Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6094

6095 - تروي عائشة رضي الله عنها قالت : كانت لنا قطيفة كنا نقول إن علمها حرير فما نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن لبسها قط وعن عمر رضي الله عنه قال : البسوا من الحرير قدرا اصبعين أو ثلاثا أو أربعا وهذا والله أعلم نوقيت لعلمين يكونان على كمين كل واحد منهما بقدر اصبعين فيكون جماعهما قدر أربع أصابع وذلك هو المراد بما روي عنه أنه قال : أو مثل الكف فيهما أربع أصابع والمعنى أن يكون على الكمين ما إذا جمع يجاوز قدر الكف وكذلك إن كان الثوب من كتان فخيط بالإبريسم لم يحرم قال الإمام أحمد : هذا الذي قال الحليمي : في الاعلام صحيح وقد ورد عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه وغيره موقوفا ما دل على إباحتها أما الموقوف

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ہمارے ہاں ایک روئیں دار کپڑا تھا۔ ہم لوگ کہتے تھے کہ اس کا پھول یا نقش نگار ریشم ہے حضور نے ہمیں اس کو پہنے سے بھی منع نہیں کیا تھا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرمایا کہ ریشم دو انگشت یا تین انگشت یا چار انگشت تک پہنو۔ واللہ اعلم، دو پھولوں یا نشانوں کے لئے ہے جو قمیص کے کفوں پر ہوں ہر ایک ان دونوں میں سے دو انگلیوں کے بقدر ہو جو سب ملا کر چار انگلیوں کی مقدار میں ہو۔ یہی مراد ہے اس سے جوان سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا یا مثل کف کے دونوں میں چار انگشت ہو۔ اور مراد یہی ہے کہ قمیص کے کفوں پر ہو اس قدر کے جب جمع کیا جائے۔ مجموعی طور پر ہتھیلی سے قدرے زیادہ ہو۔ اور اسی طرح اگر کپڑا سوتی ہو اور ابریشم کے ساتھ سیا جائے وہ حرام نہیں ہے۔ امام احمد نے فرمایا۔ یہی ہے وہ جو کچھ شیخ حلیمی نے کہا ہے۔ کہ نشانوں، پھول وغیرہ میں استعمال صحیح ہے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بطور مرفوع روایت بھی اور موقوف روایت بھی جو اس کے جواز پر دال ہے۔ حسن میں سے موقوف روایت درج ذیل ہے۔

تروي عائشة

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6094

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6095

6096 - فأخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن محمويه العسكري أنا جعفر بن محمد القلانسي ثنا آدم بن أبي إياس ثنا سعيد عن عبد الله بن أبي السفر عن الشعبي عن سويد بن غفلة قال : أقبلنا من الشام وقد فتح لنا فتوحا و عمر بن الخطاب قاعد بظهر المدينة يتلقانا ولبسنا الحرير والديباج وثياب العجم فلما رآنا جعل يرمينا فرجعنا فلبسنا برودا يمانية فلما انتهيا إليه قال : مرحبا بالمهاجرين إن الحرير لم يرضه الله لمن كان قبلكم فيرضاه لكم إن الحرير لا يصلح منه إلا هكذا وهكذا يعني إصبعا وإصبعين وثلاثا وأربعا وأما المرفوع

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد محمویہ عسکری نے ان کو جعفر بن محمد قلاشی نے ان کو آدم بن ایاس نے ان کو سعید بن عبداللہ بن ابو السعر نے ان کو شعبی نے ان کو سوید بن غفلہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ شام کے ملک سے واپس آئے تھے۔ اور اللہ نے ہمارے لئے فتوعات کی تھیں اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مدینہ پر بیٹھے تھے وہ ہمیں ملے تو ہم لوگ باریک اور موٹا ریشم پہنے ہوئے تھے۔ اور عجمیوں والے کپڑے بھی انہوں نے جب ہمیں دیکھا تو ہمیں خوب ڈانٹا۔ لہٰذا ہم واپس لوٹ آئے اور ہم نے یمنی چادریں پہن لیں اس کے بعد جب ہم ان کے پاس آئے تو فرمایا: مرحبا ہو مہاجرین کو بے شک اللہ نے ریشم کو تم سے پہلے لوگوں کے لئے پسند نہیں کیا تھا کہ تمہارے لئے پسند کرتا۔ بے شک ریشم میں سے استعمال درست نہیں مگر اتنی اتنی یعنی ایک انگلی یا دو یا تین یا چار کے برابر۔ اور اس بارے میں مرفوع روایت میں ہے۔

سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ← سَعِيدٌ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6095

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6096

6097 - فأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم الخرساني العدل ببغداد ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا عبد الوهاب بن عطاء أنا سعيد عن قتادة عن الشعبي عن سويد بن غفلة : أن عمر بن الخطاب خطب الناس بالجابية فقال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن لبس الحرير إلا موضع إصبع أو إصبعين أو ثلاث أو أربع وأشار بكفه وعقد خمسين رواه مسلم عن محمد بن عبد الله الدارمي عن عبد الوهاب

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو محمد عبداللہ بن اسحٰق بن ابراہیم خراسانی العدل نے بغداد میں ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کوعبدالوہاب بن عطاء نے ان کو سعید نے ان کو قتادہ نے ان کو شعبی نے سوید بن غفلہ سے یہ کہ عمر بن خطاب نے لوگوں کو مقام جابیہ میں خطبہ دیا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ریشم پہننے سے مگر ایک انگلی یا دو یا تین یا چار کی جگہ اور اپنی ہتھیلی سے پچاس کا حلقہ بنایا۔ اس کو روایت کیا ہے مسلم نے محمد بن عبداللہ دارمی سے اس نے عبدالوہاب سے ۔

سويد بن غفلة أن عمر بن الخطاب خطب الناس بالجابية فقال ← الشَّعْبِيِّ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو محمد عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم الخرساني العدل ببغداد ← فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6096

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6097

6098 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا جعفر بن محمد بن معاذ ثنا أحمد بن يونس ح قال : وأنا أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا النفيلي قالا : ثنا زهير ثنا عاصم الأحول عن أبي عثمان قال : كتب إلينا عمر ونحن بأذربيجان مع عتبة بن فرقد أنه ليس من كدك ولا كد أبيك قالها ثلاث مرات واشبع يعني المسلمين في رحالهم كما تشبع في رحلك واتزروا وارتدوا وألقوا الخفاف وألقوا السراويلات وألقوا الركب وارموا الأغراض وعليكم بالعربية وإياكم والتنعم وزي أهل الشرك ولبوس الحرير فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن لبس الحرير إلا هكذا ووضع اصبعيه السبابة والوسطى وضمها قال زهير : قال عاصم : هذا في الكتاب رواه البخاري عن أحمد بن يونس مختصرا وكذا مسلم وكذلك رواه قتادة عن أبي عثمان وإنما أراد والله أعلم مقدار إصبعين في كل كم كما قال الحليمي : فيكون ما في الكمين قدر أربع أصابع فقد

اور ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو جعفر بن محمد بن معاذ بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو نفیلی نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زہیر نے ان کو عاصم احول نے ان کو ابو عثمان نے۔انہوں نے کہا کہ تم لوگ آذربیجان میں تھے عتبہ بن فرقد کے ساتھ۔ بے شک حال یہ ہے کہ نہ تو تیری محنت سے ہے اور نہ تیرے باپ کی محنت سے تین بار یہ کہا۔ پیٹ بھر کھانا کھلاؤ تم مسلمانوں کو ان کے گھروں میں یا ان کے سامان میں۔ جیسے تم اپنے سامان پیٹ بھر کھاتے ہو۔ اور تم لوگ تہہ بند باندھو۔ اوپر چادریں اوڑھو۔ پھینک دو موزوں کو۔ پھینک دو پاجاموں کو اونٹوں کے پلانوں کو ترک کر دو پھینک دو خواہشات کو۔ اور لازم کرو عربی بولنے کو۔ اور بچاؤ تم اپنے آپ کو آرام و آسائش کی زندگی سے اور بچاؤ تم اپنے آپ کواہل شرک کے لباس اور ہیئت سے۔ اور بچاؤ تم اپنے آپ کو ریشم پہننے سے بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ریشم پہنے سے مگر ایسے ایسے۔ اور اپنی دو انگلیاں سبابہ اور وسطی رکھ دیں اور انگلیوں کو آپس میں ملا دیا۔ زہیر نے کہا کہ عاصم نے کہا تھا۔ یہی درج ہے کتاب میں۔اس کو بخاری نے روایت کیا ہے احمد بن یونس سے اختصار کے ساتھ اور اسی طرح مسلم نے۔ اور اسی طرح اس کو روایت کیا ہے قتادہ نے ابو عثمان سے ہوا اس کے نہیں اس سے ارادہ کیا تھا دو انگلیوں کی مقدار ہر کف میں۔ جیسے شیخ حلیمی نے فرمایا کہ دونوں کفوں میں استعمال ہونے والے ریشم کی مقدار صرف چار اونگل ہو گی بس۔

إلينا عمر ونحن بأذربيجان مع عتبة بن فرقد ← أَبِي عُثْمَانَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← زُهَيْرٍ ← النُّفَيْلِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← جعفر بن محمد بن معاذ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6097

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6098

6099 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النصر الفقيه ثنا الحسن بن سفيان ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا حفص بن غياث عن عاصم عن أبي عثمان أن عمر : كان ينهى عن الحرير والديباج إلا ما كان هكذا ثم أشار بإصبعه ثم الثانية ثم الثالثة ثم الرابعة قال وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهانا عنه رواه مسلم في الصحيح عن ابن نمير عن حفص

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو نصر فقیہ نے ان کوحسن بن سفیان نے ان کو ابو بکر بن ابو شیبہ نے ان کو حفص بن غیاث نے ان کو عاصم بن ابو عثمان نے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ منع فرماتے تھے تحریر اور دیباج (باریک اور موٹے دونوں طرح کے ریشم) سے مگر جو صرف اس قدر ہو، اس کے بعد انہوں نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا اس کے بعد دوسری پھر تیسری پھر چوتھی ملا کر اور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع کیا تھا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا صحیح میں ابن نمیر سے اس نے حفص سے۔

أَبِي عُثْمَانَ ← عَاصِمٍ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو النصر الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6098

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6099

6100 - أخبرنا أبو عبد الله أنا أبو بكر بن مالك ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا إسماعيل عن داود عن عروة عن حميد بن عبد الرحمن عن سعد بن هشام عن عائشة قالت : كان لنا ستر فيه تمثال طائر وكان الداخل إذا دخل استقبله فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : حولي هذا فإني كلما دخلت فرأيته ذكرت الدنيا قالت : وكان لنا قطيفة كما تقول : علمها حرير فكنت ألبسها رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب عن إسماعيل بن علية وأما ما قال الحليمي رحمه الله من الإنكار على من فرق بين السدي واللحمة هذا مبني على روي في ذلك عن عبد الله بن عباس فإن كان غير ثابت فالأمر على ما قال الحليمي رحمه الله : وإن كان ثابتا فلا معنى لإنكاره وهو إذا أراه احتج في كتابه بما هو أضعف من حديث ابن عباس بكثير وحديث ابن عباس قد أخرجه أبو داود في كتاب السنن وهو فيما

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن مالک نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو حدیث بیان کی ان کے والد نے ان کو اسماعیل نے ان کو داؤد نے ان کوعروہ نے ان کو حمید بن عبدالرحمٰن نے ان کو سعد بن ہشام نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ ہمارے ہاں ایک پردہ تھا جس میں پرندوں کی تصویریں تھیں اور وہ اندر لٹکا ہوا تھا آپ جب اندر داخل ہوتے تو وہ سامنے ہوتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ اس کو یہاں سے ہٹا دو میں جب بھی داخل ہوتا ہوں اور اس پر نظر پڑتی ہے تو میں دنیا کو یاد کرتا ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ ہمارے یہاں ایک ریشمی لائن والا کپڑا تھا اس کے نقش نگار ریشمی تھے میں اس کو پہنتی تھی۔ اور اس کومسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں زہیر بن حرب سے اس نے اسماعیل بن علیہ سے۔ بہر حال شیخ حلیمی نے جو کچھ کہا ہے انکار کے بارے میں ان پر جنہوں نے تانے اور بانے کے بارے میں فرق کیا ہے وہ اس روایت پر مینی ہے جو اس بارے میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اگر وہ غیر ثابت ہے تو معاملہ اسی پر مبنی ہے جو حلیمی نے فرمایا۔ اور اگر ثابت ہے تو پھر ان کے انکار کرنے کا کوئی معنی نہیں ہے وہ جب بیان کرتے ہیں تو اپنی کتاب میں حجت اور دلیل پکڑتے ہیں اس حدیث کے ساتھ جو ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے زیادہ ضعیف اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث کو ابو داؤد نے نقل کیا ہے کتاب السنن میں۔

