہاتھ پر فضیات نہیں ہے۔

جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6182

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6183

6184 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الربيع بن سليمان ثنا ابن وهب ثنا سليمان بن بلال عن جعفر بن محمد أنه قال : ابتاع علي بن أبي طالب قميصا مسبلا بأربعة دراهم فجاء به الخياط فمد كم القميص وأمره أن يقطع ما خلف أصابعه قال الشيخ : وقد روينا في كتاب الفضائل عن عمر و علي رضي الله عنهما في تواضعهما في اللباس ما بلغنا من أحب معرفته رجع إليه إن شاء الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس قد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو ابن وہب نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو جعفر بن محمد نے انہوں نے کہا کہ علی بن ابو طالب نے چار درہم کے بدلے میں لمبی لٹکنے والی قمیص خرید کی اسے درزی کے پاس لے گئے اور قمیص کی آستین لمبی کرائیں اوراس کو حکم دیا کہ ان کی انگلیوں سے جو بچے اس کو کاٹ دیں۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ تحقیق روایت کیا ہے ہم نے کتاب الفضائل میں عمر اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے لباس میں ان کی تواضع اور عاجزی کے بارے میں جو کچھ ہم تک پہنچی ہے۔ جو شخص اس کی معرفت پسند کرے گا انشاءاللہ وہاں رجوع کرے گا۔

جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6183

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6184

6185 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب بن عطاء أنا العمري عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أنس بن مالك : أن امرأة أتت عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقالت : يا أمير المؤمنين إن درعي قد تخرق فقال : ألم أكسك قالت : بلى ولكنه تخرق قال : فدعا لها بدرع بجيب وخيط وقال لها : البسي هذا ـ يعني الخلق ـ إذا اختبزت وإذا جعلت البرمة والبسي هذا إذا فرغت فإنه لا جديد لمن لم يلبس الخلق

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے ان کو العمری نے ان کو اسحاق بن عبداللہ بن ابو طلحہ نے انس بن مالک سے کہ ایک عورت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی امیر المؤمنین میرا کرتہ پھٹ گیا ہے انہوں نے پوچھا کہ کیا میں نے تجھے کرتہ دیا نہیں تھا؟ بولی دیا تھا مگر وہ پھٹ گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کے لئے پھٹا ہو کر تہ منگوایا اور اسے سلوایا پھر اس سے کہا کہ اسی پرانے کو پہن لیجئے جب تم روٹی پکاؤ اور جب ہنڈیا پکاؤ اور جب فارغ ہو جاؤ تو۔ بیشک جو پرانا نہیں پہنتا۔اس کے لئے نیا بھی نہیں ہے۔

فدعا لها بدرع بجيب وخيط ← بلى ولكنه تخرق ← ألم أكسك ← يا أمير المؤمنين إن درعي قد تخرق ← أنس بن مالك أن امرأة أتت عمر بن الخطاب ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← الْعُمَرِيُّ ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6184

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6185

6186 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النصر الفقيه فيما قرأت عليه ثنا الحارث بن أبي أسامة ثنا أبو النضر ثنا شعبة أخبرني قتادة قال : سمعت عثمان النهدي قال : أتانا كتاب عمر بن الخطاب ونحن باذربيجان مع عتبة بن فرقد ( أما بعد ) : فاتزروا وارتدوا وانتعلوا وارموا بالخفاف وألقوا السراويلات وعليكم بلباس أبيكم إسماعيل وإياكم والتنعيم وزي العجم وعليكم بالشمس فإنها حمام العرب وتمعدوا واخشوشنوا واخلولقوا واقطعوا الركب وارموا الأعراض وابذوا : فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن الحرير إلا هكذا وأشار شعبة بإصبعه الوسطى والسبابة فما علمنا إلا أنها الأعلام

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو نصر فقیہ نے اس میں جو میں نے ان کے سامنے پڑھی ان کو حارث بن ابو اسامہ نے ان کو ابو النصر نے ان کو شعبہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عثمان نہدی سے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا خط آیا حالانکہ ہم آذربیجان میں تھے عتبہ بن فقد کے ساتھ اما بعد ! بس تم لوگ تہبند باندھا کرو اوپر چادریں اوڑھا کرو۔ اور جوتے پہنا کرو اور موزے پھینک دو، اور پاجامے (یا شلواریں) پھینک دو اور تم لوگ اپنے باپ اسماعیل علیہ السلام کے لباس کو لازم پکڑو اور بچاؤ تم خود کو نازونعم والی زندگی سے اور عجمیوں کی صورت و شکل اپنانے سے اور دھوپ کو لازم پکڑو بے شک وہ عربوں کا حمام ہے، اور تم لوگ صحت مند بنو، سخت اندام مضبوط بنو، کپڑوں کو پہن پہن کر خوب پرانا کرو اور رکاب کاٹ دو۔ یعنی پیدل چلو اور تیراندازی کی مشق کیا کرو۔ اور غربت اور شکستہ حالی اختیار کرو۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا ریشم سے مگر صرف ایسے ایسے اور شعبہ نے اشارہ کیا اپنی شہادت کی اور بیچ والی انگلی سے (یعنی صرف دو انگل) ہم نے یہی جانا کہ وہ دھاریاں ہوں یا نقش و نگار ہوں (تو ممنوع نہیں ہے۔)

أتانا كتاب عمر بن الخطاب ← عثمان النهدي ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو النَّضْرِ، ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَلَيْهِ ← أبو النصر الفقيه فيما ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6185

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6186

6187 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الجوهري ثنا عبد الله بن شيرويه ثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي أنا أبو أسامة عن إسماعيل بن أبي خالد عن مصعب بن سعد قال : قالت حفصة لعمر رضي الله عنه : لو لبست ثيابا ألين من ثيابك وأكلت طعاما أطيب من طعامك فقال لها عمر : ألم تعلمي من أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم و أبي بكر كذا وكذا فقالت : بلى فقال : أريد أن أشاركهما في عيشهما الشديد لعلي أشاركهما الرخي رواه ابن المبارك وغيره عن إسماعيل بن أبي خالد عن أخيه نعمان بن مصعب بن سعد وقد ذكرناه في باب الزهد

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو الحسن جوہری نے ان کو عبداللہ بن شیرویہ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم حنظلی نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ان کو مصعب بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کاش کہ میں آپ کے کپڑوں سے زیادہ نرم کپڑے پہنتی اور آپ کے کھانے سے زیادہ عمدہ کھانا کھاتی۔ انہوں نے اس سے فرمایا کیا تم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ابو بکر کا حکم اس طرح اور اس طرح نہیں جانتی ہو بولی ہاں جانتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں مشقت والی زندگی میں ان کے ساتھ شریک ہو جاؤں تاکہ میں ان کی آسانی والی زندگی میں بھی ان کے ساتھ شامل ہو سکوں۔ اس کو روایت کیا ہے ابن مبارک وغیرہ نے اسماعیل بن ابو خالد سے ان کو ان کے بھائی نعمان بن مصعب بن مسعد نے اورتحقیق ہم ذکر کر چکے ہیں کتاب الزہد میں۔

مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ ← أبو الحسن الجوهري ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6186

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6187

6188 - أخبرنا أبو بكر بن الحسن و أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو العباس الأصم ثنا بحر بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني ابن لهيعة عن أبي الأسود عن أبي عبد الله مولى شداد بن الهاد قال : رأيت عثمان بن عفان يوم الجمعة على المنبر عليه إزار عدني غليظ ثمنه أربعة دراهم أو خمسة وريطة كوفية ممشقة ضرب اللحم طويل اللحية حسن الوجه

اور ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن حسن نے ان کو ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی ابن لہیعہ نے ان کو ابو الاسود نے ان کو ابو عبداللہ مولیٰ شداد بن ہاد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے جمعہ کے دن حضرت عثمان بن عفان کو منبر پر بیٹھے دیکھا تھا عدان کی بنی ہوئی موٹی تہبند تھی جس کی قیمت چار یا پانچ درہم ہو گی اور سر پر باندھنے کی پگڑی دو شالہ سر پر بندھا ہوا بھرے ہوئے جسم والے بھی داڑھی خوبصورت چہرہ تھا۔

أَبِي عَبْدِ اللهِ، مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَاد ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو بكر بن الحسن و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6187

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6188

6189 - أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن الحسين السلمي أنا أبو عمرو بن حمدان و أبو بكر الربونجي أنا الحسن بن سفيان ثنا إبراهيم بن الحوراني أنا أبو اليسر عبد العزيز بن عمير من أهل خرسان بريد دمشق ثنا يزيد بن أبي زرقاء ثنا جعفر بن برقان عن ميمون بن مهران عن يزيد بن الأصم عن عمر رضي الله عنه قال : نظر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى مصعب بن عمير مقبلا عليه أهاب كبش قد تنطق به فقال النبي صلى الله عليه و سلم : انظروا إلى هذا الذي نور الله قلبه لقد رأيته بين أبوين يغذوانه بأطيب الطعام والشراب ولقد رأيت عليه حلة شراها أو شريت بمائتي درهم فدعاه حب الله وحب رسوله إلى ما ترون

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن محمد بن حسین سلمی نے ان کو ابو عمر بن حمدان اور ابو بکر ربونجی نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو ابراہیم بن حورانی نے ان کو ابو الیسر عبدالعزیز بن عمیر نے اہل خراسان بریدہ مشق سے ان کو یزید بن ابو زرقاء نے ان کو جعفر بن برقان نے ان کو میمون بن مہران نے ان کو یزید بن اصم نے عمر بن خطاب سے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مصعب بن عمیر کی طرف منہ کر تے ہوئےاس کی طرف دیکھا تھا مینڈھے کا چمڑا کبھی اس کے ساتھ بھی نطق کیا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کو دیکھو اللہ نے جس کے دل کو روشن کر دیا ہے البتہ تحقیق میں نے اس کو دیکھا ہے دو ماں باپوں کے درمیان جو اسے عمدہ کھانا اور مشروب کھلا پلا رہے ہیں۔ اور البتہ تحقیق میں نے اس کے اوپر ایک دو شالہ دیکھا ہے جس کو اس نے خریدا تھا یا کہا کہ میں نے اس کو خریدا تھا دو سو درہم کے بدلے میں اس کواللہ کی محبت نے اور اس کے رسول کی محبت نے بلایا ہے اس حالت کی طرف جو تم دیکھ رہے ہو۔

عُمَرَ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← يزيد بن أبي زرقاء ← أبو اليسر عبد العزيز بن عمير من أهل خرسان بريد دمشق ← إبراهيم بن الحوراني ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو عمرو بن حمدان و أبو بكر الربونجي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6188

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6189

6190 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا الحسين بن الحسن بن أيوب الطوسي أنا أبو حاتم الرازي ثنا شريح بن يونس ثنا عباد بن عباد عن محمد بن عمرو بن علقمة عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ويل للنساء من الأحمرين الذهب والمعصفر

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو حسین بن حسن بن ایوب طوسی نے ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو شریح بن یونس نے ان کو عباد بن عباد نے ان کو محمد بن عمرو بن علقمہ نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہلاکت ہے عورتوں کے لئے سرخ چیزوں سے سونا اور سلے رنگ سے رنگا ہوا کپڑا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← شُرَيْحُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6189

chevron_left Previous
1…515253…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood