شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما ورد في التشديد على من جر ثوبه خيلاء · حديث 6118
6119 - وكان ابن عمر يحدث : أن النبي صلى الله عليه و سلم رآه وعليه إزار يتقعقع يعني جديدا فقال : من هذا ؟ قلت : أنا عبد الله قال : إن كنت عبد الله فارفع إزارك قال : فرفعته فقال : زد فرفعته حتى بلغ نصف الساق ثم التفت إلى أبي بكر فقال : من جر ثوبه من الخيلاء لم ينظر الله إليه يوم القيامة فقال أبو بكر : إن إزاري يسترخي أحيانا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لست منهم يا أبا بكر
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے نئی چادر باندھی ہوئی تھی جو کڑ کڑ کی آواز کر رہی تھی۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون ہے یہ؟ میں نے کہا میں عبداللہ ہوں۔ فرمایا اگر تم عبداللہ ہو تو اپنی چادر اوپر کرو کہتے ہیں کہ میں نے اسے اوپر کیا مگر آپ نے فرمایا کہ اور اوپر کرو یہاں تک کہ وہ آدھی پنڈلی تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد ابو بکر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ جو شخص فخر اور بڑائی کرتے ہوئے اپنے کپڑے نیچے گھسیٹ کر چلے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف دیکھیں کے بھی نہیں۔ ابو بکر صدیق نے کہا یا رسول اللہ!کبھی کبھی میری چادر بھی ڈھیلی ہو جاتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان میں سے نہیں ہو اے ابو بکر!
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ
Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what was stated in the emphasis on the one who dragged his garment of vanity · Hadith 6118