عَائِشَةَ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُرْوَةَ ← دَاوُدُ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مَالِكٍ، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6099

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6100

6101 - أخبرنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي أنا أبو عمرو بن مطر ثنا إبراهيم بن علي ثنا يحيى بن يحيى أنا أبو خيثمة عن خصيف عن عكرمة عن ابن عباس قال : إنما كره نبي الله عليه وسلم الثوب المصمت من الحرير فإما العلم من الحرير أو سدي الثوب فليس به بأس قال الشيخ : وهذا حديث رواه زهير بن معاوية أبو خيثمة عن خصيف هكذا ورواه ابن جريج عن خصيف عن عكرمة و سعيد بن جبير عن ابن عباس هكذا في رواية أخرى فأما أن يكون سداه أو لحمته حريرا فلا بأس بلبسه وكذلك رواه إسماعيل بن مسلم عن عطاء ابن عباس

ہمیں خبر دی ابو بکر محمد بن ابراہیم فارسی نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو ابو خیثمہ نے ان کو خصیف نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکروہ قرار دیا تھا اس کپڑے کو جس کا تانا بانا دونوں ریشم ہوں۔ بہرحال وہ کپڑا جس کے نقش نگار ریشمی ہوں یا صرف تانا کپڑے کا ریشمی ہو اس کے ساتھ کوئی حرج نہیں ہے۔ اور شیخ نے فرمایا کہ یہ وہ حدیث ہے جس کو زہیر بن معاویہ ابو خیثمہ نے عصیف سے اور اسی طرح روایت کیا ہے اس کو ابن جریج نے روایت کیا ہے عصیف سے اس نے عکرمہ اور سعید بن جبیب سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح دوسری روایت میں ہے۔ بہرحال وہ کپڑا جس کا تانا بانا ریشم ہو (صرف ایک چیز) تو اس کے پہننے میں حرج نہیں ہے۔ اور اسی طرح روایت کیا ہے اس کو اسماعیل بن مسلم نے عطاء بن عباس ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خُصَيْفٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6100

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6101

6102 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب بن عطاء أنا إسماعيل بن مسلم عن عطاء قال ابن عباس : إنما حرم صلى الله عليه و سلم المصمت من الحرير فأما ما كان لحمته قطن وسداه حرير أو لحمته حرير وسداه قطن فلا بأس به غير أن إسماعيل بن مسلم هذا ضعيف والرواية الأولى عن إبراهيم التي توافق رواية الزهري عن خصيف أولى أن يكون محفوظة وأما خصيف بن عبد الرحمن الجزري فقد روي عنه الكبائر واختلفوا في عدالته وكان أبو أحمد بن عدي الحافظ رحمه الله يقول : إذا حدث عن خصيف ثقة فلا بأس بحديثه وبروايته إلا أن يروي عنه ضعيف وهذا أو معناه فيما 6102 - مكرر ـ أخبرنا أبو سعيد الماليني عنه : وإنما فرق الله بين اللحمة والسدي لأن اللحمة تكون أكثر والسدي يكون أقل وأباح الثوب إذا كان أكثر قطنا أو غير إبريسم ولم يبحه إذا كان أكثره إبريسم وهذا هو الذي يدل عليه كلام الشافعي رحمه الله فإنه قال في كتاب صلاة الخوف : وإذا كان في نسج الثوب الذي لا يحصن فز وقطن أو كتان وكان القطن الغالب لم أكره لمصل خائف ولا غيره لبسه فإن كان القز ظاهرا كرهت لكل مصل محارب وغيره لبسه وإنما كرهت للمحارب لأنه لا يحصن ثياب القز قال : و لو توقى المحارب أن يلبس ديباجا أو قزا طاهرا كان أحب إلي فإن لبسه لحصنه فلا بأس إن شاء الله لأنه قد يرخص له في الحرب فيما يحظر عليه في غيره

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے ان کو اسماعیل بن مسلم نے ان کو عطاء نے وہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ریشمی کپڑے کوحرام قرار دیا تھا جس کا تانا بانا ریشمی ہو۔ بہرحال و وجس کا بانا کاٹن ہو اور تانا ریشم ہو یا بانا ریشم ہو اور تانا کاٹن ہواس کے استعمال میں حرج نہیں ہے۔ اسماعیل بن مسلم ضعیف ہے۔ اور پہلی روایت ابراہیم کی جو موافق ہے زہیر کی روایت کے خصیف سے وہ محفوظ ہونے کے اعتبار سے اولیٰ ہے۔ بہر حال خصیف بن عبدالرحمٰن جزری سے کبائر مرویات میں ان کی عدالت میں اختلاف ہے۔ اور ابو احمد بن عدی حافظ رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے جب خصیف سے کوئی ثقہ راوی روایت کرے تو اس کی حدیث میں کوئی حرج نہیں ہے۔اور اس کی دیگر روایات میں بھی ہاں مگر یہ کہ اس سے کوئی ضعیف روایت کرے۔ مکر رہے۔ ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے کہ یہ تانے اور بانے کے ریشمی ہونے کے بارے میں جو فرق کیا گیا ہے اس لئے ہے کہ بانا زیادہ ہوتا ہے۔ اور تانا کم ہوتا ہے اور اس کپڑے کو جائز قرار دیا ہے کہ جب اس کا زیادہ حصہ سوتی ہو یا غیر ابریشم ہو۔ اور غیر مباح قرار دیا ہے جب اس کا زیادہ ابریشم ہو۔ یہی ہے وہ جس پر امام شافعی کا کلام دلالت کرتا ہے جو انہوں نے کتاب صلوٰۃ الخوف میں کہا ہے۔ جب وہ کپڑے پہننے میں جو حفاظت نہیں کرتا اصلی ریشم ہو اور سوت یا کتان۔ اور سوت غالب ہو تو میں کو مکروہ نہیں کہتا اس نمازی کے لئے جو خوف میں ہو اور نہ ہی اس کے لئے پہننا جو غیر خائف ہو۔ اور اگر اصلی ریشم غالب اور طاہر ہو تو میں اس کو مکروہ کہتا ہوں ہر نمازی کے لئے خواہ وہ جنگ میں ہو اس کو پہنے یا غیر جنگ ہیں۔ جنگ والے کے لئے تو اس لئے مکروہ کہتا ہوں کہ و و حفاظت نہیں کرتا ریشمی کپڑے والا۔ فرمایا کہ اگر جنگ کرنے والا پاک دیبان یا حر یر حفاظت کے لئے پہنتے تو یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے کیونکہ اس کا پہننا حفاظت کے لئے ہے۔ لہٰذا کوئی حرج نہیں ہے۔ انشاء اللہ اس لئے کہ کبھی اس کے لئے جنگ میں رخصت دی جاتی ہے اس چیز کی جو اس پر غیر جنگ میں ممنوع ہوتی ہے۔

عَطَاءٍ، ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6101

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6102

6103 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن السراج ثنا مطين ثنا مسلم بن سلام مولى بني هاشم ثنا عبد السلام عن مالك بن دينار عن عكرمة أن ابن عباس كان يلبس الخز وقال : إنما نهى عن المصمت ورواه أيضا أبو معمر عن عبد السلام بن حرب قال الشيخ : وفيما أورد شيخنا أبو عبد الله الحافظ في كتاب المستدرك فيما لم يقرأ عليه عن القطيعي عن عبد الله بن أحمد بن حنبل عن أبيه قال : ثنا محمد بن بكير ثنا ابن جريج عن عكرمة بن خالد عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : إنما نهى النبي صلى الله عليه و سلم عن المصمت إذا كان حريرا قال الشيخ : وهذا إسناد صحيح وذلك يؤكد جملة رواية خصيف وأما الذي احتج به من حديث علي بن أبي طالب رضي الله عنه فالرواية فيه عندنا كما

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن سراج نے ان کو مطین نے ان کو مسلم بن سلام مولیٰ بنی ہاشم نے ان کو عبدالسلام نے مالک بن دینار سے اس نے عکرمہ سے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ خزکا ریشم استعمال کرتے تھے اور فرمایا تھا کہ نبی کریم نے گاڑھے ریشم سے منع کیا تھا جس کا تانا اور بانا دونوں ریشمی ہوں۔ اور اس کو ابو معمر نے بھی روایت کیا ہے عبدالسلام بن حرب سے۔ شیخ نے کہا کہ ان میں سے جو ہمارے شیخ ابو عبداللہ حافظ نے کتاب المستدرک میں جو روایت لائے ہیں ان میں سے (ان پر نہیں پڑھی گئی) قطیعی سے اس نے عبداللہ بن احمد بن حنبل سے انہوں نے اپنے والد سے اس نے محمد بن بکیر سے اس نے ابن جریج سے اس نے عکرمہ بن خالد سے اس نے سعید بن جبیر سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے فرمایا: یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موٹے ریشم سے منع فرمایا تھا جب خالص ہو۔ شیخ نے فرمایا کہ یہ اسناد صحیح ہے اور یہ خصیف کی پوری روایت کی تائید کرتی ہے۔ بہر حال وہ روایت جس کے ساتھ حجت پکڑی گئی حدیث علی بن ابو طالب سے ہمارے نزدیک اس میں روایت ایسے ہے جیسے درج ذیل روایت ۔

عِكْرِمَةَ، ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← عَبْدُ السَّلامِ، ← مُسْلِمُ بْنُ سَلَّامٍ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ← مطين ← أبو الحسن السراج، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6102

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6103

6104 - أخبرنا أبو الحسن المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا علي بن عبد الله ثنا محمد بن فضيل بن غزوان ثنا يزيد بن أبي زياد عن أبي فاختة حدثني جعدة بن هبيرة عن علي قال : أهدي لرسول الله صلى الله عليه و سلم حلة مسيرة سداها حرير أو لحمتها حرير فأرسل بها إلي فأتيته فقلت : ما أصنع بها ألبسها أم لا ؟ فقال : إني لا أرضى لك ما أكره لنفسي ولكن اجعلها خمرا للفواطم

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو علی بن عبداللہ نے ان کو محمد بن فضیل بن غزوان نے ان کو یزید بن ابو زیاد نے ان کو ابو فاختہ سے ان کو جعدہ بن ہبیرہ نے ان کو علی نے وہ فرماتے ہیں کہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک یمنی چادر پیش کی گئی تھی جس کا تانا اور بانا دونوں ریشم تھے آپ نے وہ میرے پاس بھیجی میں ان کے پاس آیا میں نے پوچھا کہ میں اس کو کیا کروں اسے پہنوں یا نہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز میں اپنے لئے پسند نہیں کرتا وہ تمہارے لئے بھی نہیں کرتا تم اسے طماؤں کے لئے اوڑھنیاں بنا لو۔

عَلِيٍّ، ← جَعْدَةُ بْنُ هُبَيْرَةَ ← أَبِي فَاخِتَةَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6103

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6104

6105 - وأخبرنا محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا سعيد بن سليمان عن خالد عن يزيد بن أبي زياد عن أبي فاختة مولى أم هانئ حدثني جعدة بن هبيرة عن علي بن أبي طالب قال : أهدي لرسول الله صلى الله عليه و سلم حلة سيراء سداها حرير ولحمتها حرير فأرسل بها إلي فأتيته فقلت ألبسها أو أصنع بها ؟ قال : إني لا أرضى لك ما أكره لنفسي ولكن اجعلها خمرا بين الفواطم

ہمیں خبر دی ہے محمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو سعید بن سلیمان نے ان کو خالد نے ان کو یزید بن ابو زیاد نے ان کو ابو فاختہ مولیٰ اُم ہانی نے ان کو جعدہ بن ہبیرہ نے ان کو علی بن ابو طالب نے وہ کہتے ہیں کہ حضور کی خدمت میں ایک دو شالہ یمنی چادر پیش کی گئی جس کا تانا اور بانا دونوں ریشمی تھے انہوں نے میرے پاس بھیج دیا میں حضور کے پاس آیا اور پوچھا کہ(تمہاری والدہ فاطمہ اور میری بیٹی فاطمہ وغیرہ کے لئے) میں اس کو استعمال کروں یا کیا کروں ؟ فرمایا میں جو چیز اپنے لئے ناپسند کرتا ہوں وہ تمہارے لئے بھی ناپسند کرتا ہوں لیکن تم اس کو فاطماؤں کے لئے دوپٹے بنا لو۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← جَعْدَةُ بْنُ هُبَيْرَةَ ← أبي فاختة مولى أم هانئ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← خَالِدٌ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← مُحَمَّدَ بْنَ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيَّ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6104

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6105

6106 - وأخبرنا أبو علي الروذباري ثنا أبو بكر محمد بن مسعود بن محمويه العسكري ثنا أبو عبد الرحمن النسائي أخبرني محمد بن وهب بن أبي كريمة ثنا محمد بن سلمة حدثني أبو عبد الرحيم حدثني زيد بن محمد بن جحادة عن أبي صالح عن عبيد بن عمير الليثي عن علي بن أبي طالب قال : نهاني نبي الله صلى الله عليه و سلم عن القسي وخاتم الذهب وعن المكفف بالديباج ثم قال : واعلم اني لك من الناصحين قال الشيخ وهذا يحتمل في الكثير الذي يريد على الاعلام التي وردت الرخصة فيها ويحتمل أن يكون على جهة الكراهية في المكفف لما نذكره في حديث أسماء والله أعلم وأما الذي روى ابن عمر في ذلك فإنه رضي الله عنه لما سمع النهي عن لبس الحرير تورع عن قليله وكثيره

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن محمویہ عسکری نے ان کو ابو عبدالرحمٰن نسائی نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے محمد بن وہب بن ابو کریمہ نے ان کو محمد بن سلمہ نے کو ابو عبدالرحیم نے ان کوزید بن محمد بن حجادہ نے ان کو ابو صالح نے ان کو عبید بن عمیر لیثی نے ان کو علی بن ابو طالب نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا تھا مصری کپڑے سے اور سونے کی انگوٹھی سے اور اس سے جس کے کناروں کو دیباج ریشم سے سیا اور محفوظ کیا گیا ہواس کے بعد فرمایا کہ تم جان لو کہ میں تمہارے حق میں خیر خواہی کرنے والا ہوں شیخ نے فرمایا۔یہ احتمال رکھتا ہے کثیر میں جو نقش و نگار سے زیادہ ہو جس کے بارے میں رخصت آتی ہے۔ اور احتمال ہے کہ بوجہ کراہت کے ہو مکفف اور محفوظ کئے ہوئے میں بوجہ اس کے جو ذکر کریں گے حدیث اسماء میں واللہ اعلم۔ بہر حال و وروایت جو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں روایت کی ہے وہ اس لئے ہے کہ انہوں نے مطلق ریشم پہننے کی ممانعت سنی تھی اور انہوں نے اس کے قلیل ہو یا کثیر دونوں سے پرہیز کر لیا۔

ردت الرخصة فيها ويحتمل ← الشيخ وهذا يحتمل في الكثير الذي يريد على الاعلام التي ← وَاعْلَمْ أَنِّي لَكَ مِنَ النَّاصِحِينَ ← المكفف بالديباج ثم ← القسي وخاتم الذهب ← نهاني نبي الله صلى الله عليه و سلم ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← زيد بن محمد بن جحادة ← أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ← أبو بكر محمد بن مسعود بن محمويه العسكري ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6105

chevron_left Previous
1…444546…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood