Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في موضع الإزار · حديث 6142

6143 - و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن أبي بكر بن نافع عن أبيه عن صفية بنت أبي عبيد أنها أخبرت أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه و سلم : قالت لرسول الله صلى الله عليه و سلم : حين ذكر الإزار فالمرأة يا رسول الله قال : ترخي شبرا قالت أم سلمة : إذا ينكشف عنها قال : فذراع لا يزيد عليه ورواه ابن إسحاق و أيوب بن موسى عن نافع عن صفية

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمابن بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے مالک کے سامنے پڑھا۔ اس نے ابو بکر بن نافع سے اس نے اپنے والد سے اس نے صفیہ بنت ابو عبید سے اس نے خبر دی ہے کہ سیدہ اُم سلمہ زوجۂ رسول نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جب حضور نے تہبند کا ذکر کیا کہ یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) عورت کیا کرے فرمایا کہ عورت ایک بالشت نیچے رکھے (مرد کے مقابلے میں) اُم سلمہ نے کہا ایک بالشت کرنے سے عورت کی ٹانگ کا پڑھ حصہ کھلا رہ سکتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک ہاتھ نیچے کر لے اس سے زیادہ نہیں۔ اس کو ابن اسحاق نے روایت کیا ہے اور ایوب بن موسیٰ نے ان کو نافع نے ان کو صفیہ سے ،

الْإِزَارُ: فَالْمَرْأَةُ ← لرسول الله صلى الله عليه و سلم حين ← أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate the position of the Mizar · Hadith 6142

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في موضع الإزار · حديث 6143

6144 - حدثنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود الطيالسي ثنا سفيان الثوري عن حبيب بن أبي ثابت عن وهب مولى أبي أحمد عن أم سلمة قالت : دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا أختمر فقال : لية لا ليتان موضع إزار النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبیداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد طیالسی نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو حبیب بن ابو ثابت نے ان کو وہب مولیٰ ابو احد نے ان کو اُم سلمہ نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندار آئے اور میں دوپٹہ اور ہو رہی تھی یا اوڑھنی اوڑھ رہی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ ایک بل کافی ہے، دو بل نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کی چادر یا تہبند کے مقام تک ۔( یعنی اوڑھنی یہییں تک کافی ہے۔)

أختمر ← دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أُمِّ سَلَمَةَ ← وَهْبٍ مَوْلَی أَبِي أَحْمَدَ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate the position of the Mizar · Hadith 6143

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في موضع الإزار · حديث 6144

6145 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن مرزوق ثنا سعيد بن عامر ثنا شعبة عن الأشعث بن سليم عن عمته عن عمها قال : بينما أنا أمشي في سكة من سكك المدينة إذا ناداني إنسان من خلفي : ارفع إزارك فإنه أتقى وأنقى قال : فنظرت فإذا هو رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله إنما هي بردة كلحاء قال : أما لك في أسوة فنظرت فإذا إزاره إلى نصف ساقه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو سعید بن عامر نے ان شعبہ نے کو اشعث بن سلیم نے ان کوان کی پھوپھی نے اپنے چچاسے کہ یکایک میں کسی ایک گلی میں مدینے کی کلیوں میں سے چل رہا تھا۔ اچانک ایک انسان نے میرے پیچھے سے مجھے آواز دی کہ اپنی چادر اونچی کر لو یہ زیادہ تقویٰ اور زیادہ ستھرے پن کی بات ہے میں نے پلٹ کے جو دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ ! یہ چادر اکڑی ہوئی یا کلف والی ہے آپ نے فرمایا کہ کیا تیرے لے میرے عمل میں اچھا نمونہ نہیں ہے؟ دیکھا تو آپ کی چادر نصف پنڈلی تک تھی۔

بَيْنَمَا ← عَمِّهَا ← عَمَّتِهِ ← الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate the position of the Mizar · Hadith 6144

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في موضع الإزار · حديث 6145

6146 - قال : وثنا إبراهيم ثنا داود و و وهب بن جرير ثنا شعبة : فذكره غير أنه قال : أتيت المدينة فرآني وأنا أمشي أجر إزاري فذكره

کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ابراہیم نے اور ابو داؤد اور وہب بن جریر نے ان کو شعبہ نے اس نے سیسی حدیث کو ذکر کیا علاوہ ازیں اس نے کہا کہ میں مدینے میں آیا تو مجھے ایک آدمی نے دیکھا کہ میں اپنی چادر نیچے گھسیٹ کر چل رہا تھا۔ پھر اس نے اسی حدیث کو ذکر کیا ہے۔

أتيت المدينة فرآني وأنا أمشي أجر إزاري فذكره ← شعبة فذكره غير أنه ← داود و و وهب بن جرير ← وثنا إبراهيم

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate the position of the Mizar · Hadith 6145

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في موضع الإزار · حديث 6146

6147 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا زياد بن الخليل ثنا إبراهيم بن المنذر ثنا أبو ضمرة حدثني محمد بن أبي يحيى عن عكرمة قال : رأيت ابن عباس إذا اتزر أرخى مقدم إزاره حتى يقع حاشيته على ظهر قدميه ويرفع الإزار مما وراءه فقلت : لم تأتزر هكذا ؟ قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يتزر هذه الإزارة ورواه أيضا يحيى القطان عن محمد بن أبي يحيى

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو زیاد بن خلیل نے ان کو ابراہیم بن منذر نے ان کو ابو ضمرہ نے ان کو محمد بن ابو یحییٰ نے عکرمہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ جب تہبند باندھتے تو اس کا اگلا حصہ ڈھیلا چھوڑتے یہاں تک کہ اس کا کنارا یا کونہ ان کے قدموں کے اوپر ہوتا اور تہبند کو پیچھے سے اونچا کر لیتے میں نے پوچھا کہ آپ ایسے چادر کیوں باندھتے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواسی ڈھب پر تہبند باندھتے دیکھا تھا۔ اور اس کو روایت کیا ہے یحییٰ قطان نے محمد بن ابو یحییٰ سے۔

عِكْرِمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، ← أَبُو ضَمْرَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate the position of the Mizar · Hadith 6146

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6147

6148 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنا بشر بن موسى ثنا أبو عبد الرحمن يعني المقري عن سعيد بن أبي أيوب حدثني أبو مرحوم عبد الرحيم بن ميمون عن سهل بن معاذ بن أنس الجهني عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ترك وهو يقدر عليه تواضعا لله دعاه الله يوم القيامة على رؤوس الخلائق حتى يخير من حلل الإيمان يلبس من أيها شاء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحٰق فقیہ نے ان کوبشر بن موسیٰ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن مقروی نے ان وسعید بن ابو ایوب نے ان کو ابو مرحوم عبدالرحیم بن میمون نے سہل بن معاذ بن انس جہنی سے انہوں نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قدرت رکھنے کے باوجود قیمتی لباس ترک کر دے اللہ کے لئے عاجزی کرتے ہوئے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے تمام لوگوں کے سامنے بلا کر ایمان کی پوشاکوں کے مابین اختیار دیں گے جو لباس چاہے گا پہنے گا۔

أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، ← أبو مرحوم عبد الرحيم بن ميمون ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← أبو عبد الرحمن يعني المقرئ ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6147

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6148

6149 - أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن الحسين السلمي و أبو نصر بن قتادة أنا يحيى بن منصور القاضي ثنا محمد بن إبراهيم وأنا أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن قتادة أنا أبو الحسن بن عبدة و عبد الله بن أحمد بن سعد الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا ابن بكير حدثني سعد بن عبد الله بن سعد المعافري عن يحيى بن أيوب عن زبان بن فائد عن سهل بن معاذ بن أنس الجهني عن أبيه : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من ترك اللباس تواضعا وهو يقدر على إنفاذه دعاه الله يوم القيامة على رؤوس الخلائق فيخيره في حلل الإيمان يلبس أيها شاء ومن كظم غيظا وهو يقدر على إنفاذه دعاه الله يوم القيامة على رؤوس الخلائق فيخيره في حور العين زوجه منها أيها شاء

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن محمد بن حسین سلمی نے اور ابو نصر بن قتادہ نے ان کو یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کو محمد بن ابراہیم نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو نصر عمر بن عبدالعزیز بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن بن عبدہ اور عبداللہ بن احمد بن سعد حافظ نے ان کو ابو عبدالله محمد بن ابراہیم بوشنجی نے ان کو ابن بکیر نے ان کو سعد بن عبداللہ بن سعد معافری نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو زبان بن فائد نے ان کو سہل بن معاذ بن انس جہنی نے ان کو ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا جو شخص (قیمتی) لباس ترک کر دے باوجود اس کے کہ وہ اس کو جاری رکھنے پر قادر تھا اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن تمام مخلوقات کے سامنے بلائے گا اور اس کو اختیار دے گا ایمان کی پوشاکوں میں جس کو چاہے گا پہنے کا اور جو شخص غصے کو ضبط کرے باوجود یکہ وہ اس کو جاری رکھنے پر قادر ہو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو تمام مخلوقات کے سامنے بلائے گا اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کے بارے میں اختیار دے گا کہ جس سے چاہے گا شادی کرے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، ← زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سعد بن عبد الله بن سعد المعافري ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أبو الحسن بن عبدة و عبد الله بن أحمد بن سعد الحافظ ← أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن قتادة، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أبو عبد الرحمن محمد بن الحسين السلمي و أبو نصر بن قتادة

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6148

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6149

6150 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا محمد بن يونس ثنا عبد الله بن داود ثنا إسماعيل بن عياش عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن أبي أمامة الباهلي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عليكم بلباس الصوف تجدون حلاوة الإيمان في قلوبكم

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر بن اسحاق فقیہ نے ان کو محمد بن یونس نے ان کو عبداللہ بن داؤد نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو ثور بن یزید نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو ابو امامہ باہلی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اون کے لباس کو لازم پکڑ لو تم اس سے اپنے دلوں میں ایمان کی شیرینی پالو گے۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6149

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6150

6151 - وأخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا علي بن المؤمل بن الحسن بن عيسى ثنا محمد بن يونس الكديمي : فذكره بإسناده مثله وزاد في الحديث متنا منكرا فضربت عليه وهو قوله : عليكم بلباس الصوف تجدون قلة الأكل وعليكم بلباس الصوف تعرفون فيه الآخرة فإن النظر في الصوف يورث في القلب التفكر يورث الحكمة و الحكمة تجري في الجوف مجرى الدم فمن كثر شكره قل طعمه وكل لسانه ومن قل تفكره كثر طعمه وعظم بطنه وقسا قلبه والقلب القاسي بعيد من الله بعيد من الجنة قريب من النار ويشبه أن يكون من كلام بعض الرواة فألحق بالحديث والله أعلم

اور ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو علی بن مومل حسن بن عیسیٰ نے ان کو محمد بن یونس کدیمی نے پھر اس نے مذکورہ احدیث کو اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے اور حدیث میں ایک منکر متن کا اضافہ کیا ہے جو کہ اسی پر مار دیا گیا ہے۔ اور وہ ان کا یہ قول ہے۔ کہ تم لوگ اون کے لباس کو لازم کر لو تم پالو گے کم کھانے کی عادت کو اور اون کے لباس کو لازم کر لو تمہیں اس میں آخرت کی معرفت حاصل ہو گی۔ بے شک اون میں دیکھنا دل میں سوچ اور فکر پیدا کرتا ہے اورغور وفکر حکمت ودانائی پیدا کرتا ہے۔ اور حکمت پیٹ میں خون کی طرح جاری ہوتی ہے۔ جس آدمی کے شکر کی کثرت ہو جائے اس کا طمع اور لالچ کم ہو جاتا ہے۔ اور زبان زیادہ گوئی سے گنگ ہو جاتی ہے۔ اور جس کا تفکر کم ہو جائے اس کا طمع بڑھ جاتا ہے اور پیٹ بڑھ جاتا ہے اور دل سخت ہو جاتا ہے اور قسوت و سختی والا اللہ سے بعید ہوتا ہے۔ جنت سے بعید ہوتا ہے۔ جہنم کے قریب ہوتا ہے۔ عین مناسب ہے کہ یہ بعض راویوں کے کلام میں سے ہو اس نے حدیث کے ساتھ لاحق کر دیا ہو واللہ اعلم۔

عَلِيُّ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6150

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6151

6152 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالري ثنا أبو بكر محمد بن الفرج الأزرق ثنا هاشم بن القاسم ثنا شيبان أبو معاوية عن أشعث بن أبي الشعثاء عن أبي بردة عن أبي موسى قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يركب الحمار ويلبس ويعقل الشاة ويأتي مراعاة الضيف قال الشخ كذا :

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکرا اسماعیل بن محمد اسماعیل بقیہ نے رے میں ان کو ابو بکر محمد بن فرج ازرق نے ان کو ہاشم بن قاسم نے ان کو شیبان ابو معاویہ نے ان کو اشعث بن ابو الشعثاء نے ان کو ابی بردہ نے ان کو ابو موسیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہوتے تھے اور اون پہنتے تھے اور بکری رکھتے یا پالتے تھے اور مہمان نوازی کرتے تھے۔ شیخ نے کہا ہے اسے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← شيبان أبو معاوية ← هاشم بن القاسم ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ← أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالري ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6151

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6152

6153 - أخبرنا بهذا الإسناد و هو بهذا الإسناد غير محفوظ والله أعلم وروينا عن عبادة بن الصامت قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم وعليه جبة صوف ضيقة الكمين فصلى بنا فيها ليس عليه شيء غيرها

(انہوں نے) ہمیں خبر دی اس اسناد کے ساتھ۔ اور وہ اس اسناد کے ساتھ غیر محفوظ ہے (واللہ اعلم) اور ہم نے روایت کی ہے عبادہ بن صامت سے اس نے کہا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ باہرتشریف لائے اور آپ نے اون کا بنا ہوا رومی جبہ زیب تن کر رکھا تھا اس کے بازو تنگ تھے آپ نے اس کو پہن کر ہم لوگوں کو نماز پڑھائی تھی صرف وہی آپ پہنے ہوئے تھے اس کے علاوہ آپ پڑھ نہیں پہنے ہوئے تھے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← بهذا الإسناد و هو بهذا الإسناد غير محفوظ والله أعلم وروينا

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6152

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6153

6154 - وروينا معناه من الجبة من الصوف عن المغيرة بن شعبة : ـ

اور ہم نے اس کا معنی روایت کیا ہے اون کے جبے کے بارے میں مغیرہ بن شعبہ سے۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← وروينا معناه من الجبة من الصوف

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6153

chevron_left Previous
1…484950…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood