شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6094
6095 - تروي عائشة رضي الله عنها قالت : كانت لنا قطيفة كنا نقول إن علمها حرير فما نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن لبسها قط وعن عمر رضي الله عنه قال : البسوا من الحرير قدرا اصبعين أو ثلاثا أو أربعا وهذا والله أعلم نوقيت لعلمين يكونان على كمين كل واحد منهما بقدر اصبعين فيكون جماعهما قدر أربع أصابع وذلك هو المراد بما روي عنه أنه قال : أو مثل الكف فيهما أربع أصابع والمعنى أن يكون على الكمين ما إذا جمع يجاوز قدر الكف وكذلك إن كان الثوب من كتان فخيط بالإبريسم لم يحرم قال الإمام أحمد : هذا الذي قال الحليمي : في الاعلام صحيح وقد ورد عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه وغيره موقوفا ما دل على إباحتها أما الموقوف
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ہمارے ہاں ایک روئیں دار کپڑا تھا۔ ہم لوگ کہتے تھے کہ اس کا پھول یا نقش نگار ریشم ہے حضور نے ہمیں اس کو پہنے سے بھی منع نہیں کیا تھا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرمایا کہ ریشم دو انگشت یا تین انگشت یا چار انگشت تک پہنو۔ واللہ اعلم، دو پھولوں یا نشانوں کے لئے ہے جو قمیص کے کفوں پر ہوں ہر ایک ان دونوں میں سے دو انگلیوں کے بقدر ہو جو سب ملا کر چار انگلیوں کی مقدار میں ہو۔ یہی مراد ہے اس سے جوان سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا یا مثل کف کے دونوں میں چار انگشت ہو۔ اور مراد یہی ہے کہ قمیص کے کفوں پر ہو اس قدر کے جب جمع کیا جائے۔ مجموعی طور پر ہتھیلی سے قدرے زیادہ ہو۔ اور اسی طرح اگر کپڑا سوتی ہو اور ابریشم کے ساتھ سیا جائے وہ حرام نہیں ہے۔ امام احمد نے فرمایا۔ یہی ہے وہ جو کچھ شیخ حلیمی نے کہا ہے۔ کہ نشانوں، پھول وغیرہ میں استعمال صحیح ہے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بطور مرفوع روایت بھی اور موقوف روایت بھی جو اس کے جواز پر دال ہے۔ حسن میں سے موقوف روایت درج ذیل ہے۔
تروي عائشة
Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6094
