Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6082

6083 - أخبرناه أبو محمد بن يوسف أنا ابن الأعرابي ثنا الزعفراني يزيد بن هارون أنا محمد بن إسحاق : فذكره غير أنه قال : عن علي قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم وفي إحدى يديه ذهب وفي الأخرى حرير فقال : هذان حرام على ذكور أمتي و رويناه من حديث أبي موسى و عقبة بن عامر و غيرهما عن النبي صلى الله عليه و سلم و فيه من الزيادة حل لإناثهم

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ابن کو ابو اعرابی نے ان کو زعفرانی یزید بن ہارون نے ان کو محمد بن اسحاق نے اس نے اسی مذکور کو ذکر کیا ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے تشریف لائے اور ان کے ایک ہاتھ میں سونا تھا۔اور دوسرے ہاتھ میں ریشم تھا انہوں نے کہا یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔ اور ہم نے روایت کی ہے ابو موسیٰ اور عقبہ بن عامر وغیرہ کی حدیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ یہ چیزیں حلال ہیں ان کی عورتوں کے لئے۔

عَلِيٍّ، ← محمد بن إسحاق فذكره غير أنه ← الزعفراني يزيد بن هارون ← ابن الأعرابي ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6082

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6083

6084 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا عبد الله بن المبارك عن عبد الرحمن بن زياد بن أنعم عن عبد الرحمن بن رافع عن عبد الله بن عمرو : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج ومعه حرير وذهب فقال : هذا محرمان على ذكور أمتي حلال لإناثها

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم نے ان کو عبدالرحمٰن بن رافع نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم باہر تشریف لائے اور آپ کے پاس ریشم اور سونا تھا لہٰذا آپ نے فرمایا یہ دونوں حرام ہیں میری امت کے مردوں پر حلال میں ان کی عورتوں پر۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6083

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6084

6085 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا أبو الفياض بكار بن عبد الله ح وأخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن علي بن الفضل بن محمد بن عقيل أنا إبراهيم بن هاشم البغوي قالا : ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء حدثني جويرية بن أسماء عن نافع أن عبد الله بن عمر أخبره أن عمر بن الخطاب : رأى حلة سيراء من حرير فقال لرسول الله لو اتبعت هذه الحلة فلبستها للوفد وليوم الجمعة فقال : إنما يلبس هذه من لا خلاق له في الآخرة وأن النبي صلى الله عليه و سلم بعث بعد ذلك إلى عمر بحلة سيراء من حرير كساه إياها فقال عمر : لرسول الله صلى الله عليه و سلم كسوتنيها وقد سمعتك تقول فيها ما قلت : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنما بعثت بها إليك لتبيعها أو لتكسوها بعض نسائك رواه البخاري عن موسى بن إسماعيل عن جويرية

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابو الفیاض بکار بن عبداللہ نے’’ح‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ریشمی دو شالہ وحلہ پہننے سے اجتناب: اور ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن علی بن فضل بن محمد بن عقیل نے ان کو ابراہیم بن ہاشم بغوی نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے ان کو جویریہ بن اسماء نے ان کو نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دو شالہ یا دہری لمبی چادر دیکھی جو کہ ریشمی تھی۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ اگر آپ اسے خرید لیں تو آپ ان کو آنے والے وفود کے سامنے پہنا کریں۔ اور جمعہ کے دن بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کے جواب میں فرمایا کہ اس کو وہ پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ اس کے بعد ایک موقعہ پر حضور نے ویسی ہی ایک ریشمی چادر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجی ان کو وہ پہننے کو دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ نے تو مجھے یہ پہنائی ہے حالانکہ آپ نے تو اس وقت مجھے وہ بات کہی تھی تو رسول اللہ نے فرمایا: کہ میں نے تو وہ تیرے پاس اس لئے بھیجی تھی تاکہ تم اس کو بیچ دو یا اسے اپنی بعض عورتوں کو استعمال کراؤ۔

نَافِعٍ ← جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِىُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← أبو الفياض بكار بن عبد الله ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6084

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6085

6086 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا إسحاق بن الحسن الحربي ثنا عفان ح وأخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا عفان و شبابة قالا : ثنا شعبة عن ابن عون الثقفي قال : سمعت أبا صالح الحنفي عن علي قال : أهديت لرسول الله صلى الله عليه و سلم حلة سيراء فأرسها إلي فلبستها فعرفت الغضب في وجهه فقال : إني لم أعطكها لتلبسها فأمر بها فأطرتها بين نسائه وفي رواية ابن عبدان فأطرتها بين نسائي أخرجه مسلم من أوجه عن شعبة وقالوا في الحديث : فأمرني فأطرتها بين نسائي

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسحاق بن حسن حربی نے ان کو عفان نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو عفان نے اور شبابہ نے دونوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی سے شعبہ نے ان کو ابن عون ثقفی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے ابو صالح حنفی سے اس نے علی سے وہ کہتے ہیں کہ حضور کی خدمت میں ایک ریشمی حلہ پیش کیا گیا انہوں نے میرے پاس بھیج دیا میں نے اسے نہیں لیا۔لہٰذا میں نے آپ کے چہرے پر ناراضگی محسوں کی پھر آپ نے فرمایا کہ میں نے اس لئے نہیں بھیجا تھا کہ تم اسے پہن لو آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو میں نے اس کو آپ کی عورتوں کے درمیان استعمال کرا دیا۔ اور ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ میں نے اس کو اپنی عورتوں میں استعمال کرا دیا۔ مسلم نے اس کو کئی طریقوں سے نقل کیا ہے شعبہ سے اور انہوں نے کہا ہے حدیث میں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا اور میں نے اس کو اپنی عورتوں میں استعمال کرا دیا۔

عَلِيٍّ، ← أَبَا صَالِحٍ الْحَنَفِيَّ، ← ابن عون الثقفي ← شُعْبَةُ، ← عفان و شبابة ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← عَفَّانُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6085

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6086

6087 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم بن إياس ثنا شعبة ثنا عبد العزيز بن صهيب قال : سمعت أنس بن مالك يقول : قال شعبة : فقلت : أعن النبي صلى الله عليه و سلم قال شديدا : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من لبس الحرير يعني في الدنيا فلن يلبسه في الآخرة رواه البخاري عن آدم وأخرجه مسلم من وجه آخر عن عبد العزيز

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم بن ایاس نے ان کو شعبہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی عبدالعزیز بن صہیب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ کہا شعبہ نے کہ میں نے پوچھا کہ کیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے ؟ انہوں نے سختی سے کہا نبی پاک کی طرف سے ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جو شخص دنیامیں ریشم پہنے گا وہ اسے آخرت میں ہرگز نہیں پہنے گا۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے آدم سے اور اس کو مسلم نے دوسرے طریق سے نقل کیا ہے عبدالعزیز سے۔

عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← آدم وأخرجه مسلم من وجه آخر ← من لبس الحرير يعني في الدنيا فلن يلبسه في الآخرة رواه البخاري ← النبي صلى الله عليه و سلم ← شديدا ← شعبة فقلت أعن النبي صلى الله عليه و سلم ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6086

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6087

6088 - وأخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا إسماعيل بن الحسن القاضي ثنا سليمان بن حرب ثنا شعبة عن الحكم قال : سمعت ابن أبي ليلى : أن حذيفة كان بالمدائن فاستقى فأتاه دهقان بماء في إناء من فضة فرمى به وقال : إني لم أرمه إلا أني نهيته فلم ينته قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحرير والديباج وآنية الفضة والذهب لهم في الدنيا ولكم في الآخرة رواه البخاري عن سليمان بن حرب وأخرجه مسلم من وجه آخر عن شعيب قال الإمام أحمد

اور ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحاق نے ان کو اسماعیل بن حسن قاضی نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو شعبہ نے ان کو حکم نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ابن ابو لیلیٰ سے کہ حضرت حذیفہ مدائن میں تھے انہوں نے پانی مانگا تو ایک کسان برتن میں ان کے پاس پانی لے کر آیا چاندی کے برتن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے پھینک دیا اور فرمایا کہ میں نے اس کی خواہش نہیں کی تھی میں اس سے منع کیا گیا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ریشم اور دیباج اور چاندی کے برتن اور سونے کے برتن (کفار کے لئے) دنیامیں ہیں اور تمہارے (مسلمانوں کے) لئے آخرت میں۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے سلیمان بن حرب سے اور اس کو مسلم نے نقل کیا ہے دوسرے طریق سے شعیب سے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا۔

الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إسماعيل بن الحسن القاضي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6087

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6088

6089 - ورواه مجاهد عن ابن أبي ليلى عن حذيفة قال : في الحديث : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهانا أن نشرب في آنية الذهب والفضة وأن نأكل منها وعن لبس الحرير والديباج وأن نجلس عليه وقال : هو لهم في الدنيا ولكم في الآخرة وهو مخرج في كتاب البخاري وأخرجناه في كتاب السنن

اوراس کوروایت کیا ہے مجاہد نے ابن ابی لیلیٰ سے اس نے حذیفہ سے وہ کہتے ہیں حدیث میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کیا تھا اس سے کہ ہم سونے چاندی کے برتنوں میں کھائیں پئیں اور ریشم اور دیباج پہننے سے اور اس پر بیٹھنے سے اور فرمایا کہ وہ کافروں کے لئے دنیا میں ہیں اور تمہارے لئے آخرت میں ہیں۔ اور یہ بخاری کی کتاب سے منقول ہے۔ اور ہم نے اس کو کتاب السنن میں نقل کیا ہے۔

فِي الْحَدِيثِ: ← حُذَيْفَةَ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← ورَوَاهُ مُجَاهِدٌ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6088

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6089

6090 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن أبي إسحاق عن عمرو : أن عليا أتي ببرذون عليه صفة ديباج فلما وضع رجله في الركاب وأخذ بالسرج زلت يده عنه فقال : ما هذا ؟ قالوا : ديباج قال : والله لا أركبه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کا ابو عبداللہ محمد بن علی صنعانی نے مکہ مکرمہ میں ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابو اسحٰق نے کو عمرو نے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک خچر سواری کے لئے لایا گیا اس کے اوپر ریشمی کپڑا ڈالا ہواتھا انہوں نے جب رکاب میں پیر رکھا اور زمین کو پکڑنے لگے تو ان کا ہاتھ اس سے پھسل گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ بتایا گیا کہ دیباج ریشم ہے۔ کہنے لگے اللہ کی قسم میں اس پر سواری نہیں کروں گا۔

عَمْرٍو، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6089

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6090

6091 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا عبد الوهاب بن عطاء أنا إسرائيل بن يونس عن أبي إسحاق عن عبد الرحمن بن يزيد قال : كنت جالسا مع عبد الله بن مسعود فأتاه ابن له صغير قد ألبسته أمه قميصا من حرير وهو معجب به قال : فقال : يا بني من ألبسك هذا ؟ قال : أدنه فدنا منه فشقه ثم قال اذهب إلى أمك فلتلبسك ثوبا غيره

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے ان کو اسرائیل بن یونس نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو عبدالرحمٰن بن یزید نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں انکا چھوٹا بچہ ان کے پاس آ گیا ہے ان کی والدہ نے ریشمی قمیص پہنائی تھی جس سے وہ خوش ہو رہا تھا۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن مسعود نے فرمایا: اے بیٹے! تمہیں کس نے یہ پہنا دی ہے؟ آپ آگے آئیے بچہ آگے آیا تو انہوں نے قمیص پکڑ کر پھاڑ دی اورفرمایا جاؤ اپنی امی کے پاس کہ وہ تجھے دوسرا کپڑا پہنا دے۔

عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6090

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6091

6092 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب بن عطاء أنا عبد الله : سئل عويس عن أبي إسحاق قال : دخلنا على عبد الله بن عمر وهو بالبطحاء فقلنا يا أبا عبد الرحمن إن ثيابنا هذه قد خالطها الحرير وهو قليل قال : اتركوا قليله وكثيره قال الحليمي رحمه الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے۔ ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے ان کو عبداللہ نے کہ عویس نے پوچھا تھا ابو اسحاق سے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عبداللہ بن عمر کے پاس گئے وہ وادی بطحا میں تھے۔ ہم نے کہا اے ابو عبدالرحمٰن ! ہمارے یہ کپڑے ایسے ہیں جن میں ریشم ملا ہوا ہے مگر وہ کم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو کم ہو یا زیادہ ہو۔ اور شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا

دخلنا على عبد الله بن عمر وهو بالبطحاء فقلنا يا أبا عبد الرحمن ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عبد الله سئل عويس ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6091

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6092

6093 - وروي عن إبراهيم أنه قال : كانوا يكرهون ما سداه خز ولحمه ابريسم أو سداه ابريسم وسداه خز هذا صحيح لأن الثوب لا يكون لباسا إلا بالسدي واللحمة معا فلا يفرق من فوق بينهما فأجاز إذا كانت اللحمة ابريسما والسدي غير ابريسم وهما معا ركنان للثوب لا يكون الثوب ثوبا ولا اللباس لباسا إلا بهما قال : ويدل على صحة هذا

اور روایت کی گئی ہے ابراہیم سے کہ اس نے کہا کہ اہل مکروہ گردانتے تھے اس کو جس کا تاناخر (ریشم) کا ہو اور بانا ابریشم کا ہو یا تانا ابریشم کا ہو اور بانا میں خزکا ہو۔ یہ صحیح ہے اس لئے کپڑا جبھی لباس بنتا ہے جب اس کا تانا بانا دونوں ہوں لہٰذا دونوں میں کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔ اور اجازت دی تھی اس صورت میں جب بانا ابریشم کا ہو اور تانا غیر ابریشم کا۔ حالانکہ وہ دونوں اکٹھے کپڑے کارکن ہیں ان کے بغیر کپڑا نہ تو کپڑا بنتا ہے اور نہ ہی لباس لباس بنتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کی صحت پر یہ روایت دلالت کرتی ہے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← وَرُوِيَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6092

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الأربعون من شعب الإيمان وهو باب في الملابس والزي والأواني وما يكره منها · حديث 6093

6094 - ما روي عن علي رضي الله عنه قال : أهدي إلى النبي صلى الله عليه و سلم حلة سداها حرير ولحمتها مسيرة فأرسل بها إلي فقلت يا رسول الله ما أصنع بها ألبسها قال : إني لا أرضى لك ما لا أرضى لنفسي اجعلها خمرا بين فاطمة أمك و فاطمة ابنتي قال : مسير هو من السيراء برود اليمن قال : وإنما العفو من هذا العلم وفي هذا الثوب

جو روایت ہے حضرت علی سے وہ کہتے ہیں کہ حضور کی خدمت میں ایک حلہ ہدیہ کیا گیا جس کا تانا ریشم تھا اور بانا اس کا مسیرہ کا تھا آپ نے میرے پاس بھیجا تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ میں اس کا کیا کروں۔ کیا میں اس کو پہنوں آپ نے فرمایا کہ میں جو چیز اپنے لئے پسند نہیں کرتا وہ تیرے لئے بھی پسند نہیں کروں گا۔ اس کو دو حصوں میں کر کے اپنی والدہ فاطمہ اور میری بیٹی فاطمہ کا دوپٹہ بنا دو۔ راوی کہتا ہے کہ مسیر سیراء سے بنا ہے۔ اور سیراء یمن کی چادروں کو کہتے تھے۔ کہتے ہیں کہ یقینی بات ہے کہ معاف ہونا اور درگزر کرنا اس سے پھول یا نقش نگار میں ہے کپڑے میں ۔

عَلِيٍّ، ← ما روي

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The forty of the people of faith is a chapter in clothes, clothing, utensils and whatever they dislike · Hadith 6093

chevron_left Previous
1…434445…78
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood