Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5614

5615 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا أبو إسماعيل الترمذي ثنا أبو صالح ثنا معاوية هو ابن صالح عن حاتم بن حريث عن مالك بن أبي مريم الحكمي : أن عبد الرحمن بن غنم الأشعري وفد دمشق فاجتمع إليه عصابة منا فذكرنا الطلا فمنا المرخص فيه ومنا الكاره له فأتيته بعد ما خضنا فيه فقال : إني سمعت أبا مالك الأشعري صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم يحدث : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : ليشربن ناس من أمتي الخمر يسمونها بغير اسمها ويضرب على رؤوسهم المعازف والمغنيات يخسف الله بهم الأرض ويجعل منهم القردة والخنازير

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابو اسماعیل ترمذی نے ان کو ابو صالح نے ان کو معاویہ نے یعنی ابن صالح نے ان کو حاتم بن حریث نے ان کو مالک بن ابو مریم حکمی نے ان کو عبدالرحمٰن بن غنم اشعری نے وہ دمشق میں آئے تو ان کے پاس ہم لوگوں کی ایک جماعت پہنچی۔ ہم نے آپس میں پکی ہوئی شراب کا ذکر کیا (جس کواتنی پکایا جائے کہ ایک تہائی رہ جائے) کچھ لوگ ہم میں سے رخصت دے رہے تھے اس کی اور کچھ لوگ اس کو نا پسند کر رہے تھے میں ان کے پاس آیا اس کے بعد کہ ہم اس مسئلے میں آپس میں بحث کر چکے تھے۔انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت مالک اشعری رضی اللہ عنہ صحابی رسول سے سناوہ نبی کریم سے حدیث بیان کرتے تھے۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: البتہ ضرور شراب پئیں گے لوگ میری امت میں سے اس کا نام بدل کر رکھیں گے ان کے سروں پر بجانے کے آلات بجائے جائیں گے اور گانے والی عورتیں گائیں گی الہدان کوز مین میں دھنسا دیں گے اور ان میں سے کچھ کو بندر بنا دے گا اور کچھ کو سور۔

مالك بن أبي مريم الحكمي ← حَاتِمُ بْنُ حُرَيْثٍ ← مُعَاوِيَةُ هُوَ ابْنُ صَالِحٍ، ← أَبُو صَالِحٍ، ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5614

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5615

5616 - وأخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا عباس بن الفضل ثنا أحمد بن يونس ثنا فضيل بن عياض عن ليث عن عبد الرحمن بن سابط عن أبي ثعلبة الخشني عن معاذ و أبي عبيدة : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن هذا الأمر بدا رحمة ونبوة ثم يكون رحمة وخلافة ثم كائن ملكا عضوضا ثم كائن وحربة وفسادا في الأرض يستحلون الحرير والخمور والفروج يرزقون على ذلك وينصرون حتى يلقى الله عز و جل قال الشيخ : إن صح الحديثان فيحتمل أن يكون هذا في قوم الحديث الأول في آخرين أو يكون هذا إلى ما شاء الله ثم يكون ما في الحديث الأول والله أعلم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عباس بن فضل نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو فضیل بن عیاض نے ان کو لیث نے ان کو عبدالرحمٰن بن سابط نے ان کو ابو علی ثعلبہ خشنی نے ان کو معاذ اور ابو عبیدہ نے دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک یہ امر(یعنی دین اسلام) شروع ہوا تو رحمت اور نبوت سے آغاز ہوا تھا اس کے بعد خلافت ورحمت ہو گی۔اس کے بعد کاٹنے والی بادشاہت ہو گی۔ اس کے بعد سرکشی اور جنگ ہو گی اور دھرتی پرفساد ہو گا لوگ حلال بنا لیں گے ریشم کو شرابوں کو زناؤں کو اس کے باوجود بھی ان کو رزق بھی ملے گا اور دشمن کے خلاف ان کی مدد بھی ہو گی یہاں تک کہ وہ اللہ سے مل جائیں گے۔ استدراک: مذکورہ دونوں احادیث میں بظاہر ایک تضاد معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ پہلی حدیث سے معلوم ہوتا ہے لوگ جب شراب پئیں گے تو ان پر خسف ومسخ کے عذاب آئیں گے۔ اور آخری حدیث بتا رہی ہے کہ شراب نوشی اور زنا کرنے کے باوجود ان کو رزق بھی ملے گا اور نصرت الہٰی بھی ہو گی؟ تو اس کا جواب اور دونوں روایتوں میں تطبیق امام اسحٰق اپنے استاد شیخ حلیمی سے نقل کرتے ہیں۔ (مترجم) شیخ نے فرمایا کہ اگر یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں تو احتمال ہے کہ یہ آخری بات یعنی استحلال حریرو خمورو فروج کے باوجود نصرت یا ایک خاص قوم میں ہو اور پہلی یعنی خسف و مسخ والی حدیث دوسرے لوگوں کے بارے میں پیش گوئی ہو۔ شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے شراب پینے والے متقیوں کا حکم: دوسری توجیہ یہ ہے کہ ایک ہی قوم کے ساتھ دونوں مذکورہ سلوک مراد ہوں پہلے رزق اور نصرت ہو اور پھر انہیں کا آخری انجام خصف ومسخ ہو۔ واللہ اعلم۔

معاذ و أبي عبيدة ← أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← لَيْثٌ، ← فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5615

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5616

5617 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس الأصم ثنا إبراهيم بن مرزوق ثنا أبو عامر عن إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال : لما نزل تحريم الخمر قالوا : يا رسول الله كيف بأصحابنا وبمن مات وهو يشرب الخمر فأنزل الله عز و جل : { ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا إذا ما اتقوا } إلى آخر الآية

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو ابو عامر نے ان کو اسرائیل نے ان کو سماک نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ہمارے ساتھیوں کے ساتھ کیا سلوک ہو گا اور ان کا کیا بنے گا جو شراب پیتے رہے اور وہ فوت ہو گئے ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: لیس علی الذین امنوا وعملوا الصالحات جناح فیما طعموا اذا مااتقوالخ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور عمل صالح کئے ہیں ان پرکوئی گناہ نہیں ہے اس بارے میں جودہ پہلے کھاپی چکے وہ تقویٰ اختیار کر یں الخ۔

لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5616

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5617

5618 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ ثنا أبو بكر محمد بن إسحاق بن خزيمة ثنا أحمد بن منصور المروزي بنيسابور ثنا عبد الكريم بن أبي عبد الكريم السكري ثنا الحسين بن مسلم عن الحسين بن واقد عن أبي بردة عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حبس العنب أيام قطافه حتى يبيعه من يهودي أو نصراني ليتخذ خمرا فقد تقحم النار عيانا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو علی حسین بن علی حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن اسحٰق بن خزیمہ نے ان کو احمد بن منصور مروزی نے نیسا پور میں ان کو عبدالکریم بن ابو عبدالکریم سکری نے ان کو حسن بن مسلم نے ان کو حسین بن واقد نے ان کو ابو بردہ نے ان کوان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص انگور توڑنے کے وقت انگور روک کر رکھے پھر ان کوکسی یہودی یا عیسائی کے پاس بیچے تاکہ وہ اس سے شراب تیار کرے تحقیق وہ واضح طور پر جہنم میں گھس گیا ہے۔

أَبِيهِ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← الحسين بن مسلم ← عبد الكريم بن أبي عبد الكريم السكري ← أحمد بن منصور المروزي بنيسابور ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5617

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5618

5619 - وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن أبي الحسين الغازي ثنا إبراهيم بن محمد بن يزيد السكري ثنا عبد الكريم بن أبي عبد الكريم المروزي ثنا أبو علي الحسن بن مسلم وأثنى عليه مسلم : فذكره غير أنه قال : زمن القطاف وزاد أو ممن يعلم أنه يتخذ خمرا فقد تقدم في النار على بصيرة

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن حسین غازی نے ان کو ابراہیم بن محمد بن یزید سکری نے ان کو عبدالکریم بن ابو عبدالکریم مروزی نے ان کو ابو علی حسن بن مسلم نے اس پر تعریف کی ہے مسلم نے پھر حدیث ذکر کی ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا قطاف کے زمانے میں اور یہ الفاظ اضافہ کئے ہیں۔ یا اس آدمی کے پاس بیچے جس کو وہ جانتا ہو کہ وہ شراب بنائے گا پس وہ شخص و کچھ بھال کر آگ میں آگے بڑھا ہے۔

أبو علي الحسن بن مسلم وأثنى عليه مسلم فذكره غير أنه ← عبد الكريم بن أبي عبد الكريم المروزي ← إبراهيم بن محمد بن يزيد السكري ← أبو بكر بن أبي الحسين الغازي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5618

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5619

5620 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو علي الصفار ثنا سعدان بن نصر ثنا معاوية ثنا الحجاج عن نافع عن ابن عمر قال : مرض بعير له فبعث له الخمر فقال ابن عمر ما كنت لأؤجره خمرا

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو علی صفار نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو معاویہ نے ان کو حجاج نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں ان کا اونٹ بیمار ہو گیا۔ انہوں نے اس کے لئے شراب بھیجی مگر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ایسا نہیں ہوں کہ میں اس کو شراب کی اجرت دے دوں۔

ابن عمر ما كنت لأؤجره خمرا ← مرض بعير له فبعث له الخمر ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← الْحَجَّاجِ، ← مُعَاوِيَةَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو عَلِيٍّ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5619

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5620

5621 - وأخبرنا أبو الحسين أنا إسماعيل الصفار ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا ابن نمير عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر : أنه كان يكره أن يسقي البهائم الخمر قال الشيخ : وقد رفعه بعض الضعفاء بإسناده عن عبيد الله وليس بشيء

ہمیں خبر دی ابو الحسین نے انہیں خبر دی اسماعیل صفار نے ان سے حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابن نمیر نے ان کو عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے وہ نا پسند کرتے تھے کہ جانوروں کو شراب پلائی جائے۔ شیخ نے فرمایا: بعض ضعفاء نے اس کو مرفوع بھی بیان کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ عبیداللہ سے مگر وہ کوئی شئی نہیں ہے۔

عبيد الله وليس بشيء ← الشيخ وقد رفعه بعض الضعفاء بإسناده ← ابن عمر أنه كان يكره أن يسقي البهائم الخمر ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← وأخبرنا أبو الحسين

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5620

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5621

5622 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو الحسين علي بن عبد الرحمن بن عيسى بن ماني الكوفي ثنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة ثنا أبو نعيم الفضل بن دكين ثنا يونس عن مجاهد عن أبي هريرة قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الدواء الخبيث

ہم کو خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو الحسین علی بن عبدالرحمٰن بن عیسیٰ من مانی کوفی نے ان کواحمد بن حازم بن ابو غرزہ نے ان کو ابو نعیم فضل بن دکین نے ان یونس نے ان کو مجاہد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھا ناپاک چیز کے ساتھ علاج ہے۔

الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ. ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُجَاهِدٍ ← يُونُسَ ← أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أبو الحسين علي بن عبد الرحمن بن عيسى بن ماني الكوفي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5621

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5622

5623 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي ثنا أبو العباس الأصم ثنا أبو علي الحسن بن مكرم بن حسان البزاز ببغداد ثنا عثمان بن عمر أنا شعبة عن سماك بن حرب عن علقمة بن وائل عن أبيه قال : أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقام إليه رجل من جعفر فقال : إنا نصنع الخمر لأنها دواء فقال : إنها ليست الدواء ولكنها الداء أخرجه مسلم في الصحيح من حديث عندر عن شعبة

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن قاضی نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ابو علی حسن بن مکرم بن حسان بزار نے بغداد میں ان کو عثمان بن عمر نے ان کو شعبہ نے ان کو سماک بن حرب نے ان کو علقمہ بن وائل نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ایک آدمی آپ کی طرف جعفر سے کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ ہم لوگ شراب بناتے ہیں اس لئے کہ وہ دواء ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ دوا نہیں ہے بلکہ وہ بیماری ہے۔ مسلم نے اس کو صحیح میں نقل کیا ہے حدیث غندر سے اس نے شعبہ سے۔

شُعْبَةُ، ← إنها ليست الدواء ولكنها الداء أخرجه مسلم في الصحيح من حديث عندر ← نصنع الخمر لأنها دواء ← أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقام إليه رجل من جعفر ← أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أبو علي الحسن بن مكرم بن حسان البزاز ببغداد ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5622

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5623

5624 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو العباس الأصم أنا ابن عبد الحكم أنا ابن وهب أخبرني يونس بن يزيد عن ابن شهاب عن عروة بن الزبير عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم : أنها كانت تنهى النساء أن يمتشطن بالخمر هكذا جاء موقوفا

ہمیں خبر دی ابو زکری بن ابو اسحاق نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ابن عبدالحکم نے ان کو ابن وہب نے ان کو یونس بن یزید نے ان کو ابن شہاب نے ان کو عروہ بن زبیر نے اور سیدہ عائشہ زوجۂ رسول سے کہ دو عورتوں کو روکتی تھیں شراب کے ساتھ کنگھی کرنے سے اسی طرح یہ روایت موقوف آئی ہے۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5623

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5624

5625 - أخبرنا أبو سعيد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ قال : سمعت أبا يعلى الموصلي يقول سمعت أبا خيثمة يقول سمعت عبد الله بن إدريس يقول : كل شراب مسكر كثيره من تمرة أو عنب عصيره فإنه محرم يسيره إني لكم من شره نذير

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو یعلیٰ موصلی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو خیثمہ سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا عبداللہ بن ادریس سے وہ کہتے ہیں کہ ہر پینے کی چیز جو نشہ آور ہواس کی کثیر مقدار خواہ کھجور سے ہو یا انگور سے اس کا نچوڑ وہ حرام ہے اس کی تھوڑی سی بھی ، میں تمہارے واسطے اس کے شر سے ڈرانے والا ہوں۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبَا خَيْثَمَةَ ← أبا يعلى الموصلي ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5624

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5625

5626 - أخبرنا الأستاذ أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن جعفر القطيعي ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا أبو داود ثنا أبو عوانة عن الحكم و أبي بشر عن ميمون بن مهران عن ابن عباس قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن كل ذي ناب من السباع وكل ذي مخلب من الطير لفظ حديث يونس رواه مسلم في الصحيح عن أحمد بن حنبل قال الشيخ : وقد ذكرنا في كتاب السنن نهى النبي صلى الله عليه و سلم عن لحوم الحمر الأهلية وما روي عنه من النهي عن الجلالة وما قال فيها أهل العلم من أن المراد بها إذا ظهر ريح القذر في لحمها وذكرنا الأخبار في نهيه عن قتل النملة والنحلة والصرد والهدهد والضفدع وما روي عنه في الخطاف وروينا إذنه في قتل الغراب والحدأة والفأرة والعقرب والكلب وفي رواية أخرى السبع العادي وكل ذلك لا يحل أكله وروينا الخبر في إباحته الضبع والثعلب في معنى الضبع وروينا الخبر في إباحة الأرنب وحمار الوحش والدجاج والحباري والضب وما أكلته العرب في غير حال الضرورة فهو حلال ما لم يرد في تحريمه نص خبر فروينا الأخبار في إباحة لحم الخيل من غير كراهية إعادة ذكرها في هذا الكتاب تطويل فمن أرادها رجع إلى كتاب السنن إن شاء الله فأما قوله عز و جل : { حرمت عليكم الميتة والدم } فقد ذكرنا تفسير الآية عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس في كتاب الصيد من كتاب السنن

ہمیں خبر دی استاذ ابو بکر بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفر قبطیعی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل کو ان کے والد نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو حکم اور ابی بشر نے ان کو میمون بن مہران نے۔ ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا دانتوں والے درندے سے اور ہر پنچے والے پرندوں سے (کہ یہ درندے اور پرندے حرام ہیں)۔ یہ الفاظ حدیث یونس کے ہیں اس کومسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں احمد بن جنبل سے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ تم نے کتاب السنن میں ذکر کر دیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھا گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے۔اور وہ روایت جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ نجاست کھانے والی گائے کا گوشت کھانا منع ہے۔ اور (وہ بھی ذکر کر دیا ہے) جو اس بارے میں اہل علم نے کہا ہے کہ اس سے مراد وہ گائے ہے جس کے گوشت میں نجاست کی بدبو ظاہر ہو جائے۔ اور ہم نے (کتاب السنن میں) وہ اخبار بھی ذکر کر دی ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے چیونٹی اور شہد کی مکھی کو قتل کرنے کی نہی کے بارے میں ہیں اور مینڈک اور ہدہد (در کھان یکھی) اور صراد (ایک پرندہ جو چڑیا کو شکار کرتا ہے) کو مارنے کی ممانعت کے بارے میں ہیں۔ اور وہ روایت بھی جو خطاف کے بارے میں ہے (ابابیل ایک کالا پرندہ کوئل و غیره) ممانعت کی۔ اور نام نے وہاں روایت نقل کر دی ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت مندرجہ ذیل کو مارنے کے بارے میں ہے۔ کوا، چیل ، چوہا بچھواور کتا۔ ان چیزوں کوقتل کرنے کی اجازت ہے۔ ایک اور روایت میں ہے دشمن درندے کوقتل کرنے کی اجازت ہے۔ لہٰذا ان سب کو کھانا بھی حلال نہیں ہے۔اور ہم نے وہاں خبر روایت کی ہے اباحت ور جواز کی لگڑ بکڑ اور لومڑی لگڑ بکڑ کے معنی میں ہے۔ اور ہم نے خبر روایت کی ہے خرگوش ، حمار وحشی، مرغی اور فاختہ یا سرخاب اور گوہ کے کھانے کی اباحت کی۔ اور ہروہ چیز جس کو عرب کھاتے ہیں بغیر حالت ضرورت و مجبوری کے وہ سب حلال ہیں جب تک اس کی تحریم کے بارے میں نص اور خبر وارد نہ ہوئی ہو۔ اور ہم نے کئی اخبار روایت کی ہیں بلا کراہت گھوڑے کا گوشت کھانے کی اباحت و جواز کے بارے میں۔ ان چیزوں کے ذکر کا اس کتاب میں بھی اعادہ کرنے میں غرض ضروری صورت ہے۔ جو شخص ان پر اطلاع کا ارادہ کرے گا انشاء اللہ کتاب السنن کی طرف رجوع کرے گا۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کا یہ قول : حرمت علیکم المیتۃ والدم الخ تمہارے اوپر حرام کر دی گئی ہے مردار ہوئی چیز اور خون الخ۔ پس تحقیق اس آیت کی تفسیر ہم نے ذکر کی ہے علی بن ابو طلحہ سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کتاب الصید میں کتاب السنن کے اندر۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← الحكم و أبي بشر ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فَوْرَكَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5625

chevron_left Previous
1…456…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood