Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما ورد في التشديد على من جر ثوبه خيلاء · حديث 6118

6119 - وكان ابن عمر يحدث : أن النبي صلى الله عليه و سلم رآه وعليه إزار يتقعقع يعني جديدا فقال : من هذا ؟ قلت : أنا عبد الله قال : إن كنت عبد الله فارفع إزارك قال : فرفعته فقال : زد فرفعته حتى بلغ نصف الساق ثم التفت إلى أبي بكر فقال : من جر ثوبه من الخيلاء لم ينظر الله إليه يوم القيامة فقال أبو بكر : إن إزاري يسترخي أحيانا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لست منهم يا أبا بكر

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے نئی چادر باندھی ہوئی تھی جو کڑ کڑ کی آواز کر رہی تھی۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون ہے یہ؟ میں نے کہا میں عبداللہ ہوں۔ فرمایا اگر تم عبداللہ ہو تو اپنی چادر اوپر کرو کہتے ہیں کہ میں نے اسے اوپر کیا مگر آپ نے فرمایا کہ اور اوپر کرو یہاں تک کہ وہ آدھی پنڈلی تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد ابو بکر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ جو شخص فخر اور بڑائی کرتے ہوئے اپنے کپڑے نیچے گھسیٹ کر چلے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف دیکھیں کے بھی نہیں۔ ابو بکر صدیق نے کہا یا رسول اللہ!کبھی کبھی میری چادر بھی ڈھیلی ہو جاتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان میں سے نہیں ہو اے ابو بکر!

وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what was stated in the emphasis on the one who dragged his garment of vanity · Hadith 6118

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما ورد في التشديد على من جر ثوبه خيلاء · حديث 6119

6120 - وروينا في الفضائل وغيرها عن سالم بن عبد الله عن أبيه : عن النبي صلى الله عليه و سلم وفيه من الزيادة : فقال أبو بكر الصديق : أي رسول الله إن أحد شقي إزاري يسترخي إلا أن أتعاهد ذلك منه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لست أو إنك لست ممن يصنعه خيلاء

اور ہم نے فضائل وغیرہ میں ذکر کیا ہے سالم بن عبداللہ سے اس نے اپنے والد سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اس میں کچھ اضافہ ہے۔ ابو بکر صدیق نے کہا اے اللہ کے رسول! بے شک ایک انسان کی بد نصیبی ہے۔ میری چاور ڈھیلی ہو جاتی ہے مگر یہ کہ حفاظت کروں میں اس کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ہو تم۔ یا یوں فرمایا کہ بے شک تم نہیں ہو ان لوگوں میں سے جو اس کو ازراہ تکبر کرتے ہیں۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← وروينا في الفضائل وغيرها

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what was stated in the emphasis on the one who dragged his garment of vanity · Hadith 6119

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما ورد في التشديد على من جر ثوبه خيلاء · حديث 6120

6121 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه لفظا و محمد بن موسى قراءة ثنا أبو العباس الأصم ثنا محمد بن الوراق ثنا أبو نعيم ثنا عبادة بن مسلم الفزاري ثنا جبير بن أبي سليمان بن جبير بن مطعم : أنه كان جالسا مع ابن عمر إذا مر فتى شاب عليه حلة صنعانية يجرها مسبل قال : يا فتى هلم قال له الفتى : ما حاجتك يا أبا عبد الرحمن قال : ويحك أتحب أن ينظر الله إليك يوم القيامة : سبحان الله وما يمنعني أن لا أحب ذلك قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا ينظر الله إلى عبد يوم القيامة يجر إزاره خيلاء قال : فلم ير ذلك الشاب إلا مشمرا حتى مات بعد ذلك اليوم

ہمیں خبر دی ابو طا ہر فقیہ نے زبانی اور محمد بن موسیٰ نے پڑھ کر۔ وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس رحمٰن نے ان کو محمد بن علی وراق نے ان کو ابو نعیم نے ان کو عبادہ بن مسلم فزاری نے ان کو جبیر بن ابو سلیمان بن جبیر بن مطعم نے کہ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک ایک نوجوان آدمی وہاں سے گزرے ان کے اوپر صنعانی چادر تھی وہ اسے گھسیٹ کر چل رہے تھے،لٹکائے ہوئے تھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے پاس بلایا تو اس نے پوچھا کیا کام ہے آپ کو اے ابو عبدالرحمٰن ! حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: افسوں ہے تمہارے اوپر کیا تم یہ پسند کرو گے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہاری طرف دیکھیں اس نوجوان نے کہا سبحان اللہ! میں کیوں نہیں چاہوں گا ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرما رہے تھے اللہ تعالیٰ اس بندے کی طرف قیامت کے دن نہیں دیکھیں گے جو تکبر کی وجہ سے اپنی چادر کھسیٹ کر چلے گا۔ کہتے ہیں کہ اس دن کے بعد سے ہمیشہ اس نو جوان کو دیکھا زمین پر کہ وہ تہہ بند اوپرکو چڑ ھائے ہوئے ہوتا تھا زندگی بھر مرنے تک (اس نے چادر لٹکانا چھوڑ دیا۔)

جُبَيْرِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيِّ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← محمد بن الوراق ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو طاهر الفقيه لفظا و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what was stated in the emphasis on the one who dragged his garment of vanity · Hadith 6120

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما ورد في التشديد على من جر ثوبه خيلاء · حديث 6121

6122 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا عبد الله بن يوسف ثنا مالك عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا ينظر الله يوم القيامة إلى من جر إزاره بطرا رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن يوسف وأخرجه مسلم من وجه آخر عن أبي الزناد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو عبداللہ بن یوسف نے ان کو مالک نے ان کو ابو الزناد نے ان کو اعرج نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس بندے کی طرف شفقت کے ساتھ نہیں دیکھیں گے جو اتراتے اکڑتے ہوئے چادر زمین پر گھسیٹ کر چلے گا۔ بخاری نے اس کو صحیح میں نقل کیا۔ عبداللہ بن یوسف سے۔ اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے دوسرے طریق سے ابو الزناد سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what was stated in the emphasis on the one who dragged his garment of vanity · Hadith 6121

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما ورد في التشديد على من جر ثوبه خيلاء · حديث 6122

6123 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن همام بن منبه قال : هذا ما حدثنا أبو هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله لا ينظر إلى المسبل يوم القيامة يعني إزاره قال : وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بينما رجل يتبختر في بردين وقد أعجبته نفسه خسف به الأرض فهو يتجلجل فيها إلى يوم القيامة رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق يعني الحديث وأخرجاه من حديث محمد بن زياد وعن أبي هريرة

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے۔ ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو حمام بن منبہ نے وہ کہتے ہیں یہ وہ ہے جس کے بارے میں ہمیں حدیث بیان کی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نہیں دیکھیں گے قیامت کے دن چاور لٹکانے والے کی طرف۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا یکایک ایک آدمی دو چادروں میں اکڑ اکڑ کر چل رہا تھا اس کواپنا سراپا بہت اچھا لگ رہا تھا۔ اچانک اسے زمین میں دھنسا دیا گیا وہ قیامت تک اسی میں نیچے اترتا ہی جائے گا۔ اس کو روایت کیا ہے مسلم نے صحیح میں محمد بن رافع سے اس نے عبدالرزاق سے یعنی حدیث ثانی کو۔ اور بخاری ومسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث محمد بن زیاد سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what was stated in the emphasis on the one who dragged his garment of vanity · Hadith 6122

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما ورد في التشديد على من جر ثوبه خيلاء · حديث 6123

6124 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم ثنا شعبة ثنا محمد بن زياد قال : سمعت أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بينما رجل يمشي في حلة تعجبه نفسه مرجل جمته إذا خسف الله به فهو يتجلجل في الأرض إلى يوم القيامة رواه البخاري في الصحيح عن آدم وأخرجه مسلم من وجه آخر عن شعبة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم نے ان کو شعبہ نے ان کو محمد بن زیاد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یکایک ایک آدمی ایک چادر یا پوشاک میں اتر اترا کر چل رہا تھا اس کو اپنا نفس زیادہ اچھا لگ رہا تھا اور وہ اپنے بالوں میں کنگھی کرتا جاتا تھا کہ اچانک اللہ نے زمین میں دھنسایا وہ قیامت تک نیچے اترتا جائے گا۔ اس کو بخاری نے صحیح میں روایت کیا ہے آدم سے۔ اور اس کومسلم نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے شعبہ سے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what was stated in the emphasis on the one who dragged his garment of vanity · Hadith 6123

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما ورد في التشديد على من جر ثوبه خيلاء · حديث 6124

6125 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ثنا جعفر بن محمد بن شاكر ثنا عفان ثنا شعبة وأخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا حفص بن عمر ثنا شعبة عن علي بن مدرك عن أبي زرعة بن عمرو بن جرير عن خرشة بن الحر عن أبي ذر : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : ثلاثة لا يكلمه الله ولا ينظر إليهم يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم قلت : من هم يا رسول الله فقد خابوا وخسروا فأعادها ثلاثا فقلت : من هم يا رسول الله قد خابوا وخسروا فقال المسبل يعني إزاره والمنان والمنفق سلعته بالحلف الكاذب أو الفاجر أخرجه مسلم في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو بکر احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو جعفر بن محمد بن شاکر نے ان کو عفان نے ان کو شعبہ نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو حفص بن عمر نے ان کو شعبہ نے ان کو علی بن مدرک نے ان کو ابو زرعہ بن عمرو بن جریر نے ان کو خرشہ بن حر نے ان کو ابو ذر رضی اللہ عنہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انہوں نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن سے نہ ہی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام کرے گا اور قیامت کے دن ان کی طرف نظر کرم بھی نہیں کرے گا اور ان کو پاک نہیں کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ میں نے کہا کہ وہ کون لوگ ہیں یا رسول اللہ تحقیق رسوا ہو گئے اور نقصان میں پڑ گئے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باراسی بات کو دھرایا میں نے کہا وہ کون ہیں یا رسول اللہ!تحقیق رسوا ہو گئے وو لوگ اور گھاٹے میں پڑ گئے۔ فرمایا کہ مسبل یعنی اپنی چادر کو زمین پر گھسیٹنے والا، منان یعنی احسان جتلانے والا اور اپنے سامان کو جھوٹی قسم کے ساتھ رواج دینے اور بیچنے والا کاذب یا فاجر کہا تھا۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے حدیث شعبہ سے۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← اَبِیْ ذَرٍّ ← خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ← شُعْبَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what was stated in the emphasis on the one who dragged his garment of vanity · Hadith 6124

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما ورد في التشديد على من جر ثوبه خيلاء · حديث 6125

6126 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا موسى بن إسماعيل ثنا أبان ثنا يحيى بن أبي جعفر عن عطاء بن يسار عن أبي هريرة قال : بينما رجل يصلي مسبل إزاره فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : اذهب فتوضأ فذهب فتوضأ ثم جاء فقال : اذهب فتوضأ فقال له رجل : يا رسول الله ما لك أمرته أن يتوضأ ثم سكت عنه قال : إنه كان يصلي وهو مسبل إزاره فإن الله عز و جل لا يقبل صلاة رجل مسبل

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو ابان نے ان کو یحییٰ بن ابو جعفر نے ان کو عطا بن یسار نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک آدمی اپنی چادر زمین پر لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ جاؤ تم وضو کر کے آؤ وہ چلا گیا اور وضو کر کے آ گیا۔ پھر آپ نے اسے کہا جاؤ تم وضو کر کے آؤ۔ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ کیا ہوا آپ نے اس کو وضو کرنے کو کہا ہے ؟ اس کے بعد اس کے بارے میں آپ نے خاموشی اختیار کی۔ اور فرمایا کہ بے شک وہ نماز پڑھ رہا تھا حالانکہ وہ چادر زمین پر لٹکائے ہوئے تھا بے شک اللہ تعالیٰ اس آدمی کی نماز قبول نہیں کرتے جو کپڑے کے کنارے لٹکانے والا ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← أَبَانُ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what was stated in the emphasis on the one who dragged his garment of vanity · Hadith 6125

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما ورد في التشديد على من جر ثوبه خيلاء · حديث 6126

6127 - وأخبرنا أبو الحسن المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا أبو الخطاب ثنا ابن أبي عدي عن هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن عطاء بن يسار عن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : لا يقبل الله صلاة رجل مسبل إزاره ورواه حرب بن شداد عن يحيى عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أبي جعفر المدني عن عطاء بن يسار عن رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو الحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابو الخطاب نے ان کو ابن ابی عدی نے ان کو ہشام دستوائی نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو عطا بن یسار نے ان کو ایک آدمی نے اصحاب نبی میں سے اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نہیں قبول فرماتے نماز چادر لٹکانے والے آدمی کی۔ اور اس کو روایت کیا ہے حرب بن شداد نے ان کو یحییٰ نے ان کو اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے ان کو ابو جعفر مدنی نے ان کو عطاء بن یسار نے ایک آدمی سے اصحاب رسول میں سے۔

رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← أبي جعفر المدني ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← يَحْيَى ← لا يقبل الله صلاة رجل مسبل إزاره ورواه حرب بن شداد ← رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبُو الْخَطَّابِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِي

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what was stated in the emphasis on the one who dragged his garment of vanity · Hadith 6126

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما ورد في التشديد على من جر ثوبه خيلاء · حديث 6127

6128 - أخبرنا علي بن محمد بن علي المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب القاضي ثنا محمد بن كثير ثنا سليمان بن كثير عن حفص عن أبي الحجاج بن سعيد الثقفي عن رجل من قومه قال : مر برسول الله صلى الله عليه و سلم رجل يجر إزاره فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ارفع إزارك فإن الله عز و جل لا يحب المسلمين فقال : إن بساقي حموشة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما بإزارك أقبح ما بساقك

ہمیں خبر دی علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سلیمان بن کثیر نے ان کو حفص بن ابو الحجاج بن سعید ثقفی نے اپنی قوم کے ایک آدمی سے اس نے بتایا کہ ایک آدمی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور وہ اپنی چادر نیچے گھسیٹ کر چل رہا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی چادر اوپر کرو بے شک اللہ تعالیٰ چادر لٹکانے والوں کو پسند نہیں فرماتے اس نے کہا یا رسول اللہ!میری پنڈلیاں پتلی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چادر لٹکانے والا عیب زیادہ برا ہے اس عیب سے جو تیری پنڈلیوں میں ہے۔

رجل من قومه ← أَبِي الْحَجَّاجِ بْنِ سَعِيدٍ الثَّقَفِيِّ، ← حَفْصٌ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what was stated in the emphasis on the one who dragged his garment of vanity · Hadith 6127

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما ورد في التشديد على من جر ثوبه خيلاء · حديث 6128

6129 - قال : وثنا يوسف ثنا مسدد ثنا خالد بن عبد الله ثنا حصين بن عبد الرحمن عن أبي الحجاج الثقفي عن رجل من قومه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أبصر رجلا يجر إزاره ثم ذكر مثله

کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی یوسف نے ان کو مسدد نے ان کو خالد بن عبداللہ نے ان کو حسین بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو الحجاج ثقفی نے اپنی قوم کے ایک آدمی سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنی چادر گھسیٹ کر چل رہا تھا اس کے بعد راوی نے مذکور کی مثل حدیث ذکر کی۔

رجل من قومه ← أبي الحجاج الثقفي ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُسَدَّدٌ ← وثنا يوسف

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what was stated in the emphasis on the one who dragged his garment of vanity · Hadith 6128

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيما ورد في التشديد على من جر ثوبه خيلاء · حديث 6129

6130 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو أمية ثنا أبو نعيم ثنا عيسى بن قرطاس عن عكرمة عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا صليتم فارفعوا سبلكم فإن كل شيء أصاب سبلكم فهو في القلب يريد بالمسبل ثيابه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو امیہ نے ان کو ابو نعیم نے ان کو عیسیٰ بن قرطاس نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز پڑھنے لگو تو اپنے لنکائے ہوئے کپڑوں کو اوپر کر لیا کرو بے شک ہر شئی جو تمہارے کپڑے لٹکانے کو وہ دل میں ہوتی ہے۔ (اس سے مراد ہے کپڑوں کا اسبال اور لٹکانا مراد ہے یعنی اس کا خیال دل میں ہوتا ہے۔)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عيسى بن قرطاس ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in what was stated in the emphasis on the one who dragged his garment of vanity · Hadith 6129

chevron_left Previous
1…464748…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood